مطالعے کے فائدے

فی زمانہ مطالعہ کی عاد ت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ٹی وی، کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر الکٹرانک آلات کے آنے سے آدمی عدیم الفرصت ہوگیا ہے۔ وقت ملنے پر بھی وہ کتابوں، اخبارات، جرائد کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

مطالعہ کی عادت میں دھیرے دھیرے انحطاط آتا جا رہا ہے اور یہ چیز خصوصاً نوجوانوں او رطلبہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ خاندان کے بزرگ، دانشور، اساتذہ سبھی مطالعہ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں مگر نئی نسل ان نصائح کو سن کر نظر انداز کردیتی ہے۔ مطالعہ سے یوں تو بے حد فائدے ہیں مگر یہاں محض دس فوائد کا ذکر کیا جا رہا ہے:

(۱) علم میں اضافہ کا سبب:

کتابوں،جریدوں، اخباروں او رعام دلچسپی کے میٹریل کا مطالعہ علم میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ آدمی دنیا جہان کی چیزیں سیکھ سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آج انٹرنیٹ پر ساری دنیا کی معلومات دی جاتی ہیں اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر کیا ہم ان معلومات کو مستند سمجھ سکتے ہیں!! نیٹ کی سرفنگ کرنے والوں نے یہ جملہ ضرور لکھا دیکھا ہوگا کہ ’یہ معلومات قابل تصدیق ہیں اور ان میں اضافہ اور تبدل کی گنجائش ہے‘ اسی طرح انٹرنیٹ پر مختلف اقسام کی ڈکشنریاں اور انسائیکلو پیڈیا بھی فیڈ ہوتی ہیں اور آدمی صرف ماؤس کے اشارے پر ساری معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ براہِ راست کتابوں وغیرہ سے ملنی والی معلومات پائیدار اور جامع ہوتی ہیں۔ جہاں مجبوری ہو یا مخصوص حالات میں نیٹ کی سرچ تو لائق تحسین ہے مگر کلی طور پر اس پر انحصار مناسب نہیں۔

(۲) الفاظ کے ذخیرہ میں اضافہ:

مختلف النوع موضوعات پر مواد کے مطالعہ سے نئے الفاظ سیکھنے میں مدد ملتی ہے اور آدمی نئے الفاظ نئی بندشوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ ان الفاظ کو وہ موقع محل کے اعتبار سے اپنی تحریر یا تقریر میں استعمال کرسکتا ہے۔ اس سے اس کے کثیر المطالعہ ہونے کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔

(۳) مطالعہ یاد داشت کی قوت کو بڑھاتا ہے:

مطالعہ کرنے کا اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے قو ت یاد داشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کسی فون نمبر کو دہرانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہیں موبائل فون میں محفوظ نمبروں کو دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جب کہ تجربہ یہ بتلاتا ہے کہ جب موبائل فون کا استعمال عام نہیں تھا ایسے اعداد نوک زبان پر ہوا کرتے تھے۔ موبائل فون میں فیڈ ہونے کے باعث اب انہیں یاد رکھنے کی زحمت کون گوارا کرے۔ اس طرح سہولتوں کی فراوانی نے قوت یاد داشت کو متاثر کیا ہے۔ مطالعہ کرنے کی بدولت مختلف مضامین کے سیکڑوں اعدا د و شمار یا د رہ جاتے ہیں اور بہ وقت ضرورت ان کو استعمال بھی کرلیا جاتا ہے۔ جدید الکٹرانک آلات نے جہاں سہولیات بخشیں وہیں قوت حافظہ او رقوت یادداشت کو متاثر بھی کر رہا ہے۔

(۳) مطالعہ سے دھیان کو مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے:

مطالعہ کی عادت ہماری توجہ اور دھیان کو مخصوص نکات پر مرکوز رکھتے ہیں یہ ایک طرح کی ذہنی ورزش تھی۔ اب دماغ اور ذہن پر زور ڈالنے کی ضرورت بہت کم پیش آتی ہے اس طرح مطالعہ کی عادت سے دھیان کو مخصوص نقطہ پر رکھا جاسکتا ہے۔

(۵) بہتر طور پر لکھنے کی عادت پیدا کرتا ہے:

مطالعہ کرنے سے مطالعہ کرنے والا اپنے مافی الضمیر اور دلی جذبات کو بہتر طور پر دوسروں پر ظاہر کرسکتا ہے گویا وہ اچھے ڈھنگ سے اپنے خیالات کی ترویج کرسکتا ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ٹیکسٹ میسجنگ کے زمانے میں آدھے ادھورے مخفف الفاظ لکھنے کی عادت پڑ چکی ہے اور یہ عادت اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ طلبہ امتحان گاہ میں اس سے بہ مشکل بچ سکتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات کو تفصیل و صراحت کے ساتھ بیان کرنے سے بھی معذو رہوتے ہیں۔ مطالعہ کرنے سے اس خرابی کو دور کیا جاسکتا ہے۔

