لاڈو

کالی ربن جیسی لمبی اورسیدھی وہ سڑک آج خلافِ معمول ویران دکھائی دے رہی تھی ۔عام طور پر اِس سڑک پر کافی گہما گہمی رہتی ہے۔ ان گنت گاڑیوں اور راہگیروں کی برابر آمدورفت رہتی ہے لیکن آج یومِ تعطیل ہونے کی وجہ سے نسبتاََ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف اِکا دکا راہ گیر اور گنی چنی گاڑیاں آجا رہی تھیں۔ یہ سڑک تقریباََ آدھا کلو میٹر کے فاصلے تک بالکل سیدھی چلی گئی تھی ۔ کسی سادہ لوح بندے کی فطرت کے عین مُوا فق۔ کہیں کوئی گھُماؤ پھِراؤ نہیں تھا۔

شام ہو رہی تھی۔ ماحول پردور اُفق میںڈوبتے ہوئے سورج کی لالی چھائی ہوئی تھی۔صبح کے گئے شام ڈھلے اپنے آشیانوں کو واپس لوٹتے ہوئے پرندوں کی چہچہاہٹ سے فضا نغمہ بار ہو رہی تھی۔ وہ تین منچلے دوست پچھلے کئی گھنٹوں سے اُس سڑک پر ایک کافی بار کے سامنے کھڑے خوش گپیوں میں اِس قدر مصروف تھے جیسے دنیا جہاں کی آسودگی بس اُن کے دامن میں آگئی ہو۔

جیمس، شیام اور اسد تینوں بچپن کے ساتھی ،ایک دوسرے کے رازدار ، غمگسار اورآپس میں کافی بے تکلف یار تھے۔ اُنہوں نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کیا تھا اور روزگار کی جستجو میں کئی ایک دفتروں میںدرخواست دے رکھی تھی لیکن تا حال کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا تھا۔ یہ بے سودفرصت کے دن ایک دوسرے کی رفاقت میں دلچسپ ہو جاتے ورنہ تنہائی و بے برگ و نوا لمحوں میں زندگی اِ س قدر بے آب و رنگ لگنے لگتی کہ وقت کاٹے نا کٹتا۔ بہرحال اُن کے لئے ایک پل کے لئے بھی ایک دوسرے سے جدا ہوکر وقت گزارنا مشکل تھا۔ شروع سے کرسمس، ہولی، عید مل کر مناتے آئے تھے۔سنیما دیکھنا ، گھومنا پھرناوغیرہ بھی ساتھ میں ہوتا۔ تینوں کااِنتہائی بے تکلفی کے ساتھ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی تھااور ایک دوسرے کے خاندانی افراد سے گہری شناسائی تھی۔ سب کو اُن تینوں کی صحت مند دوستی پر اعتماد تھا۔

اِتفاقاً اُن کے خیالات و نظریئے آپس میںاِس قدر ملتے جلتے تھے کہ بسا اوقات کسی نکتے پر اظہارِ خیال کرتے بیک وقت ایک جیسا فقرہ تینوں کے منہ سے نکل جاتا اور اِس عجیب اتفاق پر وہ بے اختیارہنس پڑتے۔ بے کاری اورصبح تا شام مٹر گشتی و آوارہ گردی نے آج کل اُن کے بے جا جنون و شوق کوہوا دے رکھی تھی ۔

اِن دنوں اُن کا موضوع گفتگو و تجسس کا مرکز خالصتاً صنفِ مخالف ہوا کرتا تھا۔رنگ برنگی وخوش رنگ تتلیوں کی طرح ڈولتی ہوئی لڑکیوں کو ٹکٹکی لگا کر گھورنا، اُن کی جان لیوا اداؤں پر گھنٹوں بحث کرنااُن کا محبوب مشغلہ بن چکا تھا۔ ویسے کالج میں مختلف لڑکیوں سے جان پہچان رہی تھی لیکن وہاں ادب و لحاظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے حدود میں رہنا پڑتا تھا۔ یہاں ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا۔عام طور پر کھُل کھیلنے کے اکثر مواقع دستیاب ہو جاتے ۔اپنے اِس چسکے کی پاداش میں بارہاکچھ حوصلہ مند دوشیزاؤں کے ردِعمل کی وجہ سے پٹتے پٹتے بچے تھے۔ ایسے کئی پر خطرحوادث و تجربوں کی روشنی میں اُن پر صاف باورہو گیاتھا کہ راہ چلتے شریف لوگ اکثر قابلِ اعتراض مناظردیکھ سن کر بھی بکھیڑے میں پڑنے کے بجائے پتلی گلی سے نکل جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور پولیس بھی اپنی نوعیت کے چھوٹے موٹے حادثوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتی۔ بہر حال وہ چاروں سمت سے محفوظ تھے۔لہٰذا ُن کے اِرادے بتدریج اِتنے پُر خطر وحوصلے بے باک ہو چلے تھے کہ اوپر والا ہی بہتر جانتا تھاکہ اِن سر پھرے نوجوانوں کے ہاتھوں آگے چل کر کیا کچھ سرزد ہو سکتا ہے۔

