ہوس کی آنکھ

اس کے بارے میں تم نے کیا سوچا؟‘‘

’’ابھی سوچ رہا ہوں۔‘‘

’’کب تک سوچتے رہوگے؟‘‘

’’جب تک کسی نتیجہ پر پہنچ نہ جاؤں!‘‘

’’ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے تم ہی کسی خاص نتیجہ پر پہنچ جاؤ؟‘‘ ’’یہ ممکن ہے لیکن مجھے وقت چاہیے۔‘‘

’’وقت تو تمہارے پاس ہے اور فیصلہ بھی تم ہی کو کرنا ہے۔‘‘

’’لیکن‘‘ … ’’ہاں ہاں بو لو رک کیوں گئے‘‘

’’ان کا مقصد کیا ہے؟‘‘

’’اس سوال کا جواب ہی تو تمہیں ڈھونڈنا ہے۔‘‘

’’کیا تم میری مدد نہیں کرسکتے؟‘‘

’’اس میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا، جو فیصلہ تمہارا اپنا ہوگا اس سے تمہیں رہ نمائی ملے گی۔‘‘ مجھے اس پر غصہ آگیا۔ میں نے تلخ لہجہ میں پوچھا کیا تم کو اس سے انکار ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے انہیں دنیا کے مشاہدے کے لیے بنایا ہے؟

’’ہاں یہ تو ہے اس نے نہایت اطمینان سے کہا۔‘‘

’’تو پھر تم میرا جینا کیوں دوبھر کیے ہوئے ہو؟‘‘

’’کیا یہ تمہارے دل کی آواز ہے؟ کیا تم ایمانداری سے بول رہے ہو؟ ٹھیک ہے میں چلا، جو از تو کوئی بھی نکال سکتا ہے۔‘‘

’’ٹھہرو! ذرا میری بات سنتے جاؤ! تم تو بہت جلد ناراض ہو جاتے ہو!‘‘

’’دیکھو! جو کچھ کہنا ہے جلدی کہہ دو، میں باتوں سے نہیں گھبراتا لیکن جھوٹ سے مجھے سخت نفرت ہے۔‘‘

’’یہ بڑی گستاخ ہیں! یہ ہر اس شئے کو دیکھ لیتیں ہیں جسے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘

اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آگئی۔ اس نے زہر میں بجھے ہوئے لہجے میں کہا:ـ’’ تب اس کے لیے کیا کر رہے ہو؟‘‘

’’کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ انہیں بند تو کروں گا نہیں۔‘‘

’’یہ میں کہاں کہہ رہا ہوں۔ لیکن کیا تم انہیں بے لگام چھوڑوگے جسے انہیں نہیں دیکھنا چاہیے انہیں دیکھتیں پھریں۔‘‘

’’تو تم پھر چاہتے ہو کہ میں انہیں نکال کر پھینک دوں! تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے اندھی ہو جائیں۔‘‘

’’ دیکھو یہاں مسئلہ صرف دیکھنے کا نہیں بلکہ دیکھنے کے بعد کا ہے۔ ہم بہت کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے اور کچھ نہیں دیکھ کر بھی بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

میں تمہاری فلسفیانہ باتوں میں نہیں پڑنا چاہتا، کوئی حل بتاؤ۔’’ حل تمہارے پاس ہے لیکن تم کوشش ہی نہیں کرتے۔‘‘ ’’ہر روز تم انہیں پانچ وقت ایک جگہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہو ۔ سال میں ایک ماہ تمام اعضا و جوارح کو ٹریننگ دیتے ہو کہ یہ تمہارے اختیار میں رہیں۔‘‘

’’لیکن یہ تو نماز اور روزہ کی بات ہوئی بازاروں میں تو انہیں بالکل کھلا رکھنا پڑے گا۔‘‘

’’جب تمہیں ان کو کنٹرول کرنے کا ملکہ حاصل ہے تو تم انہیں کہیں بھی کنٹرول کرسکتے ہو۔‘‘

’’یہ تو ہے لیکن جب تک آدمی برائی کو دیکھے نہیں تو پھر یہ کیسے سمجھے گا کہ برائی کیا ہے؟ اور کیا دیکھنا چاہیے اور کیا نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘ تم پھر بھٹک رہے ہو۔ سوال صرف دیکھنے کا نہیں بلکہ دیکھنے کے بعد کا بھی ہے، تم تو ادیب ہو۔ تم تو جانتے ہو کہ مرد ایک ہی نظر میں چاہے تو عورت کو ننگا کر سکتا ہے پھر وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے کیا تم کو اس سے انکار ہے؟‘‘

’’نہیں! لیکن میرے پاس ایک کسوٹی ہے۔ پہلی نظر دوسری نظر‘‘ … ’’ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ لیکن یہ کسوٹی کن لوگوں کے لیے ہے، ان لوگوں کے لیے جو دیکھ کرکچھ نہیںدیکھتے اور سن کر کچھ نہیں سنتے۔

’’لیکن تم یہ کیسے پتہ لگاؤگے کہ میں اس طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح مجھے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘

’’یہی تو اصل سوال ہے جس کا جواب تمہیں ڈھونڈنا ہے۔‘‘دیکھو اس سلسلے میں میری رہ نمائی کرو۔

’’اس میں کوئی دوسرا تمہاری رہنمائی نہیں کرے گا اس سلسلے میں تمہیں خود اپنا رہنما بننا ہوگا، تو میں چلا۔ ‘‘ہاں اس میں تمہیں اپنے دل سے کچھ رہنمائی مل سکتی ہے۔ اور وہ چلا گیا۔ مجھے سوچوں میں غرق چھوڑ کر۔ میرا دل تو بڑا پاکباز ہے۔ یہ توذرا ذرا سی باتوں کا اثر لیتا ہے جانی انجانی غلطیوں پر نادم ہوتا ہے۔ جب یہ اپنی غلطیوں پر روتا ہے تو آنسو بن کر آنکھوں سے نکل پڑتا ہے لیکن یہ آنکھیں بڑی گستاخ ہیں۔ ان کے کونے بھی خشک نہیں ہوتے کہ یہ ادھر ادھر جھانکنا شروع کردیتی ہیں انہیں ذرا بھی خیال نہیں رہتاکہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ دیکھ رہا ہے۔ اور پھر دیکھنے کا اندازہ، خد اکی پناہ، میں انہیں عبرتناک سزادوں گا۔ تاکہ یہ حشر تک یاد رکھیں۔ میرے ہاتھ دست درازی نہیں کرتے۔ میرے پیر گناہوں کی وادی کی طرف نہیں اٹھتے۔ میرے کان بری باتوں کو سننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور میری زبان تو حد درجہ محتاط ہے۔ لیکن یہ آنکھیں؟ یہ تو حد درجہ گستاخ ہیں۔ یہ وہاں تک سکنڈوں میں پہنچ جائیں جہاں کسی کو پہنچنے میں گھنٹوں مہینوں اور برسوں محنت کرنی پڑتی ہے۔

سنو بھائی! میری آنکھوں کو دیکھ رہے ہو۔ اس نے میری خوبصورت اور بڑی بڑی آنکھوں کی طرف حیرت سے دیکھا۔ ذرا اس کی دوری ناپ لو اور ہاں یہ لوہے کا چھڑ لے لو۔ اسے اس طرح موڑ دو کہ یہ گھوڑے کے نال کی طرح ہوجائے۔ او را سکے دونوں سروں کو تیز اور نوکیلا بنا دو۔ اتنا خیال رہے کہ اس کے دونوں نوک او رمیری آنکھوں کے بلب ٹھیک آمنے سامنے پڑیں۔ اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ میری دونوں آنکھوں کی دوری ناپ لو۔ آگ میں گرم کرتے وقت یہ تو پورے کے پورے گرم ہوجائیں گے۔ ایسا کرو اس کی پشت میں لکڑی کا ایک دستہ لگا دو تاکہ انہیں گرم کرتے وقت میرے ہاتھوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، کیوں کہ ان کا کوئی قصور نہیں ہے، ہاں! تمہیں منہ مانگا معاوضہ دوں گا۔ یہ ایڈوانس بھی لے لو۔ ذرا سی دیر میں میں بازار سے گھوم کر آتا ہوں میرا سامان بالکل تیار رکھنا۔

