5

اعتبار

بھابھی ’’السلام علیکم… کیسی ہیں آپ…؟‘‘ رخشندہ نے کافی گرم جوشی سے حمیدہ بیگم کو سلام کیا، تو کشمش کے دانے صاف کرتی حمیدہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئیں۔ اٹھیں رخشندہ کے آنے کی ہرگز اُمید نہ تھی ورنہ یوں صحن میں بیٹھ کر یہ کام نہ کرتیں بلکہ اندر باورچی خانے ہی میں سر انجام دے لیتیں۔ جہاں کم از کم رخشندہ کے آنے پر کشمش چھپا تو سکتی تھیں۔ لیکن رخشندہ کے آنے کا پتا بھی تو اس وقت چلا تھا جب وہ سر پہ آموجود ہوئیں۔

’’آئے ہائے رخشندہ کیسی بلی کی چال چلتی ہو، پتا ہی نہیں چلتا۔‘‘

حمیدہ بیگم نے اندر کی کھولن لہجے میں سمو کر کہا۔ لیکن رخشندہ صاحبہ اس طرف متوجہ ہی کب تھیں۔ ان کے دھیان کی سوئی تو کشمش میں اٹکی ہوئی تھی۔

’’ارے واہ بھابھی کشمش صاف کی جا رہی ہے۔‘‘ مٹھی بھر کشمش پھانکتے رخشندہ کا لہجہ حمیدہ بیگم کو تپا گیا۔

’’ظاہر ہے کشمش نظر آرہی ہے، تو وہی صاف کر رہی ہوں۔ اب بادام تو صاف کرنے سے رہی۔‘‘

حمیدہ بیگم کی آواز پر رخشندہ نے زور و شور سے سر ہلایا۔

ہاں بھابھی یہ تو ہے… خیر لگتا ہے کوئی موسمی پکوان بنانے کی تیاریوں میں ہیں۔ چلیں جو بھی پکے گا ہمارا حصہ تو ضرور بھیجیں گی ناآپ۔‘‘

رخشندہ کی بات پر ایک بار پھر سے حمیدہ بیگم تاؤ کھاگئیں۔

خود تو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ ایک پلیٹ سالن ہی بھجوا دیں اور ہمارے ہاں بس نہیں چلتا ورنہ سب کچھ سمیٹ کر چلتی بنیں۔‘‘

حمیدہ بیگم کی بڑبڑاہٹ رخشندہ صاحبہ کے پلے نہیں پڑی تھی۔ جبھی ایک بار پھر سے ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔

’’کیا کہہ رہی ہیں بھابھی مجھے سنائی نہیں دیا۔‘‘

’’کچھ نہیں، مجھے کیا کہنا ہے تم بتاؤ کس لیے تشریف آوری ہوئی ہے۔‘‘

حمیدہ بیگم نے بات پلٹی۔

’’ارے ہاں بھابھی وہ ذرا پانچ سو روپے تو ادھار دے دیں۔ کل پرسوں تک واپس کر دوں گی۔‘‘

رخشندہ بیگم نے بالآخر وہ بات کہہ ہی دی جس کے لیے آنے کی زحمت کی تھی۔

’’آئے ہائے رخشندہ! ابھی پچھلے ہفتے، تو تم مجھ سے ہزار روپے لے کر گئی تھیں۔ پہلے وہ تو واپس کرو الٹا تم نیا ادھار مانگنے آگئیں۔‘‘

حمیدہ بیگم گویا اچھل ہی تو پڑیں۔

’’اوہو بھابھی کیسی غیروں والی باتیں کرتی ہیں۔ میں بھلا آپ کے پیسے لے کر بھاگ تھوڑی جاؤں گی وہ تو بس اچانک ضرورت پڑ گئی جیسے ہی فہد کے ابو کو تنخواہ ملے گی میں آپ کے سارے پیسے واپس کردوں گی۔

رخشندہ بیگم نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا۔

نہیںبھئی! ابھی تو میرے پاس نہیں ہیں پیسے، بلکہ مجھے خود ضرورت ہے روپوں کی، اس لیے براہِ مہربانی میرے پیسے ذرا جلدی چکا دو۔‘‘

حمیدہ بیگم نے بھی ہری جھنڈی دکھائی۔

’’تو بہ ہے بھابھی! آپ نے تو صفا چٹ جواب ہی دے ڈالا۔ خیر پھر یوں کریں کہ وہ جو پرسوں آپ بیڈ شیٹ لائی تھیں وہ دے دیں۔ کل میری نند کی بیٹی اور داماد کی دعوت ہے، تو میں نے سوچا وہ ہی بچھا کر کام چلا لوں بعد میں آپ کو اس کے پیسے دے دوں گی۔ ابھی تو دعوت پر بھی کافی خرچا ہو جائے گا۔‘‘

رخشندہ بی بی نے فوراً ہی نئی فرمائش جڑ وی۔

’’نہیں بھئی! وہ تو میں بہت دل سے حسن کے کمرے کے لیے لائی تھی۔ اپنے بچے کی چیز تھوڑی اٹھا کے دے دوں گی کسی کو۔‘‘

حمیدہ بیگم نے بدکتے ہوئے جواب دیا۔

’’بھابھی! دیکھیں نا اب آپ یوں تو نہ کریں۔ پرایا بچہ اب اتنی دور سے میرے گھر آئے گا، تو اُسے یوں ہی گندے مندے گھر میں بٹھاؤں آخرت عزت بھی تو کوئی چیز ہے۔‘‘

رخشندہ بیگم ایک بار پھر سے شروع ہوچکی تھیں اور بالآخر حمیدہ بیگم کو اپنی جان چھڑانے کے لیے وہ بیڈ شیٹ دینی ہی پڑی۔ اور یوں قرض کے ہزار روپے کے ساتھ اس ساڑھے آٹھ سو کی بیڈ شیٹ کا بھی اضافہ ہوگیا جس کی ادائی کا دور دور تک امکان نہ تھا۔

دروازے کی گھنٹی بجنے پر حمیدہ بیگم کا چاول صاف کرتا ہاتھ رک گیا اور چاولوں سے بھری پرات سرکاتی وہ دروازہ کھولنے چل پڑیں۔

’’السلام علیکم حمیدہ خالہ‘‘

دروازہ کھولنے پر دو گھر چھوڑ احسان اللہ صاحب کی چھوتی بہو ثنا مسکراتی ہوئی ان کے گلے آلگی۔

وعلیکم السلام بیٹا…! کیسی ہو بڑے عرصے بعد چکر لگایا۔‘‘

حمیدہ بیگم نے پرتپاک انداز میں گلے ملتے پوچھا۔ ثنا اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے شہر میں مقیم تھی اور ہفتہ دو ہفتہ بعد چکر لگا لیتی تھی لیکن اب کی بار مہینہ بھر بعد ان کی آمد ہوئی تھی۔

’’جی خالہ وہ بس بچوں کے امتحان تھے اس لیے او رپھر مجھے آئے دو روز ہوگئے ہیں مہمانوں کی وجہ سے نکلنا نہیں ہوا اب فراغت میسر آئی، تو سوچا آپ سے مل آؤں۔‘‘

ثنا ان کے ساتھ چلتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ آئی۔ ابھی حمیدہ بیگم ٹھیک سے اس کا حال احوال دریافت بھی نہ کر پائیں تھیں کہ رخشندہ بی بی ٹپک پڑیں اور لگیں اپنے بے تکلّفانہ انداز میں ثنا سے باتیں بگھارنے۔

’’آپ کو پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘

ان کے انداز اور خلوص نے ثنا کو بے حد متاثر کیا۔ عرصہ ہوا ہے اس محلے میں منتقل ہوئے۔ حمیدہ بھابھی رشتہ دار ہیں ہماری۔‘‘

حمیدہ بیگم ثنا کی خاطر تواضع کے خیال سے کچن میں گئی ہوئی تھیں اور رخشندہ صاحبہ کے پاس کافی وقت تھا۔ سو جبھی رخشندہ ثنا کو کمپنی دینے لگیں اور دس منٹ کے اس عرصہ میں ثنا کو اچھی طرح سے ازبر ہوگیا تھا کہ رخشندہ صاحبہ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ بیٹی میٹرک میں جب کہ بیٹا آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے اور دونوں بہن بھائی حد سے بڑھ کر نخریلے۔ ایسے میں ثنا، رخشندہ آنٹی کی ایک وقت میں تین تین ہانڈیاں پکانے کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکی جو بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی پسند کو بھی مدنظر رکھتی تھیں اور اس طرح گھر میں سب کو من پسند کھانا مل جاتا تھا۔ حمیدہ بیگم کی واپسی کے بعد بھی رخشندہ بیگم کا موضوع گفتگو ان کی فیملی ہی تھی۔ ثنا کے ساتھ پرتکلف چائے سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب وہ ثنا کے ساتھ ہی جانے کو تیار کھڑی تھیں۔ ان دونوں کو رخصت کرنے کے بعد چائے کی برتن سمیٹتی حمیدہ بیگم سوچ رہی تھیں کہ ثنا سے اس کے بچوں کا حال احوال تو پوچھ ہی نہیں سکیں۔ خیر اگلی بار سہی، سرجھٹک کر انھوں نے پانی کا نل کھولا اور برتن دھونے یں مصروف ہوگئیں۔

