4

ایمان افروز انقلاب

اسلام کی انقلابی تعلیمات کی بدولت چند سال کی مختصر مدت کے اندر عرب کی سرزمین میں جو ایمان افروز انقلاب آیا، وہ تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔ اس حیرت انگیز انقلاب کی برکتوں کا صحیح اندازہ تو انہی خوش نصیبوں کو ہوگا جو اس دورِ سعادت میں موجود تھے۔ جن کی آنکھوں نے اس ذہنی تبدیلی سے پہلے کے حسرت ناک مناظر بھی دیکھے تھے اور انقلاب کے بعد کے ایمان افروز مناظر بھی۔ لیکن آج بھی اگر تاریخ و سیرت کے صفحات میں اس دورِ سعادت کی کوئی جھلک سامنے آجاتی ہے تو آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور ایمان تازہ ہوجاتے ہیں۔

دورِ رسالت سے پہلے کے عرب کی سرزمین میں فضیلت و عظمت کی بات یہ تھی کہ باپ اپنی بیٹی کے حق میں انتہائی سنگ دل اور ظالم ہو، اور وہ اپنی معصوم اور کمزور بچی کی زندگی پر اس کی موت کو ترجیح دے سکتا ہوں، اس دور کا ایک شاعر کہتا ہے:

تَھْوِیْ حَیَاتِیْ وَ اَھْوِیْ مَوْتَھَا شَفَقًا

وَ الْمَوْتُ اَکْرَمُ نِزَالٍ عَلَی الْحَرَمِ

’’وہ میری زندگی کی تمنا کرتی ہے اور میں اس پر شفقت کی خاطر اس کی موت کا خواہاں ہوں، اس لیے کہ عورت کے لیے سب سے زیادہ قابل عزت و اکرام مہمان اس کی موت ہے۔‘‘

ایک اور شاعر کہتا ہے:

اِنَّ النِّسَائَ شَیَاطِیْنُ خُلِقْنَ لَنَا

نَعُوْذُ باِللّٰہِ مِنْ شَرِّ الشَّیَاطِیْنٖ

’’حقیقت میں یہ عورتیں شیاطین ہیں جو ہمارے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ خدا ہمیں ان شیاطین کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔‘‘

رئیس بہراہ کی لڑکی کا انتقال ہوا تو ابوبکر خوارزمی نے تعزیت نامہ لکھتے ہوئے ان جذبات کا اظہار کیا۔

’’اگر آپ مرنے والی کے پردے اور حجاب کا ذکر کرتے یا اس کی خوبیاں یاد کرتے ہیں تو بھی آپ کے لیے تعزیت کے بجائے مبارک باد ہی زیادہ سزاوار ہے۔ اس لیے کہ ناقابل اظہار چیزوں کا چھپ جانا ہی بہتر ہے، اور بچیوں کا دفن کر دینا ہی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ اگر کسی کی شریکۂ حیات اس کی زندگی ہی میں مرجائے تو گویا اس کو ساری نعمتیں مل گئیں۔ اور اگر اس نے اپنے ہاتھوں اپنی بیٹی کو گڑھے میں دبا دیا تو گویا اس نے اپنے داماد سے بھرپور انتقام لے لیا۔‘‘

بنو تمیم کے سردار قیس بن عاصم نے خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اقرار کیا کہ میں نے اپنے ہاتھوں اپنی دس بے گناہ بچیوں کو زندہ دفن کیا۔ ایک اور صاحب نے اپنی درد ناک آپ بیتی کا حسرت ناک نقشہ اس طرح نبیﷺ کے سامنے کھینچا کہ آپؐ بے چین ہوگئے اور اتنا روئے کہ آپؐ کی مبارک داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔

اسی عرب سوسائٹی نے اسلام قبول کر کے جب اسلامی تعلیمات کو جذب کیا تو چند سال میں اس کی کایا پلٹ گئی، کمزور بچی کا حقیر وجود جو کبھی ان کے لیے شرم اور ذلت کا باعث تھا، وہ ان کے لیے سرمایۂ فخر و نجات بن گیا۔ جو اپنی بچیوں کو ماؤں کی گود سے چھین کر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، وہ اب غریبوں کی بچیوں کو پالنے کے لیے آپس میں جھگڑے کرنے لگے۔

ایک عجیب و غریب منظر

عمرے سے فارغ ہونے کے بعد جب نبیﷺ مکے سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے تو ایک یتیم بچی چچا چچا کہتی ہوئی دوڑی آئی۔ یہ حضرت حمزہؓ کی بچی تھی جو مکے میں رہ گئی تھی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر بچی کو گود میں اٹھا لیا، اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گود میں دیتے ہوئے فرمایا لو یہ تمہارے چچا کی بیٹی ہے۔ اور پھر حضرت علیؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت زیدؓ اس بچی کو لینے کے لیے آپس میں جھگڑنے لگے۔

حضرت جعفر طیارؓ نے کہا یا رسول اللہؐ! یہ بچی مجھے ملنی چاہیے۔ یہ میرے چچا کی لڑکی ہے اور میں اس لیے اس کا زیادہ حق دار ہوں کہ اس کی خالہ میرے گھر میں ہے۔ حضرت زیدؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! یہ بچی میرے حوالے کیجیے۔ بچی کے باپ میرے دینی بھائی تھے۔

حضرت علیؓ جو پہلے ہی اس کو گود میں اٹھا چکے تھے بولے حضوؐر! یہ میری بہن ہے اور پہلے میری ہی گود میں آئی ہے۔ اس لیے مجھے ہی ملنا چاہیے۔

بچی کی پرورش کے لیے بے تابی کا یہ بڑا ہی عجیب و غریب اور خوش کن منظر تھا۔ نبیﷺ نے تینوں کی گفتگو پر غور فرمایا اور پھر بچی کو اس کی خالہ کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: الخالۃ بمنزلۃ الام ’’خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے۔‘‘

اس دور میں لڑکی سے پیار و محبت، اس کی عزت و وقعت، اس کی پیدائش پر خوشی اور اس کی پرورش کے لیے بیتابی کے پاکیزہ جذبات اس حد تک بڑھے کہ ایک بدوی شاعر کو طنزاً کہنا پڑا: غد الناس مذ قام النبی الجواریا۔ ’’نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت کے بعد تو لڑکیوں کی یہ کثرت ہے کہ بس لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد یوسف اصلاحی

تبصرہ کیجیے