4

نزولِ قرآن کے مہینہ کی آمد: مرحبا

لہذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘ (البقرۃ 185)

نوخیز حسین کی آمد مرحبا، خیرِ عام کے مژدۂ جاں فزا کا خیرمقدم ہو: ہلالِ رمضان، انوارِ قرآن کا تابندہ نشان، جنتوں کی سانسوں کا حامل، صحرائے عام کا نخلستان، نماز، روزے، تہجد اور تراویح کے ذریعے راحتِ جان، چشمِ نور۔

یااللہ، اس ہلال کو امن و اطمینان اور طمانیت و سلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما۔ اللہ نے چاہا تو یہ خیر و ہدایت کا ہلال ثابت ہوگا۔ واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔

سچ فرمایا تھا مخبر صادقؐ نے: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور حق تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: اے طالبِ شر رک جا، اور اے طلبگارِ خیر، آگے بڑھ۔ (صحیح بخاری)

اسلام نے اپنی عمارت شریعتوں، قوانین، عبادات، فرائض اور واجبات پر تعمیر کی ہے۔ اس سلسلے میں اللہ سبحانہٗ کی اپنے بندوں پر کمالِ عنایت اور انتہائے فضل و کرم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اسلام کی عمارت خیر کے ایسے ستونوں اور نیکی کی ایسی بنیادوں پر رکھی ہے جو دنیا میں فائدہ دیتی ہیں اور آخرت میں بھی نفع رساں ہوں گی اور اہل ایمان کو آخرت و اولی میں کامیاب و کامران کریں گی۔ پس کامل مقبول عبادت کا بنیادی قاعدہ ہے: نیک اور درست نیت اور اس نیت میں جہانوں کے پروردگار کے لیے اخلاص:

’’اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے‘‘۔ (البینہ:5)

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’کاموں کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔‘‘ (بخاری)

اگر عبادت کرنے میں محرکِ اوّلین قلبی طور پر ادائیگیِ عبادت نہیں ہے اور اس میں وجدانی خلجات کا دخل ہے، مگر بظاہر بدن کی حرکتیں تو ہیں، لیکن ان حرکات میں قلب و روح شریک نہیں ہے۔ نہ ایسی عبادت میں ارواح و نفوس بیدار ہوتے ہیں، نہ ان کی طہارت و تزکیہ ہوتا ہے۔ تو یہ اعمال بے وزن ہوتے ہیں، ان پر کسی قسم کا ثواب نہیں ملتا۔ بندے کی عبادت اور انسان کی نماز یہ ہے کہ وہ نماز میں عقل سے کام لے۔ کتنے روزہ دار ہیں کہ انہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

دوسرا قاعدہ (اصول و ضابطہ) ہے:

حرج اور تنگی کو دور کرنا، سہولت اور آسانی بہم پہنچانا۔ پس اسلام کی عائد کردہ ذمہ داریوں یا اس کی عبادتوں میں سے کوئی ایسی ذمہ داری اور عبادت نہیں ہے جو عبادت گزاروں پر گراں اور شاق ہو، یا مکلّفین کے لیے مہلک و تباہ کن ہو۔

’’اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے، شاید کہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ (المائدہ: 6)

’’اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہوجائو اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر‘‘۔ (الحج:78)

’’اور تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو۔‘‘(البقرہ:185)

ارشاد نبویؐ ہے: آسانیاں پیدا کرو۔

یوں یہ اصول و ضوابط اور قاعدہ تمام شرعی تکالیف، ذمہ داریوں اور اسلامی عبادات میں کارفرما رہتے ہیں۔ اگر آپ غور و فکر سے کام لیں گے تو آپ اس قاعدے کو تمام احکام میں جاری و ساری پائیں گے، بالخصوص روزوں کے فریضہ کے سلسلے میں۔ ارشادِ ربانی ہے:

’’چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے، اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے، اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو‘‘۔ (البقرہ: 184)

تیسرا قاعدہ:

