لیموں

لیموں کا استعمال

لیموں کا رس اور بال

بالوں کو لیموں کے رس سے دھونے سے چمک پیدا ہوتی ہے، کیوں کہ لیموں کا جوس ایک تیزاب ہے جو بالوں کو چمکدار بناتا ہے۔ اگر پہلے آپ بالوں کو صابن یا شیمپو سے دھوتے ہیں تو بار بار صاف پانی سے بالوں کو دھونے کے باوجود ان پر الکلی کی جھاگ رہ جاتی ہے۔ لیموں کے رس کا تیزاب اس جھاگ کو اتار کر بالوں میں دوبارہ چمک پیدا کر دیتا ہے۔ تاہم آج کل کے جدید شیمپو میں نہ تو تیزاب ہوتا ہے اور نہ ہی الکلی، کیوں کہ الکلی اور تیزاب والے شیمپو پرانے طریقہ ہائے کار کے مطابق بنائے جاتے تھے۔ آج کے دو رکے شیمپو مصفی ہیں۔ ان میں تیزا ب اور الکلی کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

تاہم بعض اوقات لیموں کے رس کا تیزاب بالوں کو پھیکا بھی کرسکتا ہے بالوں کے بیرونی حصے کی ڈنڈی پر ایک باریک سا چھلکا ہوتا ہے، جسے امبریکیشن (Imbrecation) کہتے ہیں۔ جب آپ بالوں کو بار بار لیموں کے رس سے صاف کرتے ہیں تو یہ چھلکے اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں روشنی کی شعاعیں بالوں پر پڑنے کے بعد مختلف سمتوں میں منعکس ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ چمکدار نظر نہیں آتے۔ اس امبریکشن کو دو رکرنے کے لیے بالوں کی ڈنڈیوں پر چھلکے کو نرم بنانا پڑتا ہے تاکہ روشنی کو ہموار اور ایک ہی جانب منعکس کیا جاسکے اور بال چمک دار نظر آنے لگیں۔ لیموں کے رس کا تیزاب اس امبریکشن کو ختم کر دیتا ہے اور بالوں کو چمکدار بنا دیتا ہے۔

لیموں کے فوائد

لیموں کے رس سے بالوں کودھونے سے بالوں میں چمک پیدا ہوتی ہے کیوں کہ لیموں کے رس میں سٹرک ایسڈ ہوتا ہے۔ سٹرک بہت ہلکا بلیچ ہے۔ اگر آپ لیموں کے رس سے بالوں کو دھوکر باہر دھوپ میں بیٹھ جائیں تو آپ کے بال ریشم کی طرح چمکدار نظر آئیں گے۔

لیموں کا رس اور اس کا چھلکا جلد میں چمک پیدا کرتا ہے۔ لیموں کے رس میں موجود سٹرک ایسڈ داغ دھبوں اور کیل چھائیوں کو دور کر دیتا ہے اور جلد کو صاف کرتا ہے لیکن یہ عمل بڑا مختصر اور وقتی ہوتا ہے۔

لیموں کے رس اور اس کے چھلکے سے جلد نرم ہوتی ہے۔ ہلکا سا بلیچ کا اثر اور لیموں کے رس اور چھلکے میں پایا جانے والا سٹرک ایسڈ خشک جلد پر موجود مرے ہوئے خلیات کی تہہ کو اتارتا ہے اور جلد کی صفائی کرتا ہے، جس سے جلد نرم و نازک اور دیکھنے میں پیلی سی لگتی ہے۔

لیموں کا رس اور باقاعدگی

گرم پانی اور لیموں کے رس کے روزانہ استعمال سے باقاعدگی کی عادت کو تقویت ملتی ہے اس بات کی ہزاروں وجوہات ہیں، جس کی بنا پر شاید یہ بات سچ ہو:

۱- لیموں کے رس کی تیزابیت اور گرم پانی سے معدی ترشوں کے افراز میں اضافہ ہو جاتا ہے چناںچہ اسے پی کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معدے اور آنتوں میں سے کوئی شے گزر رہی ہے۔ اس سے آپ اپنے ہاضمے کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔

۲- موٹاپے کی وجوہات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جب جسم اور جلد کا درجہ حرارت گر رہا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں دماغ یہ پیغام دیتا ہے کہ یہ کچھ کھانے کا وقت ہے۔ چوں کہ موٹے آدمی کی جلد اور گوشت کی زیادتی سے بار بار اس طرح کے سگنل ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کی تعمیل میں کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا ہے۔ اس لیے موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔

ہر آدمی کا اپنا اپنا جسمانی نظام ہوتا ہے لیکن جب آپ بستر سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو اس وقت محسوس ہونے والی کمزوری کی وجہ جسم کے درجہ حرارت میں کمی ہوتی ہے۔ پھر جوں ہی آپ بستر سے نکل کر کوئی کام کرنا شروع کرتے ہیں تو ادھر ادھر حرکت کرنے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اسی دوران اگر آپ فوراً معمولی گرم پانی میںلیموں کا رس ملا کر پی لیں تو یہ آپ کے لیے ٹانک کا کام کرے گا اور آپ خود کو چاق و چوبند محسوس کریں گے۔

۳- کھانے پینے میں احتیاط برتنے والے جانتے ہیں کہ بعض دفعہ شربتوں اور جوسوں کے بے تحاشہ استعمال سے پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا معدہ ایک گلاس پانی سے بھی بھر جائے گا۔ لیکن اس لمحے لیموں کے رس والا پانی یعنی سکنجبین سادہ پانی کے گلاس سے بہتر ہے۔ اگر آپ معدے میں بھاری پن محسوس کرتے ہیں تو لیموں کا رس اور گرم پانی ملین کے طور پر کام کرتا ہے۔

آنکھیں اور لیموں کے قطرے

بعض خواتین اپنی آنکھوں میں چمک پیدا کرنے کے لیے ان میں لیموں کے رس کے قطرے ڈالتی ہیں۔ یہ نقصان دہ بات ہے۔ اگرچہ آنکھوں میں لیموں کے قطرے ڈالنے سے پانی بہنے لگتا ہے۔ اور آنکھیں دھل جاتی ہیں مگر پانی بہنے کا باعث لیموں میں موجود تیزابیت ہوتی ہے۔ بہرحال آنکھوں کے چمک کے لیے یہ مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اس سے اس بات کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے کہ خواتین خوب صورت نظر آنے کے لیے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے پر تیار ہو جاتی ہیں۔ (ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے