ابھی دیر نہیں

بال سنوارتے ہوئے دفعتاً نسرین جہاں کی نظر آئینے میں نظر آرہے اپنے عکس پہ جیسے جم کر رہ گئی۔ اس نے بے اختیار اپنے چہرے کو چھوا، یہ اس کا چہرہ تو نہیں تھا یہ تو ایک ادھیڑ عمر عورت کا چہرہ لگ رہا تھا۔ جس کے چہرے کا رنگ اڑ چکا ہو، آنکھوں کے گرد سیاہ ہالے تھے، چہرے کی وہ شادابی کب کی رخصت ہوچکی تھی، اسے لگا اس کے سامنے کوئی دوسری عورت کھڑی ہے جو اس کے لیے اجنبی ہے۔ اس کی شادی کو پندرہ سال ہوچکے تھے اور سرکاری اسکول میں بطور ٹیچر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اسے تقریباً بیس سال سے بھی زائد کا عرصہ ہو رہا تھا۔ ایک لڑکا او ردو لڑکیاں اس کے گلشن کو مہکا رہی تھیں۔ سب اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ دیکھا جائے تو اس کی شادی شدہ زندگی کامیاب ہی ثابت ہوئی ہے۔ ایک خیال رکھنے والا شوہر موجود ہے جو اسے بہت پیار بھی کرتا ہے۔

اس نے ذہن میں آئے اس جملے کو دہرایا… اسے یاد آگیا کہ اس کی شادی لومیرج تھی۔ بے ساختہ اس کی نظر بیڈ روم کی کھڑکی سے ہوتی ہوئی باہر لان میں نظر آرہے منظر پہ گئی۔

لان میں اس کے شوہر صابر اور اس کا بیٹا علی دونوں گاڑی دھونے میں مصروف تھے آج اتوار کی وجہ سے سبھی لوگ گھر پہ تھے۔ اس کے شوہر صابر کی عادت تھی کہ ہر اتوار کو گاڑی کو ضرور دھوکر صاف کردیتے تھے۔ اس آلٹو کار کو لیے ہوئے اسے پانچ سال سے بھی اوپر ہوگئے تھے۔ اسے یاد آگیا کہ یہ گاڑی اس نے تب خریدی تھی جب اس کی تنخواہ تیس ہزار سے بڑھ کر چالیس ہزار کے آس پاس ہوگئی تھی۔ تب اس نے یہ گاڑی قسطوں پر لے لی تھی۔ جس کی قسطیں کب کی پوری ہوچکی تھیں، خود اس کے شوہر انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے، ہر روز اسے گاڑی سے اسکول چھوڑتے ہوئے کام پر چلے جاتے اور اسکول سے چھٹی کے وقت اسے پک کر لیتے اور گھر چھوڑ دیتے۔ دوپہر کا کھانا وہ خود بناتی تھی۔ کھانا کھاکر اس کے شوہر صابر پھر ڈیپارٹمنٹ چلے جاتے جہاں سے ان کی واپسی تقریباً پانچ بجے کے بعد ہوتی۔ یہ اس کے روزانہ کے مشاغل تھے۔ بچے مہنگے اسکولوں میں تعلیم پا رہے تھے، اسکول سے واپسی کے بعد وہ زیادہ تر ان ڈور گیمز میں مشغول رہتے۔ پچھلے سال ہی اس نے بڑی بیٹی کو کمپیوٹر خرید کر دیا تھا اور اپنے چھوٹے لاڈلے بیٹے کی فرمائش پر دیوار گیر ایل سی ڈی (L.C.D.) ٹی وی اسکرین بھی فٹ کروادی تھی۔

