اف یہ جادۂ۔۔۔۔۔۔

دیکھو یہی لیمان طرہ کا قید خانہ ہے۔ ایک وسیع و عریض عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاریخ حالات سے مخاطب ہوتی ہے۔

’’اچھا یہی وہ جیل ہے جس میں اخوان کے ہزاروں نوجوان زندگی کے آخری لمحات گن رہے ہیں۔‘‘ حالات نے کہا:

’’ہاں – یہی وہ بدنصیب جگہ ہے جہاں دین و ایمان کی حفاظت بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘ تاریخ اپنے مصاحبوں کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہوئے کہتی ہے۔

’’جہاں حق و صداقت کا نام لینا بھی جرم ہے ۔‘‘

چند قدم چلنے کے بعد رائفلوں کی آواز سنائی دیتی ہے، تینوں چونک پڑتے ہیں۔

’’سنا تم نے۔ یہ اخوان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

تاریخ اپنے ساتھیوں سے پھر مخاطب ہوتی ہے اور اس کے قدم تیزی کے ساتھ اسی سمت کو بڑھنے لگتے ہیں جدھر سے گولی چلنے کی آز آئی تھی۔ وہ بیرکوں سے گزرتی ہوئی اس میدان میں پہنچ جاتی ہے جو چاروں طرف بیرکوں سے گھرا ہوا ہے اور جس میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں پڑی تڑپ رہی ہیں۔ صحن میں لاشیں۔ کمروں کے سامنے لاشیں۔ زینے پر لاشیں۔ فرش تازہ خون سے تر بہ تر۔ دیواروں کا نچلا حصہ خون سے رنگا ہوا۔ اس بھیانک ماحول میں چند فوجی افسر کھڑے رقصِ بسمل کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

اسی دوران اعلان ہوتا ہے کہ:

’’ابھی آپ کے سامنے چند اخوانی اپنے پہلوانی کرتب پیش کریں گے۔‘‘

اعلان ختم ہوتے ہی اخوانیوں کی ایک جماعت سامنے لائی جاتی ہے۔ یہ سب نیم برہنہ ہیں پیچھے سے پولیس والے ان کی ننگی پیٹھوں پر کوڑے برسا کر ان کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سامنے سے چند سپاہی ان کے چہروں پر کھولتا ہوا چونا پھینک رہے ہیں۔ یہ بے چارے نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ مجبوری کی حالت میں تڑپ رہے ہیں اور بے ہوش ہو ہو کر گر رہے ہیں۔ وہی افسران ان کے تڑپنے کو دیکھ کر قہقہوں پر قہقہے لگا رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کی بے بسی و بے کسی زبان حال سے اعلان کر رہی ہے۔

نہ مسکراؤ مری بے بسی پے اے تارو!

تم اپنی خیر مناؤ کہ رات جاتی ہے

اس وحشیانہ کرتب کے بعد عورتوں کی ایک جماعت کو لایا جاتا ہے۔ وہ بھی سب کی سب نیم برہنہ ہیں۔ ان کے ساتھ ایسی ایسی حیا سوز حرکتیں کی جاتی ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لاتے ہوئے قلم بھی شرما رہا ہے۔

اس کے بعد محی الدین عطیہ نامی اخوانی کو آواز دی جاتی ہے۔ یہ لا کالج کے طالب علم ہیں، اپنا نام سنتے ہی وہ بیرک سے نکل کر صحن میں آجاتے ہیں۔ ان کا جسم مختلف صعوبتوں کو برداشت کرتے کرتے داغ دار ہوگیا ہے۔ ایک سپاہی ان کے چھوٹے بھائی کو ان کے پاس لاتا ہے او رسب کے سامنے اپنے بھائی کے ساتھ منہ کالا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ حکم سن کر تمام قیدیوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ محی الدین عطیہ جو اب تک تمام سزائیں انتہائی ضبط کے ساتھ برداشت کر رہے تھے، فرط الم سے رو پڑتے ہیں۔

