2

جب انسان سے گناہ ہوجائے!!

گناہ کا سرزد ہونا انسان کی فطرت کا حصہ ہے مگر جو چیز اسے ممتاز اور بلند کرتی ہے وہ توبہ ہے۔ توبہ در اصل گناہ کے بعد شرم ساری کی صورت میں انسانی دل کا رد عمل ہے۔ یہ رد عمل ظاہر ہونے کے بعد انسان کو چاہیے کہ وہ پشیمان ہو اور آئندہ کبھی وہ کام نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے اور یہ اللہ سے ڈر کا نتیجہ ہوتا ہے۔

دوسرا کام اعضا کا عمل ہے کہ وہ مختلف قسم کے نیکی کے کام کرے جن میں سے ایک توبہ کی نماز بھی ہے جس کی صراحت یوں ہے:

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے سنا کہ :

ترجمہ: ’’جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہو، پھر وہ پاک صاف ہو، پھر دو رکعت نماز ادا کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔‘‘

پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:

’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی برا کام کرتے یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہ معاف کرنے والا ہے بھی کون؟ او روہ اپنے کیے ہوئے کام پر اصرار نہیں کرتے اور وہ یہ بات جانتے ہیں۔‘‘ (آل عمران:۱۲۵)

پھر کچھ دوسری صحیح روایات بھی ہیں جن میں ان گناہوں کو دور کرنے والی دو رکعات کی دوسری صفات مذکور ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) جو شخص بھی وضو کرے او راچھی طرح سے کرے (کیوں کہ جس پانی سے اعضا کو دھویا جاتا ہے اس پانی سے اعضا سے گناہ بھی نکل جاتے ہیں یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں)۔ اور اچھی طرح وضو کرنا یوں ہے کہ وضو کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے اور اس کے بعد اذکار کرے جو یہ ہیں:

اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ (او) اللہم اجعلنی من التوابین و اجعلنی من المتطہرین (او) اللہم و بحمدک اشہد ان لا الہ الا انت، استغفرک و اتوب الیک)

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں او رمیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ا س کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اے اللہ! مجھے توبہ کرتے رہنے والوں سے بنا دے او رصاف ستھرے رہنے والوں سے بنا دے۔

اے اللہ! تیری تعریف کے ساتھ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

(یہ اذکار وضو کے بعد کے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا بڑا اجر ہے)

٭ کھڑا ہوکر دو رکعت نماز ادا کرے۔

٭ اپنے دل کو سامنے رکھے اور ان پر پوری طرح متوجہ ہو۔

٭ ان میں بھولے نہیں۔

٭ ان میں اپنے دل میں بھی کوئی بات نہ کرے۔

٭ ان میں ذکر اور خشوع اچھی طرح کرے۔

٭ پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ :

(۱) اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔

(۲) اور جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی۔

پھراس کے بعد نیک او راطاعت کے کام بکثرت کرنا چاہیے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ سے مباحثہ کیا، پھر جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو اس کے بعد کئی اچھے کام کیے تاکہ وہ گناہ کو دور کردیں۔

اس طرح اس صحیح حدیث میں بھی غور فرمائیے۔ جس میں آپﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: ’’جو برے کام کرتا ہو، پھر اچھے کام کرے اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے تنگ سی زرہ (لوہے کا لباس جس کو جنگ کرنے والا پہنتا ہے) پہن رکھی ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو، پھر وہ ایک نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک حلقہ کھل جاتا ہے اور دوسری کرتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے حتی کہ وہ آزاد پھرنے لگتا ہے۔

گویا نیکیاں گنہ گار کو معصیت کی قید سے آزاد کردیتی ہیں اور اسے اطاعت کے کھلے میدان کی طرف لے جاتی ہیں۔ ذیل میں ایک عبرتناک قصہ کا خلاصہ پیش کیاجاتا ہے:

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس آیا او رکہنے لگا:

اے اللہ کے رسول! باغ میں مجھے ایک عورت مل گئی اور میں نے جماع کے سوا جو کچھ ہوسکتا تھا اس سے کیا، میں نے اس کا بوسہ لیا او راسے اپنے ساتھ چمٹایا۔ اب میرے ساتھ آپ جو چاہیں سلوک کیجئے۔ اس کو رسول اللہﷺ نے کچھ بھی نہ کہا تو وہ شخص جانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے اسے کہا ’’اللہ نے تمہارا پردہ رکھا تھا تو تمہیں خود بھی اپنا پردہ رکھنا چاہیے تھا۔‘‘ اب رسول اللہﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا ’’اسے میری طرف بھیجو۔ لوگوں نے اسے آپؐ کی طرف لوٹایا تو آپؐ نے اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی:

ترجمہ : ’’دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز ادا کیا کرو، بلاشبہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرتے ہیں (سورہ…)

حضرت معاذ کہتے ہیں: اور حضرت عمرؓ کی روایت میں ہے ’’اے اللہ کے رسولؐ! کیا یہ بات صرف اس اکیلے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’بلکہ یہ رعایت سب لوگوں کے لیے ہے۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد المالک مجاہد

تبصرہ کیجیے