عقل و قلب و روح کی آسودگی نماز

الصلوۃ عماد الدین ’’نماز دین کا ستون ہے۔‘‘

اگر تم نماز کی اہمیت او رقدر و قیمت سے آگاہ ہونا چاہتے ہو اور یہ جاننا چاہتے ہو کہ اس کا حصول کتنا آسان اور اسے اپنانا کتنا کم خرچ بالا نشیں ہے او ریہ کہ جو نماز قائم نہیں کرتا ہے اور اس کا حق ادا نہیں کرتا ہے وہ سراپا حماقت، نادان اور نقصان اٹھانے والا ہے۔ جی ہاں!اگر تم دو جمع دو برابر چار کی طرح پورے یقین کے ساتھ اس چیز کی جان کاری چاہتے ہو تو مندرجہ ذیل چھوٹی سی تمثیلی کہانی میں غور کرو:

ایک دفعہ ایک فرماں روا اپنے دو خدمت گاروں کو اپنے خوب صورت کھیتوں میں بھیجتا ہے اور ان دونوں کو چوبیس چوبیس سونے کے سکے د یتا ہے تاکہ دونوں ان کھیتوں تک با آسانی پہنچ سکیں۔ جو کہ دو ماہ کی مسافت پر تھے ۔ او رانہیں حکم دیتا ہے کہ اس رقم سے اپنے لیے ٹکٹوں کا اور راستے کے خرچ اخراجات اور وہاں پہنچ کر رہائش وغیرہ کا انتظام کرلینا۔ یہاں سے ایک دن کی مسافت پرایک اسٹیشن ہے وہاں سے آگے جانے کے لیے کار، جہاز، کشتی ٹرین اور دیگر ہر قسم کے ذرائع آمد و رفت کی سہولت میسر ہے، اور ہر چیزکا کرایہ علیحدہ علیحدہ ہے، مسافر جس پر چاہے حسب توفیق سفر کرسکتا ہے۔ یہ تمام ہدایات لے کر خادم وہاں سے نکلے۔ ان میں سے ایک بڑا نیک بخت تھا، اس نے اسٹیشن تک جاتے ہوئے راستے میں کچھ رقم کرچ کر کے اس سے کچھ کار وبار کیا، جس سے اسے خاطر خواہ نفع ہوا اور اس کی رقم میں ہزار گنا اضافہ ہوگیا۔

لیکن دوسرے نے اپنی سوء قسمت اور بے وقوفی کی وجہ سے چوبیس میں سے تئیس سکے کھیل تماشے اور عیاشی اور جوئے میں خرچ کر دیے اور اس طرح اسٹیشن تک پہنچتے پہنچتے اس کے پاس صرف ایک سکہ رہ گیا۔

اس کے دوست نے اس سے کہا:

’’ارے ناداں! یہ ایک سکہ جو بچ گیا ہے اسے بھی یوں ہی ضائع نہ کر بیٹھنا بلکہ اس سے اگلے سفر کے لیے ٹکٹ خرید لو، ہمارا آقا بڑا مشفق و فیاض اور مہربان ہے، عین ممکن ہے کہ وہ تجھ پر ترس کھا جائے اور تیری غلطی سے درگزر کر جائے اور تیرے لیے جہاز کی سواری کا انتظام بھی کردے، اور اس طرح ہم منزل مقصود پر اکٹھے ایک دن پہنچ جائیں اور دیکھ، اگر تونے میری بات پر کان نہ دھرا تو یاد رکھ تجھے مسلسل مکمل دو ماہ تک اس لق و دق صحرا میں پیدل سفر کرنا پڑے گا، اس طول طویل سفر میں کوئی تیرا رفیق سفر نہ ہوگا، بھوک تیرا کباڑا کر دے گی اور اجنبیت تیرا ہر طرف سے منہ چڑائے گی۔ تمہا را کیا خیال ہے کہ اگریہ احمق آدمی اب ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے، زوال پذیر خواہش کی تکمیل او عارضی لذت اندوزی کے لیے وہ آخری سکہ بھی صرف کر ڈالے اور ٹکٹ نہ خریدے جو کہ اس کے لیے ایک خزانے کی چابی کی حیثیت رکھتی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آدمی انتہائی سوختہ بخت، بدقسمت، حرمان نصیب، احمق اور واقعہ میں بے وقوف ہے؟ … یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک پر لے درجے کا بلید الذہن آدمی بھی کرسکتا ہے۔

اے نماز سے بھاگنے والے! اے میرے نماز سے تنگ پڑنے والے من!

