6

قلم پر کڑا وقت کبھی نہیں آتا!

میں نے ایک بار پھر اسی دروازے پر دستک دی۔

’’بابا! قلم پر کڑا وقت آن پڑا ہے۔‘‘

بابا نے دروازہ کھولا اور میں نے ان کا نور بھرا چہرہ دیکھا۔ وہ چہرہ جسے دیکھنا شبنمی گھاس پر ننگے پاؤں چلنا اور نرگس کی کلیوں کو دیکھنے جیسا ہے، انہوں نے سلام کا جواب دیا او رکچھ کہے بغیر اس کمرے کی طرف بڑھے جسے کبھی ڈرائنگ روم کہا جاتا تھا۔ ا س کمرے میں جہاں کبھی موٹے موٹے گل رنگ غالیچے بچھے ہوتے تھے، دیواروں کے ساتھ صوفے لگے ہوتے تھے کہ جو چھونے سے میلے ہوں، دیواروں پر وہ شاھکار تصویریں جو ہم کتابوں میں دیکھتے او راخباروں میں جن کے تذکرے پڑھتے ہیں۔ تب دودھیا سے، نقرئی سے پودے کے پیچھے ساگوان کا ڈائیننگ ٹیبل دکھائی دیتا تھا اور اونچی پشت والی کرسیاں جنہیں کسی فنکار کی ہنر مند انگلیوں نے تراشا تھا۔ تب بابا، بابا نہیں تھا، وہ قہقہے لگا کر ہنستا تھا، کیٹس اور شیکسپیئر کی باتیں کرتا تھا، ھیکل اور مارکس کا موازنہ کیا کرتا تھا، او رہمیں پیرس میں چھپنے والی تازہ کتابوں اور اٹلی کی فلموں کے بارے میں بتایا کرتا۔ تب وہ کہا کرتا تھا زندگی ایک مسلسل انعام ہے، ایک تقریب مسرت ہے، اگر تم سمجھ سکو، اب وہ یہ نہیں کہتا اب تو وہ کچھ بھی نہیں کہتا، فقط اس کا عمل بولتا ہے اور اس کی آنکھیں کلام کرتی ہیں۔ آنکھیں …کہ جن کی طرف دیکھنا مشکل ہے او ردیکھو تو ان میں جلال و جمال ہم آغوش ہوتے نظر آتے ہیں، جن میں ازل کا سکون ہے اور لامتناہی بے تابیاں۔

٭٭

ہم کمرہ ملاقات میں جا بیٹھے، جہاں فرش پر دری بچھی ہے، دیواروں پر تصویریں نہیں او رہوا دروازوں او رکھڑکیوں سے داخل ہو تو مودب ہو جاتی ہے۔

’’آپ کیسے ہیں بابا؟‘‘ میں نے اپنی آواز کو اتنا پست کیا جتنا کرسکتا تھا۔ ’’شکر ہے رب العالمین کا۔‘‘ بابا نے پلکیں آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا، جہاں آسمان نہیں تھا، سفید بے داغ چھت کا سایہ تھا اور معاً ان کی آواز بھرا گئی اور موٹی موٹی آنکھوں سے آنسو رخساروں پر ڈھلک آئے۔ بابانے اپنی لمبی لمبی انگلیوں سے آنسو پونچھے اور دوہرایا شکر ہے رب العالمین کا جو عبادت میں گداز عطا کرتا ہے۔‘‘

’’بابا! کیا آپ پریشان ہیں۔‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

’’پریشان ۔ !!!‘‘ ان کے لہجے میں مضبوطی، قوت اور شگفتگی پیدا ہوگئی۔‘‘ اس دن کے بعد مرے گھر دروازے سے پریشانی خوف اور الجھن داخل نہیں ہوئے۔ میں تو اپنی مسرت پر رو دیتا ہوں۔ مسرت کی وہ بے پناہی جسے میرا سینہ سنبھال نہیں سکتا اور میں ان دنوں کو روتا ہوں جو رائیگاں چلے گئے۔‘‘

’’آپ کس دن کی بات کرتے ہیں؟‘‘

’’یہ ایک راز ہے میرے بیٹے! شاید کبھی تم پر منکشف ہو، جب تم دنیا کو دھتکار کر میرے پاس آؤگے۔ کیا خبر کب۔ کب میرا رب تم پر اپنی رحمت کا دروازہ کھول دے، ہمارا رب جو سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے او رجو مجھ سے گناہ گاروں کو آخر شب کی عبادت میں گداز بخش دیتا ہے۔‘‘ ان کی آواز پھر بھیک گئی ہاتھوں کی انگلیاں پھر کانپنے لگیں، آنسو پھر بے تاب ہوگئے۔ مجھ پر اتنا کرم کر، اس سیاہ دل پر، من کے اندھیروں میں بھٹکنے والے پر، آج صبح میں نماز پڑھنے اٹھا اور یکایک مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا سارا وجود تحلیل ہوکر دعا بن گیا ہے او رپھر جب سجدے کے لیے جھکا تو میرا جی چاہا کہ آنسو بن کر خاک میں تحلیل ہوجاؤں، کاش تم سمجھ سکتے میرے بیٹے!‘‘

پھر وہ اٹھے، ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پیا، کچھ دیر قبلہ رو کھڑے کوئی دعا پڑھتے رہے او رجب پلٹ کر دیکھا تو ان کے چہرے پر ان کی مخصوص دلآویز مسکراہٹ لوٹ آئی تھی۔ ’’معاف کرنا بیٹے‘‘ انہوں نے دیوار سے لگے گاؤ تکیے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔ ’’ہم بندوں کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے ہی حال میں مست رہیں۔ میں ذرا دور نکل گیا تھا، مجھے معاف کر دینا۔‘‘ وہ گم سم سے ہوکر اپنے قدموں کو تکنے لگے اور مجھے لگا کہ ان کے اندر افسوس کی کوئی لہر اٹھی ہے اور میں نے سوچا بابا تم اس اجلی براق پوشاک جیسے ہو کہ جوں جوں دن گزرتے ہیں، اس کی چمک اور سفیدی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔

٭٭

ان کی آنکھیں فرش پر جمی رہیں اور پھر وہ بڑبڑانے لگے۔ ’’قلم! قلم! قلم؟؟؟ واہ کیا نعمت ہے خدا کی، رب ہی قلم عطا کرتا ہے، وہی فقط وہی، ہاں مجھے یاد ہے ایک روز تم دنیا کی نامہربانیوں کی شکایت لے کر آئے تھے۔ تب میں نے تمہاری جیب میں پڑا ہوا قلم کھول کر تمہارے ہاتھوں میں دیا تھا۔ کیا تم پر منکشف ہوگیا کہ زندگی نہ فریب دیتی ہے اور نہ کبھی مہربان ہوتی ہے، یہ تو ہم ہیں جو اپنی زندگیوں کو، مہلت عمل کو رائیگاں کرتے ہیں کہ جیسے کوئی ماں اپنے ہی بچوں سے شقاوت کرے۔ او رسنو کہ جن پر زندگی کی خوشبو آشکارا ہو جاتی ہے، ان پر، ان کے دل و دماغ پر، ان کی ہمتوں پر، ان کی جدوجہد پر، ان کے اظہار و عمل پر، ان کے قلم پر کبھی کڑا وقت نہیں آتا، قسم ہے کعبہ کے رب کی، کبھی نہیں آتا۔ کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ جب وہ تمہیں آزماتا ہے تو وہ تمہیں اپنی نعمت بھی عطا کرتا ہے، وہ تم پر بارش کرم کرتا ہے، مگر کیا عجب ہے کہ تم ہمیشہ زمین کی طرف ہی دیکھتے رہتے ہو، بلندیوں کو نہیں تکتے۔‘‘

’’مگر قلم کو اذن کلام نہیں بابا!۔ ہمیں چپ رہنے کو کہا گیا ہے۔‘‘

’’کیا تم خدا کے اس بزرگ بندے کو بھول گئے جو قید خانے میں تھا۔ وہ کوئلے کی سیاہی اور مٹی کے ٹکڑوں سے دیواروں پر لکھتا تھا۔ کیا تم پر اس سے بھی کڑا وقت آن پڑا ہے جس نے کہا تھا قید میرے لیے تنہائی سی نعمت ہے اور جلاوطنی میرے لیے سیر ہے۔ جب تم سال بھر کے بعد امتحان دینے کے لیے کمرہ امتحان میں جاتے ہو تو کیا تم یہ کہتے ہو کہ ہم پر برا وقت آگیا ہے، تب تو تم یہ کہتے ہو کہ یہ اگلی منزل کی طرف، شعور اور آگہی کے اگلے قدم کی طرف سفر کا لمحہ ہے۔ تم کیسے ناسمجھ ہوگئے ہو کہ زندگی جب آزمائش کے لیے تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو تمہارے چہرے دھوپ میں جھلسے کھیتوں کی طرح مرجھا جاتے ہیں اور تم یوں بے قرار ہو جاتے ہو جیسے کسی بھکاری سے اس کا درد ر سے جمع کیا ہوا رزق چھین لیا گیا ہو۔ تم اس آزمائش کے مقابل کھڑے نہیں ہوتے۔ تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم میدانِ عمل میں اتریں گے او رسرخ رو ہوکر لوٹیں گے۔ جیسے کھلایا پلایا گھوڑا مقابلے کے وقت جوش و خروش سے دوڑتا ہے۔ تم اپنے اندر کیوں نہیں جھانکتے، یہ کیوں نہیں جانتے کہ تمہارے اہل خاندان کے گناہوں نے تمہیں کمزور کر دیا ہے۔ تم کبھی جنگ کی تیاری ہی نہ کروگے تو جنگ کیسے کروگے۔ جان لو کہ تمہاری بدقسمتی باہر سے نہیں اندر سے آگئی ہے، تمہاری کم ہمتی آرام طلبی ہی تمہاری سزا ہے۔‘‘

٭٭

تب میرا دل شگفتگی اور آزادی سے دھڑک اٹھا، جب انکشاف کا لمحہ آئے تو وہ یوں ہی دھڑکتا ہے۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ بابا کے ہاتھ پر رکھ دوں۔

ان کا لمبی مخروطی گلابی انگلیوں والا روشن ہاتھ دھیرے سے پیچھے کھسک گیا۔ ’’ابھی ہیں میرے بیٹے! ابھی نہیں۔ باہر جاؤ، باہر جہاں سوال کرتی، بہروپ بدلتی، سخت گیر استاد جیسی زندگی انسانوں کا کھوٹ الگ کرتی اور انہیں جوہری کے مشاق ہاتھوں کی طرح تراش کر نادر بنا دیتی ہے۔ باہر جاؤ او رجب تم اس طرف لوٹ کر آؤگے تو تمہارے چہرے پر سفر کی گرد ہوگی تو میں تمہارے ساتھ چلوں گا اور ہم خدا کی زمین پر ایک نئے سفر کا آغاز کریں گے۔‘‘ انہوں نے میرا شانہ تھپتھپایا او ردل میں آرزوئیں امڈ رہی تھیں جیسے صبح دم سورج سے کرنیں پھوٹتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ہارون الرشید

تبصرہ کیجیے