BOOST

وارث

ماچس کی تیلی ابھی جلی ہے۔ ایک شعلہ سا لپکا ہے اور کئی اگر بتیاں سلگنے لگی ہیں۔ دھواں اوپر جا رہا ہے۔ خوشبو چاروں طرف دھیرے دھیرے سفر کر رہی ہے اور میں سوچ رہی ہوں ’’بس یہی ہے انسانی زندگی کی کہانی، کچھ اس سے زیادہ ہو تو مجھے بھی بتلاؤ!‘‘

دادی وہ سب کی تھیں پر میری دادو تھیں۔ جانے کیا بات ہے، وہ رخصت ہوئیں تو گھر میں سبھی کے تاثرات مختلف تھے۔ خود مجھ کو یوں لگا جیسے میرے قدموں میں جھکا آسمان یکایک بلند ہوگیا ہو۔ میری دسترس اور پہنچ سے دور نکل گیا ہو۔ دادو دوسرے لوگوں کی پہنچ سے تو پہلے ہی دور نکل گئی تھیں۔ کچھ لوگ ان دروازوں جیسے ہوتے ہیں جو چاہنے کے باوجود بھی سب پر نہ کھلتے ہیں، نہ اندر جانے کی راہ دیتے ہیں۔

چند سال قبل دادو جب ہمارے گھر آئیں تو یہ دروازہ بند ہوچکا تھا۔ چوں کہ تازہ تازہ بند ہوا تھا۔ کواڑ ابھی زنگ آلود نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے تھوڑی محنت اور مسلسل کوشش سے میں اس کو اس قدر کھولنے میں کامیاب ہو ہی گئی کہ جس سے اندر جھانکا جاسکتا ہو۔ اندر ایک سنسانی اور ویرانی کا عالم تھا جہاں نہ کوئی خواہش زندہ تھی نہ آرزو باقی تھی۔ حالاں کہ سنا ہے خواہشیں تو زندگی ہیں۔ نہ ان کا کوئی اول ہوتا ہے نہ آخر۔ انہی سے زندگی لگتی ہے۔ یہ نہ ہوں تو زندگی بھی خاکی ہوجاتی ہے۔

ابو، دادو کا ہاتھ پکڑے جب گھر لوٹے تھے تو ہم سب کو ایک جانب لے جاکر کہا تھا۔ ’’دیکھو! دادو کی یادوں کا خزانہ چوری ہوگیا ہے۔ دل کے گودام میں اب سب بوریاں خالی پڑی ہیں۔ تم ان کو بھر سکو تو بہت خوش کن بات ہوگی۔ مگر ان خالی بوریوں کو ٹٹولنے مت بیٹھ جانا۔‘‘ چند ماہ بعد اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھانے سے فارغ ہوئے تو دادو نے ابو سے کہا:

’’بیٹا عبد الباسط! میرا بڑا جی چاہنے لگا ہے کہ تیری یہ رانو، پھولوں کی طرح مہکے اور کسی بے فکر چڑیا کی طرح چہکے۔ اس کے اندر بڑی ہی محبتی روح ہے۔ یہ چھوٹی اور ناتواں ہوکر بھی حکم چلانا اور دلوں کو گرمانا جان گئی ہے۔ نہ کوئی زور نہ زبردستی، لیکن اپنی خدمت اور محبت سے یہ حکمرانی کرتی ہے۔ نئے دور میں تراشے ہوئے لب و رخسار اور شفق رنگ رنگت سے زیادہ اسی سانچے میں ڈھلی لڑکیاں راج کریں گی۔‘‘

دادو اتنی ہی اچھی تھیں جیسی ان کی بات۔ پھر وہ راج کیوں نہ کرسکیں؟

ممکن ہے اس لیے کہ بھارت کے شہر گرداسپور سے پاکستان آتے ہوئے ان کے میاں، اپنی بیوی اور بچوں کو فسادیوں کے گھڑ سوار جتھوں سے بچاتے ہوئے اپنی جان ہی ہار بیٹھے تھے۔ جس کے سر کا سایہ نہ رہے، وہ بھلا کیا راج کرتی، کس کے سر پر کرتی؟

