3

بچوں کا استحصال اوراس کی شکلیں

بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ جو اقوام اپنے بچوں کی فکر کرتی ہیں ان کا مستقبل روشن ہوتا ہے اور جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے مستقبل سے صرف نظر کرتی ہیں وہ خود اندھیرے مستقبل میں گر پڑتی ہیں۔ اسی لیے روشن مستقبل کی خاطر بچوں پر توجہ اور ان کے مسائل کو حل کرنا اور انہیں اچھی زندگی دینے کی فکر دراصل ترقی اور غلبہ کی جانب پیش قدمی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت ترقی پذیر اور پسماندہ و غریب ممالک میں بچوں کی صورتِ حال بہت تکلیف دہ ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں بچوں کے خلاف جرائم، ان کے مختلف النوع استحصال، غربت اور ناخواندگی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور کی تمام تر ترقیوں کے باوجود معاشرے کی ہمہ جہت اور حقیقی ترقی سے ابھی ہم بہت دور ہیں اور بچوں کے روشن مستقبل کی راہ میں حائل بڑی بڑی رکاوٹوں سے ابھی ہمیں بہ حیثیت قوم ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے۔

بچوں کے استحصال کی دنیا بھر میں مختلف شکلیں ہیں اور اس میں سماج کے مختلف طبقات شامل ہیں جن میں سرمایہ دار صنعت کاروں سے لے کر فائیو اسٹار ہوٹلوں اور حد یہ ہے کہ مذہبی طبقہ بھی شامل ہے۔ حال ہی میں ویٹکن سیٹی کے سفر نے جنیوا میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۳ تک کے دس سالہ عرصہ میں ۸۴۸ پادیوں کو بچوں کے جنسی استحصال کے جرائم میں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے جب کہ ۳۵۰۰ پادریوں کو اس جرم میں سزائیں دی گئی ہیں۔ اس بیان کو دیکھ کر اس حیثیت سے مایوسی ہوتی ہے کہ جب دنیا کے سب سے بڑے مذہب عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں کے یہ حال ہے تو تمام معاشرے کا تصور کتنا خوف ناک ہوگا۔

بچوں کے استحصال کے سلسلہ میں ایک بات جو کافی اہم ہے وہ یہ ہے کہ مغربی دنیا جو ہر اعتبار سے ترقی یافتہ اور مہذب تصور کی جاتی ہے وہ اس میدان میں بہت بلکہ ناقابل تصور حد تک آگے ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ٹریفک ہوکر جانے والے بچے زیادہ تر یوروپی ممالک کے سرمایہ داروں اور رئیسوں کے عیش و عشرت کے لیے بھیجے جاتے ہیں اور اس میں کم عمر بچے اور بچیاں بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ مغربی دنیا کا یہ سب سے قبیح چہرہ ہے جو ہمارے سامنے آتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تو روشن مستقبل فراہم کرنے کی فکر کرتے ہیں اور انہیں ہر قسم کے حقوق دیتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے بچوں کو اپنی ہوس رانیوں کا اپنی دولت کے ذریعے شکار بناتے ہیں اور کوئی جرم محسوس نہیں کرتے۔

بچوں کے استحصال کا ایک اور نہایت افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تقریباتمام ممالک میں اس کے لیے شدید ترین قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کے استحصال کا ریکٹ چلانے والے لوگ پورے اعتماد کے ساتھ اس کاروبار سے اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے ہیں اور بہ سہولت قانون سے بچے رہتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والی مشینری ان عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس کا اہم سبب وہ کرپشن ہے جو بڑے بڑے لوگوں کو منافع میں حصہ دار بنا کر انہیں قانون کو بے اثر کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔ بچوں کے استحصال کی متعدد شکلوں میں سے اس وقت چند معروف شکلوں کا جائزہ لیتے ہوئے اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے جو صورتِ حال سامنے آتی ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ اور اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اسلام پسند افراد اس میدان کو بھی اپنا محاذ کار بناتیں اور دنیا کو روشن دماغ اور بلند خیال و پاک فکر نئی نسل تیار کر کے دینے کی کوشش کریں۔