یقینا ان عبادتوں کے نفع بخش علمی و سائنسی اثرات و ثمرات ہیں جو فرد اور جماعت کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسلامی عبادات کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ انہیں محض پوجا پاٹ کے لیے فرض کیا گیا ہے، بلکہ ان میں اْخروی فوائد کے ساتھ ساتھ دینی اور سماجی منافع کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ نفسیاتی تہذیب و شائستگی بھی مدنظر رہی ہے۔ اسلام نے جب بھی کسی پاکیزہ چیز کے کھانے، یا اس پر عملدرآمد کے لیے کہا ہے تو لوگوں نے اپنی عملی زندگی میں اس طیب و خوشگوار چیز کے عمدہ اثرات ملاحظہ کیے ہیں۔ اور جب اسلام نے عوام الناس کو کسی برائی سے باز رکھا ہے تو لوگوں نے اس کے شر اور نقصان کو محسوس کیا ہے۔

’’(پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر نبی اْمی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے،ا ور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے، اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں، جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ (آل عمران: 157)

پس اے امت ِمسلمہ، تم پر ماہِ صیام سایہ فگن ہوچکا ہے۔ اس میں ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ آپ پر اس ماہِ مقدس میں کچھ واجبات ہیں، اور اس میں آپ کے کچھ حقوق ہیں۔

1۔ نفوسِ انسانی سچی مخلصانہ توبہ کے ساتھ ماہ رمضان کا احترام کریںا ور جامع و کامل پاکیزگی و طہارت کے ساتھ اس کا خیر مقدم کریں۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کرے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہو گا جب اللہ اپنے نبیؐکو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔‘‘(التحریم:8)

2۔ حسی و معنوی دونوں طرح سے روزے کی حفاظت کرنا۔ اس مقصد کی خاطر روزہ توڑنے والی تمام باتوں سے بچنا، اعضاء کو گناہوں اور ناپسندیدہ کاموں سے روکنا، سچی و مخلصانہ توجہ، دائمی غور و فکر، کثرتِ ذکر، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر کرنا۔

3۔ رمضان میں بکثرت طاعت بجا لانا، خاص طور پر نیکی اور حسن سلوک میں اضافہ کرنا، تلاوتِ قرآن کرنا۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں صدقہ و خیرات کرنے والوں کا اجر دو چند کر دیتا ہے۔ غور و فکر سے تلاوت کرنے والوں کے درجے بلند کرتا ہے۔ رسول اکرمؐ کی سخاوت اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی تھی جب آپؐ حضرت جبرئیلؑ کے ساتھ قرآن کا دور فرماتے تھے۔ آپؐاس وقت ہوائے تندو تیز سے بڑھ کر سخی ہوتے تھے۔

4۔ نماز تراویح کی پابندی کرنا اور شہنشاہِ ارض و سماء سے مناجات۔ جو شخص رمضان کو قائم کرتا ہے، ایمان کے ساتھ اور اجرو ثواب کی توقع و امید کے ساتھ، اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا نماز تراویح ادا کرنے والے جو دل کے پورے خشوع کے ساتھ اسے ادا کرتے ہیں اور اس پر بھر پور توجہ دیتے ہیں، انوار و تجلیات پاتے ہیں۔

اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر ان کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔‘‘(المؤمنون:71)

قرآن کریم نے جن حقائق کو طے کردیا ہے اور جنہیں انسانیت کے سامنے پیش کردیا ہے وہ صحیح انسانی فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ واضح و صریح حق کے بالکل مطابق اور اس سے ہم آہنگ ہیں۔

’’پس اللہ پر بھروسا رکھو، یقینا تم صریح حق پر ہو۔‘‘ (الفطر: 79)

اے مسلمانوں میں سے روزہ دارو! اور نماز تہجد و تراویح ادا کرنے والو! یاد رکھو کہ قرآن لفظ ہے، دعوت ہے اور مملکت ہے۔ مجھے ان میں سے کسی چیز کے بھی ضائع اور فنا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ حفاظتِ الٰہی کا مطلب ان سبھی امور کو محیط ہے۔ چنانچہ قرآن کے الفاظ باقی ہیں، اس کی دعوت باقی ہے، اس کے احکام دائمی ہیں، اس کی مملکت ابدی اور قائم ہے۔ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ ایک ایسا خطہ ضرور رکھتا ہے جس میں لوگ اللہ کی حجت اللہ کی خاطر قائم رکھتے ہیں۔ امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر برقرار رہتا ہے، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ لوگ قیامِ قیامت تک راہِ حق میں جہاد کرتے رہیں گے، جیسا کہ محمدؐ نے اس بارے میں بشارت دی ہے۔

