3

شادی سے متعلق قرآن کا نظریہ

قرآن کی نگاہ میں شادی افراد اور معاشرہ کے تئیں اپنی صحیح شکل میں انسانی رشتۂ ازدواج کا نام ہے۔ نوعِ انسانی کی حفاظت اور نگہداشت کی خاطر معاشرہ کی یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور فرد کے نقطۂ نظر سے باطنی اور نفسانی سکون کا ذریعہ اور مرد و عورت کے درمیان محبت اور رحمت کا وسیلہ ہے۔ چناںچہ شادی کے انتظام کے سلسلے میں قرآن کا خطاب افراد امت کی جانب اسے آسان بنانے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے:

’’تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔‘‘ (النور: ۲۳)

یہ آیت ولی اور سرپرستوں سے خطاب کرتی ہے لیکن عمومیت میں سارے افراد کو محیط ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جو مرد اور عورت مجرد ہیں ان کی شادی کردو اور مجرد شخص کی محتاجی اس راہ میں حائل نہ ہو، اس لیے کہ اللہ نے انھیں مال دار بنانے کی ضمانت خود لے لی ہے۔

لیکن جو شخص بالکل ہی محتاج ہو اور اتفاق سے مجبور ہو تو یہ آیت اسے عفت کی زندگی گزارنے کا حکم دیتی ہے اور اللہ اسے غنی بنانے کا وعدہ کرتا ہے بہ شرطیکہ وہ حرام شہوتوں سے رکا رہے:

’’اور جو نکاح کا موقعہ نہ پائیں انھیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے۔‘‘ (النور:۳۳)

اسلام کی نگاہ میں شادی زوجین کے درمیان عہد و میثاق کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ’’اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔‘‘(النساء: ۱۲)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ عورتیں مردوں سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ یہاں عہد سے مراد شادی کا عہد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کی پابندی ہر فریق کرتا ہے اور دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھتا ہے۔ مِیْثَاقًا غَلِیْظًا کی اس تعبیر سے مودت و رحمت اور حفاظت کے معانی بھی نکلتے ہیں۔ چناںچہ شادی کوئی مالی معاہدہ نہیں ہے جیسے معاہدۂ بیع، معاہدۂ اجارہ وغیرہ اور یہ کوئی غلامی بھی نہیں ہے۔

مرد و عورت کے درمیان شادی کا تعلق باہمی تسکین کا تعلق ہے جس سے دلوں کو آرام ملتا ہے اور مودت و رحمت کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘ (الروم: ۱۲)

یہ آیت مرد و عورت کو بتاتی ہے کہ اللہ کی قدرت اور اس کی مہربانی کی ایک عظیم نشانی اور دلیل یہ ہے کہ اس نے آدمی کے لیے اسی کی جنس سے بیوی کی تخلیق کی تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور یہ نفسیاتی سکون،جو اس آیت میں مذکور ہے- شوق اور محبت کے اس شعور کی ایک بلیغ تعبیر ہے جس کے ذریعہ ہر فریق اپنے کو دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتا ہے اور جس کے ذریعہ عقل و دل کا عظیم فطری اضطراب دفع ہوجاتا ہے اور جس کے بغیر نہ نفس کو آرام مل سکتا ہے نہ اندرون مطمئن ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس کی مہربانی کی دلیل یہ ہے کہ زوجین کے درمیان اس نے محبت و رحمت کے مقدس جذبات پیدا کردیے جو کبھی بوسیدہ نہیں ہوتے جس طرح کہ شہوات کی محبت بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ اسی مفہوم کو قرآن نے ایک دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے:

’’وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔‘‘ (البقرہ: ۷۸۱)

اس آیت میں فریقین میں سے ہر ایک کو لباس سے تشبیہ دی گئی ہے، اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی ضرورت اسی طرح ہے جس طرح کسی کو لباس کی ہوتی ہے۔ اگر لباس جسم کے عیوب چھپانے، نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنے اور زینت و آرائش کے لیے ہے تو اسی طرح سے زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کی عفت کی حفاظت کرتا ہے، اس کی آبرو کوبچاتا ہے اور اس کے لیے راحت و آرام بہم پہنچاتا ہے۔

دوسرے عام انسانوں کی طرح زوجین کے درمیان بھی سکون و محبت کا مضبوط ترین ستون دونوں میں تربیت اور اخلاق کی ہم آہنگی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’گندی چیزیں گندے لوگوں کے لیے ہیں اور گندے لوگ گندی چیزوں کے لیے اور اچھی چیزیں اچھے لوگوں کے لیے ہیں اور اچھے لوگ اچھی چیزوں کے لیے۔‘‘ (النور: ۶۲)

