4

کھانے پینے کے سلسلے میں ہدایاتِ نبوی

حفظان صحت میں خوراک، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ متوازن خوراک سے انسان کی صحت برقرار رہتی ہے۔ وہ مناسب طور پر نشوونما پاتا ہے اور محنت کی قابلیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس بارے میں قرآن نے صرف تین جملوں میں طب قدیم اور طب جدید کو سمیٹ دیا ہے‘ ارشادِ خداوندی ہے: ’’کھائو پیو اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ (الاعراف:31)

یہ تینوں وہ مسلمہ اصول ہیں جن میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔ کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے‘ اس کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا‘ اور نہ اپنے فرائض منصبی سے بہ طریقِ احسن عہدہ برآ ہوسکتا ہے‘ البتہ اس میں اعتدال سے کام لینا صحت کے لیے ضروری ہے۔ نہ کھانے‘ یا ضرورت سے کم کھانے سے جسمِ انسانی بیمار پڑ جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدہ پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور معدہ کی خرابی تمام امراض کی جڑ ہے‘ حضورؐ کا ارشاد ہے:

’’معدہ بدن کے لیے تالاب ہے اور رگیں اسی کی طرف جسم کے مختلف حصوں سے وارد ہیں‘ جب معدہ صحیح حالت میں ہو تو رگیں بھی جسم کے تمام حصوں کو صحت (صحیح خون) مہیا کرتی ہیں اور جب معدہ بیمار پڑ جائے تو اس سے رگوں کے ذریعے تمام جسم بیمار پڑجاتا ہے۔‘‘(طبرانی۔ المعجم الاوسط)

قدیم عربوں کے مشہور طبیب حارث بن کلدؓ کا قول ہے: ’’پرہیز دوا کا سر (بنیاد) ہے اور معدہ بیماری کا گھر ہے‘ ہر شخص کو وہ چیز کھانی چاہیے جو اس کے بدن کے مطابق ہو‘ اورکم خوراکی بہ ذاتِ خود ایک علاج ہے۔‘‘

اکثر امراض کا سبب ناقص غذا یا اس کا غیر مناسب طریقہ استعمال ہے۔ اگر غذا ضرورت کے مطابق اور انسانی مزاج کے مناسب ہو اور ضرورت سے زائد نہ ہو تو انسان زیادہ دیر تک بہت سارے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

حضورؐنے آدابِ طعام اور کھانے پینے کے سلسلے میں بھی بھرپور ہدایات فرمائی ہیں‘ آپؐ کے بتائے ہوئے کھانے کے تمام طریقے حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق ہیں اور آپؐ کے ہر ارشاد میں طبی فلسفے مضمر ہیں۔ احادیث کی کتابوں میں آداب طعام پر مستقل عنوانات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حضورؐ اصولِ صحت کا کتنا خیال رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضورؐکے بتائے ہوئے ارشادات اور آپؐ کے اسوۂ حسنہ کا خلاصہ یہ ہے:

-1 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادہ‘ نرم‘ زود ہضم‘ مرغوب اور مانوس غذائیں کھاتے تھے۔ کدو‘ گوشت‘ مکھن‘ دودھ ‘ جو اور گندم کی بغیر چھنے آٹے کی روٹی‘ شہد‘ سرکہ‘ نمک‘ زیتون کا تیل اور کھجور وغیرہ آپؐ کی مرغوب غذائیں تھیں۔ یہ وہ غذائیں ہیں جن کی افادیت پر تمام اقوام عالم متفق ہیں۔ ہر ملک اور ہر موسم میں ان کا استعمال مفید اور صحت بخش ہے۔ آپؐکی غذا حیوانی اور نباتی دونوں طرح کی تھی۔

-2 کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے اور کھانا کھا کر یہ دعا پڑھتے: ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ہے۔‘‘ کھانے سے قبل اور بعد میں ہاتھ دھولیا کرتے تھے۔

-3 جب تک کھانے کی اشتہا نہ ہوتی‘ کبھی نہ کھاتے، اور ابھی اشتہا باقی ہوتی کہ کھانا ختم کردیتے۔

-4 کھانے کے فوراً بعد سونا پسند نہیں فرماتے تھے‘ بلکہ چہل قدمی کرتے یا نماز پڑھتے۔