مجھے خطرہ قرآن، قرآن کی دعوت اور اس کی ریاست کے ضائع ہونے کا نہیں ہے۔ مجھے خطرہ اپنے لوگوں کے بارے میں ہے، مجھے اندیشہ اپنے ہی لوگوں کے بارے میں ہے، مجھے فکر ہے تو مسلم اقوام کی، ممالکِ اسلامیہ کی، اور مسلمان جماعتوں کی کہ یہ ضائع نہ ہوجائیں۔ اس لیے کہ ان کی نسبت قرآن کی طرف ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان کی یہ نسبتِ قرآن محض جغرافیائی حدود و قیود تک محدود ہے۔ ان کی اسلامی نسبت غیر حقیقی رسمی مظاہر تک ہے۔ موجودہ امتِ مسلمہ اپنی دعوت کو ترک کرچکی ہے۔ اس نے اسلامی ریاست کے قیام و استحکام کے جذبہ و عمل کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ مسلمانوں نے فاسد ا?راء، گمراہ کن خیالات اور فاسد و باطل نظریات کا ایک عجیب سا ملغوبہ تیار کررکھا ہے۔ کمزور و ناتواں تحریکوں نے دلوں کو فتح اور عقلوں کو مغلوب کرلیا ہے، یہ مادہ پرستی کی طاقتور لہروں سے متاثر ہیں۔ یہ دنیاوی خزف ریزوں کو اہمیت دیتی ہیں۔ ان پر شہوتوں کا قبضہ ہے۔ اس روش سے دنیا میں سوائے ذلت کے کچھ نہیں، اور آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ جب مسلمانوںکا یہ حال ہے تو لازمی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ان نام نہاد نسلی مسلمانوں کو ہٹاکر کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ نئی قوم ان مسلمانوں جیسی نہ ہوگی۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔‘‘(المائدہ:54)

نزولِ قرآن سے لے کر اب تک دشمنانِ اسلام اور مخالفانِ قرآن کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لاکر قرآن کے خلاف جنگ کریں، اور یوں وہ اہلِ قرآن کو، اس سے دور کردیں۔ دشمنانِ اسلام اس سازش میں انتھک ہوکر مشغول ہیں، یہ لوگ کبھی تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں:

’’وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے، حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔‘‘(البقرہ 214:)

یورپی سیاست کار اور مغربی فلاسفر، قرآن پر ہر طرح کے حملے کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں، وہ کتاب اللہ سے اظہارِ بے زاری کرتے رہتے ہیں، وہ قرآن حکیم کو اہلِ ایمان پر اپنا تسلط واقتدار قائم کرنے میں واحد رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مومنین کے اذہان و قلوب کو راہِ حق سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر قرآن حکیم ان کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے وہ اسے ہٹانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو قرآن مجید ختم کرنے کی سازش میں… کامیاب نہیں ہونے دیتا اور انہیں مختلف حادثات و واقعات کے ذریعے سے خبردار کرتا رہتا ہے:

’’جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے، اْن پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ان پورا ہو۔‘‘ (الرعد31:)

اب عالم اسلام کے لیے مواقع ہیں، کاش کہ وہ ان سے بھرپورفائدہ اٹھائے اور یوں رسوم و رواج کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوجائے۔ کتاب مجید کی طرف… یعنی اس کی دعوت و مملکت…کی جانب پلٹے۔ اس خیر میں سب طرح کی خیر ہے۔ نہ صرف تنہا فرزندانِ اسلام کے لیے، بلکہ وحشت ناک اور ہیبت ناک مادیت کے صحرا میں بھٹکنے والی انسانیت کے لیے بھی اس اقدام میں خیر ہے۔ ایک ایسا صحرا جس میں سایہ ہے نہ سرسبزی و شادابی، پانی ہے نہ ہریالی، تو کیا مسلمان کچھ کریں گے؟lll

شیئر کیجیے
Default image
حسن البناء شہیدؒ

تبصرہ کیجیے