آیت کے پہلے ٹکڑے سے مستنبط ہوتا ہے کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں ہی سے شادی کی اہل ہیں۔ کیوں کہ جو مرد شریف ہوگا، پاک باز ہوگا، ذلت و رسوائی کے مقامات سے دور ہوگا اس کے لیے ناممکن ہے کہ کسی خبیث گری پڑی عورت کی طرف مائل ہو اور اسے اپنی بیوی بنانے پر تیار ہو۔ یہی حال خبیث مردوں کا ہے وہ خبیث عورتوں سے ہی شادی رچانے کے اہل ہیں۔ جس عورت کے اندر خود داری ہوگی اور غیرت نام کی کوئی چیز اس کو چھو گئی ہوگی، وہ کسی پست اور کمینے آدمی کی خواب گاہ کی زینت بننا گوارا نہ کرے گی۔ جب جانبین میں سے کوئی شریف آدمی خبیث سے تعلق رکھنا گوارا نہ کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی کی معیت گوارا کریں گے جو شرافت و نجابت، پاکیزگی و عفت، اخلاق و عادات میں ہم آہنگ ہو۔ اس حقیقت کی طرف آیت کے دوسرے ٹکڑے میں اشارہ ہے۔ دوسرے ٹکڑے میں پاکیزہ عورتوں کی تعریف کی گئی ہے اور مردوں کو ابھارا گیا ہے کہ انھیں اپنی شریک حیات منتخب کریں۔ اسی طرح پاکیزہ مردوں کی مدح کرکے پاکیزہ عورتوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ انھیں اپنا شوہر بنانے میں فخر محسوس کریں۔

وہ دائمی سکون جو اخلاق کی ہم آہنگی کا ثمرہ ہے، صحیح دینی تربیت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کہتے ہیں: ’’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے، مال کی وجہ سے، خاندان کی وجہ سے، خوب صورتی کی وجہ سے اور دین داری کی وجہ سے تو اے بھلے آدمی دین دار عورت کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ (بخاری و مسلم)

یہ وہ اسباب ہیں جنھیں لوگ شادی میں ڈھونڈتے ہیں اور اللہ کے رسول اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ البتہ لوگ دین کو آخری مقام پر رکھتے ہیں جب کہ اللہ کے رسول پیغامِ نکاح دینے والے کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ دین دار عورت کو ترجیح دے اور سب سے پہلے دین داری دیکھے اگر یہ موجود ہے تو اسے اپنی بیوی بنا لے۔ دین داری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت نماز روزہ وغیرہ کا اہتمام کرے اور بس۔ چاہے وہ بدخلق اور بدکردار ہو۔ نہیں، یہاں مراد وہ عورت ہے جس کے اخلاق، عادات اور خصائل اسلام کے مطابق ہوں، اپنی حیا کی حفاظت کرے اور اپنی تربیت اسلام کی روح اور اس کی اخلاقیات کی روشنی میں کرے۔

اسلام میں شادی کے اصول

اسلام میں شادی دوسرے معاہدوں کی طرح ایک معاہدہ ہے جس میں نہ تو مذہبی طبقوں کی موجودگی شرط ہے نہ کسی دینی محفل میں اس کا قیام ضروری ہے جیسا کہ دوسرے ادیان میں ہوتا ہے۔ اسلام شادی کو ایک معاہدہ قرار دیتا ہے جو طرفین یعنی میاں اور بیوی کے درمیان متبادل تفاہم کی بنیاد پر منعقد ہوتا ہے اور اس کی شرط یہ ہے کہ ایجاب اور قبول ہو اور دو گواہ موجود ہوں:

(۱) اس لیے اگر مرد اور عورت دونوں باہمی رضا مندی سے شریعت کی نگاہ میں دو معتبر گواہوں کے سامنے اپنے ارادے کا اعلان کردیں۔

(۲) اور ان دونوں کی شادی میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو نکاح مکمل ہوجائے گا چاہے یہ سرپرست کے سامنے ہوا ہو یا قاضی ے سامنے یا شادی کے حکومتی شعبہ کے ملازم کے ہاتھوں انجام پایا ہو۔ یہ شادی دینی نقطۂ نظر سے قبول کی جائے گی۔ یہ امر قابل غور ہے کہ خواتین کے معاملہ میں شریعت نے ولی کی اجازت کو ضروری قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:

ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل فنکاحھا باطل فنکاحھا باطل الخ یعنی جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے ۔ امام ترمذیؒ نے اسے حدیث حسن قرار دیا ہے۔ امام ابو داؤدؒ نے اپنی کتاب السنن میں اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کی ہے۔ امام حافظ بن العربی المالکی کہتے ہیں کہ یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے۔ اضافہ از مترجم)

شادی اسلام کی نگاہ میں ان خود ساختہ قوانین سے مختلف ہے جو شادی کے معاملہ کو دینی صفت سے الگ کردیتے ہیں کیوں کہ اسلامی شریعت شادی کو اس معنی میں دینی مسئلہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنے اصول دین ہی سے اخذ کرتی ہے اور دین اس پر آمادہ کرتا ہے۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ’’اے نوجوانو، تم میں سے جو گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہے اسے شادی کرلینی چاہیے کیوں کہ یہ نگاہ کو پست کردیتی اور شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے کیوں کہ روزہ اس کی شہوتوں کو ختم کردیتا ہے۔‘‘l

شیئر کیجیے
Default image
محمود العریفی

تبصرہ کیجیے