’’السلام علیکم فاطمہ خالہ… کہئے کیسے مزاج ہیں؟‘‘

حمیدہ بیگم ریڑھی والے سے سبزی خرید رہی تھیں جب پچھلی گلی میں رہنے والی فاطمہ بیگم پر نظر پڑی۔

و علیکم السلام بیٹا… اچھا ہوا تم سے ملاقات ہوگئی میں تو سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں گھر پر ملو یا نہیں۔‘‘

ان کے سلام کا جواب دیتی فاطمہ ان کے ساتھ ہی اندر آگئیں۔

’’اے حمیدہ! یہ رخشندہ بی بی کہاں ہوتی ہیں آج کل؟‘‘

فاطمہ خالہ نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا۔

’’ہونا کہاں ہے خالہ… یہیں موجود ہے… کیوں خیریت تو ہے نا…؟ آپ کو کچھ کام تھا کیا…؟

ان کے تیکھے لہجے نے حمیدہ کو ٹھٹکا دیا۔

’’ارے نہیں بھئی کام کیا ہوتا ہے بھلا … وہ نامراد دو ہزار لے کر گئی تھی مجھ سے کہ دو روز میں واپس کردوں گی اور اب مہینہ بھر ہو چلا ہے اس کی صورت بھی نظر نہیں آئی …کہاں تو دن میں دو، دو …تین، تین چکر لگاتی تھی اور اب یوں غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ایک آدھ مرتبہ گلی میں ملی، تو پیسوں کے تقاضے پر الٹا مجھے ہی لتاڑنے لگی کہ خالہ میں کون سا محلہ چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں۔ ارے بی بی سچ پوچھو تو تمہاری رشتہ داری کا لحاظ کر کے دیے تھے۔ پیسے ورنہ تم تو جانتی ہو آج کل حالات کتنے مشکل ہوگئے ہیں یوں پیسے دیتے کہاں پورا پڑتا ہے۔‘‘

فاطمہ خالہ نے آخر میں انھیں بھی رگیدا تھا۔

’’ارے خالہ… کہاں کی رشتہ داری وقار کے ابا کے دور پرے کے بھانجے کی بیوی ہے۔ ہمارا تو آنا جانا بھی نہ تھا ان کے خاندان میں وہ تو جب سے اس محلے میں آئی ہے تب بات چیت پہ کھلا کہ یہ ہماری برادری کے ہیں۔‘‘

حمیدہ بیگم نے بوکھلا کر وضاحت کی، ساری زندگی اس محلے میں عزت سے گزاری تھی۔ ان پر لوگ اعتبار کرتے تھے، لین دین چلتا ہی رہتا تھا لیکن اب یوں انھیں پرائی آگ میں رگیدا جائے، یہ منظو رنہ تھا۔ انہیں اپنا دامن بچانے کی فکر ہوئی۔‘‘

جب کہ ان کی بات پر فاطمہ خالہ اچھل ہی پڑیں۔ ’’آئے ہائے حمیدہ، تو یہ بات تمہیں پہلے بتانی چاہیے تھی… تمہارے بھروسے آدھا محلہ اسے ادھار دیے بیٹھا ہے۔ وہ انا امجد نہیں ہے، کریانے والا اس سے آٹا، چاول، دالیں … یہاں تک کہ سوڈا بوتلیں بھی آتی ہیں، رخشندہ کے ہاں۔ اب بتاؤ بھلا پیسے دینے کی اوقات نہیں تو زبان کا چسکا پورا کرنے کو ادھار لینا کیا ضروری ہے۔ ثنا سے الگ دو ہزار ہتھیار لیے۔ وہ اس بار بھی تقاضا کر کے گئی ہے۔ لیکن مارے شرم کے تمہارے ہاں نہیں آئی، اور وہ جو نذیر ہے نا صدر بازار میں کپڑے کی دکان والا اس سے دسیوں جوڑے ادھار اٹھا لاتی ہے اور کیا ہے کہ کبھی کوئی جوڑا تین، چار ہزار سے کم کا ہو۔ مارے مروت کے سب لوگ تمہارا منہ رکھنے کو دے دیتے ہیں۔‘‘