’’ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ محی الدین کی غم میں ڈوبی تھرتھراتی ہوئی آواز فضا میں ابھرتی ہے۔‘‘

’’نہیں‘‘ کا لفظ سنتے ہی عرب جمہوریہ کا وزیر اعظم آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کا مضبوط چرمی کوڑا لہراتا اور بل کھاتا ہوا محی الدین کی غیرت و انسانیت کا امتحان لینے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ غریب بے ہوش ہوکر گر پڑتا ہے۔

’’اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ ان شدائد سے اسے نجات دے دے۔‘‘ تاریخ کے ہونٹ حرکت میں آتے ہیں۔

دوسری طرف امور شمالی افریقہ سے متعلق عرب لیگ کے سابق مشیر اور اخوان المسلمون کی مجلس ارشاد کے رکن استاذ صالح ابو رقیق سپاہیوں کے نرغے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ فوجی افسر انہیں مادر زاد برہنہ ہونے کا حکم دیتا ہے۔

’’کیوں؟‘‘ استاد صالح کی زبان سے نکل جاتا ہے۔

’’یہاں وجہ دریافت نہیں کی جاتی۔‘‘ افسر کی کرخت آواز گونجتی ہے۔ ’’حیلہ و حجت کی گنجائش نہیں کپڑے فوراً اتار دیے جائیں۔‘‘

استاد صالح تمام کپڑے اتار دیتے ہیں۔ ستر پوشی کے لیے مختصر سا کپڑا رہنے دیتے ہیں۔

افسر ایک سپاہی کو حکم دیتا ہے کہ وہ انہیں بالکل برہنہ کردے۔

استاد صالح احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ بس پھر کیا۔ ہر طرف سے کوڑے برسنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ جگہ جگہ سے جلد پھٹ جاتی ہے۔ خون بہنے لگتا ہے۔ استاذ صالح بے ہوش ہوکر گر جاتے ہیں۔ ان کو اٹھا کر ایک تاریک کوٹھری میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں ایک ایک بالشت ٹھنڈا پانی بھرا ہوا ہے۔ سردی کا موسم، ٹھنڈا پانی، زخمی جسم، ساری رات تڑپتے ہی تڑپتے گزر جاتی ہے۔ صبح ہوتے ہی ان کو ایک دوسرے کمرے میں لے جایا جاتا ہے۔ جس کی چھت سے دو موٹی موٹی لوہے کی زنجیریں لٹک ر ہی ہیں۔ دونوں کے آخری سرے پر لوہے کا ایک ایک حلقہ بنا ہوا ہے۔ سپاہی، استاد صالح کے پیروں کو زبردستی ان حلقوں میں ڈال کر انہیں الٹا لٹکا دیتے ہیں اور پھر … پا خانہ کے مقام سے ان کے پیٹ میں ہوا بھرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پھول کر غبارہ ہو جاتے ہیں۔

افسوس! انسانوں کے ساتھ یہ وحشیانہ برتاؤ۔‘‘

تاریخ کی زبان سے بے ساختہ نکل جاتا ہے۔

بربریت و وحشت کے ان ناقابل برداشت مناظر کو دیکھ کر تاریخ کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ قید خانہ کے اس جابرانہ ماحول میں اسے دم گھٹتا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ وہ سر جھکائے لمبے لمبے قدم بھرتی پھاٹک کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔

’’زیادہ آگے نہ بڑھو۔ یہ پھانسی گھر ہے۔ اس کے اند رکسی کو جانے کی اجازت نہیں۔‘‘ تاریخ، حالات کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔

’’یہ کون آرہے ہیں؟ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ۔ جھومتے ہوئے۔‘‘ واقعات، تاریخ کو مخاطب کرتے ہیں۔‘‘