-5 تکیہ لگا کر کھانا کھانا پسند نہ فرماتے کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تکیہ لگانے سے معدہ کی حالت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ کھانا اچھی طرح بہ آسانی اپنی جگہ نہیں پہنچتا اور ہضم ہونے میں دیر لگتی ہے۔

-6 تین انگلیوں سے کھانا کھاتے۔

-7 گرم اور سرد اور دیگر متضاد اثر والی غذائیں جمع نہیں فرماتے تھے اور موسموں کے مطابق غذا میں تبدیلی لاتے تھے۔

-8 کئی دنوں تک مسلسل ایک ہی قسم کی غذا نہیں کھاتے تھے بلکہ اس میں مناسب تبدیلی لاتے تھے۔

-9 کھانا کھانے میں عجلت سے کام نہیں لیتے تھے‘ آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔

-10 بیٹھ کر کھاتے تھے‘ بیٹھنے کا انداز عاجزانہ اور متواضعانہ تھا۔ آپؐ دو زانو ہوکر تشریف رکھتے اور اپنے قدموں کی پشت پر بیٹھتے یا دایاں قدم کھڑا کرکے‘ بائیں قدم پر تشریف رکھتے تھے۔

-11 گرم کھانے میں پھونک نہیں مارتے تھے اور نہ گرم گرم کھاتے، بلکہ اس کے سرد ہونے تک انتظار فرماتے۔ گرم کھانا معدے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے دانتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

-12 ہمیشہ آپؐ سامنے سے کھانا کھاتے تھے اور وہی کھاتے جو آپؐ کے قریب ہوتا۔

-13 آپؐ نے کبھی بھی طعام میں عیب نہیں نکالا اور نہ کبھی اس کی مذمت کی۔ کیونکہ یہ طعام کی بے عزتی اور توہین ہے۔ اگر کھانا طبیعت کے موافق ہوتا تو تناول فرماتے‘ ورنہ چھوڑ دیتے۔

-14 ان سبزیوں کے کھانے سے پرہیز کرتے جن کی بو سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو… مثلاً کچی پیاز‘ لہسن یا دیگر بدبودار اشیاء۔ البتہ ان چیزوں کو پکا کر کھالیتے یا کھانے کے بعد منہ اچھی طرح صاف کرلیتے یا کوئی ایسی چیز کھالیتے جس سے اس کی بدبو ختم ہوجائے۔ علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ حضورؐوہ غذا استعمال فرماتے تھے جس میں مندرجہ ذیل تین اوصاف ہوں: -1 قوائے جسمانی کے لیے مفید ہو۔

-2 معدے کے لیے خفیف اورنرم ہو۔

-3جلد ہضم ہونے والی ہو۔ (زادالمعاد‘ کتاب الطب)

ان تمام آداب سے خوراک کے بارے میں حضورؐ کی نفاستِ طبع اور حسنِ انتخاب کا پتا چلتا ہے۔ ان کے اثرات جسمِ انسانی پر دوررس اور مفید ہیں اور صحت و صفائی کے ساتھ ان کا گہرا رابطہ ہے۔

پینے کے آداب

خوراک کے ساتھ ساتھ پانی اور مشروبات بھی انسانی زندگی کا حصہ ہیں‘ کیوں کہ ہوا کے بعد زندگی کو قائم رکھنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ انسانی جسم میں اس کے کل وزن کا دو تہائی پانی ہوتا ہے اور ایک نوجوان اور تندرست آدمی کے جسم سے پسینہ‘ پیشاب اور دیگر فضلات کے ذریعے روزانہ تقریباً ڈھائی سیر پانی خارج ہوتا ہے۔ پانی ہی کے ذریعے غذا سے خون بنتا ہے اور زہریلے مواد پیشاب اور دیگر فضلات کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ لیکن وہی پانی مفید اور صحت بخش ہے جو صاف ستھرا اور ہر طرح کی گندگیوں‘ غلاظتوں اور آلائشوں سے پاک و صاف ہو اور ضرورت کے وقت مناسب طریقے سے پیا جائے۔

اسی لیے پانی اور دیگر مشروبات کے بارے میں حضورؐ نے ہمیں ہدایات دی ہیں اور اپنی عملی زندگی میں برت کر یہ اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے چھوڑا ہے:

-1 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سادہ پانی بھی پیتے اور کبھی اسے شہد‘ دودھ اور کھجور کے خمیرے کے ساتھ ملا کر بھی پیا کرتے تھے۔ سادہ پانی صرف پیاس بجھاتا ہے جبکہ دودھ‘ شہد اور دیگر میٹھی اشیاء کے ساتھ مخلوط پانی غذا اور مشروب دونوں کا کام دیتا ہے۔