کسی راہ چلتی دوشیزہ کو دیکھتے ہی تینوں کی رال اِس طرح ٹپکنے لگتی جیسے وہ کوئی مالِ غنیمت ہو۔ جب تک وہ نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جاتی اپنے منہ کھولے ندیدوں کی مانند اُسے گھورتے رہتے ۔ کوئی شرم سے نگاہیں نیچی کئے چپ چاپ چلی جاتی توکو ئی گرم نگاہوں کی تاب نہ لاکربدن چراتی ہوئی ہڑبڑاہٹ میںاُلٹے سیدھے قدم رکھتی ہوئی جلدی سے نکل جاتی، کچھ ایک شانِ بے نیازی کے ساتھ گزر جاتیں ۔ اِن بے ساختہ اداؤں کو دیکھ جیمس فوراََکوئی مشہور وبے ہودہ سافلمی ڈائیلاگ داغ دیتا۔ایسے میںبھنائی ہوئی لڑکی ان سے پوچھتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’تمہاری اپنی کوئی بہن نہیں ہے کیا؟‘‘

تینوں مل کر اُسی لہجے اور آواز میں نقل اُتارتے ایک دوسرے کی پیٹھ پر دوہتڑ جماتے ہوئے اِنتہائی بد تمیزی کے ساتھ ہنس پڑتے۔ عین اُ س گھڑی اِتفاقاََ اگر اُن کا کوئی گھریلو فردوہاں موجود ہوتاتو غالباًاُسے اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا۔اِس نظر بازی کے کھیل میں تینوں کو بے اِنتہامزہ آنے لگا تھا۔رفتہ رفتہ اُنہوں نے اِس قدرتجربہ و مہارت حاصل کر لی تھی کہ گلی کے اُس پار سے آتی ہوئی خوشبو سونگھ کر ہی کسی لڑکی کا حال احوال پہچان لیتے۔ اِس وقت بھی وہ کافی بار کے اندر آتے جاتے ہوئے لوگوں میں اپنی من پسند چیز یںتلاش کر آنکھوں کوٹھنڈک و روح کو سامانِ تسکین مہیا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

دفعتاً دور سڑک کی بتیاں جل اُٹھیںجس کے ساتھ ہی اُن تینوں کے دماغ کی بھی بتیاں جلنے بجھنے لگیں۔۔۔شام کے دھندلکے میںدورسڑک کے دہانے پرجاتی ہوئی ایک لڑکی صاف نظر آگئی تھی ۔اُس نے شوخ رنگ سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ اُس کاگہرا نیلا دوپٹہ ہوا میں لہراتا ہوا گویااپنی طرف آنے کی دعوت دیتا ہوا سالگ رہا تھا۔ کالی ودراز دو چوٹیاں پیٹھ پر لہرا رہی تھیں۔ سروقدوہ لڑکی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ مورنی کی سی چال چلتی ہوئی اگلے موڑ کی سمت قدم بڑھائے جا رہی تھی ۔ اُس کے ساتھ ایک معمر خاتون بھی تھیں جو ایک اونی دو شالہ اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھیں۔ لیکن اِن تینوں کی آنکھیں تو بس لڑکی پر مرکوز تھیں۔

ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سب کے لبوں پر ایک شریر تبسم بکھر گیا۔ قبل اِس کے کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی تینوں نے فی الفور اپنی گاڑیوں کو مقفل کیا اورکسی معموُل کی طرح اُس سمت چل پڑے جدھر آنکھیں سینکنے کے لئے سامانِ شوق موجود تھا۔جیسے جیسے قریب ترہورہے تھے دیدار رخِ روشن کے تجسس میں اِضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جیمس کی تو عادت تھی کہ ایسے موا قعوں پر اُس کی زبان کچھ زیادہ ہی چلنے لگتی تھی۔ اِنتہائی بھونڈے انداز میںہمیشہ کوئی بے باک فقرہ کس دیتا جس پر وہ دونوں کافی محفوظ ہوا کرتے ۔ لہٰذا اِس وقت بھی اُس کے منہ سے ایک بے حد فحش و اخلاق سوزفقرہ سن کر دونوںاِس طرح ہنسنے لگے جیسے جیمس نے اُن کے منہ کی بات چھین لی ہو۔

’’ہاں !دیکھو تو ایک نہیں دو دو ناگنیں خزانے کی حفاظت پر معمور ہیں‘‘اسد نے جواب میںکہاتھا۔

’’ کاش بندہ اُن میں سے ایک ہوتا ‘‘روی نے ٹکڑا لگایا۔ ’’یار ایسی قسمت کہاں ! اپنے نصیب میں تو دور سے دیدار کرنا ہی لکھا ہے‘‘اسد نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

جیمس بولا۔’’دل چھوٹا مت کر بے ۔ کسے پتہ کل کو تجھے اپنے گلے کا ہار بنا لے۔‘‘

’’بدقسمتی سے اگر ایسا ہو گیا تو یاروں کو مت بھولنا‘‘ روی نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔

اسد نے خوش دلی سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔’’ ہاں ہاں تم بھی فیض یاب ہو لینا۔ بچپن کی دوستی کے ناتے اتنا حق تو بنتا ہے۔‘‘

جیمس نے چٹخارے لیتے ہوئے کہا۔’’آج بس ذرا کندھے سے کندھا مس کرنے کا موقع ہی مل جائے نا تو سمجھو اپنی شام رنگین ہو گئی۔‘‘

روی جھٹ سے بولا۔’’ یار ذراسنبھل کے ، راہو مہاراج ساتھ میں ہیں!‘‘

اِس پر ایک فرمائشی قہقہہ پڑا۔ بے ہنگم قہقہوںکی آواز پر اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔یکلخت اُنہیں ایسا لگا جیسے اُن کے سروں پر یخ بستہ پانی اُنڈیل دیاگیا ہو۔ بالکل مجسموں کی طرح اپنی اپنی جگہ جم کر رہ گئے اور سر سے پیر تک بھیگے ہوئے سے کانپنے لگے۔تینوں کے منہ سے بیک وقت نکلاتھا۔۔۔۔۔۔۔’لاڈو‘!!

وہ متحیر ہوتے ہوئے بولی۔’’ بھیا آپ ! ممی دیکھو نا !جمی بھیا، شیام بھیااور اسد بھیا صبح کے گئے اب دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘

مارے صدمے، ندامت، افسوس و شرمندگی کے اُن کے چہرے فق ہو گئے تھے اور فر فر چلتی ہوئی زبانوں پر گویا وزنی تالا لگ گیا۔ معمر خاتون نے خشمگیں نگاہوں سے اسد کو گھورتے ہوئے پوچھا۔

’’ کہاں رہے صبح سے لے کراب تک؟ تمہارے لوٹنے کاانتظار کرتے آخرکار ہم دونوں کو گھر سے نکلناپڑا۔‘‘ اسد نے کھسیائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے لاڈو کے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کی۔ اُس نے پیر پٹکتے ہوئے ٹھنک کر شکایت کی۔

’’ دیکھو نا جمی بھیا اسد بھیا نے پھر سے چپت لگائی ۔ گھر پر تواکثر ستایا کرتے ہیںاب بیچ سڑک پر بھی باز نہیں آئے‘‘

جیمس بھی جیسے اپنے خیالوں سے چونک پڑا۔ لاڈو اسد کی بہن تھی ۔ اسد سے تقریباََ آٹھ نو برس چھوٹی تھی ۔ تزئین نام تھا اُس کا ۔ مارے دلار کے سب اُسے لاڈو کہتے تھے ۔ حال ہی میں اُس نے آٹھویں جماعت میں داخلہ لیا تھا۔

تینوں نے بچپن میں اُسے گود وں کھلایا تھا۔اُس کے ہاتھ تھام کرپاؤں پاؤں چلنا سکھایا تھا۔ جب اپنی توتلی زبان میں اُس نے پہلی بار ’بھیا‘کہہ کر پکارا تھا توتینوں مارے حیرت و شادمانی کے گنگ رہ گئے تھے۔ روتی بسورتی ننھی لاڈوکو واپسی پر ٹافی کا لالچ دیتے ہوئے روی اور جیمس ہی تواپنے کندھے پر بٹھا کر پلے اسکول پہنچا آتے تھے۔لاڈو اُنہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی اور سب کی آنکھوں کا تارہ تھی۔

اسد کی شرارتوں سے زچ ہوکروہ اکثر جیمس سے اُس کی شکایت کیا کرتی تھی اور جیمس اُس کی دلجوئی کے لئے اسد کو باکسنگ کے مکے مارا کرتا تھا۔روی کی جیبوں میں اُس کے لئے ہمیشہ ایک آدھ چوکلیٹ رکھا رہتاتھا۔ آج وہ اُس کے سامنے بغلیں جھانک رہا تھا ۔خِلافِ معمول تینوں کو اِس طرح بھونچکے و مہر بہ لب پاکر وہ زور سے ہنس پڑی ۔

’’آخر آپ تینوںکے چہروں پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ! شام کے وقت کوئی بھوت ووت تو نہیں دیکھ لیا جو اِس قدر گھبرائے ہوئے ہو ‘‘

اُس نے اسد کا ہاتھ تھام کر اُسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔ اسد نے فوراََ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے سنبھل کرسڑک پر جاتی ہوئی ایک خالی رکشا رکوائی اور بے حد سنجیدگی کے ساتھ ماں سے بولا۔

’’امی آپ گھر جائیں۔ لاڈو کی کتابیں میں لیتا آؤنگا۔ آج نہیں بھولوں گا‘‘

کاش کہیں سے چلو بھر پانی مل جاتا۔۔۔۔تینوں دوست آج ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے۔ سب اپنی اپنی جگہ بس یہی سوچ رہے تھے کہ اپنی لاڈو اِتنی بڑی کب ہو گئی!؟ lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر شاہدہ شاہین