’’یہی تو وہ ہیں جنہیں آج پھانسی دی جانے والی ہے۔‘‘

تاریخ آنے والوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیتی ہے۔ یہ عبد القادر عودہ ہیں، یہ یوسف طلعت ہیں، یہ ابراہیم الطیب ہیں او رباقی تینوں حضرات ان کے ساتھی ہیں۔ تھوڑے تھوڑے سے وقفے کے بعد ان سب اخوانی لیڈروں کو تختہ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے او ریہ جاں باز مسکراتے کلمہ شکر ادا کرتے اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملتے ہیں۔ پھانسی کے وقت ان کی زبانوں سے نکلے ہوئے آخری کلمات فضا میں ارتعاش پیدا کر رہے ہیں۔

’’خدا مجھے معاف کرے او ران لوگوں کو بھی جنہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔‘‘

’’خدایا تو ہی عظیم ہے او ربزرگی و برتری صرف تیرے ہی لیے ہے۔‘‘

’’میں خوش ہوں کہ مسلمان کی حیثیت سے جام شہادت نوش کروں گا۔‘‘

’’ظالم و مظلوم دونوں۔ کل خد اکے رو برو پیش ہوں گے۔‘‘

’’مومن مومن کے لیے اللہ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘

بے حس و حرکت پڑے ہوئے لاشے جیسے زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں۔ ع

ہم نبض جفا کی گرمی کو اے ظلم پرکھنے آئے تھے

قانون کے سرخ انگاروں پر ہم ہاتھ کو رکھنے آئے تھے

آ،خون لگا دیں ہم اپنا اے مصر تری پیشانی پر

تجھ کو تو ابھی رونا ہے بہت اس محفل کی ویرانی پر

تاریخ کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے غم و اندوہ کا پیکر بنی ہوئی اپنے رفیقوں کے ساتھ پھاٹک کی طرف بڑھتی ہے لیکن یہ کیا ۔ یہ کون ہے۔ جسے جیل کے پھاٹک میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ جو بخا رکی شدت کی وجہ سے نیم بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ یہ پولیس کے کارندے چیل اور کووں کی طرح اس پرکیوں ٹوٹ پڑے۔ اف۔ اس حالت میں بھی اسے بری طرح زد و کوب کر رہے ہیں۔ ارے ۔ یہ تو سید قطب ہیں۔ مفسر قرآن، دین حق کے علمبردار، الحاد پرستوں اور لادینی عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتے ہوئے کانٹے۔

جب یہ درندے بھنبھوڑتے بھنبھوڑتے تھک جاتے ہیں تو پھر بھیڑیے جیسا ایک کتا لایا جاتا ہے جو اشارہ پاتے ہی لپک کر سید قطب کی ٹانگ منہ میں دبا لیتا ہے او رپھر ادھر ادھر گھسیٹتا پھرتا ہے۔ بے ہوشی کا غلبہ جب ذرا کم ہوتا ہے تو آپ کی زبان سے یہی کلمات سنائی دیتے ہیں۔

اللہ اکبر و للہ الحمد

اس کے بعد آپ کو لے جاکر ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں ڈال دیا گیا۔ روزانہ آپ کو نئے نئے ڈھنگ سے اذیت پہنچائی جاتی۔ کبھی آپ کے سر پر گرم پانی مسلسل ڈالا جاتا تو کبھی ٹھنڈا پانی انڈیلا جاتا۔ کبھی لاتوں اور گھونسوں سے مدارات کی جاتی تو کبھی دل آزار اور گندے الفاظ سے آپ کی غیرت کو چیلنج کیاجاتا۔ مگر یہ ساری آزمائشیں آپ کے ایقان و اذعان میں اضافہ ہی کرتی رہیں اور آپ کی عزیمت کے قدم مزید جمتے چلے گئے۔

پندرہ سالہ قید بامشقت کا ایک سال گزر جاتا ہے آپ اپنی کوٹھری میں سر جھکائے بیٹھے ہیں کہ جمال عبد الناصر کا ایک نمائندہ داخل ہوتا ہے او رپیش کش کرتا ہے۔

’’اگر آپ چند سطریں معافی نامے کی لکھ دیں تو آج ہی آپ کو جیل کے مصائب سے نجات مل سکتی ہے۔‘‘

مرد مومن سر اٹھا کر ناصر کے نمائندے کو غور سے دیکھتا ہے او رپھر رعب دار آواز میں جواب دیتا ہے۔