(۶) تفریح کا عمدہ ذریعہ ہے:

کتابوں کا مطالعہ وقت گزاری اور مثبت انداز میں تفریح کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو موبائل، ٹی وی، نیٹ وغیرہ کی معیت میں زیادہ لطف آتا ہو مگر کتابوں کا مطالعہ ایک عمدہ ذہنی تفریح ہے۔

(۷) منفی اثرات سے دوری:

مطالعہ میں منہمک شخص تخریبی اور منفی سوچ اور عمل سے دور رہتا ہے۔ اسے واقعتا مطالعہ میں لطف آرہا ہو تو وہ بہت سے فالتو اور شیطانی کاموں سے بچ سکتا ہے اس طرح مطالعہ کی عادت کی بدولت اس کا ذہن خالی نہیں رہتا۔ اس میں شیطانی، تخریبی اور منفی خیالات آنے نہیں پاتے۔

(۸) تناؤ میں کمی:

جس آدمی کو مطالعہ کا چسکا پڑ ہوچکا ہو وہ دنیا و ما فیہا سے غافل ہوکر اپنی عادت میں مشغول رہتا ہے۔ اسے ذہنی آسودگی ملتی رہتی ہے وہ منفی کارروائیوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا ذہن بھٹکنے نہیں پاتا اس طرح وہ مطالعے کے دوران ذہنی طور پر آسودگی محسوس کرتا ہے اور اس طرح ذہنی تناؤ کو دور کرتا ہے۔ اس طرح مطالعہ کی عادت اس کے ذہنی تناؤ کو دور رکھتی ہے۔

(۹) وقت گزاری کا عمدہ ذریعہ:

یوں تو آج کے انسان کو وقت کی کمی کا رونا ہے۔ مشینی زندگی او رطلبہ کی تعلیمی مصروفیات کے بعد ذہنی غذا فراہم کرنے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی نسل خصوصاً طلبہ اپنی اسٹڈی کے قیمتی لمحات بلکہ کئی کئی گھنٹے چیٹنگ، ٹیکسٹ میسجنگ اور فیس بک پر ضائع کرتے ہیں۔ اس سے ان کی صحت اور نیند دونوں متاثر ہوتے ہیں اور لامحالہ تعلیمی نقصان ہوتا ہے مگر کچھ لوگوں کو کتابوں کے مطالعے کی توفیق نہیں ہوتی۔ وقت ہونے کے باوجود وہ اس قیمتی وقت کو یوں ہی ضائع کردیتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ وقت گزاری کا انحصار اپنی استعداد، صلاحیت اور طبیعت کے جھکاؤ پر ہوتا ہے۔ بہرحال مطالعہ وقت گزاری کا ایک شریف اور اثر کن طریقہ ہے۔ وقت کو ’’کاٹنے‘ کے لیے کیا کیا تدبیریں اختیار کی جاتی ہیں اسی وقت کو مطالعہ کے لیے صرف کیا جائے تو یہ وقت گزاری کے علاوہ کئی فائدوں سے خالی نہیں۔

(۱۰) ذہنی تربیت کا ذریعہ:

مطالعہ کی عادت ذہنی تربیت کے لیے بڑی موثر ہے۔ اس کی ساری ذہنی و دماغی قوتیں مرکوز ہوجاتی ہیں۔ ایسا شخص تضیع اوقات کو جرم سمجھتا ہے اور اس طرح مختلف قسم کی کتابوں کے مطالعہ سے ذہن بالیدہ ہوتا چلا جاتا ہے، خیالات میں عظمت آتی ہے ایسے شخص میں انکساری کی صفت پیدا ہوتی ہے او ریہ ساری چیزیں اس کی آئندہ زندگی کام میں آتی ہیں۔ اس طرح مطالعہ ذہنی تربیت کا موثر ذریعہ ہے۔

مطالعہ کی عادت کے یہ چند فائدے ہیں۔ موقع محل اور ذاتی اعتبار سے اور بھی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں جس کا تجربہ خود مطالعہ کرنے والا کرسکتا ہے۔ اس لیے نئی نسل خصوصاً طلبہ میں مطالعہ کی عادت پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ گھر کے بڑے افراد، اساتذہ اس کام میں مدد کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو انہیں اس کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔ وقت کی کمی کا رونا کسے نہیں، مگر اپنی ساری مجبوریوں اور پابندیوں کے باوجود مطالعہ کے لیے وقت فارغ کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ بچپن میں مطالعہ کرنے کے عادی رہے ہیں انہیں مطالعہ کیے بغیر چین نہیں آتا۔ اس کا عادی بنانا ضروری ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر جاوید احمد کامٹوی