3

قوموں کی قوت کا خزانہ

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماں کے دودھ میں ایک خاص نسبت سے چکنائی، پانی اور دوسرے مادی اجزا ہی پائے جاتے ہیں جو بچے کے جسم میں تحلیل ہوکر اس کی نشو و نما کرتے ہیں ان کا خیال سراسر غلط ہے۔ ان کے اس خیال کی بنیاد وہ کیمیاوی تجزیہ ہے جس کی رسائی دودھ کے مادی فوائد ہی تک محدود ہوکر رہ گئی۔ حالاںکہ ان مادی اجزاء کے دودھ میں عقلی، اخلاقی اور روحانی جیسے اہم اوصاف موجود ہیں۔ جس طرح دودھ سے ایک دودھ پیتے بچے کے جسم کی نشو و نما اور بڑھوتری ہوتی ہے اسی طرح دودھ سے اس کی روح پروان چڑھتی ہے، اس کا نفس پرورش پاتا ھے اور اس کا فہم و شعور ترقی کرتا ہے۔ البتہ دودھ میں عقل و روح کو غذا دینے والا جو جوہر موجود ہوتا ہے وہ ہمیشہ ان اوصاف کے مطابق ہی نہیں پایا گیا۔ بعض قسم کے دودھ اعلی درجے کے ہوتے ہیں جو شجاعت، ہمت و جرأت، چستی اور ذہانت جیسے اوصاف کو پروان چڑھاتے ہیں اور دودھ کی ایسی قسم بھی ہوتی ہے جس سے بزدلی اور بے ہمتی، خوف، فتنہ پروری اور فساد انگیزی میں جیسی مذموم صفات پیدا ہوتی ہیں۔ اسی کے ساتھ دودھ پلانے والی ماں کے اندازِ تربیت کو بھی بچے کی تعمیر میں بہت کچھ دخل ہوتا ہے۔ وہ بچے کو بری صفات کا حامل، بزدلی، بے ہمت اور کم حوصلہ بھی بنا سکتی ہے اور اوصاف حمیدہ کا حامل، بہادر و بے خوف، بلند حوصلہ اور ذہین و تیز طبع بھی بنا سکتی ہے۔

ماں اگر بچے کی تربیت اور پرورش اس انداز سے کرے جس طرح خرگوش کا بچہ پلتا اور بڑھتا ہے تو لازماً وہ بڑا ہوکر بزدل، بے ہمت اور بے حوصلہ ہوگا۔ اس لیے کہ لاڈ پیار اور ناز و نعمت میں پلنے والے بچے کو اس کا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ خود تجربہ کرے، اپنے کو خطرے میں ڈالے، محنت و مشقت کا عادی بنے اور اپنی عقل و شعور سے کام لے۔ ایسے ناو زنعمت اور محتاط پرورش کے ساتھ ماں اس کے دل میں ایسے خیالات بھی ڈالتی رہتی ہے جن کے اثر سے بچہ پاکیزہ جذبات سے عاری اور آبرو مندانہ زندگی سے بے بہرہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ ماں اسے جس قسم کی تعلیم دیتی ہے اس کے نتیجے میں وہ محسوس ہی نہیں کرتا کہ عقیدے کی حفاظت، دین کی خدمت و حمایت اور ملت و وطن کی سالمیت ہر چیز پر حتی کہ اپنی جان پر بھی مقدم ہے۔

ذرا تصور کیجئے، ماں کی گود میں اس طرح کی تعلیم و تربیت پاکر جوان ہونے والے بچوں کی جو فوج تیار ہوگی اس کو آپ فوج کے بھیس میں تو ضرور دیکھیں گے، لیکن وہ فی الواقع نام کی فوج ہوگی کام کی نہ ہوگی۔ ان کے جسم بھاری بھرکم تو ضرور ہوں گے لیکن ان کے سینوں میںدل اور دل میں جرأت نام کی کوئی شے نہ ہوگی۔