ہر روز کی طرح جب صبح کی اذان کی آواز میرے کانوں میں گونجی تو میں نے اٹھنا چاہا۔ لیکن میری آنکھوں میں شدید درد اور جلن کا احساس ہوا۔ میں نے کروٹ بدل لی۔ موذن پکارتا رہا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر ۔ اللہ بڑا ہے اللہ بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں نہیں ہے کوئی معبود ایک اللہ کے سوا، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں نے دوسری کروٹ لی موذن کی آواز پھر ابھری، آؤ نماز کی طرف، آو فلاح کی طرف ۔ میں غیر ارادی طور پر اٹھ بیٹھا چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ میں نے دیکھنا چاہا لیکن میری آنکھوں میں درد کا لاوا پھوٹ پڑا۔ میں نے اپنی آنکھوں کو سختی سے بند کرلیا اور دیوار کو ٹٹولتا ہوا صراحی کے پاس پہنچنا چاہا۔ تاکہ اپنے چہرے کو ترو تازہ کرلوں۔ لیکن میرے پیر اسٹول سے ٹکرا گئے۔ اور صراحی الٹ گئی میں چیں بہ جبیں ہوکر رہ گیا۔ میں نے دروازہ کو ٹٹول کر کھولا۔ او رباہر چلا آیا ، ہوا کا ایک خنک جھونکا مجھ سے ٹکڑایا۔ میرے پورے جسم میں سہرن سی دوڑ گئی۔ مجھے مسجد جانا ہے لیکن میں اکیلے کیسے جاسکتا ہوں، میں بادل ناخواستہ آگے بڑھا۔ مجھے اندازہ نہ ملا، میرا سر گیٹ سے بری طرح ٹکرایا، میں اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ میری آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں اور میرے لب اللہ اللہ کرنے لگے۔ میرے نتھنوں میں بیلا اور جوہی کے پھولوں کی مہک آئی قریب ہی درختوں سے کوئل کی کوک سنائی دی۔ مجھ میں کچھ ہمت آئی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ گیٹ کھولا اور باہر سڑک پر چلا آیا، میری نظریں سڑک سے منسلکہ پارک کی طرف اٹھیں۔ مجھے کچھ کچھ سجھائی دے رہا ہے ۔پارک میں مجھے رنگ برنگے خوشنما پھول کھلے نظر آئے مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ میرے ہاتھ میری آنکھوں کی طرف اٹھے۔ لیکن پھر رک گئے۔ مجھے خوف ہوا کہیں یہ پھر ضائع نہ ہوجائیں۔ میں سڑک کے کنارے کنارے جھیل کے قریب پہنچا۔ چھوٹے چھوٹے خوش رنگ پرندے درختوں پر چہچہا رہے تھے۔ جھیل کے دوسری طرف مجھے مسجد کے بلند و بالا منارے صاف دکھائی دینے لگے، جو بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے، بادلوں کے آوارہ ٹکڑے میناروں کو چھو چھو کر نکل رہے تھے، میں خوشی سے ناچ اٹھا۔ میں اپنے ایک پیر پر چاروں طرف گھوم گیا۔ چہار طرف قدرت کے حسین نظارے مجھے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ میرے ہاتھ بے ساختہ میری آنکھوں تک پہنچ گئے۔ میں نے ا نہیں ٹٹول ٹٹول کر دیکھا میری آنکھیں صحیح و سالم تھیں۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ آنکھیں تو اللہ کی دی ہوئی نعمت غیر مترقبہ ہیں میں مفت میں انہیں ضائع کرنے پر تلا ہوا تھا۔ میرے قدم بے اختیار مسجد کی طرف اٹھتے چلے گئے۔ لیکن ہاں …میں نے ہوس کی آنکھیں پھوڑ دی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سہیل ساحل