بچہ مزدوری

پوری دنیا میں12سے 15سال کی عمر کے 27کروڑ سے زائد بچے کسی نہ کسی شکل میںمزدوری کررہے ہیں جن میں19کروڑ بچے اور 8کروڑ بچیاں ہیں۔ ایشیا میں مزدور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جبری مشقت کے شکار 63%بچے اسی براعظم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی 28لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اس میدان میںزیادہ تر 14سال سے کم عمر کے بچوں کو لایا جاتا ہے تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں اور نہ ہی کوئی احتجاج کر سکیں۔ UNICEF کی رپورٹ کے مطابق 2011میں150 ملین بچے بچیاں جن کی عمر5 سے 14سال تک تھی، ترقی پذیر ممالک میں مزدوری کر رہے تھے۔ I.L.O(انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کی رپورٹ کے مطابق 60%بچے زراعت کے میدان میں کام کر رہے تھے اور115 میلین بچے خطرناک میدانوںمیں کام کر رہے تھے جن میں جنسی زیادتی،نشیلی ادویات کی تجارت خاص ہیں۔دیگر کاموں میںبطورگھریلو نوکر ،صنعت کاری،زراعت اور مختلف طرح کی فیکٹریوں میں کام کرناہے ۔

بچہ مزدوروں میں% 9 بچے شدید بیماری کے باوجود مسلسل کام کرنے اوربعض دیگر حالات کی وجہ سے معذور ہو جاتے ہیں۔ کوئی ان کاعلاج تک نہیں کراتااوروہ ماں باپ پر بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں ۔خود ہندوستان میں1.5کروڑ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں،جب کہ اکتوبر 2006ء میں بچوں سے مزدوری نہ لینے کے خلاف قانون پاس ہوچکا ہے اور 14سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کرانے پر 2سال قید اور 20ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔اس کے باوجود ان کا ہر طرح سے استحصال کیا جا رہا ہے۔

جسم فروشی اور پورنوگرافی

جدید ذرائع ابلاغ، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی نے اس قبیح میدان کو ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل دے دی ہے اور تیزی سے اس میں نو عمر بچوں کو دھکیلا جا رہا ہے اسی طرح مغرب کا عریاں اور ہوس پرست کلچر جو جنسی خواہش کا غلام ہے اس میدان میں بچوں کے جنسی استحصال کی بڑی شکل ہے او ردنیا بھر سے نونہالوں کو اسمگل کر کے یورپ بھیجا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خود ترقی پذیر حتی کہ پسماندہ ملکوں کے بڑے بڑے شہروں میں جہاں ٹورزم کو فروغ دیا جارہا ہے وہاں بچوں کے جنسی استحصال کو خود بہ خود فروغ مل رہا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(I.L.O)کے مطابق اسمگل کیے گئے بچے بچیوں کو مساج پالر،بار،ہوٹل، ریسٹورنٹ،ڈسکوبار اورعیش گاہوں میں رکھا جاتا ہے اور پھر ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ان کے علاوہ جنسی تجارت ، جنسی سیاحت ،جنسی شو خواہ وہ عوامی طور پر ہوں یا مخصوص لوگوں کے لیے اورپورنوگرافی کی پیداوار، ان کی ترقی اور تقسیم میں ان کااستعمال کیا جاتا ہے ۔I.L.Oکی 2012کی رپورٹ کے مطابق4,500,000 میلین بچے بچیوں کو اس کام میں دھکیلا گیا۔ جن میں98%عورتیں اور لڑکیاں تھیں۔جب کہ یونیسف کی2006 کی رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد2 میلین ہے۔

فوج میں بچوں کو زبردستی بھرتی کرنا

I.L.Oکے مطابق 1000 میں سے 10 بچے بچیاں دنیا کے 17 ملکوں کی فوجوں میں زبردستی کام کرنے پر مجبور ہیں۔یہ عموما تین طرح کے کام انجام دیتے ہیں۔