فاطمہ بیگم کی بات نے حمیدہ کے اوسان خطا کردیے۔

پر خالہ رخشندہ نے مجھ سے تو ایسا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ اس کو میرے بھی اٹھارہ سو دینے ہیں…‘‘

حمیدہ بیگم نے پست آواز میں کہا محلے میں بنائی ساکھ مٹی ہونے چلی تھی۔ وہ کیسے اپنے دل کو مضبوط کرتیں۔

’’ہائے ہائے حمیدہ! اس طرح تو تمہاری ہی بدنامی ہوگی، جہاں بھر میں … پر اس کم بخت نے تمہیں بھی نہیں چھوڑا، تو ایسے میں تمہارے نام سے دوسروں کو لوٹتے اسے کیا ڈرلگتا۔ میری مانو تو کسی طریقے سے اسے سمجھا بجھا کر ایک بار تو لوگوں کا قرض چکاؤ۔ اس کے بعد سب کو محتاط کردیں گے کہ اس کو ادھار مت دینا…‘‘

فاطمہ خالہ کی بات پہ حمیدہ نے پرسوچ انداز میں سرہلایا۔

…٭…

حمیدہ بھابھی اللہ کا واسطہ ہے میرا بیٹا شدید بیمار ہے۔ صرف پانچ سو روپے دے دیں قسم سے جیسے ہی پیسے ہاتھ آئے میں سب سے پہلے آپ کا اُدھار چکاؤں گی۔‘‘

رخشندہ نے روتے ہوئے گویا حمیدہ بیگم کی منت کی۔

’’دیکھو رخشندہ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اب جان چھوڑو میری اور ہاں خبردار جو میرے نام سے محلے میں کسی سے اُدھار مانگا ویسے بھی میں نے سب کو منع کر دیا ہے کہ اب جس کسی نے تمہیں اُدھار دیا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔‘‘

حمیدہ بیگم نے سختی سے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئیں یہ گویا رخشندہ بی بی کو اشارہ تھا کہ اب تم بھی پھوڑ یہاں سے۔ رخشندہ نے ایک پل ان کے تیوری چڑھے چہرے پر نظر ڈالی اور پھر شکست خوردہ قدموں سے باہر کا رخ کیا۔ پہلے محلے کے ہر گھر کا دروازہ اس کے لیے کھلا تھا لیکن جب سے اس نے ادھار لے کر واپسی میں حیل و حجت سے کام لیا تھا، تو حمیدہ بیگم سمیت سارے محلے کا رویہ بدل گیا تھا۔حمیدہ بیگم نے کافی سختی کا معاملہ کیا تھا۔ یوں رخشندہ بیگم کو پیسے دیتے ہی بنی تھی اور وہ بھی یوں کہ کوئی ان کی سلائی مشین اٹھا کر لے گیا، تو کسی نے ڈائننگ ٹیبل کو غنیمت جانا اور کسی تیسرے نے ٹی وی پہ ہی اکتفا کرلیا کیوں کہ بار بار کے تقاضے پر بھی رخشندہ بی بی نے نقد واپس نہ کرنے کی گویا قسم کھا رکھی تھی اور جب لوگ گھر کی چیزیں اٹھانے لگے، تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہیں پیسے دینے ہی پڑے اور آج جب کہ انہیں حقیقتاً پیسوں کی ضرورت تھی ان کا بیٹا بخار میں پھنک رہا تھا، تو سب نے انھیں ٹکا سا جواب دے کر چلتا کیا تھا۔

رخشندہ کی سمجھ میںآج یہ بات آئی تھی کہ ایک بار اعتبار کھو جائے تو پھر اسے بحال کرنا ممکن نہیں رہتا۔ عیاشیوں پر بے دریغ لٹانے والی کے پاس آج ضرورت پوری کرنے کے لیے ڈھیلا بھی نہ تھا اور کسی دوسرے سے ملنے کا راستہ اس نے خود بند کیا تھا۔ جبھی اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے کانوں میں پڑے ٹاپس اتارے کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بیٹے کے علاج کے لیے انہیں وہی ٹاپس بیچنے تھے جو کبھی انہوں نے دوسروں سے اُدھار لے کر بنوائے تھے۔ l

شیئر کیجیے
Default image
کنول ریاض

تبصرہ کیجیے