3

مومن کی زندگی میں دعا کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں دن رات، پھول کانٹے اور خوشیاں غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ قانون قدرت ہے۔ کسی نبی، کسی ولی اور کسی عام انسان کے لیے اس قانون میں استثنیٰ (چھوٹ) نہیں۔ کوئی یہ چاہے کہ میں اپنی دولت، اپنے وسائل اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر یا نیکی اور تقویٰ کے ذریعے ساری خوشیاں خرید لوں اور مجھے کبھی کوئی غم نہ ستائے تو یہ ’’ایں خیال است و محال است‘‘ والی بات ہے۔

بندے کا اصل امتحان یہ ہے کہ غم کے موقع پر صبر، مناسب تدبیر اور دعا کے ذریعے اس کا مقابلہ کرے اور خوشی کے موقع پر اللہ کا شکر ادا کرے۔

اللہ رب العزت کی نعمتوں میں دعا اور توفیق دعا بڑی خاص نعمت ہے۔ بندہ مومن اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے مسلسل مانگتا رہتا ہے۔ کیوں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ اس ہتھیار کے ذریعے وہ رب کی مدد اور نصرت حاصل کر کے ہر پریشانی سے نجات اور ہر میدان میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’دعا مومن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم)

یعنی دعا قیامت تک بلا سے لڑتی رہتی ہے اور اسے دعا کرنے والے تک آنے سے روکے رکھتی ہے۔ عموماً دعا کے حوالے سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ میں نے بہت دعائیں کیں مگر قبول نہ ہوئیں۔ حدیث کے مطابق کوئی دعا ضائع نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ خلوص دل سے کی گئی ہر دعا کے ساتھ تین معاملے فرماتا ہے۔

ترمذی اور مسند احمد میں ہے:

’’اللہ سے جو مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے یا پھر اس دعا کو محفوظ کر کے آخرت میں (نیکیوں کی شکل) میں عطا کرے گا یا اس کے برابر کی مصیبت کو روکے رکھتا ہے۔‘‘

اللہ کے بندوں میں کچھ خوش نصیب ایسے ہیں جن کی دعائیں قبول ہونے کی احادیث میں بشارت دی گئی ہے۔ ترمذی میں ہے کہ تین قسم کے آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی دعا، جب افطار کرے، دوسرے امام عادل کی دعا اور تیسرے مظلوم کی دعا۔ ابوداؤد میں ہے کہ باپ کی دعا، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا کی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔

احادیث میں بعض اوقات کا ذکر ہے کہ ان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ہر رات کا آخری حصہ (بخاری) اذان و قامت کے وقت (ابوداؤد) فرض نماز کے بعد (ترمذی) سجدے کی حالت میں (نسائی) امام کے ولا الضالین پڑھنے کے بعد آمین کہنے والے کی (بخاری) قرآن مجید کی تلاوت اور ختم قرآن کے وقت (ترمذی) جمعہ کی رات میں (ترمذی) اور جمعہ کے دن میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔ (بخاری)

اللہ کے رسولؐ نے بہت سارے مواقع کے لیے دعا کے الفاظ بھی سکھائے ہیں۔ خود قرآن مجید نے انبیاء کی دعا کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ دعا کے الفاظ کے سلسلہ میں پیارے رسولؐ نے بعض اصولی باتیں بھی ارشاد فرمائی ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ آپ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ صفاتی نام ہیں تم ان ناموں کے حوالے سے دعا کرو۔‘‘ ایک اور جگہ حضرت انس بن مالک کی روایت آتی ہے کہ نبیؐ نے ایک شخص کو نماز کے بعد ان الفاظ میں دعا مانگتے سنا: اللھم انی اسئلک بان لک الحمد لا الٰہ الا انت وحدک لا شریک لک المنان بدیع السموات والارض ذو الجلال والاکرام۔‘‘

تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص نے اللہ سے اس کے ان ناموں کے حوالے سے مانگا کہ اگر ان ناموں کے حوالے سے مانگا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔ مذکورہ روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعا کے مقامات، اوقات اور انداز کے ساتھ الفاظ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مسنون دعاؤں کے الفاظ یاد کریں اور اپنی دعا انہی الفاظ کو بنائیں۔

دعا کے حوالے سے چند انبیاء علیہم السلام اور ایک امام وقت کی دعائیں پیش خدمت ہیں، جن میں رہنمائی کا بڑا سامان ہے۔

حضور اکرمﷺ کی دعا

اسلام و کفر کے درمیان پہلا معرکہ بدر کے مقام پر ۲ہجری میں ہوا۔ مسلمان ۳۱۳ اور کفار تین گنا زیادہ۔ جنگ سے پہلے رسول اللہﷺ بارگاہ رب العالمین میں سر رکھے دعا کر رہے ہیں: خدایا! یہ قریش ہیں اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کردیں، خداوند! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تونے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ اے خدایا! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔‘‘