ا س کہانی میں مالک، حاکم یا آقا ہمارا پروردگار اور خالق و مالک عزوجل ہے۔سفر پر نکلنے والے دو خادم جو ہیں ان میں سے ایک تو وہ ہے جو دین دار ہے، جو ذوق و شوق سے اس طرح نماز پڑھتا ہے کہ اس کا حق ادا کردیتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جو غفلت شعار اور تارک الصلاۃ ہے۔ اور سونے کے جو ’’چوبیس‘‘ سکے ہیں۔ وہ عمر عزیز کے ہر دن گزرنے والے چوبیس گھنٹے ہیں۔ او وہ خصوصی باغ یا جاگیر جو ہے وہ جنت ہے، او راسٹیشن قبر ہے۔

باقی رہا وہ لمبا سفر یا طول طویل سیر و سیاحت ، تو اس سے مراد نوع انسانی کا وہ سفر ہے جو قبر کی طرف رواں دواں، حشر کی طرف جاری ساری اور دار الخلود کی طر ف چلاچل ہے۔ اور اس راستے کے مسافر اپنا اپنا سفر اپنے اعمال اور اپنے تقوی و پرہیزگاری کے حساب سے مختلف درجات میں طے کرتے میں، کچھ اہل تقویٰ ان میں سے ہزار برس کا فاصلہ بجلی کی طرح ایک دن میں طے کرلیتے ہیں، او رکچھ پچاس ہزار برس کا فاصلہ خیال کی رفتا رسے طے کرلیتے ہیں۔ قرآن پاک نے اس حقیقت کی طرف چند آیتوں میں اشارہ کیا ہے۔

اور ٹکٹ سے مراد اس کہانی میں نماز ہے جو کہ پانچوں نمازیں وضو سمیت زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لیتی ہیں۔

سو کس قدر خسارے میں ہے وہ آدمی جو اس چھوٹی سی فانی دنیا کے لیے تئیس گھنٹے صرف کرتا ہے اور صرف ایک گھنٹہ اس لمبی اور ابدی زندگی کے لیے صرف نہ کرسکے! یہ آدمی خود اپنی ذات کے لیے کتنا ظالم ہے! یہ آدمی کتنا احمق، ناداں اور مورکھ ہے!

اگر کوئی آدمی اپنی جائیداد کا آدھا حصہ کسی ایسی لاٹری میں لگا دے جس میں ہزاروں لوگ حصہ لے رہے ہوں اور جس میں جیتنے کا چانس صرف ایک فیصد ہے تو یہ کام بڑا معقول اور مناسب سمجھا جائے گا۔ لیکن اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی جائیداد کا چوبیسواں حصہ ایسی جگہ پر لگانے سے کتراتا ہے جہاں جیتنے کی سو فیصد گارنٹی ہے؟اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی جائیداد کا چوبیسواں حصہ اس ابدی خزانے کے لیے خرچ نہیں کرتا ہے، جہاں کامیابی کا ننانوے فیصد امکان ہے…! کیا یہ روش خلافِ عقل اور خلافِ حکمت شمار نہیں ہوگی؟ کیا اپنے آپ کو عقل مند کہلانے والا آدمی یہ معمولی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتا ہے؟

نماز فی نفسہٖ عقل و قلب و روح کے لیے بیک وقت بہت بڑی راحت اور آسودگی ہے۔ مزید یہ کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس میں جسم کے لیے کوئی مشقت پائی جاتی ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک نمازی انسان کا ہر دنیاوی جائز کام جو نیک نیتی سے ادا کیا گیا ہو اللہ کی عبادت کا درجہ پائے گا اور یہ ایک ایسا نسخہ ہے جسے استعمال میں لاکر ایک نمازی آدمی اپنی عمر کا تمام سرمایہ آخرت کی طرف منتقل کرسکتا ہے اور اس طرح وہ اپنی اس فانی عمر کے ذریعے دائمی اور ابدی عمر حاصل کرسکتا ہے۔

(بدیع الزماں سعید نورسی کے افادات سے ماخوذ و مترجم)

شیئر کیجیے
Default image
مہدی حسن سنبھلی