غزہ پر اسرائیل کی جارحیت

فلسطین کے مغربی کنارے میں سرچ آپریشن کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کردی۔ اور اس میں روز بہ روز شدت آتی جارہی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق تاحال اس بمباری میں تین سو کے لگ بھگ افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ جب کہ کئی لاکھ لوگ محفوظ مقام کی تلاش میں گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان کے نیچے دن رات بسر کر رہے ہیں۔ غزہ گزشتہ چھ سالوں سے اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار ہے اور عملاً ایک کھلی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں غذا، دواء، جیسی ضروری اشیاء سے لے کر گھروں کی مرمت اور گاڑیوں کے لیے پٹرول تک کی یافت مشکل ہے، ایسے میں ظلم و تشدد کا ننگا ناچ اہل غزہ کو موت بانٹ رہا ہے۔ جب کہ مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے انصاف پسند اور امن پسند لوگ اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے تیز و تند ہوائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی فوجی کارروائی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کا تشدد معمول بن گیا ہے اور آئے دن اس کے فوجی طیارے سے وہاں بمباری کرتے رہتے ہیں اس کے جواب میں غزہ کے لوگ گھریلو ساخت کے اسلحوں اور گولوں سے جوابی کارروائی کرتے ہیں تو اسرائیل بھڑک اٹھتا ہے اور اس طرح کے خون خرابہ پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ یہ غزہ پر دوسرا بڑا حملہ ہے جو گزشتہ چھ سات سالوں کے درمیان کیا گیا ہے۔

اسرائیل اپنی اس ظالمانہ و وحشیانہ کارروائی کے لیے ہمیشہ ہی حماس کو مورد ِ الزام ٹھہراتا رہا ہے جو غزہ میں برسر ِ اقتدار ہے اور فلسطین کی نمائندہ جماعت ہے جس نے عام انتخابات میں 70% سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ مگر سازشوں کے سبب اسے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔

اسرائیل کی اس جارحیت اور اہل غزہ کی کس مپرسی کا سیدھا اثر پڑوسی ملک مصر کی سیاست پر پڑنے کے اندیشے کے پیش نظر سیسی حکومت نے محض اس خطرہ سے بچنے کی خاطر ایک امن پلان جنگ بندی کے لیے پیش کیا تھا۔ یہ امن منصوبہ کسی باوقار حل سے زیادہ نئی مصری حکومت کی خود کو عوامی غصہ سے محفوظ کرنے کی ایک تدبیر سے زیادہ نہ تھا چناں چہ اسے حماس نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ قیام امن کے لیے لازم ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور اس نے جن افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کر رکھا ہے انہیں رہا کرے۔ حماس کا یہ مطالبہ عین قرین انصاف ہے جسے عالمی برادری کو تسلیم کرنا چاہیے اور اسرائیل کو اس بات کے لیے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور اہل غزہ کو اس کھلی جیل سے آزاد کرے جو اس نے ان پر ظالمانہ طریقے سے مسلط کر رکھی ہے۔

