نمازِ جنازہ مردوں کے لیے مخصوص نہیں

[ایک بہن نے سوائی مادھو پور (راجستھان) سے پوسٹ کارڈ پر یہ دو سوالات بھیجے ہیں اور جواب چاہا ہے۔ دونوں سوالات کے جوابات ہم نے خود ینے کے بجائے بڑے علماء کے فتووں میں تلاش کیے۔ شیخ بن باز (مفتی اعظم سعودی عرب) کے فتاویٰ میں ہمیں دونوں سوالات کے جوابات مل گئے۔ آپ بھی اپنے سوالات ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔ جید اور معتبر علمائے کرام سے ان کے جوابات حاصل کیے جائیں گے۔ ادارہ]
س: ہمارے سماج میں عورت نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوتی ہے، تو کیا یہ شرعاً ممنوع ہے؟ جب کہ جنازہ کی نماز تو ایک عبادت ہے تو پھر اس سے خواتین کو کیوں الگ رکھا گیا ہے۔

ج: نماز جنازہ مردوں اور عورتوں کے لیے مشروع ہے کیوں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

’’من صلی علی الجنازۃ فلہ قیراط، و من تبعھا حتی تدفن فلہ قیراطان، قیل یا رسول اللہ وما القیراطان؟ قال: جبلین عظیمین یعنی من الاجر۔‘‘ (۱۱۲)۔

جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو دفن ہونے تک جنازہ کے ساتھ رہا اس کے لیے دو قیراط ہے، آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول! دو قیراط کیا چیز ہے؟ جواب دیا کہ دو بڑے پہاڑ کے برابر یعنی ثواب۔

لیکن عورتوں کو جنازہ کے ساتھ قبرستان نہیں جانا ہے کیوں کہ یہ ان کے لیے ممنوع ہے، اس کی دلیل ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت ہے جس میں وہ کہتی ہیں۔ (ترجمہ) ’’ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منا کیا گیا اور ہم پر (اس بارے میں) سختی نہیں کی گئی۔

البتہ نماز جنازہ پڑھنا عورت کے لیے ممنوع نہیں ہے خواہ یہ نماز جنازہ مسجد میں ہو یا گھر میں یا عیدگاہ میں، عورتیں مسجد نبوی میں نبیﷺ کے ساتھ نماز جنازہ پڑھتی تھیں اور آپ کے بعد بھی، ہاں قبروں کی زیارت مردوں کے لیے خاص ہے جیسے کہ جنازہ کے ساتھ قبرستان جانا (ان کے لیے خاص ہے)، کیوں کہ رسول اللہﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس کے اندر حکمت۔ واللہ اعلم۔ ان کے جنازوں کے ساتھ جانے اور قبروں کی زیارت کرنے ان کی طرف سے اور خود ان پر فتنہ کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔‘‘ (شیخ ابن باز)

چمڑے کا ٹکڑا اور اس طرح کی چیزیں بچے کے پیٹ پر باندھنے کا حکم

س: کیا شیر خوار یا بڑے لڑکے یا لڑکی کے پیٹ پر چمڑے کا ٹکڑا یا اس طرح کی کوئی چیز باندھنا جائز ہے؟ ہم اپنے علاقے میں چھوٹے لڑکے یا لڑکی اور بڑوں کے پیٹ پر بھی یہ چیزیں باندھتے ہیں، براہِ کرم اس کے بارے میں مستفید کریں۔

ج: اگر اس ٹکڑے یا چمڑے کے باندھنے کا مقصد وہی ہے جو تعویذ گنڈوں کا ہوتا ہے یعنی فائدے کا حصول یا ضرر کو دفع کرنا تو یہ حرام ہے بلکہ شرک بھی ہوسکتا ہے، اور اگر کسی صحیح مقصد کے لیے ہو مثلا بچے کی ناف ابھرنے سے بچانے کے لیے یا پشت کو باندھ کر تقویت دینے کے لیے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (دار الافتاء کمیٹی)

بطور تعویذ بچے کے پاس چھری چاقو رکھنے کا حکم

س: بعض لوگ اپنے بچوں کے پاس چھری یا چاقو رکھتے ہیں اور ان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کے پاس جن یا خبیث روحیں نہیں آتے تو کیا یہ صحیح ہے؟

ج: یہ عمل منکر ہے اور بالکل ہی بے بنیاد بات ہے، اس کا کرنا درست نہیں ہے، مشروع یہ ہے کہ اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے ان کو اللہ کی پناہ اور حفاظت میں دے، جیسا کہ نبی^ سے ثابت ہے کہ آپ اپنے دونوں نواسے حسن اور حسین ؓ کو ان حفاظتی کلمات کے ذریعے اللہ کی پناہ میں دیتے تھے (۲۷)۔ نیز ان کے حق میں یہ دعا مشروع ہے کہ اللہ انہیں ہر برائی اور شر سے محفوظ رکھے، لیکن چھری چاقو یا اس طرح کی لوہے یا لکڑی وغیرہ کی دوسری چیزیں اس اعتقاد سے رکھنا کہ ان کی وجہ سے جنوں کا اثر نہ ہوگا یہ منکر ہے، جائز نہیں ہے۔ نیز ایسے ہی ان پر تعویذ گنڈا لٹکانا یا باندھنا جائز نہیں ہے، اس کی دلیل نبیؐ کا فرمان ہے: ’’من تعلق تمیمۃ فلا اتم اللہ لہ‘‘(۲۸) ’’جس نے تعویذ باندھی اللہ اس کی مقصد براری نہ کرے۔‘‘

ایک دوسری روایت میں نبیؐ نے فرمایا: ’’من علق تمیمۃ فقد اشرک‘‘(۲۹) ’’جس نے تعویذ باندھا

؎اس نے شرک کیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ اور اس پر ثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