5

آشنا اپنی حقیقت سے اے … ذرا

عورت کے کسی اور کونے کی ہو۔ جب تک وہ اپنے اصل مقام سے آشنا نہیں ہوگی، اپنی ذمہ داریوں اور دائرہ کار کا تعین نہیں کرے گی ایسے واقعات کا ظہور غیر فطری نہیں۔ کیا یہ منطق عجیب نہیں کہ خود تو ٹھنڈا، مزے دار دودھ بیچ چوراہے کھلے برتن میں رکھ دیں اور بلی پر پابندی لگائیں کہ دودھ نہ پئے؟؟

یہ عورت کی اپنی ذمہ داری ہے کہ اپنے آپ کو محفوظ مقام پر رکھے اور اپنی حفاظت کی تمام تدابیر بروئے کار لائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں عورت کی ملازمت کے خلاف ہوں۔ میں تو خود سروس کرتی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عورت بہت مجبور ھوکر گھر سے نکلتی ہے، تو پھر اسے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کسی پٹرول پمپ پر وردی پہن کر زیادہ محفوظ ہے یا کسی چار دیواری کے اندر ساتر لباس کے ساتھ خدمت سر انجام دینے میں زیادہ مامون ہے۔

میرے گھر ایک خاتون ملازمہ ہے۔ وہ اپنے گھر سے برقع اوڑھ کر آتی ھے اور میرے گھر چادر اوڑھ کر کام کرتی ہے۔ بہت سنجیدہ اور کم گو ہے۔ غیرت کے حصار میں لپٹی ہوئی۔ میرے خیال میں اول تو کوئی مرد اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرأت نہیں کرے گا اور اگر کرے گا بھی تو پھر ہنسے گا نہیں، البتہ روئے گا ضرور۔

اللہ خالق کائنات نے عورت کے اندر خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم حیا اور غیرت کا گہرا جذبہ رکھا ہے۔ اگر عورت اپنے اس جذبہ کی حفاظت کرے، اسے پروان چڑھائے تو وہ ہر جگہ محفوظ و مامون ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اسے وہ حودو و قیود بھی سمجھائیں جن کی پابندی کرکے وہ بہتر اور محفوظ زندگی بسر کرسکتا ہے۔ انبیا کے ذریعے انسان کی ہدایت کے سرچشمے جاری کیے تاکہ وہ اشرف المخلوقات کے اعلی درجے کا حق ادا کرسکے، اب اگر انسان خواہ مرد ہو یا عورت لبرل ازم کے نام پر شریعت کے قوانین توڑنے پر تل جاتا ہے تو یاد رکھیں جہاں شریعت کا قانون ٹوٹتا ہے تباہی وہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔

ایک مرتبہ میں لاہور نیازی اڈے کی انتظار گاہ میںبیٹھی تھی۔ انتظار گاہ خواتین و حضرات سے بھری ہوئی تھی۔ اچانک ایک عورت عمر تقریباً ۳۵ سال، دو بچے بھی ہمراہ تھے۔ اپنی نشست سے اٹھی، وہ خوب ماڈرن اور تنگ لباس زیب تن کیے ہوے تھی۔ وہ کسی سے موبائل پر با آواز بلند بات کر رہی تھی۔ گفتگو کے کچھ آداب ہیں اور میرے خیال میں موبائل کے استعمال کی بھی کچھ اخلاقیات ہیں۔ یہ کیا تک ہے کہ آپ بسوں، گاڑیوں اور پبلک مقامات پر اپنے آپ کو ’’طشت از بام‘‘ کرتے پھریںـ۔ خیر وہ خاتون نہ صرف باتیں کر رہی تھی بلکہ انتظار گاہ میں پڑے صوفوں اور کرسیوں کے درمیان تنگ سی خالی جگہ پر گھوم پھر بھی رہی تھی۔

ایسے میں اگر اسے کسی کی کہنی لگ جائے تو …

یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ہماری سڑکیں اور پبلک مقامات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیںـ میں ایک استاد ہوں اور پچیس سال سے اس خدمت پر مامور ہوں۔ لڑکیوں کے جو حالات آج ہیں، ۱۵ سال پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا۔

یہ کیا ستم ظریفی کہ ایک عورت سولہ سنگار کیے، خوشبو کی لپٹیں اڑاتی، دعوتِ نظارہ دیتی پھرے اور مردوں سے مطالبہ کرے ’’نگاہ رکھ نیچی اپنی…‘‘ عورت خود تو شریعت الٰہی کی دھجیاں بکھیرے اور مردوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے مظلومیت کا سوانگ بھرے۔

اللہ نے مرد کو عورت کا ’’قوام‘‘ بنایا ہے۔ مگر آج کی منہ زور عورت ’’قوامیت‘‘ کی یہ پگڑی مردوں سے چھین کر اپنے سر پر رکھنا چاہتی ہے۔ اگرچہ بہت سے مردوں نے خوشی خوشی یہ پگڑی خود ہی عور ت کے حوالے کر دی ہے تبھی تو اکبر غیرت قومی سے زمیں میں گڑ گیا تھا۔

تاہم ابھی زیادہ تر مرد اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں لیکن مرد و زن کی اس کشمکش میں معاشرتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ آزادی کے نام پر جہاں لڑکیاں گھروں سے بھاگ رہی ہیں وہاں غیرت کے نام پر قتل بھی ہو رہے ہیں۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان سلامتی کی راہ اگر کوئی ہے تو صرف قرآن و سنت ہے۔ آئیے قرآن کے دامن رحمت میں پناہ ڈھونڈیں او راپنی عورت کو اس کے اصل مقام سے آشنا کرنے کے لیے کم از کم سورۃ النور، سورۃ الاحزاب، سورۃ الاعراف اور سورۃ النساء کے احکامات ضرور پڑھوائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ام عاقب

تبصرہ کیجیے