حیرت ہے کہ اسرائیل کے سامنے دنیا اتنی بے دست و پا کیسے ہوجاتی ہے کہ وہ انصاف کے بنیادی تقاضوں کو بھی تسلیم کرانے میں کامیاب نہیں ہوپاتی۔ اس سے زیادہ حیرت و افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکہ جو دنیا بھر میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قیام امن و انصاف کا دعوے دار ہے، غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو یہ کہہ کر جائز ٹھہرا دیتا ہے کہ اسرائیل کو حماس کے مزائل سے حفاظت و دفاع کا حق ہے۔ اور وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے راضی نہیں کہ اہل غزہ کو بھی، جو چھ سال سے ناکہ بندی کا شکار ہیں، اپنی آزادی کے بنیادی حق کو حاصل کرنے کا اختیار ہے۔ اہل غزہ پستے، پٹتے اور مارے جاتے رہیں اور جب وہ پلٹ کر کچھ کہیں تو آدھی دنیا بیک زبان اسرائیل کے حق خود دفاعی کا راگ الاپنے لگتی ہے۔ اور بچی باقی آدھی دنیا تو ان میں کچھ لوگ بے حیثیت ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو کچھ کہہ اور کر سکتے ہیں تو ان کے پاس ریال اور پٹرول تو ہے مگر زبان نہیں۔ ان کے پاس مسلم دنیا کو بے وقوف بنانے اور اپنی قیادت کو قائم رکھنے کے لیے اسلام کا نعرہ تو ہے مگر ’ایمانی غیرت کا فقدان‘ ہے۔ ان کے پاس دل و دماغ تو ہیں مگر ’ضمیر‘ نہیں اور ہاں ان کے پاس الفاظ اور مال و دولت کا جو بھی ذخیرہ ہے۔ وہ ’اہل ایمان‘ کے لیے نہیں بلکہ دشمنان اہل ایمان کی حمایت اور ان کے بقا و تسلط کے لیے ہے۔ ایسے میں بچ رہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان اور ایمانی غیرت و حمیت رکھتے ہیں مگر وہ طاقت و قوت سے محروم اور بے دست و پا ہیں۔ وہ مظلوموں کے لیے دعا کرنے سے زیادہ کسی چیز پر قادر نہیں۔ ایسے میں جب ظالم طاقتیں اپنے ظلم میں شدید تر اور سخت تر ہوتی جاتی ہوں تو اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے پاس کاش قوت ہوتی کہ وہ دنیا میں حق و انصاف قائم کرپاتے۔ اسلام کے حصول غلبہ و اقتدار کا صرف اور صرف یہی مقصد ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کے ظلم سے نجات دلا کر امن و امان اور عزت و وقار کی زندگی عطاء کرے۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

گزشتہ 7؍ جولائی کو ملک کی عدالت عالیہ ’سپریم کورٹ‘ نے اپنے ایک فیصلہ میں شرعی عدالتوں اور دار القضاء جیسے اداروں پر پابندی لگانے سے صاف انکار کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ ان کے ذریعہ خاندانی امور سے متعلق مسائل سلجھائے جاتے ہیں اور اس طرح ملک کے عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کم ہوتا ہے۔

البتہ سپریم کورٹ نے آگاہ کیا کہ مفتیان و شرعی ادارے فتوے جاری کرنے میں احتیاط رکھیں اور غیر متعلق افراد کو فرضی امور پر ہرگز فتوے نہ دیں۔ عدالت نے مظفر نگر کے عمرانہ کیس کا حوالہ دیا، جہاں فتوی دیا گیا تھا کہ عمرانہ کے ساتھ کیوں کہ اس کے سسر نے زنا کیا ہے اس لیے اب عمرانہ کا نکاح اس کے سسر سے کیا جائے۔ اور اس فتوے کے بعد میڈیا اسے لے اڑا تھا اور اسلام اور مسلمانوں کی کافی بدنامی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایڈووکیٹ وِشْو لوچن مدان کی پٹیشن پر دیا گیا جس میں انہوں نے ان عدالتوں کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا اور یہ کہا تھا کہ شرعی عدالتیں ملک کے عدالتی نظام کے متوازی ایک عدالتی نظام ہے۔ اس لیے انہیں بند کیا جائے۔ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس سی۔ کے پرساد کی بنچ کا مذکورہ فیصلہ جہاں مسلمانوں کے حق و انصاف میں یقین کو مضبوط کرنے والا ہے وہیں عدلیہ کی بالغ نظری کے تقاضوں کو پورا کرتا اور حقائق کو تسلیم کرتا ہے۔ ساتھ ہی ان کافیصلہ واضح طورپر علماء کرام کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ ’فتوے‘ کے وقار کی حفاظت کریں اور خواہ مخواہ، بلا ضرورت اور بلا متعلق فرد کے مطالبے کے فتویٰ جاری نہ کریں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے دوباتیں بہت واضح طورپر سامنے آتی ہیں اور مسلمانوں کو ان دونوں باتوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی شرعی عدالتوں، دارالقضا اور علماء و مفتیان کو خاص طورپر ان دونوں باتوں کو اپنی حکمت عملی میں شامل کرنا چاہیے۔