ہاں ایک بیٹے کا آسرا تھا۔ عبد الباسط، بھئی اپنے ابو کی بات کر رہی ہوں۔ دادو کی عجیب عادت تھی کہ وہ نام پورا بلاتی تھیں حتی کہ گھر کے کام کاج والے حسینے کو بھی غلام حسین کہہ کر بلاتی تھیں اور نامعقول آواز کو سن کر یوں لپکتا تھا جیسے پٹرول کو دیکھ کر شعلہ لپکتا ہے۔ نوکر سمجھ دار ہو تو گھر والوں سے تنخواہ کے علاوہ عزت بھی پاتا ہے۔ حسینا … معاف کیجیے! غلام حسین بھی اسی قبیلے سے تھا۔ ایک روز کیا ہوا کہ ہم لوگ باہر لان میں بیٹھے تھے۔ دادو کی آواز آئی تو ابو تیزی سے لپکے۔ امی نے روکا بھی کہ حسینے کو بلا رہی ہیں۔ ابو رکے بغیر بولے:

’’بابا!وہ پہلے میری ماں ہیں۔ جب میں گھر پہ ہوں پھر ان کی بات سننا میرا حق ہے۔ فرض والی بات تو الگ ہے۔ غلام حسین تو میرے کہنے پہ ان کی خدمت کرتا ہے نا۔‘‘

دادو ہمارے گھر آکر بڑی شانت ہوگئی تھیں۔ ہلکی پھلکی، مطمئن۔ شاید گھر کہتے ہی اس کو ہیں جہاں آدمی مطلوب ہو۔۔۔ محبوب ہو۔۔۔ جن کے در و دیوار کے درمیان اس کا وزن ہی نہ ہو، وہ اس کا گھر کیوں کر ہوسکتا ہے۔

یہ گھر ہی تو ہوتا ہے، جہاں ساتھ ساتھ جیا جاتا ہے۔ ایک ساتھ دھوپ اور ایک ساتھ بارش سہی جاتی ہے۔ جہاں کسی کی آہٹیں پہچانی جائیں۔ اس کے چہرے پہ آئے رنگوں کو پہچانا جائے۔ گھر کو محبت کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں یہ دولت ہو، وہاں تیور ہی اور ہوتے ہیں۔

دادو جس گھر میں عمر بھر رہیں، وہ ان کا اپنا گھر تھا۔ پھر چھ بیٹیوں کی شادیاں کیں اور ساتویں کو اسی گھر میں آباد کر دیا۔ آخری کئی سال وہ اپنے گھر میں مہمان ہوگئیں۔ مالکن سے مہمان اور وہ بھی غیر مطلوب، تو پھر دل بھر بھر کیوں نہ آئے۔ لیکن کمال بات یہ تھی کہ دادو نے ہمارے ہاں آکر بھی اپنے گھر کو یاد نہیں کیا۔ اپنا گھر، محلہ، شہر، ہر ایک یاد کا پورا جہاں ہوتا ہے۔

یادوں کا کیا ہے، یاد رکھی جائیں تو ہر بات ایک یاد ہے اور انہی سے زندگی عبارت ہے۔ کچھ لوگ تو یادوں کو ہی زندگی بنا لیتے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یادیں کل زندگی نہیں ۔۔۔۔ زندگی یادوں سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ نئے گھر میں یادیں، ماحول اور پذیرائی سے جڑی ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پل اور نقش ماند پڑ جاتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں اور کبھی ایک لمحے کی بات کانٹا بن کر باقی زندگی، رگ جاں کو جلائے رکھتی ہے۔ تلملائے رکھتی ہے۔ زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ چبھن باقی رہتی ہے۔

دادو کی گود میں مجھے کم ہی بیٹھنے اور لیٹنے کا موقع ملا۔ مگر وہاں بہت گداز اور مٹھاس بہت تھی۔ ایک روز وہ کہنے لگیں:

’’رانو! تجھے پتا ہے گرداس پور میں ہمارا کتنا بڑا گھر تھا۔ حویلی تھی۔ زنان خانہ الگ، مردان خانہ الگ، نوکر چاکر، ڈھورڈنگر، تیرے دادا سے لوگ ملنے آتے۔ فیصلوں کے لیے بلاتے۔ وہیں پہ مولا نے مجھے سات بیٹیاں اور ایک بیٹا دیا۔ سبھی مبارک بادیاں دینے آئے کہ یہ بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ تو میں نے کہا تھا، نا جی ناں سہارا تو صرف رب کا… یہ بیٹا تو اس کی امانت ہے۔ یہ ’’جین جوگا‘‘ ہماری خوشی ہے۔ ہماری آبرو اور سہارا بننا… یہ تو اس کی اپنی مرضی ہے۔ کسی کے کہنے سمجھانے سے کوئی تھوڑا بڑا بنتا ہے۔