’’مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو مظلوم سے کہتے ہیں کہ ظالم سے معافی مانگ لے۔ خدا کی قسم اگر معانی کے چند الفاظ مجھے پھانسی سے بھی نجات دلا سکتے ہوں تب بھی میں باطل سے رحم کی بھیک مانگنے کے لیے تیار نہیں۔

میں اپنے رب کے حضور اس حال میں پیش ہونا پسند کروں گا کہ میں اس سے خوش ہوں اور وہ مجھ سے راضی ہو۔‘‘

نمائندہ اپنا سا منہ لیے ہوئے چلا جاتا ہے۔

٭٭

’’ ارے یہ کون چیخ رہا ہے۔ ‘‘ حالات نے تاریخ کو متوجہ کیا۔

’’شاید عورتوں کو ابتلا کی بھٹی میں تپایا جا رہا ہے۔‘‘ تاریخ درد بھرے انداز میں جواب دیتی ہوئی اسی طرف روانہ ہوجاتی ہے۔

وہ دیکھئے سامنے ہی نیم برہنہ عورتوں پر کوڑوں کی بارش ہو رہی ہے اور چند عورتیں چوبی ٹکٹکی سے کسی ہوئی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسموں پر زخموں کی بہار آئی ہوئی ہے، جن میں سے بہتے ہوئے لہو اور پیپ کا تعفن دو رسے گزرنے والوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ ایک اخوانی قیدی انجینئر سے ان عورتوں کے ساتھ یہ بے حیائی اور بے غیرتی کا برتاؤ دیکھا نہ جاسکا، وہ اپنی قمیص اتار کر اپنی دینی بہنوں کی طرف ستر پوشی کے لیے پھینک دیتا ہے۔ قمیص ابھی عورتوں کے پاس پہنچنے بھی نہیں پاتی ہے کہ ایک فائر کی آواز سنائی دیتی ہے او روہ غیرت مند انجینئر وہیں گر کر تڑپنے لگتا ہے۔

ایک او رخاتون جو بڑی صاحب علم و فضل ہیں اور تبلیغ دین کے میدان میں بڑی سرگرم عمل رہی ہیں، سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے بھائی کو ان کے روبرو طرح طرح کی وحشیانہ اذیتیں دی جا رہی ہیں او روہ یہ سب دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اس عمل کو بیس روز گزر چکے ہیں ان کے بھائی سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔

’’یہ تحریر دو کہ تمہاری یہ بہن جو نظر بند ہے بدکار اور پیشہ ور عورت ہے، تو تمہیں ان شدائد سے چھٹکارا مل جائے گا۔‘‘

’’میں کسی پر بہتان نہیں لگا سکتا، مجھے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ میں وہاں کیا جواب دوں گا۔‘‘ بھائی کی نحیف مگر عزم سے بھری ہوئی آواز سنائی دیتی ہے۔

نفی میں جواب ملتے ہی کوڑوں کی سنسناہٹ فضا میں گونجنے لگتی ہے۔ پھر اس کے بعد اسے بجلی کا جھٹکا دیا جاتا ہے۔ وہ غریب تڑپ اٹھتا ہے۔ بہن اس درد ناک منظر کو نہ دیکھ سکی۔ بھائی سے دوبارہ التجا کرتی ہے۔

’’بھائی جان! جیسا یہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی لکھ کر کسی طرح اپنے آپ کو اس عذاب سے بچا لیجئے۔ یہ وحشیانہ حرکتیں مجھ سے نہیں دیکھی جا رہی ہیں۔

’’بہن تم میرے لیے نمونہ ہو۔‘‘ قیدی آنکھیں کھول کر بہن کو دیکھتا ہے۔ ’’میں بھی ان شاء اللہ تمہارے لیے بہترین نمونہ بنوں گا۔‘‘ اور پھر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اس کی واپس ہوتی ہوئی نظریں جیسے زبان حال سے کہہ رہی ہوں ع