٭براہِ راست جنگ میں حصہ لینا۔

٭بطور منیجر یا جاسوس شرکت کرنا۔

٭ ملک اور حکومت کو پروپیگنڈا کے ذریعہ سیاسی فائدہ پہنچانا۔ان تمام کردار میں ان کا بری طرح ذہنی و جسمانی استحصال ہوتا ہے اور بسا اوقات یہ معصوم جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

منشیات کی تجارت میں بچوں کا استعمال

اس میدان میں بچے بچیوں کا بخوبی استعمال کیا جا رہا ہے۔ تمام بڑے ممالک میں ایسا ہورہا ہے کیوں کہ ان پر کوئی جلدی شک نہیں کرتا ہے۔بچوں کو اس کا عادی بنا کر انہیں بلیک میل کر کے اس میدان میں لایا جاتا ہے ۔I.L.Oکی رپورٹ کے مطابق اس میں 85میلین بچے اور بچیاں ملوث ہیں۔اس میں افغانستان سرفہرست ہے ۔یہاں سے منشیات برازیل اسمگل کی جاتی ہیں۔اس میں بچوں کے قتل کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔

بھیک مانگنے پر مجبور کرنا

اس میدان میںزیادہ تر18 سال سے کم عمر کے بچے بچیوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتاہے۔ U.N.I.C.E.F کی رپورٹ کے مطابق 13%بچے بچیوں کو جنوب مشرقی یورپی ممالک سے اسی مقصد کے لیے اغوا کیا گیا ۔ورلڈ بینک (World Bank,1944)کے مطابق اس میں ساوتھ اور سینٹرل ایشیا،یورپ،لاطین امریکہ،میڈل ایسٹ اور ویسٹ افریقہ بطور خاص ہیں۔I.L.O کی ایک رپورٹ کے مطابق اس میں60,0000 بچے بچیاں زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

عام طور پر یہ 16گھنٹے روزانہ گلیوں میں بھیک مانگا کرتے ہیں ۔ان بچوں پراس کے طویل مدتی اثرات پڑتے ہیں اور یہ اپنے مستقبل کی طرف سے مایوس ہو جاتے ہیں اور یہ نسل در نسل ان میں چلتا رہتا ہے۔تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے یہ مختلف امراض کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ان کو جسمانی طور سے معذور بنا دیا جاتا ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان سے ہمدردی کرتے ہوئے مدد کریں۔اسی میں کتنے ہی بچے مر بھی جاتے ہیں۔اس کے علاوہ نہ ہی ان کو کھانے پینے کو صحیح سے دیا جاتا ہے بلکہ ایسی نشیلی دوائیں ان کو دی جاتی ہیں کہ وہ انہیں کے عادی بنے رہیں اور بھاگ نہ سکیں۔اس کے علاوہ تعلیم سے بھی محروم رکھا جاتا ہے اور جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک کی صورتِ حال