پہلی بات یہ ہے کہ عدالت نے ان شرعی عدالتوں کو خاندانی نظام سے متعلق امور کے تصفیہ اور مسائل کے حل کا اہم ذریعہ تسلیم کیا ہے۔ اور اس قسم کے مسائل میں عدالتوں کا نظام بھی یہی ہے کہ وہ(Mediation) یا و ساطت کا طریقہ اختیار کرتی ہیں اور اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ فریقین باہمی گفت وشنید کے ذریعہ ہی اپنا معاملہ حل کرلیں۔ اس طرح مسلم سماج کو اس بات کا موقع مل گیا ہے کہ وہ عدالتی نظام پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے معاملات شرعی عدالتوں میں حل کرلیں جس کا یقینی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ان کے مسائل شرعی انداز میں حل ہوں گے اور عدالتی نظام پر بوجھ پڑنے اور طویل انتظار سے بھی بچا جاسکے گا۔

اسی ضمن میں ایک اہم بات یہ بھی آتی ہے کہ یہ شرعی عدالتیں اور دارالقضاء اپنے کام کو زیادہ بہتر اور اصولی انداز میں انجام دیں اور خود کو اس بات کا اہل ثابت کریں کہ وہ واقعی مسلم سماج کے خاندانی نظام کے تحفظ کا ذریعہ اور عدالتی نظام کے اچھے خدمت گار ہیں۔ اس طرح وہ یہ ثابت کرسکیں گے کہ وہ اسلام ومسلمان سماج اور عدالتی نظام تینوں کی خدمت انجام دے کر اوور لوڈڈ عدالتی نظام کا تعاون کر رہے ہیں۔

دوسری اور اہم بات فتوے جاری کرنے میں احتیاط اور نہایت احتیاط کی ضرورت کا احساس ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ شرارت پسند افراد نے معروف اداروں سے فتوے مانگے اور انہوںنے وہ فتوے جاری کردیے جو بعد میں میڈیا کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا ذریعہ بنے اور اسلام کی غلط شبیہ میڈیا میں پیش کی گئی۔ اس ضمن میں کی ایک اہم بات فتوؤں کا مالی منفعت کے لیے اور سیاسی استعمال سے متعلق ہے۔ کچھ لالچی، سستی شہرت کے طالب اور سیاسی مفادات کے حصول کے طالب مفتیان پیسے کے بدلے مرضی کا فتویٰ جاری کرنے کے مجرم پائے گئے ہیں۔اسی طرح سستی شہرت اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے کے لیے بھی بعض علماء فتووں کا استعمال کرتے آئے ہیں ان پر روک لگنی چاہیے۔

گزشتہ لوک سبھا الیکشن کے وقت لکھنؤ کے ایک معروف ادارے کے مفتی کے ذریعہ ایک فتوی جاری کیا گیا جس میں عام آدمی پارٹی کے ایک امیدوار کے نام کی وضاحت کے ساتھ اسے دھوکہ باز قرار دیا گیا تھا۔ فتویٰ دینے والے مفتی صاحب خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ فتویٰ سیاسی استعمال کی غرض سے دیا جارہا ہے مگر انہوں نے فتوی جاری کیا کیوں کہ وہ خود سیاسی منفعت کا حصول چاہتے تھے۔ چناں چہ لکھنو سے حاصل کیا گیا فتویٰ اگلے ہی روز دہلی کے تمام اردو اخبارات میں شائع ہوا جس پر مفتی صاحب کا موبائل نمبر بھی درج تھا۔

ظاہر ہے کہ یہ فتوے اور علم دین کا سیاسی اور مادی استحصال ہے جو یہود و نصاریٰ کے علماء کی روش تو ہوسکتی ہے امت محمدیہ کے علماء کی ہرگز نہیں۔ ایسے میں اگر سپریم کورٹ فتوووں کے اجراء میں احتیاط کا مشورہ دیتی ہے تو یہ عین فتوے کے وقار، شریعت کے احترام اور دین کا تقاضہ معلوم ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یو نیفارم سول کوڈ کے اشو پر حکومت کا رخ ظاہر ہوجانے کے بعد اس فیصلہ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس فیصلہ کا نیا اور اہم پہلو ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی