3

عورت کی معاشی جدوجہد اور اسلامی تعلیمات

ہر دور اور ہر قوم میں مرد و زن کے سامنے اپنی معاشی ترقی کا مسئلہ رہا ہے۔ اور دور قدیم سے ہی عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ معاشی سرگرمیوں میں مشغول رہی ہیں۔ وقت، حالات اور مخصوص طرز فکر کی وجہ سے ان سرگرمیوں میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ لیکن کسی بھی دور میں معاش کی تمام تر ذمہ داریاں عورت کے کاندھے پر نہیں ڈالی گئیں۔ کچھ استثنائی صورتیں ہر دور میں مل جائیں گی لیکن عمومی طور پر ضرورت زندگی کو مہیا کرنے اور اس کے لئے جدوجہد کرنے کو مرد پر لازم قرار دیا گیا۔ عورتیں معاش میں مختلف طریقے سے مردوں کا ہاتھ بٹاتی رہی ہیں۔ کھیتی باڑی، مویشی پالنے، کپڑا بننے، پتھر توڑنے، دایا، درزی، موچی، دھوبن اور کمہارن کے روپ میں اپنے خاندان کی آمدنی بڑھاتی رہی ہیں۔ دور حاضر نے تو اس قدر ’’احسان‘‘ کیا کہ ملازمت اور معاشی سرگرمیوں کا ہر میدان خواتین کے لئے کھول دیا گیا۔ چاہے آفس ہو یا فیکٹری، فوج اور پولیس کی نوکری ہو یا پائلٹ ڈاکٹر اور سائنسداں بننے کی بات ہو عورتوں کے لئے سارے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ آج عورتیں ہر جگہ، ہر پوسٹ پر مل جائیں گی۔ وہ وزیراعظم بھی بن رہی ہیں اور دل بہلانے کا ذریعہ بھی۔ عورت کی اس آزادی اور ترقی کے پیچھے مغرب کا وہ فلسفہ مساوات ہے کہ معاشی جدوجہد کرنا عورت کا فطری اور بنیادی حق ہے۔ وہ ہر شعبے میں مرد کی طرح حصہ لے سکتی ہے اس کے بغیر اسے معاشی استحکام حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ ہمیشہ مرد کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہے گی اور سماج میں فروتر سمجھی جائے گی۔ اس آزادی سے عورتوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔ انھیں اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو آزمانے کا موقع ملا۔ انھوں نے بہت سے ایسے کام کردکھائے جس نے دنیا کو حیران کردیا۔ مردوں کے ظلم ورستم اور تسلط سے بڑی حد تک نجات پالی۔ لیکن اس اندھادھند دوڑنے بہت سے نقصانات کو بھی جنم دیا جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر گیا۔ ازدواجی رشتہ کمزور ہوگیا۔ بچے ماں کی محبت بھری تربیت سے محروم ہوگئے۔ فحاشی اور عریانیت کا سیلاب پھوٹ پڑا۔ معاشی جدوجہد اندھی ہوڑ میں تبدیل ہوگئی۔ ہل من مزید کی طلب نے اچھائی اور برائی کا فرق مٹا دیا۔ برائیوں کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریاں بھی وجود میں آگئیں۔ مذہب، اخلاقی تعلیمات قصہ پارنیہ بن گئیں۔ بچے وقت سے پہلے بڑے بن گئے۔ جس نے ان معصوموں کی زندگی کو جرائم کا پلندہ بنا دیا۔ کیونکہ صحیح و غلط کا فرق بتانے والی ماں کو فرصت ہی نہ رہی۔ یہ نقصان بہت ہی شدید قسم کا ہے۔ خاندان جو سماج کی اکائی ہے، وہ نظام درہم برہم ہوگیا۔ اگر ان حالات کا تدارک نہ کیا گیا تو جلد ہی دنیا برائیوں کی آماجگاہ بن جائے گی۔

اسلامی تعلیمات

مرد و زن دو الگ صنف ہیں۔ دونوں کی جسمانی ساخت، فطری اور ذہنی صلاحیتیں الگ الگ ہیں۔ خدا تبارک و تعالیٰ نے دونوں کو الگ الگ مقاصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ دونوں کے اندر کے کیمیائی مادّے بھی الگ ہوتے ہیں۔

جسمانی ساخت اور ہارمون کی یہ تفریق زندگی میں نہ صرف ان کے کردار کو الگ کردیتی ہے بلکہ بہت سے کاموں میں دونوں کی ترجیحات مختلف ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں تعلیم و تدریس نرسنگ، بچوں کی دیکھ بھال اور ڈاکٹری وغیرہ کے پیشے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کرتی ہیں۔

مردوں اور عورتوں کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انھیں تقسیم کار کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے۔ معاشی جدوجہد کرنا اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات کو پورا کرنا مرد پر فرض ٹھہرایا گیا۔ شادی سے پہلے لڑکی کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس کے باپ یا ولی کی ہوتی ہے۔ شادی کے بعد شوہر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بیوی کو اپنی استطاعت کے مطابق گھر، کھانا، کپڑا اور دوسری ضروریات زندگی خوشدلی کے ساتھ مہیا کرے اور اس کے لئے تگ و دو اور کوشش کرے۔ بوڑھے ہونے پر یہ ذمہ داری بالغ بیٹوں پر آجاتی ہے کہ وہ اپنی ماں کو نفقہ دیں۔ عام حالات میں شریعت عورت کو نفقہ مہیا کرنے کی ذمہ داری سے بری کرتی ہے۔ عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر مال اور اولاد کی نگرانی و نگہبانی کرے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال کرے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام عورتوں کو کسب معاش کے لئے نکلنے کو بالکل ممنوع قرار دیتا ہے۔ بلکہ قرآن و حدیث اور اس سے مستنبط فقہاء کے اجتہادات میں خواتین کو شرعی حدود و قیود کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملازمت کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی دو صاحبزادیوں سے متعلق ایک واقعہ کا ذکر ملتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پانی کی ضرورت کی وجہ سے باہر جایا کرتی تھیں اور خود پانی بھر کر لاتی تھیں۔

اور مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتوں کو الگ کھڑی اپنے جانوروں کو روکتی ہوئی دیکھا، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، وہ بولیں جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتے اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔‘‘ (القصص:۲۳)

خود عہد نبوی کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں جہاد میں جو کہ اسلامی شریعت کے مطابق صرف مردوں کا کام ہے، میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ یہ صحابیات زخمیوں کی دیکھ بھال، ان کا علاج معالجہ، نقل و حمل میں اعانت، سامان رسد کی فراہمی اور دوسری رفاہی خدمات انجام دیتی تھیں۔ چنانچہ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

’’ہم لوگ حضور کے ساتھ جہاد میں شریک رہتے تھے۔ قوم کو پانی پلاتے تھے اور ان کی خدمت کرتے تھے، نیز مقتولوں اور زخمیوں کو مدینہ لے جاتے تھے۔‘‘

(بخاری حدیث نمبر ۲۸۸۳)

اسی طرح حضرت ام عطیہؓسے مروی ہے:

’’حضرت عائشہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ غزوہ احد میں وہ اپنے پائینچے چڑھائے ہوئے اپنی پیٹھ پر مشکیزے لادے لاتی تھیں اور سپاہیوں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور جب مشکیزے خالی ہوجاتے تو پھر ان کو بھر کر لاتی تھیں۔ (بخاری کتاب الجہاد)

ان عورتوں نے موقع پڑنے پر شاندار جنگی صلاحیت اور فوجی خدمات کا مظاہرہ کیا۔ ان میں ام عمارہ، حضرت ام سلیمؓ کی جنگی خدمات جو انھوں نے جنگ احد اور حنین وغیرہ میں انجام دیں وہ قابل تحسین ہیں۔

جہاد میں عورتوں کی شرکت کے بارے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے اور بعد میں بھی عورتیں اس جوش کے ساتھ جہاد میں حصہ لیتی رہی ہیں اور نبی کریمؐ انھیں شرکت کرنے کی پوری اجازت دیتے۔

جہاد میں شرکت کے علاوہ عہد نبوی میں عورتوں کو اس وقت کے رائج کسب معاش کے ذرائع تجارت، زراعت، صنعت و حرفت اور مزدوری و اجرت کو اختیار کرنے کی پوری آزادی حاصل تھی۔ وہ صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے بھی معاشی جدوجہد کرتی تھیں۔ جن میں خدیجہؓ کی تجارت کا واقعہ بہت ہی معروف و مشہور ہے۔ آپ کا شمار قریش کی دولت مند خواتین میں ہوتا ہے۔ آپ کی تجارت شام و یمن کے بین الاقوامی مراکز کے علاوہ عرب کے مختلف بازاروں سے بھی ہوتی تھی۔ آپ مضاربت اور اجرت کی بنیاد پر مختلف مردوں سے تجارت و کاروبار کراتی تھیں اور نفع کماتیں۔ آپ کی تجارت نبی کریمؐ سے شادی کے بعد بھی جاری رہی جس میں آپؐ کی ذات مبارک بھی شریک تھی۔

مشہور سردار مکہ ابوجہل مخرومی کی ماں اسماء بنت مخربہ ثقفی دور جہالت اور عہد اسلامی میں گھر گھر عطر فروخت کرتی تھیں۔ ان کے ایک فرزند حضرت عبداللہ ابن ابی ربیعہؓ یمن سے ان کے پاس عطر بھیجا کرتے تھے جسے وہ فروخت کرتی تھیں۔ (اسد الغابۃ، ۵؍۴۵۲)

