BOOST

تربیت ہی بشر کو انسان بناتی ہے!

اسے سیکھنا ہوگا۔

میں جانتا ہوں۔

کہ ہر شخص کمرا نہیں ہوتا۔

لیکن اُسے یہ بھی بتاؤ کہ ہر غنڈے کے مقابلے میں ایک ہیرو ہوا کرتا ہے۔

ہر خود غرض سیاست داں کے مقابلے میں ایک مخلص راہنما بھی ہوا کرتا ہے۔

اُسے بتاؤ کہ ہر دشمن کے مقابلے میں ایک دوست بھی ہوا کرتا ہے۔

اُسے حسد سے دور کردو،

اگر تم کرسکو تو

اُسے خاموش قہقہوں کے

راز کے بارے میں بتاؤ۔

اس کو یہ جلد سیکھ لینا چاہیے کہ بدمعاشوں کا مقابلہ کرنا سب سے آسان کام ہوا کرتا ہے۔

اُسے بتاؤ اگر تم بتا سکوتو

کتابوں کے سحر کے بارے میں۔

لیکن اسے اتنا وقت ضرور دینا کہ وہ آسمانوں پر اڑنے والے پرندوں کے دائمی راز، شہد کی مکھیوں کے سورج سے تعلق اور پہاڑوں سے پھوٹنے والے پھولوں پر بھی غور کرسکے۔

اسکول میں اسے بتاؤ کہ نقل کر کے پاس ہونے سے فیل ہو جانا زیادہ باعزت ہے۔

اُسے بتاؤ کہ اپنے خیالات پر پختہ یقین رکھے چاہے اسے سب کہتے بھی رہیں کہ وہ غلط ہیں۔

اسے سکھاؤ کہ شریفوں کے ساتھ شریف رہے۔

لیکن ہٹ دھرموں کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔

میرے بیٹے کو وہ طاقت عطا کرنے کی کوشش کرو کہ جب ہر شخص بھیڑ چال کا شکار ہو رہا ہو تو وہ اس سے دور رہ سکے۔

اسے بتاؤ کہ ہر شخص کی بات سنے لیکن یہ بھی بتاؤ کہ جو کچھ سنے اسے سچ کی کسوٹی پر پرکھے اور جو اس میں سے صحیح اور درست ہو، وہ رکھ لے۔

اسے بتاؤ کہ محنت سے کمایا ہوا ایک ڈالر

ناجائز طور پر حاصل کیے ہوئے لاکھوں ڈالر سے بہتر ہوتا ہے۔

اسے دوستوں کے لیے قربانی دینا سکھاؤ۔

اگر تم بتا سکو تو اسے بتاؤ کہ

اداسی میں کیسے مسکرایا جاتا ہے۔

اسے بتاؤ کہ آنسوؤں میں کوئی شرم نہیں۔

اسے بتاؤ کہ منفی سوچ رکھنے والوں کو خاطر میں نہ لائے اور خوشامد اور بہت زیادہ مٹھاس سے ہوشیار رہے۔

اسے بتاؤ کہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا بہترین معاوضہ وصول کرے لیکن کبھی بھی اپنی روح اور دل کو بیچنے کے لیے نہ لگائے۔

اسے بتاؤ کہ شور مچاتے ہوئے ہجوم کی باتوں پر کان نہ دھرے۔

اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے تو اپنی جگہ پر قائم رہے، ڈٹا رہے۔

اس سے شفقت سے پیش آؤ مگر پیار اور دلار مت کرو۔

کیوں کہ یاد رکھو کہ خام لوہے کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی فولاد بنایا کرتی ہے۔

اس میں اتنا حوصلہ بھردو کہ وہ وقت پڑنے پر عجلت میں فیصلہ کرسکے۔

اور خود میں اتنی ہمت بھی پیدا کرے کہ صبر کرسکے۔

اسے ہمیشہ سکھاؤ کہ خود پر انتہائی درجے کا اعتماد رکھے ۔

کیوں کہ تبھی وہ انسانیت پر انتہا درجے کا اعتماد رکھ سکے گا۔

یہ ایک مشکل کام ہے

لیکن دیکھتے ہیں کہ تم کیا کرسکتے ہو۔

میرا معصوم بیٹا بہت ہی پیارا ہے۔

٭٭

اوپر درج کیا گیا خط تاریخ میں معروف امریکی صدر ابراہم لنکن کے نام سے منسوب ہے۔ میں نے انگریزی میں لکھے گئے اس خط کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ لوگ اسے ابراہم لنکن کا خط تسلیم کرتے ہیں اور کچھ اس کی اصل ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہندوستان میں تلاش کرتے ہیں۔ ایک امریکی تاریخ داں راجر نارٹن کا جو لنکن پر ایک جامع اور مستند ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں، اس خط کے بارے میں کہنا ہے ’’مجھ سے اس خط کے بارے میں کئی بار پوچھا گیا۔ خصوصا ہندوستان کے لوگوں نے جہاں یہ خط بہت بڑی تعداد میں پڑھا گیا۔ میرے پاس ابراہم لنکن کے اوپر لکھی گئی دو سو اسی سے زیادہ کتابیں موجود ہیں، جن میں ابراہم لنکن کا تقریباً تمام تحریری مواد بھی شامل ہے۔ لیکن میں نے کبھی یہ خ اس میں نہیں دیکھا۔ یہ واقعی ایک حیران کردینے والا شاندار خط ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعی لنکن نے ہی لکھا ہوگا۔‘‘

