6

اسلام اور صفائی

ایک پاکیزہ مذہب ہے، اس نے اپنے ماننے والوں کو صاف ستھرا رہنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام ہراہل ایمان کو ہرحال میں صاف ستھرا رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ اپنے گھر اپنے گلی محلوں، شہر بستی وطن کو بھی پاک وصاف رکھنے کی ہم سب کو تعلیم دیتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی حضور نبی کریمؐ کی خدمت میں کہ حاضر ہوئے، اس حال میں ان کے کپڑے میلے تھے۔ یہ دیکھ کر نبی کریمؐ نے ان سے دریافت کیا کہ تم مال دار ہو؟ ان صحابیؒ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہؐ! یہ سن کر رسول اللہؐ نے ان کے مال کی تفصیل دریافت فرمائی تو انہوںنے عرض کیا اللہ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے لونڈیاں اور غلام غرض ہر طرح کے مال سے نواز رکھا ہے۔ اس پر اللہ کے محبوب کریمؐ نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال دولت سے نوازا ہے تو اس کا اثر تم پر بھی نظر آنا چاہیے۔ اسی طرح آپؐ نے اپنے اور صحابیؒ کو اسی حال میں دیکھا کہ ان کا حلیہ بڑا گندگی کا شکار تھا۔ اور بال بھی بکھرے ہوئے تھے۔

آپؐ نے دیکھ کر ارشاد فرمایا اس سے اتنا نہیں ہوتا کہ اپنے بال درست کرلے۔ اسی طرح ان کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا کہ اپنے کپڑے ہی دھولے۔ صفائی ستھرائی ایک ایسا عمل ہے جو سرور کونینؐ کے مزاج اور طبیعت کا حصہ ہے۔ اسی لیے آپؐ نے فرمایا! دین اسلام کی بنیاد صفائی ستھرائی پر رکھی گئی ہے۔ ایک مقام پر حضور پر نورؐ نے فرمایا: صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ بہت سی روایات ایسی بھی آئی ہیں کہ حضور پاکؐ نے چھوٹی چھوٹی باتوں کی تلقین فرمائی۔ مثلاً جمعہ کے لیے خاص طورپر غسل کی تاکید فرمائی ہے اور اس کا سبب یہی تھا کہ چھوٹی مسجد کے سبب گرم موسم میں نمازیوں کے پسینے کی بوسے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپؐ نے ناخن فالتو بالوں کو صاف کرنے کا حکم دیا اور کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تاکید کی اور صفائی اور طہارت کے مسائل کو واضح بیان فرمایا۔ جب ہمارے دین اسلام میں صفائی کی اتنی تاکید ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بھی ہمارے دینی معاملات ہیں۔ اگرچہ یہ ہماری زندگی اور اس کے معاشرتی پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں مگر چوں کہ ان کا ہمارا دین سے بھی گہرا تعلق ہے اور دوسرے ہدایت واحکامات کے ساتھ ساتھ اسلام نے ہی تو ہمیں صاف ستھرائی کے واضح احکامات دیے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس پہلو سے ہماری توجہ ہونی ضروری ہے۔ اس صفائی میں وہ تمام پہلو شامل ہیں جو انسانی زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ البتہ ان کی اہمیت کم یا زیادہ ہوسکتی ہے مثال کے طورپر اس صفائی میں انسان کے جسم کی صفائی شامل ہے اس کے کپڑوں کی صفائی شامل ہے، اور یہاں تک کہ اس کے گھر محلے بستی شہر کی صفائی شامل ہے اور ہمارا یہ رویہ اس بارے میں اصلاح کاتقاضا کرتا ہے۔

ہم عام طور پر اپنے گھروں کو اندر سے صاف کرکے ان کے باہر گندگی پھینک دیتے ہیں۔ اپنا کوڑا کرکٹ پڑوسی کے دروازے پر پھینکنا کتنی غیر اخلاقی حرکت ہے۔

اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، اس سے ایذائے مسلم بھی ہوتی ہے اور یہ فعل لڑائی جھگڑے کا بھی سبب بنتا ہے۔ اسلام تو صفائی کو انسانی نظافت کا حصہ بنانا چاہتا ہے کیوں کہ انسان کی ظاہری صفائی کا اس کے باطن پر بھی اچھا خاصا اثر پڑتا ہے اور دوسری طرف ظاہری پراگندگی باطنی خرابیوں کو جنم دیتی ہے۔ باطن انسانی جسم کا وہ غیر مرئی حصہ ہے جس پر انسانی طبیعت کا دارومدار ہے۔ وہ تمام برائیاں جو انسانی طبیعت اور مزاج کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ ان کا تعلق انسان کے باطن سے ہی ہوتا ہے۔ یہ بات عام مشاہدہ اور تجربے سے ثابت ہے کہ صفائی اور نظافت انسان کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ جو شخص اپنی ذاتی زندگی میں نظافت پسند ہوتا ہے، اس کے مزاج میں بھی نظافت ہوتی ہے اور اس کا اثر اس کے ہرہر پہلو پر ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور گھر سے باہر معاشرے پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں اور اس سے ملنے جلنے والے بھی اس کے مثبت اثر کو قبول کرتے ہیں وہ نہ صرف خود صفائی ستھرائی کو پسند کرتا ہے بلکہ وہ عملی طورپر صحت و صفائی کا داعی بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح نظافت پسند انسان صرف اپنے جسم اور لباس کے معاملے میں ہی صفائی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی صفائی پسندی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اس کی نشست وبرخاست خلوت وجلوت تحریر وتقریر رہن سہن سبھی میں صفائی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے تو صاف ستھرا اسلوب میں، تقریر کرتا ہے تو فصاحت وبلاغت اس کی بلائیں لیتی ہیں۔ لوگوں سے ملاقات کرتا ہے تو شائستگی اس کا حوالہ بنتی ہے۔ کسی سے معاملہ کرتا ہے تو معاملے کی شفافیت انسانوں کی اس بھیڑ میں اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اور یوں صفائی اور ستھرائی کی عادت ہر صورت میں اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کا صاف ستھرا نہ رہنا ایک سماجی برائی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس کی پراگندگی کا اثر صرف اس کے ظاہر تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ متعدی ہوکر پہلے اس کے گھر اور پھر بتدریج پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ صفائی انسانی مزاج اور طبیعت کا خاصہ ہے جسے پروان چڑھانا ایک صحت مند معاشرے کے لیے ازحد ضروری ہے۔ اسی لیے اسلام صفائی کو اولین ترجیح دیتا ہے اور یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی حضور پاکؐنے بہت تاکید فرمائی ہے پھر اس بات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ گندگی بیماری کوجنم دیتی ہے اور ایک صاف ستھرا معاشرہ زندگی بھر بہتر طورپر بیماریوں سے محفوظ اور صحت مند رہ سکتا ہے۔ اسلام کو تو وہی معاشرہ مطلوب ہے جو برائیوں، بیماریوں اور ہر طرح کی کمزوریوں سے پاک ہو۔ اللہ ہمیں دین اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگیاں بسر کرنے والا پکا مسلمان بنادےl(آمین)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے