2

آزادیِ نسواں کے نعرے سے دھوکا نہ کھائیں!

یہ ایک کھلی سچائی ہے کہ ماقبل اسلام دور جاہلیت میں عورت ایک مشق ستم تھی۔ اس صنف نازک پر ہر ظلم روا رکھا جاتا تھا، لیکن اسلام کی آمد نے نہ صرف اسے اس ظلم و جور سے آزادی دی بلکہ اس کی قدر و منزلت میں بھی خوب اضافہ کیا۔ سب سے پہلے تو بحیثیت اشرف المخلوقات اس کی عظمت کو بیان کیا چناں چہ آیت کریمہ ہے۔ یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔ (بنی اسرائیل:۷۰) اور پھر مختلف حقیقتوں سے کبھی ماں، کبھی بیٹی اور بیوی کے روپ میں اسے اس کا صحیح مقام و مرتبہ دیا اور اس کے عزت و ناموس کی پاسداری کی۔

اور یہ بھی ایک سچ ہے کہ ہر مرد کی کامیابی و ترقی میں کسی نہ کسی عورت کا ناقابل فراموش کردار ضرور ہوتا ہے۔ اس طرح عورت اسلامی معاشرہ کا ایک موثر ترین حصہ بن جاتی ہے او رکسی بھی سوسائٹی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ عورتوں کا وجود مردوں کی زندگی میں خوشگواری و لطف اور باغ و بہار کا باعث ہوتاہے اور فضا میں ایسی خوشبو پھیلا دیتا ہے جو مردوں کے اندر تازگی و بالیدگی اور جذبہ جنوں پیدا کردیتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ ’’عورت خوشبو کے مانند ہے جو ہمارے لیے پیدا کی گئی ہے او رہم میں سے ہر مرد اس خوشبو سے لطف حاصل کرتا ہے۔‘‘

بہرحال زندگی کے ہر گوشہ میں عورت کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن بیشتر لوگ عورت کے اس کردار اور اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں او ربعض لوگ تو جان کر بھی انجان بنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت ہر دور میں اپنا کردار نبھاتی رہتی ہے بالخصوص علمی میدان میں وہ اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ ام المومنین اور صحابہ و سلف کی خواتین جن کی بزرگی و برتری کا کیا کہنا، علم و فقہ اور روایت حدیث کے میدان میں جداگانہ مقام و مرتبہ رکھتی ہیں اور یہی نہیں بلکہ ان خواتین نے شعر و ادب اور دیگر علوم و فنون میں بھی معتدبہ سرمایہ چھوڑا ہے۔ تاریخی شواہد یہ کہتے ہیں کہ عورت اسلامی ماحول کے زیر ساہی علم و فن، تہذیب و ثقافت کی معراج کو پہنچی۔ چناں چہ بے شمار مسلم خواتین نے کتابت و مضمون نگاری اور شعر و شاعری میں اپنا نام پیدا کیا، مثلاً عطیہ بنت مہدی، عائشہ بنت احمد بن قادم اور ولادہ بنت خلیفہ مستکفی باللہ وغیرہ وغیرہ علاج وطب کے میدان میں جیسے زینب طیبہ بنی اود جو امراض چشم میں اپنی نمایاں اور خصوصی قابلیت کی وجہ سے مشہور و معروف ہوئیں اور احادیث و روایات احادیث میں مثلاً سلمی نجاریہؓ جو حضور مقبولؐ کی خالہ تھیں او رکریمہ بنت احمد روزیہ، صحیح بخاری کی روایات میں سے ایک ہیں۔ بخاری کے اسی نسخہ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری میں کھل کر داد و تحسین پیش کی ہے۔ اسی طرح مشہور و معروف محدثہ میں نفیسہ بنت محمد اور بے شمار خواتین اسلام ہیں۔ جنہوں نے بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دیے ہیں اور ان میں سے کچھ تو امام شافعی، امام بخاری اور ابن قیم جیسے یکتائے روزگار محدثین کی معلّمات بھی تھیں اور یہی ساری چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ جو اسلامی تربیت اپنی علمی شغف، بلندی فکر اور ہمہ گیر تہذیب و ثفاقت کی وجہ سے تمام ادیان و مذہب سے ممتاز ہے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی عورتوں کو الگ نہیں کرتا اور اسے اپنے حدود و دائرے کے پاس و لحاظ کے ساتھ مردوں کے شانہ بشانہ دیکھنا چاہتا ہے جہاں تک اسلام میں عورتوں کی اجتماعی زندگی اور حقوق کا تعلق ہے تو اسلام عورتوں کو اس کے تمام اجتماعی و معاشرتی حقوق فراہم کرتا اور اسے ایسی عزت و احترام عطا کرتا ہے جس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی، نہ کسی نام نہاد انسانی آزادی کے دعووں اور نعروں میں اور نہ کسی تحریک اور اداروں میں جس کے فعال افراد و اراکین تک خود گم کردہ منزل ہوتے ہیں۔ آیت کریمہ ’’وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ (الکہف:۴۰۱)

ہماری خواتین کی عزت شرف اور احترام کے لیے یہی بہت کافی ہے کہ وہ چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اسلام نے اس کے ولی کو اس کے نان و نفقہ کا ذمہ دار اور اس کی عزت و ناموس کا پاسدار بنایا ہے اور پھر مرد و زن کے مابین مشترکہ ذمہ داریوں اوران کی ادائیگی کی صورت میں مرتب ہونے والے اجر و جزاء میں دونوں کو برابر کا شریک ٹھہرایا ہے۔ قرآن کی آیت ہے۔ ’’جواب میں ان کے رب نے فرمایا میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑا اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے، ان کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی یہ ان کی جزاء ہے اللہ کے یہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے۔ (آل عمران: ۱۹۵) اسی طرح دوسری جگہ ہے ’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخر میں) ایسے لوگوںکو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ (النحل:۹۷)

دین اسلام مرد و زن دونوں کو مساویانہ امتیاز دیتا ہے چناں چہ اولاد کو ماں سے اتنا ہی حسن سلوک کرنا ہے جتنا کہ باپ سے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اسی کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوںبوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، انہیں جھڑک کر جواب نہ دو بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ ’’پروردگاران پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا، بلکہ ماں کے ساتھ نیک سلوک اور ہمدردانہ برتاؤ کے حق کو باپ پر مقدم رکھا ہے۔ چناں چہ نبی کریمﷺ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت میں شروع میں تین بار ماں اور چوتھی بار باپ کا تذکرہ کیا ہے۔ امام بخاری سے مروی ایک حدیث ’’ایک صحابی رسول مقبولؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، سوال کیا یا رسول اللہؐ حسن سلوک، اور نرمی و رواداری کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے، ارشاد ہوا، تیری ماں، پھر پوچھا، جواب آیا تیری ماں، پھر پوچھا، فرمایا تیری ماں اور آخری اور چوتھی بار فرمایا تیرا باپ۔‘‘ (متفق علیہ)

برعکس اس کے موجودہ دور میں عورتوں کی عزت افزائی اور آزادی کا نعرہ چاہے وہ جتنا بلند ہو گمراہ کن نعرہ ہے، دھوکہ اور فریب ہے۔ اصل آزادی تو اسلامی آزادی ہے اور اس کے بعد کون سچا اور آزاد دہندہ ہوسکتا ہے۔ اگر ہے تو وہ جھوٹ کا پلندہ ہے، یا پھر کج فہمی، نفس پرستی اور شیطان کی پیروی ہے، میں خوب جانتا ہوں جو مسلم خواتین اسلام کو بہ نظر حقارت و نفرت دیکھتی ہیں اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ وہ بے چاری اسلامی طریقہ و حجاب و پردہ سے خوف زدہ ہیں اور انہیں اسلام جو حفاظت و امان پردہ کے حکم کے ساتھ دینا چاہتا ہے وہ انہیں منظور نہیں۔

حقیقت حال یہ ہے کہ اس وقت ایک طرف ذرائع ابلاغ اور میڈیا اور دوسری طرف اہل قلم اور ادباء اپنی مسموم تحریروں کے ذریعہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈے میں سرگرم ہیں۔ اسلام پر الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا دو طرف سے یلغار ہے، جہاں تک میڈیا کی بات ہے تو وہ اسلامی اساس اور صحیح عقیدہ و فکر پر حملہ آور ہو کر اسلام کی صحیح صورت و شبیہ بگاڑنا اور اس کی ستھری تصویر کو داغ دار کرنا چاہتا ہے، عورتوں کے حجاب و پردہ سے دشمنی بھی اسی مہم کا ایک حصہ ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہماری عورتیں غریب کھائے بغیر نہیں رہتیں اس کی سینکڑوں مثالیں میڈیا اور نشریاتی چینلوں پر مل جائیں گی ان چینلوں سے جڑی مسلم بے دین خواتین جو اپنے دلوں میں دین و شریعت کے خلاف نفرت وبغاوت د فن لیے ہوتی ہیں اسلام کی نمائندہ بنا کر پیش کی جاتی ہیں۔یہ اپنے کو دین دار کہتی ہیں بلکہ یہ دعوی کرتی ہے کہ اسلام کو صحیح طور پر انہوں نے ہی سمجھا ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ ’’کٹھ ملّوں‘‘ کا دین بتاتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے سنا بھی اور دیکھا بھی کہ ایک فنکارہ نے کسی چینل اینکر سے بات کرتے ہوئے ٹی وی شو اور پروگرام میں ڈانس گانے کرنے والی خواتین کی جم کر تعریف کی اور اسے ہی بہتر اسلامی طور طریقہ بتایا۔

اب بات رہی اہل قلم اور ادیبوں کی تو موجودہ حالات میں بے شمار اباحیت پسند ادباء و قلم کار سادہ لوح خواتین کو اسلامی اقدار اور اخلاق واصول کے خلاف برگشتہ کر رہے ہیں اور انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ مغربی یا مغرب زدہ عورتوں کا طور طریق اور ان کی روش اختیار کرلیں، ان کے رات و دن کی محنت اسی رخ پر لگی ہے کہ کسی طرح مسلم خواتین کو گم کردہ راہ، بد دین اور بد بخت کردیں، اور یہ ہماری عورتوں کی بے دینی و بے پردگی کو اپنی خوش بختی و سرخ روئی کی معراج تصور کرانا چاہتی ہیں۔ ہماری خواتین کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مضرت رساں اور اخلاق سوز ادبی ریلا ہے، جو اسلامی سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتا ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ یہ اہل قلم اخلاق و اقدار کے علمبردار بن جاتے اور اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین کے اندر عفت وپاکیزگی کا جذبہ، ان کی آنکھوں میں شرم و حیا اور اپنے شوہر اور اہل خانہ کے تئیں ان کے دلوں میں خلوص ووفا پیدا کرتے، ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے اور ان کے والدین و رشتہ دار اور معاشرہ کی ساکھ و قار کو برقرار رکھتے تاکہ ایک پرسکون اور صالح معاشرہ کی تشکیل ہوتی اور ایسی فضا ہموار ہوتی کہ شوہر اپنی بیوی کے تئیں مطمئن ہوتا، والدین اپنی اولاد سے بے خوف اور اولاد کا والدین اور اعز و اقارب پر بھروسہ بحال رہتا ایسا صالح، مضبوط اور پائیدار معاشرہ تبھی وجود پذیر ہوسکتا ہے جب کہ اس کی بنیاد اسلامی اقدار و اخلاق، ایمان کامل اور تقوی و طہارت پر ہو۔

لیکن ان ادباء اور قلم کاروں نے اپنی شہوت رانی، دنیوی دولت و منفعت اور شہرت کی حرص میں اپنی گھٹیا اور ذلت آمیز تحریروں سے قوم و ملت کا خوب نقصان کیا اور اسلامی معاشرہ کی جڑیں ہلا دیں اور مرد و زن کے مساوات کے نام پر بے شمار فضولیات و بے ہودگیاں اور اخلاقی گراوٹ و خرابیوں کو اسلامی معاشرہ میں جگہ پانے کا موقع فراہم کر دیا، بالخصوص ملک و بیرون ملک میں بے شمار ایسے گمران کن ادارے اور ایسوایشن ہیں جو ان اباحی ادباء کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑے بڑے انعامات تجویز کرتے ہیں تاکہ وہ خوب لکھیں اور اسلامی معاشرہ میں عریانیت و بے حیائی، بدکرداری و آوارگی عام ہو جائے۔ اس طرح اسلام کے خاندانی نظام میں خلل و بگاڑ اپنی مضبوط جگہ بنا لے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی خاندان کا تصور لوگوں کے ذہن و دماغ سے محو ہوجائے۔

آج اس نازک دور میں ہر غیور و خوددار عورت پر لازم ہے کہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کردے کہ اے اہل مغرب تمہارا تصور آزادی تمہیں مبارک اور اس آزادی کے بطن سے جنم لینے والے اور ان کے جرائم بھی تمہیں کو مبارک۔ ہم خود کو اور اپنی نسلوں کو پاک باز اور بااخلاق رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے تمہاری تہذیب، تمہاری آزادی کا تصور او رتمھارا طرزِفکر و عمل ہمیں منظور نہیں۔

ہماری عورتیں فضولیات سے اپنے کو بچائیں، جب ہماری عورت کوئی سیریل، فلم یا ڈرامے دیکھتی ہیں تو فریب کھا جاتی ہیں اور وہ نہیں جانتیں کہ وہ ایسا زہر گھونٹ رہی ہیں جو ان کے ننھے ننھے بچوں کی زندگی میں زہر گھول دے گا۔ لہٰذا ہماری خاتون ایسے گھٹئے اور فحش فلموں اور سیریلوں سے خود بھی دور رہیں اور اپنی اولاد کو بھی دور رکھیں۔

یہ زمانہ تو عجب ہے ہماری سوسائٹی میںایسی عورتیں بھی ہیں جو اخلاقی انارکی و گراوٹ میں اپنی انتہا پر ہیں مگر اپنے آپ کو اسلام کی صحیح سوجھ بوجھ رکھنے والی سمجھتی اور معاشرہ کی چند گنی چنی پاکیزہ وپاکباز خواتین کو انتہا پسند اور متشدد سمجھتی ہیں بلکہ ان کے پردہ اور وفا و سنجیدگی کو قدامت پسندی انحطاط و تنزلی سے تعبیر کرتی ہیں۔ اللہ کی پناہ۔

موجودہ دور میں مرد و زن کے درمیان مساوات و برابری کا ہر چہار جانب شور و غوغہ اور پرجوش نعرہ ہے یہاں تک کہ ملک کا دستور و آئین بھی اس کو تسلیم کرچکا ہے اس برابری سے ان کا مقصود بجز اس کے کچھ نہیں کہ مغربی نقطہ نگاہ سے فطرت انسان کو مسخ کر دیا جائے اور دونوں صفوں میں جو فطری اور مزاجی دوری ہے وہ ختم ہوجائے اور اللہ عزوجل کی حکمت و قدرت کے برخلاف ہم جنسی کا فروغ ہو، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کی مناسب فطرت پر پیدا کیا ہے:

’’ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘‘ (القمر:۴۹)

اور جب انسان اپنی فطرت سلیم سے ہٹ جائے گا اور اصل نیچر سے بغاوت کرے گا تو انجام کار یہی ہوگا کہ معاشرہ بے چینی و ابتری کے دہانے پر آجائے گا، انارکی و بے راہ روی اور آواگی کا دور دورہ ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: ڈاکٹر سمیر یونس ترجمانی: اشرف علی ندوی

تبصرہ کیجیے