دار کی حدوں سے بھی جذب دل نہ رک سکا

موت دیکھتی رہی، زندگی گزر گئی

بہن کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آتے ہیں۔ مجبور ہے بھائی کی مدد کرنا چاہتی ہے، لیکن کر نہیں سکتی۔ آخر کار آنکھیں بند کرلیتی ہے۔ اس کی خاموش زبانی اعلان کر رہی ہے۔

ظالمو! گردش ایام تمہیں یاد رہے

شاہ فاروق کا انجام تمہیں یاد رہے

دوسری طرف کوٹھری نمبر چار میں شوقی عبد العظیم برہنہ چھت میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ چھت میں ایک ٹونٹی لگی ہوئی ہے جس سے پٹرول کے قطرے ٹپک ٹپک کر سر پر گر رہے ہیں۔ اس سے ان کی سانس گھٹتی رہتی ہے۔ یہ عمل یکم رمضان سے روزانہ مسلسل پانچ گھنٹہ تک کیا جاتا رہا ہے۔

داروغہ جیل بار بار آکر ان سے سوال کرتا ہے۔

کیا تم اب بھی اپنے اصولوں سے روگردانی نہیں کر سکتے۔

’’یا اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو پھر ان مصائب کی بھی مجھے کوئی پروا نہیں۔‘‘

شوقی کا یہ بالواسطہ نفی میں جواب سن کر داروغہ غصہ میں تلملا اٹھتا ہے اور ان کے جسم سے جلتا ہوا سگریٹ بجھاتا ہے اور پھر کوڑوں سے مدارات شروع کردیتا ہے۔ کوڑوں کی سنسناہٹ سے جیسے یہ آواز نکل رہی ہو۔ ع

منزلِ دار و رسن ہو کہ سواد زنداں

عشق ہر حال میں پابندِ رضا ہوتا ہے

تاریخ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے کی طرف بڑھتی ہے۔ سامنے سے ایک باوقار پرعظمت انسان سپاھیوں کے نرغے میں آتا ہوا دکھائی دیا۔ جسم نحیف و لاغر، اس کی پیشانی سے پھوٹتی ہوئی نور کی کرنیں فضا کو جگمگا رہی ہیں۔ چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی ہے۔ یہ وہی قطبؒ ہیں جنہیں پندرہ سالہ قید بامشقت منسوخ کرنے کے بعد بغاوت کے الزام میں ماخوذ کر کے پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ آج ان کی پھانسی کا دن ہے۔ ان کو پھانسی گھر کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے قدم پورے عزم و استقامت کے ساتھ تختہ دار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی پامردی اس بات کا اعلان کر رہی ہے:

یہ قید و بند، یہ دار ورسن، یہ زنجیریں

سمندر عزمِ مسلماں کو روک دیں کیوں کر

پھانسی گھر کے در و دیوا رپر سکوت طاری ہے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ شجر و حجر گڑگڑا گڑگڑا کر دعا کر رہے ہیں۔

کب آئے گی گردش میں تو اے موج مکافات

کب ڈوبے گا ظلم اور ستم کا یہ سفینہ

مرد مومن خندہ پیشانی کے ساتھ بڑھتا ہوا تختہ دار پر پہنچ جاتا ہے۔ ا س کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ ہونٹ جنبش میں آتے ہیں۔ ہلکی سی آواز سنائی دیتی ہے۔

’’اے میرے رب! میری کوتاہیوں کو معاف فرمادے اور میرے اس وطن میں اپنے دین کو غالب فرما!‘‘

ادھر دعا کے کلمات پورے ہوتے ہیں کہ ادھر جسم و روح کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جاتا ہے۔

تاریخ کے منہ سے چیخ نکل جاتی ہے۔ اس کے چہرے سے وحشت ٹپکنے لگتی ہے۔ وہ دیوانہ وار جیل کے پھاٹک کی طرف بھاگتی ہے۔ باہر آتے ہی وہ لڑکھڑا کر گر جاتی ہے۔ ll

شیئر کیجیے
Default image
عرفان خلیلی