3

لمحہ فکریہ

یوم خواتین گزرگیا۔ لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے منایا کسی نے قلم کے ذریعہ ،کسی نے فون کے ذریعہ ،کسی نے زبانی ۔غرض عورت کے تعلق سے مبارکباد یاں، جلسے ، سمینار، مضمون نگاری ، احساسات ، خیالات،میل ملاپ ،پارٹیاں تقریباً سب کچھ طشت ازبام تھا۔

مگر میں اپنے گھر میں تنہا سوچوں کے مراقبے میں تھی۔بنت حوّا کیا چاہ رہی ہے ؟کیا مانگ رہی ہے؟ کیوں بے چین ہے ؟کیا اسلام نے اس لاچار کو سب سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور محبوب نہیں بنایا ؟کیا اس کو باوقار نہیں بنایا ؟کیا محسن انسانیتؐ محسن نسائیت نہیں؟ کیا ماں کے روپ میں اسے باپ سے تین گنا زیادہ حسن سلوک کی حقدار نہیں بنایا ؟کیا اس صنف نازک کے قدموں تلے جنت نہیں رکھی گئی؟ کیا آپ ؐ نے اسے آبگینہ نہیں کہا ؟پھر یہ کیوں ایسے انسان پیدانہیں کرتی جو اس کو اسکا حق دیںاور اس کا احترام کریں،اسکے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یہ اپنے دودھ کے ساتھ اس میں ایسے خیالات کیوں نہیںڈالتی جس میں تو حید ہو، جس میں آپ ؐ سے محبت ہو۔جب عورت کی گود پہلا مدرسہ ہے تو یہ اسکی ایسی تعلیم وتربیت کیوں نہیں کرتی جس سے وہ عد ل وانصاف اور اس کا احترام کریں ۔وہ خود لڑکیوں سے محبت کیوں نہیں کرتی؟ لڑکوں کو بہادر اور دلیر کیوں نہیں بناتی ؟کیا یہ عورت نہیں جو بہو کیساتھ زیادتی کرتی ہے۔کیا یہ عورت نہیں جو اپنے شوہر سے کہتی ہے میں تمہاری ماں کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اس بڑھیا کو گھر سے نکال دو…کیا یہ عورت نہیں جو اپنے بھائی کو اکساتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتائو بھی نہ کرے بلکہ اس کو دھتکار دے۔ عورت بے پردہ کیوں پھرتی ہے مردوں کو بدسلوکی پر کیوں اکساتی ہے ۔

ہزار یوم خواتین منانے سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ دنیا کی ساری عورتوں کوخود کفیل بنادینے سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ساری عورتیں بولڈ، اسمارٹ اور سب خواندہ ہوجائیں، یقین جانئے تب بھی کچھ نہیں ہوگا ۔

اگر ہوگا تو انہیں فرائض کو اداکرنے سے ہوگا جو اللہ اور اسکے رسول نے عورت پر عائد کئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا” جب عورت اپنے شوہر کی فرمابردار ہو اور پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہو تو جنت کے جس دروازے سے چاہے اس میں داخل ہوجائے۔” اگر آپ صحابیاتؓ کے طرز زندگی کا مطالعہ کریں اور ان کی سیرت پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ وہ کیوں عزت دار تھیں اور ہم کیوں خوار ہیں ۔

حضرت اسماء ؓ بنت یزید انصاریہ نے جب نیکیوں میں سبقت کرنا چاہی اور آخرت کے اجر وثواب کو مردوں کے برابر سمیٹنا چاہا تو اللہ کے رسول ؐ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر یوں گویا ہوئیں… "اے اللہ کے رسولؐ میں اور میری ساتھی عورتیں کہتی ہیں کہ ہم بھی آپ ؐ پر ویسا ہی ایمان لائے جیسا مرد حضرات لائے ہیں ۔ پھر ہم خواتین تو پردوں میںرہنے والی، گھروں میں رہنے والی اور مردوں کی خواہیش پوری کرنے والی بنیں، ان کے بچے پالیں، اور ان کے لئے کھانا پکائیں جبکہ مرد حضرات جہاد میں جائیں اور خوب خوب ثواب کمائیں۔ وہ تو ہم سے نیکی و ثواب میں سبقت لے گئے یا رسو ل اللہؐ !”

آپ ؐ نے پہلے تو اس فصیح بلیغ تقریر پر تحسین فرمائی پھر اس نمائندہ صحابیہ ؓ سے فرمایا، "اے اسماء جن عورتوں نے تم کو بھیجا ہے ان کو میرا سلام پہونچاؤ اور ان سے کہو جب تم شوہروں کی فرمانبرداری کر و ان کو خوش رکھو اور ان کے لئے حالات ساز گار کردو اور نیکی کے کاموں میںا ن کا تعاون کرو تو ان تمام کاموں میں جو مرد کرتے ہیں تمہیں برابر کا اجر ملیگا۔ "حضرت اسماء یہ سن کر خوش خوش واپس چلی گئیں ۔

کا ش! ہم بھی استحصال عورت اور مظلومیت زن کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے بجائے قرآن مجید کی سورہ احزاب کی آیت نمبر ۳۵ پرہی عمل کرلیں جس میں عورت کی دس خوبیاں بیان کی گئی ہیںکہ وہ مسلمہ، مؤمنہ ،قانتہ، صادقہ، صابرہ ، خاشعہ، متصدقہ، صائمہ، حافظہ اور ذاکرہ ہوتی ہیں ۔ کاش ! ہم اس پر عمل کرلیتے اور دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرتے ۔

وہیں ہے راہ ترے عزم وشوق کی منزل

جہاں ہیں عائشہؓ و فاطمہؓ کے نقش قدم

اللہ سے محبت کرنے والی اور آپ ؐکا کہنا ماننے والی عورتوں کو کبھی نہیں لگتا کہ وہ مظلوم ہیں۔ میں کم از کم ۲ ہزار ایسی عورتوں کو جانتی ہوں جو خوش ہیں مطمئن ہیں۔ نہ انکے شوہر نے ان پر ظلم کیا ہے، نا انکے بیٹوں نے، نا انکے بھائیوں نے، نہ باپ نے۔ ایسے گھرانوں میں سب ایک دوسروں کا حق ادا کرتے اور اپنا فرض پورا کرتے ہیں ۔ میں ایسی بھی ہزاروں عورتوں کو جانتی ہوں جو مغموم مظلوم اور مصیبت زدہ ہیں مگر وہ اپنی محرومیوں کا الزام ہر گز اپنے گھر کے مردوں کو نہیں دیتیں بلکہ کچھ اس طرح کہتی ہیں ۔

میری ساس نے مجھ پر بہت ظلم کیا

میرے سسرال والے بہت لالچی تھے

میری نند نے میری طلاق کرادی

میرے نصیب میں یہی لکھاتھا اللہ ان کو دیکھ لیگا

ہزاروں لڑکیوں اور عورتوں کو میں نے پڑھا لکھا اور خود کفیل ہونے کے باوجود پریشان دیکھا ہے۔ خدانخواستہ اس سے آپ یہ مطلب نا نکال لیں کہ میں عورتوں کی پڑھائی کی مخالف ہوں ۔میں خود کفیل ہونے کی بھی مخالف نہیں ہوں ، کیونکہ میں ایسی امّہات المومنات اور بزرگ ہستیوں اور جنتی عورتوں کو جانتی ہوں جو خود کفیل تھیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کی عورت شیطان کے پھندے میں آگئی ہے اور یہ شیطان اس کو مختلف وادیوں میں لئے پھر رہاہے۔ اس نے اللہ سے اپنے تعلق کو کمزور کر لیا ہے اور شیاطین جن و انس سے پینگیں بڑھا رہی ہے ۔بیچاری نا دنیا کی نادین کی،دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا عقل و خرد بیچ دی، عزت و ناموس گنوادی ،حیا کی چادر اتار پھینکی ۔اس کا علم بھی شیطان ہی کا مرہون منت ہے اور عمل بھی ۔

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ آج کی عورت کے لیے قیمتی گو ہر نایاب کو تجوری یاگلو بند کے بدلے ٹھوکروں میں پڑنا کیوں پسند ہے۔ملکہ بننے کے بجائے کنیز بننا کیوں پسند ہے، رانی کے بجائے نوکرانی بننا اسے کیوں راس آتاہے ۔میں آج کی عورت کی جب حالت دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے کوئی شرابی کیچڑ میں گر پڑے تو نشے میں ہونے کی وجہ سے اسے کیچڑ بھی نرم گھاس یا مخملی بستر لگتی ہے ۔

جہاں تک جنسی ایذا رسانی کاتعلق ہے (بڑے بول سے سر نیچا) عام طور پر وہی عورتیں اسکی زدمیں آتی ہیں جو بلا ضرورت، بے وقت، بغیر محرم ،بے ڈھنگی چال ڈھال ، عریاں لباس اور بے ھنگم سی بازاروں میں پھرتی ہیں۔ ورنہ قرآن پاک کی اس آیت کریمہ (وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ترجمہ۔اور تم عزت و قرار کے ساتھ گھروں میں رہو) پر عمل کرنے والی عورتیں عموماً محفوظ رہتی ہیں اور اللہ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ اگر ہم اپنے سماج اور اپنے معاشرے پرنظر ڈالیں تواندازہ ہوگا وہ تیزی سے اخلاقی انحطاط اقدار کے زوال کی طرف بڑھ رہاہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عورت تو ذہن و فکر ساز ہے مگر اس نے اپنی اہمیت کو نظر انداز اور اپنے بنیادی فرائض سے غفلت شروع کردی ہے۔ اگر آج بھی عورت باشعور اوربااخلاق ہوجائے تو آنے والی نسلوں کوبلندکرداربنا سکتی ہے۔ مگر ایسا کم لوگ سوچتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج اور معاشرہ میں اس فکر کوعام کیا جائے اور بڑھتے مغربی افکار کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خان عارفہ محسنہ

تبصرہ کیجیے