6

عہدوں کے بارے میں بزرگوں کا رویہ

ہشام بن عبدالملک کے دور میں ابراہیم بن عیلہ نام کے ایک بزرگ تھے جن کی دیانت و امانت اور زہد و تقویٰ کی بڑی شہرت تھی۔ ہشام نے ان کو مصر کے والی کا عہدہ دینا چاہا مگر انہوں نے اس کو قبول کرنے سے معذرت کرلی اور سبب یہ ظاہر کیا کہ میں خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔ ہشام کو ابراہیم بن عیلہ کا یہ جواب بہت ناگوار گزرا اور اس نے غصے سے کہا کہ تمہیں یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا۔ ابراہیم بن عیلہ وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اْس وقت تو خاموش ہوگئے لیکن کچھ روز بعد جب ہشام بن عبد الملک نے پھر اصرار کیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ خداوندِ کریم نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ہم نے اپنی امانت زمین و آسمان کے سپرد کرنا چاہی مگر انہوں نے انکار کردیا۔‘‘ جب اس انکار پر اللہ تعالیٰ اْن سے ناخوش نہیں ہوا تو آپ مجھ سے کیوں ناراض ہوتے ہیں! خلیفہ نے یہ جواب سن کر ان کی جگہ کسی اور کو تعینات کردیا۔

یہ واقعہ اگرچہ صدیوں پرانا ہے لیکن آج بھی اس میں حکمرانوں اور نظم و نسق سنبھالنے والوں کے لیے کئی پیغامات پوشیدہ ہیں۔ اوّل یہ کہ اہم ذمہ داریاں اْن لوگوں کو سونپی جائیں جن کا کردار گواہی دے کہ وہ اس کے مستحق ہیں اور اپنے فرائضِِ منصبی ادا کرنے کے دوران عدل وانصاف کے دامن کو اپنے ہاتھوں سے چھوٹنے نہیں دیں گے، کیونکہ خدا کی نعمتوں اور برکتوں کا نزول ان ہی معاشروں پر ہوتا ہے جہاں حق داروں کے حقوق بلا کسی رکاوٹ کے انہیں میسر آجائیں۔ لیکن اگر کوئی اپنی عاقبت کی بربادی کے خوف سے ایسا عہدہ قبول نہ کرنا چاہے تو اسے مجبور کرنا بھی درست نہیں۔ دوم یہ کہ حکمرانوںکو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ طاقت و دولت کے سہارے وقتی طور پر تو لوگوں کو دبایا جا سکتا ہے لیکن بعد میں اس کے نتائج درست برآمد نہیں ہوتے۔ سوم، عہدہ قبول کرنے والوں کو بھی اس بات پر غور کرلینا چاہیے کہ جو ذمہ داریاں انہیں تفویض کی جارہی ہیں وہ ان سے احسن طور پر عہدہ برا ہونے کی صلاحیت کے حامل ہیں بھی یا نہیں؟کیونکہ ناکامی کی صورت میں خلقِ خدا جس عذاب سے گزرے گی وہ سب ان کے اعمال ناموں میں ہی درج ہوگا اور بروزِ حشر یہ گھاٹے کا سودا ان کے لیے شرمندگی کا سبب بنے گا۔

اگر ہم اسلامی تاریخ کے صفحات پر اپنے بزرگوں کے واقعات کا مطالعہ کریں تو اس قسم کی اَن گنت سبق آموز سچی داستانیں نگاہوں سے گزریں گی۔ اگرچہ ہمارے اسلاف دیانت و امانت و پرہیزگاری کے سلسلے میں مثالی کردار کے حامل تھے لیکن حشر میں جوابدہی کے خوف سے وہ بڑے سے بڑے عہدہ کو ٹھوکر مار دیا کرتے تھے۔ لیکن آج بات بالکل ہی الٹ ہوچکی ہے، اب نہ اہلیت کو پرکھا جاتا ہے اور نہ ہی زہد و تقویٰ کو معیار سمجھا جاتا ہے، اہم ترین مناصب اْن لوگوں کے سپرد کردئیے جاتے ہیں جو ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں اور حکامِ بالا کی شان میں اضافے کا سبب بن سکیں۔ اس سلسلے میں عہدہ قبول کرنے والوں کو بھی یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ ایک دن انہیں خالقِ برحق کے حضور پیش ہوکر ہر جائز و ناجائز عمل کا حساب دینا ہوگا اور پھر وہاں کوئی بھی طاقت انہیں اللہ کے غیظ و غضب سے محفوظ نہ رکھ سکے گی۔ ہمارے اداروںسے یہ چلن عام ہوا ہے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہر کام میں برکت ختم اور اجتماعیت کا سکون غارت ہوکر رہ گیا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
اسماء فردوس

تبصرہ کیجیے