حضرت حولاءؓ ایسی عطر فروش تھیں کہ وہ ’’العطارہ‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہوگئی تھیں۔ وہ رسول اکرمؐ کے خانہ مبارک میں آتی تھیں اور عطر فروخت کرتی تھیں اور نبی اکرمؐ ان کے عطروں کی خوشبوئوں سے ان کو پہچان لیا کرتے تھے۔ (اسدالغابۃ ۵؍۴۳۲-۴۳۳)

آپؐ نے حضرت جابرؓ کی خالہ کو دوران عدت کھجوروں کے چند خوشے کاٹنے اور فروخت کرنے کا حکم دیا۔

کھیت جائو اور اپنے کھجور کے درخت کاٹو (اور فروخت کرو) اس رقم سے بہت ممکن ہے تم صدقہ و خیرات یا اور کوئی بھلائی کا کام کرسکو۔ (ابوداؤد)

حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی اسماءؓ جن کو نبی کریمؐ نے ذات النطاقین کا لقب دیا وہ فرماتی ہیں کہ زبیرؓ سے شادی کے بعد میں رسولؐ کی عطیہ کردہ زمین جو انھوں نے زبیرؓ کو کاشت کرنے کے لئے دی تھی اس زمین سے میں کھجور کی گٹھلیاں لایا کرتی تھی۔ (بخاری)

تجارت اور زراعت میں حصہ لینے کے علاوہ عورتیں اس وقت کی صنعت و حرفت کو بھی اپنی معاشی آمدنی بڑھانے کے لئے ذریعہ کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔

حضرت زینب بنت جحش اسدی خزیمیؓ ام المومنین ایک دستکار خاتون تھیں وہ طرح طرح کی چیزیں بناکر انھیں فروخت کردیتیں البتہ اس سے حاصل کردہ آمدنی صدقہ و خیرات کردیا کرتی تھیں۔ (اسد الغابۃ)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی بیوی ریطہ صنعت و حرفت سے واقف تھیں۔ اس کے ذریعے اپنے بچوں اور شوہر کے اخراجات پورے کرتیں۔ ایک بار نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:

میں ایک کاریگر عورت ہوں۔ چیزیں تیار کرکے فروخت کرتی ہوں۔ میرے شوہر اور بچوں کا (کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے اس لئے) ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ (طبقات:ابن سعد)

خولہ بن ثعلبہؓ سے ایک بار ان کے شوہر نے کہہ دیا کہ آج سے تمہاری حیثیت میری ماں کی سی ہے۔ نبی کریمؐ نے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت ملنے تک اپنی بیوی سے الگ رہیں۔ یہ سن کر خولہؓ نے کہا:

’’اے اللہ کے رسول! ان کے پاس تو خرچ کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، میں ہی ان پر خرچ کرتی ہوں۔‘‘ (ابن سعد)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خولہؓ کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی تھا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ خود عہد نبوی میں بہت سے شوہر بیوی کا نان نفقہ مہیا کرنے سے قاصر تھے۔ ایسے میں خود بیوی اپنی کمائی سے بچوں اور شوہر پر خرچ کرتی تھی۔

ایک خالص نسوانی ذریعہ آمدنی رضاعت کا تھا۔ عورتیں دور جاہلیت میں بھی رضاعت کے ذریعہ آمدنی حاصل کرتی تھیں۔ ان میں مشہور ترین مرضعہ یقینا دائمی حلیمہ ہیں جنہوں نے نبی کریمؐ کو پالا۔ اس کام کے ذریعہ رضاعی مائوں کا ایک طبقہ آمدنی پاتا رہا۔ اس کے علاوہ کچھ اور پیشے بھی تھے جن میں عورتیں منسلک ہوتی تھیں جیسے مشاطہ، قابلہ، ختانہ، حاضنہ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کے ساتھ ساتھ بازار کے خالص مردانہ تجارتی کاروبار کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کے لئے آپؐ نے ایک خاتون کا تقرر کیا تھا وہ تھیں حضرت شفاء جو مدینہ کے ایک بازار کی افسر تھیں۔ (نبی اکرم اور خواتین ایک سماجی مطالعہ، ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی۔ ص۱۵۶)۔

عہد رسالت میں عورتو ں نے جس طرح معاشی جدوجہد کی اس کا مختصر سا مطالعہ یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپؐ نے کسب معاش کی پوری آزادی دی تھی۔ اس وقت کے رائج ذریعۂ معاش کو عورتیں بھی اختیار کرتی تھیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کی حفاظت، دین کی دفاع و خدمت، تعلیم و تدریس، طب و جراحت وغیرہ میں بھی عورتیں پیش پیش نظر آتی ہیں۔