مگر اس وقت ہمارا موضوع اس خط کے مندرجات اور اس کی روح ہے، اس کی تاریخ نہیں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ماسٹر پیس آف لٹریچر ہے۔ حکیم محمد سعید مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم بچوں کی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں مگر ان کی تربیت پر نہیں۔

تکلیف کی بات ہے لیکن اگر ہماری قوم کی ماؤں نے ہمارے بچوں کی اچھی تربیت کی ہوتی تو معاشرے میں ایسے سیاست داں، بیورو کریٹ، جج، جرنیل، صنعت کار، جاگیردار، بزنس مین نہ پیدا ہوئے ہوتے جو ہمیں آج بھی خاک میں ملا کر ہمیں اور اس ملک کو باقاعدہ ناک سے لکیرین نکلوا رہے ہیں۔

نپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دے دو میں تمہیں اچھی قوم دے دوں گا، تو وہ اسی لیے کہا تھا کہ نسلوں کی تربیت مائیں ہی کیا کرتی ہیں۔ ماں کے وجود کی بنیادی اہمیت بھی صرف بچہ جننے سے نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنے سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر علی شریعتی کا کہنا ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں بشر کا ذکر آیا ہے وہ اس کی حیاتیاتی شناخت کے طور پر آیا ہے جیسے درخت، پھول، پرندے یا کوئی حیوان شیر، گدھا، گھوڑا۔ مگر جب یہی بشر اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے بہتر رویے اور اعلیٰ اقدار اپناتا ہے تو پھر انسان کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔ علی شریعتی کا یہ کہنا ہے کہ جہاں جہاں بشر کی اعلیٰ اقدار کا ذکر ہوا ہے، وہاں وہاں اسے اللہ تعالیٰ انسان کے طور پر مخاطب کرتا ہے۔

ہم ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ انسان اشرف المخلوقات اپنی عقل کی وجہ سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات درست بھی ہے مگر اصل میں انسان اس عقل کے بہتر استعمال کی وجہ سے انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا ہے۔ عقل کے بہتر استعمال سے مراد اعلیٰ انسانی اقدار ہیں جو دوسرے انسانوں کے لیے فلاح اور بھلائی کا پیغام دیتی ہیں، اور عقل کا یہ استعمال انسان کو صرف تربیت سکھا سکتا ہے، اچھی تربیت نہیں۔ اچھی تربیت قوم کی مائیں، اساتذہ اور دانشور کیا کرتے ہیں۔

اگر صرف عقل کا ہی استعمال بشر کو اعلیٰ انسان بناتا ہے تو کیا چنگیز خاں، مسولینی، ہٹلر، ابوجہل جیسی شخصیات کو یا اعلیٰ انسان سمجھا جاسکتا ہے؟ یہ اشرف المخلوقات کے ماتھے پر کلنک تو ہوسکتے ہیں، انسان ہوتے ہوئے بھی اشرف المخلوقات نہیں ہوسکتے۔

اعلیٰ انسان اور اصل اشرف المخلوقات وہی ہے جو عقل کا استعمال انسانی فلاح اور بھلائی کے لیے کرے چاہے وہ کوئی سیاست داں ہو یا سائنس داں اور عقل کا ایسا استعمال صرف اچھی تربیت کے ذریعے ہوا کرتا ہے کہ علم تو بڑے بڑے لوگوں کے پاس آیا مگر نہ اس سے کچھ گھٹایا نہ کمایا۔ تبھی تو کہنے والے کہہ گئے:

علموں بس کریں یار

یہاں اشفاق احمد مرحوم بھی یاد آتے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ اس ملک کو جتنا نقصان پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے ان پڑھوں نے نہیں پہنچایا اور کسی حد تک اشفاق صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے۔

سو صرف عقل کا استعمال نہیں بلکہ عقل کا ایسا استعمال میں جس میں تربیت کا تڑکا لگا ہو، ایک اعلیٰ انسانی معاشرہ ترتیب دے سکتا ہے۔

خدا کی قسم اس خط کا ایک نہیں ہزاروں، ہزاروں نہیں لاکھوں بار پڑھنے کی اور خود پر اور اپنے بچوں پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اس خط میں ہر عہد کا نوحہ اور المیہ بھی ہے اور اس سے بچ نکل آنے کی صورت بھی۔

کاش ہم، ہماری مائیں، ہمارے رہنما، ہمارے دانشور اور ہمارے اساتذہ ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جس میں ہماری نسلوں کی تربیت ان خطوط پر ہوسکے جس کی نشاندہی اس خط میں کی گئی ہے مگر یہ تبھی ہوگا جب ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ من حیث القوم ’’تربیت‘‘ پر بھی توجہ دیں گے۔lll

(اردو ڈائجسٹ سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
محمد وصی شاد

تبصرہ کیجیے