اس کے برخلاف جو ماں بچوں کی پرورش اس طرح کرے کہ ان کو خطرات سے پنجہ آزمانے، مشکلات پر قابو پانے اور مشقت و محنت کرنے کا عادی بنائے، بہادروں اور عظیم شخصیتوں کے واقعات اور کارنامے سناتی رہے، اور ان کو یہ تصویر دیتی رہے کہ نظریات اور عقائد کا درجہ بڑی سے بڑی شخصیت سے بلند ہے اور ملت و وطن کی سالمیت افراد کی زندگیوں سے کہیں زیادہ اہم چیز ہے۔ نیز فرائض و واجبات میں کوتاہی کرنے پر عار دلاتی رھے اور معیوب حرکات سرزد ہونے پر ملامت کرتی رہے۔ دین و ملت کی راہ میں قربان ہونا ان کی زندگی کا حاصل اور اپنے لیے وجہ فخر و عزت باور کرائے، وہی ماں ایسے مرد ان کار زار تیار کرسکتی ہے کہ جن سے قوم و ملت کو عزت و سربلندی حاصل ہو۔

یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور تعمیر سیرت کے معاملے میں عورت کی نظر التفات سے بے نیاز ہوکر کوئی قدم اٹھانا کسی طرح صحیح نہ ہوگا۔ جن بچوں کو ماں کی صحیح تربیت میسر نہ ہو وہ جوان العمری میں متاعِ قلب سے محروم ہوں گے اور عملی زندگی کے کسی میدان میں سود مند ثابت نہ ہوں گے۔ وہ کھوکھلے آلات کی طرح بے فیض اور سرابِ صحرا کی طرح بے حقیقت ہوں گے۔ ایسے جوانوں کی فوج اور پولیس، وزراء، سفراء اور بڑے بڑے عہدہ دار، کارخانہ دار ، صنعت کار اور قلم کار پہلوانی کے کرتب تو دکھا سکیں گے لیکن کوئی حیات بخش کارنامہ انجام دینا ان کے بس کی بات نہ ہوگی۔

تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیے تو آپ دیکھیں گے کہ جو قوم پرجوش دل رکھنے والی ماؤں سے مالا مال تھی اس کے مرد بھی حساس قلب رکھنے والے اور بیدار مغز تھے۔

تاریخ کا وہ صفحہ الٹ کر دیکھئے جو عتبہ کی بیٹی ہند کے جوش و ولولہ کی سبق آموز تصویر پیش کرتا ہے۔ دیکھئے وہ اپنے لشکر کو کیسے ولولہ انگیز اشعار میں جوش دلاتی نظر آتی ہے۔

اشعار کا ترجمہ: ’’اگر تم اقدام کروگے تو ہم تم کو گلے لگالیں گے، اور اگر تم پیٹھ دکھا کر بھاگوگے تو تم سے اس طرح بے تعلق ہوجائیں گے جیسے تم سے محبت و اخوت کا رشتہ تھا ہی نہیں۔‘‘

آپ کومعلوم ہے اسی بہادر اور جری خاتون نے امیر معاویہؓ جیسے اولو العزم اور مدبر حکمراں کو جنم دیا تھا۔

آگے بڑھیے او راس صفحے پر نظر ڈالیے جس پر حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت اسماءؓ نظر آتی ہیں۔ یہ وہ بلند کردار خاتون ہیں جن کی گود میں عبد اللہ بن زبیرؓ جیسا عابد و زاہد، بہادر اور فدا کار فرزند اسلام نشو و نما پاتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے عبد اللہؓ سے کہتی ہیں:

’’اگر تجھے یقین ہے کہ تو حق پر ہے تو جس راہ میں تیرے ساتھیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اس میں تو بھی اپنی گردن کٹادے اور غلامی قبول نہ کر۔ اس سے تو قتل ہو جانا بہتر ہے۔ آخر تو کب تک دنیا میں زندہ رہے گا۔ موت تو بہرحال ایک دن آنی ہی ہے۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ ’’مجھے اندیشہ ہے کہ قتل کے بعد میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں گے۔‘‘ حضرت اسماءؓ نے فرمایا کہ ’’بکری جب ذبح کردی گئی تو کھال کھینچنے سے اس کو کیا تکلیف۔‘‘