میں نے بات سنتے سنتے پوچھ لیا۔ ’’دادو! وہاں کے گھر اور لوگ اب یاد آتے ہیں؟‘‘ بولیں ’’میری جان! گھر یا ملک، عمارتوں سے یاد نہیں آتے… مکینوں سے یاد آتے ہیں۔ اگر وہاں من بھاتے لوگ ہوں تو وہی جگہ جنت مکاں لگتی ہے۔ اس کی ہوائیں، موسم، تاریخ سبھی دل کو بھاتا ہے۔ اپنا لگتا ہے۔ ورنہ خالی اینٹیں، روڑے اور وہ کس کام کا…

دادو اپنے بچوں کو لے کر کھیتوں، کھلیانوں سے ہوتی قریبی گاؤں تک پہنچ گئیں۔ جہاں اپنی جان و مال کے خوف سے لرزاں و ترساں مخلوق ایک قافلہ بنی بیٹھی تھی۔ اتنے لوگ اور اس سے زیادہ خوف۔ نہ کوئی رہبر، نہ محافظ۔ نہ وہاں ٹھہر سکتے تھے، نہ چل سکتے تھے۔ اسی عالم میں دشمن نے پہلا وار کیا اور آدھے سے زیادہ قافلے کو خاک کا حصہ بنا دیا۔ باقی لوگ زندگی کی تلاش میں بھاگے اور سڑکوں، پگڈنڈیوں سے بچتے، جنگلوں، ویرانوں سے ہوتے، نئے ملک کی نئی سرحد کی تلاش میں دن رات چلتے رہے۔

چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ، کھانے پینے کی چیزوں سے محرومی، بلکتے اور روتے بچے بھی قافلے کے آگے بڑھتے قدموں کو نہ روک سکے۔ کوئی زیادہ بیمار ہوجاتا، کوئی زخموں کے باعث چلنے سے معذور ہوجاتا تو قافلے والے اپنی زندگیوں کے لالچ میں، اسے وہیں ویرانے کی نذر کرتے اور آگے بڑھ جاتے۔ انہی راستوں پہ انھیں بے شمار آدھ کھائی لاشیں ملیں۔ قافلوں کے ہجرت اثر نشان اور سامان ملے۔ ان کو دیکھ کر زندگی اور پیاری لگنے لگتی۔ آزادی اور حفاظت سے نئے ملک کی سرزمین پہ پہنچنا خواب جیسا لگنے لگتا۔

ایک شام جب دل تو آگے بڑھنے پہ آمادہ تھے مگر ٹانگیں سفر کے لیے آگے بڑھنے سے قاصر ہوگئی تھیں۔ قافلے نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ بھوک اور پیاس سے برا حال تھا۔ چند نوجوانوں نے بھاگ کر کنوئیں سے پانی نکالا اور پھر پانی نکالنے والے بوکے کو ہی منہ لگا دیا۔ انہیں دوبارہ پانی نکال کر پینا اور قافلے کے کمزور اور ناتواں لوگوں کو پلانے کا موقع ہی نہ ملا۔ وہ پانی جس جس نے پیا، اس کی انتڑیاں کاٹتے ہوئے گزر گیا۔ وہ جو چند لمحے قبل قافلے میں سب سے جوان اور طاقتور تھے، بے جان پڑے تھے۔ ان کے ہونٹوں اور کانوں سے خون رس رہا تھا۔ اس دکھ بھرے منظر نے اتنا دہلا دیا تھا کہ سبھی اٹھ کر آگے چل دیے۔ تھوڑی دور تک جاتے ہی ایک جگہ پھر بہت سا لٹا ہوا سامان اور کٹے پھٹے جسم ملے۔ ان مرنے والوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔

سبھی خوف سے رک گئے کہ خیال تھا مارنے اور لوٹنے والے لٹیرے زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔ سانس درست ہوئے تو احساس ہوا کہ بھوک نے برا حال کر رکھا ہے۔ متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو پتا چلا کہ کئی مرنے والوں کے سامان کے ساتھ کھانے کی پوٹلیاں پڑی ہیں۔ مگر اب کے کسی میں ہاتھ بڑھا کر پوٹلی اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔ کئی بڑے بوڑھوں نے بتایا کہ ہندو اور سکھ جتھے راستے کے ہر کنویں میں زہر ملاتے گئے ہیں۔ کیا خبر ان کھانوں پر بھی زہر چھڑک گئے ہوں۔ انہی بزرگوں میں سے ایک دانا نے مشورہ دیا کہ ایسا کرتے ہیں، یہ کھانا پہلے کسی بچی کو چکھا دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ویسا ہوا تو کم سے کم قافلے کے دوسرے لوگ مرنے سے بچ جائیں گے۔ اس تجویز پہ نہ کسی نے ہامی بھری نہ انکار کیا۔ مگر سب کی نظریں ایسی بچی کو ڈھونڈنے لگیں جسے قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاسکے۔