خصوصاً شہد کے ساتھ ملا ہوا پانی تو کئی امراض کا علاج بھی ہے۔ اس سے بلغم نرم ہوکر ختم ہوجاتا ہے‘ معدہ صاف ہوتا ہے‘ جگر کو تقویت ملتی ہے اور صفرا کے مضر اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔

امام ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے: ’’حضورؐ کو وہ مشروب پسند تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ مشروب میں ان دو اوصاف کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ یعنی میٹھا ہو اور مناسب حد تک ٹھنڈا بھی ہو۔ اس قسم کا مشروب بدن کے لیے بہت ہی مفید ہوتا ہے۔ روح کو فرحت اور سرور نصیب ہوتا ہے‘ جگر اور دل کو تقویت پہنچتی ہے اور تمام قوائے جسمانی خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں۔ چشموں اور کنوئوں کا تازہ پانی اور ان مٹکوں اور برتنوں کا پانی بھی حضورؐ پسند فرماتے تھے جن سے مسام کے ذریعے پانی اور ہوا خارج ہوتی ہو۔

-2 حضورؐ آبِ زم زم کے علاوہ دیگر پانی بیٹھ کر پینا پسند فرماتے تھے‘ کیونکہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے پیاس اچھی طرح نہیں بجھتی اور پانی معدے میں قرار نہیں پاتا۔ بیٹھ کر پانی پینے کے بعد جگر اس کو تمام اعضا میں بہ قدرِ ضرورت تقسیم کرتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے پانی پوری سرعت اور تیزی کے ساتھ نیچے اترتا ہے‘ اس لیے دفعتا معدہ اور دیگر اعضا گرم سے سرد پڑ جاتے ہیں‘ جو اکثر بیماریوں کا سبب ہے۔ جبکہ بیٹھ کر پینے سے پانی تدریجاً اپنا عمل کرتا ہے۔

-3 حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ مشروب پیتے وقت تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بہت ہی خوشگوار‘ مزے دار اور صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔ پانی اور دیگر مشروبات پیتے وقت تین سانس لینے کے کئی طبی فوائد ہیں‘ جن کی نشاندہی حضورؐنے خود کی ہے:

-1 پیاس اچھی طرح بجھتی ہے۔

-2 زود ہضم‘ خوشگوار اور لذیذ ہوتا ہے۔

-3 اس میں شفا بھی ہے،کیونکہ جب پیاس کی حرارت کو تدریجاً کم کیا جائے تو اس سے معدہ گرم سے سرد نہیں پڑتا۔ اس میں حرارت عطشی کو تدریجاً کم کرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسے قوی سے ضعیف اور ضعیف تر بنادیا جاتا ہے، اور یہی پیاس بجھانے کا بہترین فطری طریقہ ہے، کیونکہ اس سے معدہ پر بیک وقت زیادہ بوجھ نہیں پڑتا۔ سانس سے اس کو استراحت اور آرام ملتا ہے اور اس وقفے میں پیاس کی کمی کا اندازہ بہ آسانی لگ سکتا ہے۔

-4 حضرت جابر بن عبداللہؓسے روایت ہے کہ میں نے حضورؐ سے سنا ہے، آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ برتنوں کو ڈھانپو اور مشکیزوں کو بند رکھو، کیونکہ سال میں ایک رات وباء اترتی ہے اور جس برتن یا مشکیزے کا منہ بند نہیں ہوتا اس میں یہ بیماری اتر جاتی ہے۔(مسلم)

مٹکوں اور مشروبات کے دیگر برتنوں پر ڈھکنا رکھنا طب و صحت کا ایک مانا ہوا اصول ہے۔ حضورؐ نے اس کی عادت ڈالنے کے لیے یہاں تک تاکید کی ہے کہ اگر کوئی چیز میسر نہ آئے‘ تو اس پر ایک تنکا ہی رکھ دیں اور رکھتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں۔ ڈھکنا رکھنے سے برتن گردوغبار‘ مکھی‘ مچھر اور دیگر زہریلے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہتا ہے۔

-5 کھانے کی طرح پینے سے پہلے بھی حضورؐ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور دودھ کے علاوہ دیگر مشروبات پینے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے:

’’اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہتر نعمت عنایت فرما۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

تبصرہ کیجیے