ہندوستان میں بھی بچے اور بچیوں کی صورتِ حال اچھی نہیں ہے۔ نیشنل کرائم برانچ 2012کی رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف کل38172 کیسز سامنے آئے۔2011میں یہ33098 تھے۔یعنی ایک ہی سال میں15.3% کا اضافہ ہوگیا ۔اس میں قتل کے کل1678 کیسز تھے ۔2011 میں اس کی کل1514 تعداد تھی۔یعنی اس میں10.8% کا اضافہ ہوا۔ اترپردیش463 (27.6%)کے ساتھ سرِ فہرست رہا۔ طفل کشی کے 81کل کیسز تھے ۔2011میں ان کی تعداد63تھی۔اس طرح ایک ہی سال میں 28.6%کا اضافہ ہوا۔ اس میں مدھیہ پردیش17کیسز اور اترپردیش 14کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔جنسی زیادتی کے کل 8541کیسز سامنے آئے۔ 2011میں اس کی7112 تعداد تھی۔اس میں بھی 20.1%کا اضافہ ہوا۔مدھیہ پردیش1632، اترپردیش1040 اور مہاراشٹرا917کے ساتھ بالترتیب سرِ فہرست رہے۔اغوا کے کل18266کیسز ہوئے۔جو2011 میں15284 تھے۔اس میں بھی 19.5% اضافہ ہی ہوا۔اترپردیش 4239، دہلی3686 بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے۔جنین کشی کے کل210 کیسز سامنے آئے۔2011میں ان کی تعداد132تھی۔اس میں بھی59.1%کا اضافہ ہوا۔ مدھیہ پردیش64، راجستھان 37، ہریانہ 28کیسز کے ساتھ بالترتیب پہلے،دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔چھوٹی بچیوں کی دلالی کے کل 809کیسز سامنے آئے۔2011میں یہ 862تھے لیکن اس میں 6.1%کی کمی آئی ۔ویسٹ بنگال369 ، آسام122، بہار48 اس میں سرفہرست رہے۔بچیوں کی خرید وفروخت کے کل123 کیسز سامنے آئے۔جھارکھنڈ 33.3%اور ویسٹ بنگال51.9% کے ساتھ اس میں سرفہرست رہے۔

مجموعی طور سے دیکھا جائے تو اترپردیش میں15.8%، مدھیہ پردیش13.5%،دہلی11.7%، مہاراشٹرا9.1%، بہار7.6%، آندھرا پردیش6.0%، چھتیس گڑھ4.9%، راجستھان4.7%، ویسٹ بنگال4.5%، گجرات3.5%، کیرالہ3.5%، تامل ناڈو2.7% اور دیگر اسٹیٹ میں12.6% بچوں کے خلاف جرائم کا تناسب رہا۔مگر یاد رہے کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن کی رپورٹ درج ہوئی ہے ورنہ ان کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔

اس ملک میں بچوں اور بچیوں کے استحصال کی ایک خوف ناک شکل دیوی دیوتاوں کے نام پر ان کی بَلی یا بھینٹ چڑھانا بھی ہے۔ انگریزی اخبار منگلورین کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہالت، توہم پرستی، تعلیم کی کمی اور ہندووانہ رسوم و رواج کے دل دادہ افراد میں آج بھی انسانوں کو کالی ماتا کی بھینٹ چڑھانے کی رسم عام ہے۔ریاست کرناٹک کی تنظیم چائلڈ ویلفیئر اینڈ رائٹس کمیشن کی سربراہ آشا نائیک کا کہنا ہے کہ ہندوستان بھر میں بچوں کو دیوتاوں کی بھینٹ دینے کے واقعات باوجود کوششوں کے، ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔

ان کے علاوہ موجودہ دور میں بچے بچیوں کا جنسی استحصال ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔آئے دن ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اس سے متعلق خبریں آتی رہتی ہیں۔اس کے اعدادوشمار دل دہلا دینے والے ہیں۔

(Asian Centre For Human Rights)A.C.H.Rکی2013 کی رپورٹ کے مطابق:

2001سے 2011کے درمیان جنسی زیادتی کے کل48338 کیسز سامنے آئے۔ اہم بات یہ ہے کہ2001 میں اس کی تعداد2113 تھی جو 2011میں بڑھ کر7112 تک پہنچ گئی۔ یعنی اس میں336%تک کااضافہ ہوگیا۔ اس میں مدھیہ پردیش 9465، مہاراشٹرا 6868، اترپردیش 5949، آندھرا پردیش3977، چھتیس گڑھ3688، دہلی2909، راجستھان2776، کیرالہ2101، تمل ناڈو 1486، ہریانہ1081، پنجاب1068، گجرات999، ویسٹ بنگال744، اڑیسہ736، کرناٹک719، ہماچل پردیش571 اور بہار 519 بالترتیب سرفہرست رہے۔ یہ وہ ریکارڈ ہیں جن کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ ورنہ حقیقت میں اس کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ معاشرہ کہاں جا رہا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

تبصرہ کیجیے