پھر نگاہیں میری ۶؍ سالہ عائشہ بی بی پر جاکر ٹھہر گئیں۔ وہ بخار سے تپ رہی تھی اور میری ٹانگ پہ سر رکھے رو رہی تھی۔ پہلے وہ دیکھتے رہے، اسے نگاہوں میں تولتے رہے پھر ایک آواز آئی ’’تمہاری تو اتنی ساری بیٹیاں ہیں اور یہ تو ویسے بھی بیمار ہے۔ پتا نہیں اتنے لمبے سفر میں بچتی بھی ہے یا دم دے دیتی ہے۔ اسے …‘‘ اس سے زیادہ مجھ سے سنا ہی نہیں گیا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے اس پوٹلی کی طرف لپکی، جس کا زہر میری بیمار بچی کے حصے میں آنا تھا۔ میں زور زور سے چیخ رہی تھی، بڑبڑا رہی تھی اور زمین پر گری پوٹلی سے دونوں ہاتھوں سے کھا رہی تھی۔

’’میں ماں ہوں اپنے جگر کے ٹکڑے کو کیسے قربان ہونے دوں۔ تمہیں زہر کی تصدیق ہی کرنی ہے ناں… لو میں نے کھا لیا۔ اب دیکھو اور انتظار کرو کہ میں زندہ بچتی ہوں یا مر جاتی ہوں۔ مگر اپنی بچی کو جو میری وارث ہے، کیسے مرنے دیتی۔‘‘

کئی لوگ تیزی سے میری طرف بڑھے تھے تاکہ مجھے اس حماقت سے روک سکیں مگر میں جب تک آدھی پوٹلی کھاچکی تھی اور جس آدمی کے ہاتھ سے چھینی تھی، وہ ہکا بکا کھڑا دیکھ رہا تھا۔ وہ عجیب دکھ اور خوف سے بھرے لقمے تھے۔ لقمے کھا چکی تو میری آواز بند ہوگئی اور میں بے بسی اور بے چارگی سے زمین پر گر گئی۔ میری خالی اور اداس آنکھیں کسی بھی خواب اور خیال، امید اور یقین سے آزاد تھیں۔ حتی کہ ان میں نہ کوئی آنسو تھا، نہ حسرت، نہ شکوہ، نہ کوئی آس نہ امید۔ اذیت برداشت سے بڑھ جائے تو آنکھوں سے سارے آنسو ہی پی لیتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔‘‘

تب دادو نے اپنی بات یوں سمیٹی تھی جیسے کوئی چہرے پہ آئی اداسی سمیٹے۔ یا کوئی ماتھے پہ پڑے بل سمیٹ لے۔ عائشہ کو میں نے اپنا وارث مان لیا۔ ساری بچیاں بیاہ دیں مگر خود اسے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ اس پہ مجھے بھروسا اور مان بہت تھا۔ پھر وہ خود کلامی کے انداز میں پنجابی شعر پڑھنے لگیں:

وارث نہ کر مان وارثاں دا

رب بے وارث کر ماردا ای

دادو کو میں نے بہت دفعہ یہ شعر پڑھتے سنا۔ ان کا رونے کو بھی بہت من کرتا مگر شاید انہیں آنسوؤں میں اپنی بیٹی کی شکل نظر آتی تھی، جس کو انھوں نے زہر سے بچایا تھا اور پھر اپنا وارث بنایا اور زندگی بھر انھوں نے سب سے زیادہ محبت اس بیمار لڑکی عائشہ سے کی۔

دادو کو جب گھر سے قبرستان لے جا رہے تھے تو میں نے ان کا چہرہ دیکھا تھا۔ بڑا روپ آیا تھا۔ ایسے موقعوں پہ رونا اس لیے زیادہ آتا ہے کہ آنسوؤں کی فصل اپنوں پہ بہانے کے لیے بڑی زرخیز ہوتی ہے۔ جتنی خرچ کرو اتنی اور امنڈی آتی ہے۔