تاریخ ایسی بے شمار خواتین کے زریں کارناموں سے مزین ہے جن کو بہادری اور ذہانت میں، دینی اور دنیوی امور میں اور زندگی کے تمام معاملات میں گہرا تعلق تھا۔ بچوں کی سیرت سازی سے ان کو غیر معمولی دلچسپی اور سچی لگن تھی۔ وہ مردوں کی مدگار اور دین و ملت کی خدمت گار تھیں۔ لیکن اس ستم ظریفی کو کیا کہیے کہ ایک ایسا دور آیا جس میں مرد نے عورت پر حقیقی علم کے دروازے بند کردیے۔ اسے متاعِ راز بنا کر رکھا۔ یا شیطان کے لیے کھلونا اور شاعروں کے لیے عنوان فراہم کیا۔

آپ دیکھیں گے کہ بعض شاعروںنے عورت کو خوشبو اور پھول سے تشبیہ دی کسی نے اس کو شیطان اور فتنۂ شیطان سے تعبیر کیا۔ حالاں کہ یہ دونوں نقطۂ نظر غلط اور سراسر غلط ہیں۔ نہ وہ لالہ و گل ہے کہ جس سے ذوق شامہ کی تسکین اور گلدانوں کی زینت ہو او رنہ وہ فتنہ شیطانی ہے کہ ہوا و ہوس کا ذریعہ بنے۔ عورت اس سے کہیں بالاتر شخصیت کی مالک ہے۔ وہ مردوں کی تربیت گاہ ہے۔ مردم سازی کی صنعت گاہ ہے اور قوت ملت کی رسدگاہ ہے۔

اس گفتگو کا یہ مطلب ہرگز نہ سمجھنا چاہیے کہ عورت اپنی زندگی کو بے کیف بنالے اور زیب و زینت سے کنارہ کش ہوجائے۔ بناؤ سنگار تو اس کا لازمہ حیات ہے، جس کا اہتمام ناگزیر ہے۔ دراصل جو چیز اس کی زندگی میں مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ظاہری زیب و زینت کے ساتھ زندگی کے معمولات میں کمال درجہ کا معنوی حسن بھی پیدا کرے۔ اپنی ترقیوں اور تجربات کو اپنی جرأت و شجاعت کو اپنے قلب کے احساس و شعور اور ہر چیز کو جمال حقیقی کا آئینہ دار بنائے، جب تک یہ صورت پیدا نہ ہو عورت، عورت نہیں۔

قوم اسی وقت ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق، بقا و تحفظ کی حق دار اور زندگی کی مسرتوں سے ہم کنار ہوسکتی ہے جب اس سے تعلق رکھنے والی مائیں اپنے بیٹوں کو اور بیویاں اپنے شوہروں کو ہنسی خوشی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ دین و ملت کی راہ میں جان دینے، سر کٹانے اور ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے رخصت کریں اور مائیں اپنے بیٹوں کو وہی سبق دیں جو حضرت اسماءؓ نے اپنے بیٹے کو سکھایا تھا کہ عزت و شرافت کے ساتھ مرجانا ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ ملت کے جاں بازوں کی ہر جماعت کی پشت پر نظروں سے اوجھل ایک طاقت کار فرما ہے۔ ہر جماعت کے پیچھے جوش و ہمت دلانے والی ایک خاموش صدا گونج رہی ہے اور ہر ذخیرے کے پیچھے ایک بیش قیمت ذخیرہ پوشیدہ ہے۔ وہ طاقت، وہ آواز اور وہ ذخیرہ عورت کا قلب ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عاتقہ صدیقی

تبصرہ کیجیے