اچانک باہر سے کچھ شور سا سنائی دیا۔ اس کے خیالات کا سلسلہ ایک دم ٹوٹ گیا۔ اس نے ایک بار پھر کھڑکی سے دیکھا ، باہر لان میں ا س کے شوہر صابر اور بیٹا اور دونوں لڑکیاں ہنگامہ آرائی میں مصروف تھے۔ نل سے پائپ لگا کر گاڑی کو دھوتے ہوئے اس کے شوہر ادہر ادھر پانی بھی پھینک رہے تھے۔ تینوں بچے بھی ساتھی ہی لگے تھے۔ کپڑے بھی ان کے بھیگ چکے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر بے ساختہ ہلکی سی مسکراہٹ درآئی، اس کی نظر شوہر کی طرف گئی، پچاس سال کی عمر میں بھی وہ ابھی تک جوان دکھائی دے رہے تھے۔جینز اور ٹی شرٹ پہنے وہ کسی نوجوان سے کم نہیں لگ رہے تھے۔ بال ضرور کنپٹیوں کے قریب کچھ سفید سے ہوگئے تھے مگر چستی پھرتی اب بھی ان میں غضب کی تھی، چہرے کی تازگی اور سرخی میں کوئی کمی نہیں تھی شاید اس کی وجہ ان کی روزانہ کی سیر کی عادت اور متوازن خوراک ہو… یا کوئی اور وجہ … اس نے اپنے سراپے پہ نظر ڈالی اس کی عمر ۴۵ سال کی ہو رہی تھی مگر جیسے بڑھاپا اس پر چھا گیا ہو۔ اسے لگا اس کے اند رکوئی تھکی ہوئی روح سما گئی ہے۔ اسکول سے گھر، گھر سے اسکول، لگی بندھی مشغولیت نے جیسے اس کے اندر صدیوں کی تھکن بھر دی۔ نہ کہیں آنا نہ کہیں جانا اور اب تو گٹھیا کے مرض نے تین سال سے اس کو جوڑ کر رکھ دیا تھا۔ چلنے پھرنے میں بے حد تکلیف، دن بہ دن سستی، اب تو گھر کے کام بھی نہیں ہوتے تھے، کئی نوکرانیاں بدلیں جیسے تیسے گزارا چل رہا ہے۔ بیٹا جب شادی کے لائق ہو تو اسے کچھ راحت ملے مگر اس میں ابھی کافی وقت ہے۔ بیٹیوں کا دم کچھ غنیمت ہے وہ نہ ہوتیں تو اس کا حال جانے کیا ہوتا۔ بیماری کی وجہ سے اس نے خاندانی تقریبات میں آنا جانا بھی کم کر دیا تھا۔ گو گھر میں گاڑی کی سہولت تھی مگر اسے اب وحشت ہونے لگی تھی۔ زیادہ تر بچے او ر شوہر ہی جاتے۔ اسے آدم بیزار ہونے کا لقب بھی مل چکا تھا۔ پتا نہیں اُسے دن بہ دن کیا ہوتا جا رہا تھا۔

’’تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو۔‘‘ اس کے شوہر صابر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔

وہ بے ساختہ چونک پڑی اس نے کمرے میں لگے کلاک کی طرف دیکھا ساڑھے گیارہ بج گئے تھے۔ اسے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔ اس نے بے دلی سے کنگھا ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ دیا۔ اس نے شوہر کی طرف دیکھا جو اسی دوران تولیے سے بال رگڑ رہا تھا کپڑے اس کے گیلے تھے۔ ’’جلدی سے ناشتہ بنا دو، آج نوکرانی بھی نہیں آئے گی اس لیے دوپہر کے کھانے کی تیاری بھی کرلینا۔ ناشتے کے بعد میں مارکیٹ سے سبزی لے آؤں گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے شوہر کپڑے تبدیل کرنے باتھ روم کی طرف چلے گئے اور وہ کچن کی طرف، اسی دوران اس کے شوہر نے اس کی طرف ایک نگاہ غلط ڈالنا بھی ضروری نہیں خیال کیا اسے لگا اس کے شوہر کی محبت میں کمی آگئی ہے، اب وہ پہلے سا التفات ظاہر نہیں کرتا تھا۔

رات کو سوتے وقت اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا کتنے سکون کی نیند سو رہا تھا اور ایک وہ تھی کہ نیند کی گولی کھائے بغیر اسے نیند بھی نہیں آتی تھی۔ اس نے بیڈ کے ساتھ پڑے ٹیبل کی طرف دیکھا جس پر کئی قسم کی دواؤں کے پتے اور شیشیاں رکھی ہوئی تھیں۔ جس میں پیٹ کے امراض سے لے کر اعصاب کو سکون دینے والی گولیاں تک رکھی تھیں۔ اس نے نیند کی گولی نکالی اور پانی کے ساتھ نگل لی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔

صبح کمرے میں کھڑپڑ کی آواز سے اس نے ذرا سا آنکھیں کھول کر دیکھا۔ اس کے شوہر صابر جو گر کے تسمے باندھ رہے تھے وہ اس وقت ٹریک سوٹ میں ملبوس تھے۔ روزانہ وہ ساڑھے پانچ بجے اٹھ کر کچھ دوری پر بنے پلے گراؤنڈ میں سیر کے لیے اور کسرت کے لیے جاتے تھے۔ اسے بھی کئی بار کہا مگر اس کی ہمت ہی نہیں پڑتی تھی۔

ساڑھے چھ بجے کے قریب وہ لان میں چہل قدمی کرتی ہوئی مین گیٹ کی طرف آئی۔ دور سے اس کے شوہر چلے آرہے تھے ساتھ ہی کوئی عورت تھی دونوں کے چہرے کھلے ہوئے تھے۔ ذرا قریب آنے پر اس نے دیکھا وہ مسز طفیل تھیں جو کہ سیر کرنے صبح کے ہلکے پھلکے کپڑوں میں ملبوس تھیں۔ آگے سے وہ گرین اسٹریٹ کی طرف پلٹ گئیں اور اس کے شوہر گیٹ کی طرف آگئے اس نے دیکھا اس کے شوہر کا چہرہ تمتما رہا تھا اور مسکراہٹ اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی اس نے لب بھینچ لیے، وہ چپ چاپ اس کے پیچھے آگئی۔