دادو کے جنازے پر سبھی آئے، نہ آئی تو دادو کی وہ وارث بیٹی نہ آئی۔ اس پر جب ہم نے غصہ کیا تو ابو صرف اتنا بولے تھے ’’اس پر غصہ نہ کرنا، وہ بدقسمت تو اس غصے کے قابل بھی نہیں ہے۔ دادو کی زندگی میں وہ ان کی وارث تھی، ان کی ساری محبت کی مالک۔ مگر اس بدقسمت نے سب کچھ کھو دیا۔ اب ماں کے مرنے پہ اس کی یادوں کے جنگل میں لگی آگ مدتوں اسے جلائے گی، دیر تک بجھ نہ پائے گی۔‘‘

اس روز ابو نے پہلی بار بتایا ’’جب میں دادو سے ملنے آخری بار، ان کے گھر گیا تھا تو شام ڈھلے بہت دیر ہوچکی تھی۔ بجلی گئی ہوئی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، ہاتھ سے بجایا۔ تمہاری پھوپھو سیڑھیاں پھلانگتی، بڑبڑاتی نیچے اتر رہی تھیں تو برتن گرنے کی آواز آئی۔ مجھے اندر لے جاکر اس نے لابی میں بٹھا دیا۔ موم بتی جلائی اور اوپر چلی گئی۔ اوپر جاتے قدموں کی آواز مدھم ہوئی تو ایک جملہ میرے کانوں میں پڑا۔ وہ اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھیں:

’’سالن گر گیا تو کیا ہوا۔ جلدی سے اٹھا کر پلیٹ میں ڈال لو۔ بڑی اماں کو دے آؤ۔ انہیں اس کی عادت ہے۔‘‘ وہ جملہ ایسا زہر تھا جو میرے کانوں میں پڑا اور روح تک اتر گیا۔ مجھے اپنی ماں سے وہاں ہونے والے سلوک کا اندازہ ہوا اور میں یہ ٹھان کر اٹھ کھڑا ہوا کہ ماں جی کو یہاں ایک لمحے کو نہیں رہنے دوں گا۔ میں ان کے کمرے میں گیا تو وہ دروازے سے لگی کھڑی تھیں۔ آنسو ان کی آنکھوں سے نکلنے کی راہ پانے والے تھے کہ میں ان کے گلے جا لگا۔ ماں جی! میں آپ کو لینے آیا ہوں۔ بہت رہ لیں آپ یہاں اپنی وارث کے ساتھ۔ وہاں میرے علاوہ رانو بھی ہے۔ اسے بھی تو اپنی دادو کی خوشبو آنے دیں۔ اسے بھی تو اپنے سائے میں بڑا ہونے کا موقع دیں۔‘‘

ماں جی نے تیاری کی، بیگ اٹھایا اور میرے ساتھ آگئیں۔ ایک معاہدہ سا تھا جو ہم دونوں کے بیچ ہوگیا تھا۔ آپو آپ کہ اس لمحے کا ذکر نہیں کرنا۔ میرے ساتھ ساتھ ان جملوں کا زہر ان کے کانوں میں بھی اترا تھا۔ وہ درد انھوں نے بھی سہا تھا۔

یہ دکھ اس بیٹی نے دیا تھا، جس کو انھوں نے اپنا وارث بنایا تھا۔ جس کے حصے میں آنے والا زہر خود کھایا تھا۔ اس لیے ہوتا ہے کبھی کبھی، کچھ لوگ دکھ اور شدت درد سے ان دروازوں جیسے ہو جاتے ہیں جو چاہنے کے باوجود نہ کھلتے ہیں نہ اندر جانے کی راہ دیتے ہیں۔ بس خاموش اور بند ہو جاتے ہیں پھر اسی خاموشی میں ہی شہر خموشاں میں جابستے ہیں۔‘‘

دادو نے جانے سے چند روز پہلے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور خود کلامی کے انداز میں بولیں:

’’رانو بیٹی! تیری پھوپھو نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ اس کی ماں تھی جس نے اس کو وارث جانا، وارث بنایا اور وہ خود بے وارثی ہوگئی۔ گھر میں ماں نہ ہو، ماں جیسی کوئی چیز تو ہو… دعا کا دروازہ تو کھلا رہتا ہے۔ میرے آنے سے وہ نیک بخت تو اس نعمت سے بھی محروم ہوگئی۔‘‘ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

ماچس کی تیلی ابھی جلی ہے۔ ایک شعلہ سا لپکا ہے اور کئی اگربتیاں سلگنے لگی ہیں۔ دھواں اوپر جا رہا ہے اور خوشبو چاروں طرف دھیرے دھیرے سفر کر رہی ہے اور میں سوچ رہی ہوں ’’بس یہی ہے دادو کی کہانی، کچھ اس سے زیادہ ہو تو مجھے بھی بتلاؤ!‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
اختر عباس

تبصرہ کیجیے