ان واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ کام جو مردوں کے لئے جائز ہیں عورتیں بھی شرعی حدود و قیود کے ساتھ انھیں انجام دے سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ انسانی ضرورت کا تقاضا ہے۔ بسا اوقات عورتوں کے لئے کسب معاش مجبوری بن جاتا ہے۔ کچھ ایسے پیشے بھی موجود ہیں جس میں عورتوں کے داخلہ سے معاشرے کی اجتماعی ضرورت پوری ہوسکتی ہے جیسے طبی خدمات، عورتوں کی مخصوص بیماریوں کے لئے خاص طور پر اگر عورت ڈاکٹر ہو تو یہ ایک سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ فرض کفایہ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔

یہ بات البتہ یاد رکھنے کی ہے کہ عورتوں کی ملازمت کے کچھ حدود قیود ہیں۔ اسلام انہیں باہر نکلنے اور کام کرنے کی اجازت انھیں حدود کے ساتھ دیتا ہے۔ ان حدود میں سے پہلا پردے کے احکام کی پیروی کرنا ہے۔ تقریباً تمام فقہاء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کا پورا بدن ستر ہے سوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے۔ اختلاف صرف چہرے کے پردے کے سلسلے میں ہے۔ اگر چہرے کے پردہ نہ کرنے کی رعایت سے فائدہ بھی اٹھایا جائے تب بھی یہ ضروری ہے کہ باہر نکلے وقت عورت زیب و زینت سے احتراز کرے۔ ایسا لباس زیب تن نہ کرے جس سے اس کے جسمانی اعضاء نمایاں ہوں یا اتنا باریک نہ ہو کہ جسم نظر آئے، ایسے زیورات سے احتراز کرے جس سے آواز پیدا ہوتی ہو۔ خوشبو جو دوسروں کو متوجہ کرے۔ اس کی ممانعت ہے۔ غض بصر کا حکم مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لئے بھی ہے۔ عورت کے لئے ضروری ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت ان باتوں کو ملحوظ رکھے۔

دوسری حد اختلاط سے اجتناب ہے۔ اسلام بے محابا، بے وجہ اور بے قید اختلاط مرد و زن کا قائل نہیں ہے۔ آپؐ کا حکم ہے کہ ایک غیرمحرم مرد اور ایک غیر محرم عورت تنہائی میں نہ ملا کریں۔

’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: آج کے اس دن کے بعد کوئی شخص ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ (کم سے کم) ایک یا دو مرد ہوں‘‘۔ (مسلم: ۲؍۲۱۵، باب تحریم االخلوۃ بالاجنبیہ)

’’ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو تیسرا اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے‘‘۔ (ترمذی)

یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ایک مرد اور عورت کے درمیان جو فطری کشش ہے وہ ان کے بے قید اختلاط کی وجہ سے خطرے اور عفت و عصمت کی بربادی کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس لئے اگر عورت ملازمت کرتی ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسی جگہ کا انتخاب کرے جہاں مردوں سے کم سے کم سابقہ پڑے بہتر یہ ہے کہ وہ ایسی جگہ ملازمت کرے جہاں خواتین کی ہی اکثریت ہو۔ کسی بھی ایسے مقام پر ملازمت بالکل جائز نہیں ہے جہاں ایک مرد ایک عورت کے ساتھ تنہا ہو۔ کسی ایسی جگہ پر کام کرنا جہاں ایمان خطرے میں پڑجائے اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ تیسری چیز جو اہم ہے وہ یہ کہ ولی کی اجازت حاصل ہو۔ عورت اپنے فطری مسائل کی وجہ سے زندگی کے ہر دور میں مرد کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ شادی سے پہلے باپ اس کا محافظ ہوتا ہے جو اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔ شادی کے بعد شوہر پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ اس لئے گھر سے باہر ملازمت کرنے کے لئے باپ یا شوہر کی اجازت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر عورت کسب معاش کا کوئی ایسا ذریعہ اختیار کرتی ہے جس کے لئے اسے گھر سے باہر نکلنا نہ پڑتا ہو اور نہ ہی اس کی مشغولیت شوہر کے حق کو متاثر کرتی ہو تو اس صورت میں شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے۔ ایسے ہی اگر عورت مجبور ہو۔ شوہر نفقہ ادا نہ کرتا ہو تو اس صورت میں بھی عورت شوہر کی مرضی کے بناء بھی ملازمت کرسکتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ صورتوں میں باپ اور شوہر کی اجازت ہونا ضروری ہے۔

حاصل بحث یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ اس کے نفقے کی تمام تر ذمہ داری مردوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسلام عورتوں کی معاشی جدوجہد پر پابندی نہیں لگاتا ہے اور مذکورہ حدود و قیود کی اطاعت کرتے ہوئے عورت کو ملازمت کرنے کی اجازت ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
تمنا مبین اعظمی

تبصرہ کیجیے