اللہ رب العزت نے فرشتوں کے لشکر بھیج کر مدد کی۔ اس دعا کے حوالے سے یہ اہم بات سامنے رہے کہ پیارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بیٹھ کر صرف دعا نہیں کی بلکہ جو کچھ اپنے پاس تھا، افرادی قوت، ہتھیار اور مال لاکر میدانِ جنگ میں پیش کیا، پھر دعا کی اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں، جمعہ میں اور عیدین پر دعا کردی یا اللہ اسلامی انقلاب آجائے۔ بس اب خود بخود ہی حالات بدل جائیں، فرشتے اتر پڑیں۔ یوں نہیں ہوتا۔ مناسب تدبیر، موثر کوشش، مسلسل جدوجہد اور اپنی ضروریات کی قربانی اور انفاق فی سبیل اللہ کے بغیر دعائیں قبولیت کے لیے آسمان و زمین کے درمیان لٹکتی رہتی ہیں۔

حضرت ایوبؑ کی دعا

بائبل کے بیان کے مطابق حضرت ایوبؓ کا جسم سر سے پاؤں تک پھوڑوں سے بھر گیا۔ انہوں نے اس تکلیف کو بڑے صبر و ہمت سے برداشت کیا اور اللہ کے حضور کتنی خوب صورت دعا کی: رب انی مسنی الضر و انت ارحم الراحمین (الانبیاء:۸۳) کوئی شکایت، کوئی گلہ نہیں۔ اتنی بیماری کے باوجود لبوں پر یہی صدا ہے پروردگار! مجھے بیماری لگ گئی تو ارحم الراحمین ہے۔ یہ ہے حقیقی بندۂ مومن کا کردار۔ اچھے حالات میں تو ہر کوئی کہتا ہے اللہ بڑا کریم ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، اللہ نے مجھے بڑا عطا کیا۔ لیکن سب کچھ چھن جائے، حتی کہ زندگی بھی خطرے میں پڑجائے، پھر بھی بندہ مومن یہی کہے، میں تیرا بندہ تو میرا رب اور تیری ذات سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والی ہے۔

اور پھر ایک کلمہ بھی شکایت کا زبان سے نہ نکلے۔ ہم تو معمولی بہانہ بنا کر نماز، اجتماعات اور جماعتی کاموں سے جان چھڑانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

حضرت زکریاؑ کی دعا

اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے بھی اولاد کے لیے دعائیں کیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہوگئے۔ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں، اللہ کے حضور پھر بھی دعا کر رہے ہیں، امید کا دامن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں:

رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین (الانبیاء:۸۹) ’’میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور توہی سب سے اچھا وارث ہے۔‘‘

کتنی شاندار دعا ہے۔ ایک طرف یہ دعا ہے کہ رب مجھے وارث عطا کر، تنہا نہ چھوڑ، دوسری طرف اس عقیدے کا اظہار بھی کہ اصل وارث تو تیری ذات ہے۔ اس دعا میں ہر اس بہن بھائی کے لیے سبق ہے جو اولاد کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔ اللہ اگر دینا چاہے تو بڑھاپے میں بھی اولاد عطا کر سکتا ہے۔ ہمارا کام اس در پر فقیر بن کر مانگتے رہنا ہے۔ وہ کریم جب چاہے دروازہ کھول کر کاسہ گدائی کو بھردے۔

امام احمد بن حنبلؒ کی دعا

وقت کے ظالم حکمراں معتصم باللہ کے سامنے کلمہ حق کہنے پر امام صاحب کو کوڑے مارے گئے، کہتے ہیں کہ اگر ایسے کوڑے طاقت ور ہاتھی کو بھی لگتے تو چیخ اٹھتا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کوڑے کھاتے ہوئے، امام وقت نے ایک دعا کی، جس میں ہر مسلمان بالخصوص نوجوانوں کے لیے بڑا سبق ہے۔ سوچئے ہمارے اسلاف کتنے حیادار تھے۔ کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں، صرف یہ دعا:

’’اے فریادیوں کی فریاد سننے والے! اے کائنات کے معبود، اگر تو جانتا ہے کہ میں حق پر قائم ہوں تو مجھے عریانی سے بچا۔‘‘

یعنی کوڑوں سے میری قمیض تو پھٹ گئی مگر میرا ستر نہ کھلے۔ دیکھئے ان حالات میں کیسی حیا ہے، اور ہم ویلنٹائن ڈے، میرا تھن، ثقافت اور فیسٹول کے نام پر بے حیائی کے کلچر کو عام کر رہے ہیں، کیا یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ تھا؟ اللہ تعالیٰ ہمیں حالات کو بدلنے، اپنے دین کی جدوجہد کرنے اور ہر وقت اپنے درکا سوالی بنائے۔ آمینlll

شیئر کیجیے
Default image
خالد محمود

تبصرہ کیجیے