دوسری صبح جب اس کے شوہر جانے لگے تو اس نے کہا ’’میں بھی ساتھ جا ؤں گی۔‘‘ صابر نے اس کی طرف حیرانی سے دیکھا ’’اچھی بات ہے چلو۔‘‘

دونوں گھر سے باہر آگئے وہ آہستہ آہستہ چلنے لگی جب کہ صابر کی رفتار قدرے تیز تھی ہر بار وہ اسے آواز دے دیتی کہ وہ پیچھے رہ گئی ہے کیوں کہ گٹھیا کے مرض کی وجہ سے اس کے قدم گویا من من کے بھاری ہو رہے تھے۔ گراؤنڈ تک پہنچتے پہنچتے صابر کئی بار جھنجلا گئے تھے۔

وہاں ٹریک میں چلتے ہوئے مسز طفیل مل گئیں اس کے شوہر اور وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آگے نکل گئے اور وہ پیچھے رہ گئی کچھ دور چلنے کے بعد وہ تھک کر سمینٹ سے بنی ایک بنچ پر بیٹھ گئی۔ مسز طفیل اور اس کے شوہر نے ٹریک میں کئی چکر لگائے جب بھی وہ پاس سے گزرتے دونوں کے زور زور سے بولنے کی آواز او رہنسی سنائی دیتی۔ پتا نہیں ایسی کون سی باتیں تھیں، جس میں پٹاخے ہی پھوٹتے تھے۔

کچھ دیر بعد مسز طفیل اس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور اس کے شوہر گھاس پر ورزش کرنے لگے۔ مسز طفیل نے اس کا حال احوال پوچھنے کے بعد کہا ’’سچ … نسرین تمہارے شوہر کا سینس آف ہیومر غضب کا ہے، ا س کی کمپنی میں کوئی بور ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘

نسرین کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آگئی۔ دل ہی دل میں اسے شدید جلن کا احساس ہوا۔ جانے کب سے مسز طفیل اس کے شوہر کی کمپنی سے انجوائے کر رہی ہیں اور ایک وہ ہے پتھر کی طرح گھر میں پڑی رہتی ہے۔ ا س کے بعد جیسے تیسے کر کے وہ بھی صابر کے ساتھ سیر کو آنے لگی۔ اسے لگا کہ اس میں کافی تبدیلی آرہی ہے۔ سستی اور تھکاوٹ کا احساس قدرے کم ہوگیا تھا۔

اب نسرین نے خود پر بھی دھیان دینا شروع کر دیا۔ تھوڑا سجنا سنورنا شروع کر دیا۔ کپڑوں میں بھی رنگوں کا انتخاب اچھا او رشوخ ہونے لگا۔ اب وہ پرانے رنگ ڈھنگ کے کپڑوں کو اس نے ترک کر دیا جن کو پہن کر خواہ مخواہ بڑھاپا سا طاری ہو جاتا تھا۔ وہ اندر ہی اندر محظوظ ہوتی جب اپنے شوہر کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ستائش بھی نظر آتی۔

ایک روز جب وہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی، اس کے کمرے میں شوہر آگئے ’’چلو نسرین جلدی کرو… وقت ہو رہا ہے۔‘‘ صابر نے کلائی میں گھڑی باندھتے ہوئے کہا۔

اچانک اس نے نگاہ اٹھائی تو اٹھی ہی رہ گئی۔ نسرین جہاں اور دنوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی اچھی لگ رہی تھی۔ بال اسٹائل سے باندھے ہوئے، ہلکا سا چہرے پہ میک اپ، آنکھوں میں کاجل، ہونٹوں پہ قدرتی رنگ کی لپسٹک ’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ اس کے شوہر کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

گاڑی میں بیٹھتے ہوئے صابر نے کہا ’’ایک بات کہوں؟‘‘

’’کہو‘‘ ! نسرین نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا۔

صابر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا ’’آج تم کافی مختلف لگ رہی ہو اور اچھی بھی … مجھے ایسے لگا جیسے کالج کے پرانے دن لوٹ آئے ہوں۔ تم بالکل آج ویسے ہی تیار ہوئیں‘‘ … او ربھی نہ جانے اس کے شوہر کیا کچھ کہہ رہے تھے مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے اطمینان سے گاڑی کی سیٹ پر سر ٹکا دیا اور سکون سے آنکھیں بند کرلیں۔ گاڑی کولتار کی سڑک پر پھسلی جا رہی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نصیر رمضان