3

فلاح کی بنیادیں: ایمان اور عمل صالح

قرآن حکیم نے سورہ العصر میں فلاح و خسران کے تصور کو دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے، فرمایا: ’’زمانے کی قسم، انسان در حقیقت بڑے خسارے میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے۔‘‘ گویا خسارے اور نقصان سے وہی لوگ بچیں گے جو چار صفات سے متصف ہوں گے۔ ایمان، عمل صالح، توصیت حق اور توصیت صبر۔ ہم اپنی اس تحریر میں پہلی دو صفات کا ذکر کریں گے، یعنی ایمان اور عمل صالح، خسارے سے محفوظ رہنے کے لیے پہلی اہم خصوصیت ایمان ہے۔

لغوی اعتبار سے ایمان کی اصل ’امن‘ ہے جو قرآن میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ امن، امان، یقین، تصدیق، کتاب اللہ میں یہ لفظ ان تمام طریقوں سے مستعل ہے۔ ’مومن‘ کا لفظ اس کے مشتقات میں سے ہے اور اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں بھی شامل ہے۔ پس وہ یقین جو خشیت، توکل اور اعتقاد کے تمام لوازم و شرائط کے ساتھ پایا جائے، ایمان ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے، اس کے فیصلوں پر راضی ہوجائے، وہ مومن ہے۔

مولانا حمید الدین فراہیؒ ایمان حقیقی کا مفہوم واضح کرنے کی بحث کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’ایمان ایک نفسانی و روحانی حالت کا نام ہے، جو انسان کے تمام عقائد و اعمال پر حاوی ہے۔ وہ جس طرح علوم سے بڑھتی ہے، اسی طرح اعمال سے بھی اس میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس کے دو رکن ہیں، ایک علم اور دوسرا عمل۔ اس میں سے ایک کو بھی ڈھا دوگے تو اس کی پوری عمارت ڈھے جائے گی۔‘‘

’’ایمان کا لفظ قرآن حکیم میں محض زبانی اقرار کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورہ النساء میں فرمایا: ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر پر بڑھتے چلے گئے تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہِ راست دکھائے گا‘‘ (۱۳۷)۔گویا یہ وہ لوگ ہیں، جن کے لیے دین ایک غیر سنجیدہ و تفریح اور کھلونا ہے۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھی، مسلمان ہوگئے جب دوسری لہر اٹھی، کافر بن گئے۔ ان کا ایمان، زبانی اقرار تک محدود ہے، یہ معبود منفعت کے غلام ہیں۔

سورہ المائدہ میں فرمایا:

’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہو اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کردے گا جو ا للہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔‘‘(۱۵۴)

سورہ انفال میں فرمایا:

’’اے اہل ایمان، مت خیانت کرو اللہ سے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اور نہ ہی اپنی (آپس کی) امانتوں میں خیانت کرو جانتے بوجھتے۔‘‘

سورہ التوبہ میں فرمایا:

’’اے ایمان کے دعوے دارو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو، اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف (سوچو!) کیا تم نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو قبول کرلیا ہے؟‘‘

دراصل قرآن مجید میں جس ایمان کا تقاضا کیا گیا ہے وہ قانونی نہیں حقیقی ایمان ہے، جس کا تعلق دل سے ہے۔ گویا ایمان قلب سے تعلق رکھنے والی اور محبت کو جوش دلانے والی چیز ہے، فرمایا: ’’وہی لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا اور ان کی اپنی طرف سے روح سے تائید کی۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ:۱۶۵)

قرآن مجید میں دوسرے متعدد مقامات پر سچے دل سے ماننے اور یقین کرنے کو ہی ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے: ’’مومن تو حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں نہ پڑے۔‘‘ (الحجرات:۱۵)

حم السجدۃ میں فرمایا: ’’جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔‘‘ (۳۰)

سورہ انفال میں کہا: ’’مومن تو حقیقت میں وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔‘‘

سورہ نساء میں اہل ایمان کی خصوصیت یوں واضح کی: ’’پس نہیں، اے نبیؐ) تمہارے رب کی قسم، وہ ہرگز مومن نہیں ہیں جب تک کہ اپنے باہمی اختلاف میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کریں۔‘‘

اس سورہ النساء میں زبانی اقرار ایمان اور حقیقی ایمان کا فرق واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مطلوب حقیقی ایمان ہے، زبانی اقرار نہیں۔

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر‘‘ (۱۳۶)۔

صرف زبان سے لا الٰہ الا اللہ کہہ دینے سے بات بنتی نہیں، اس لیے جابجا عمل کا مطالبہ کیا گیا، آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر ہی یہ حقیقت سامنے آئی ہے مومن کون ہے اور فاسق کون۔

’’کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائشوں میں نہ ڈالے جائیں گے، اور بے شک ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے، پس البتہ اللہ معلوم کرے گا ان لوگوں کو جو سچے ہیں اور معلوم کرے گا ان لوگوں کو جو جھوٹے ہیں۔‘‘

ہم نے اوپر کی سطور میں ایمان کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمان کے معنی یقین اور ایقان کے بھی ہیں۔ قرآن مجید میں ایمان کو اس معنی میں استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ صیغہ فعل کی صورت اختیار کی گئی ہے اور ایمان کے متعلقات کو بھی بیان کیا گیا ہے:

’’ایمان لایا (یقین کیا) رسول اس چیز پر جو اس پر اتاری گئی اس کے رب کی جانب سے اور مومنین ہر ایک ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (اور کہا) ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور کہا (صمیم قلب سے) ہم نے سنا اور اطاعت کی۔‘‘ اس سے قبل سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ میں بھی ایمان کے اجزا کو گنا گیا ہے کہ کن چیزوں پر ا یمان لانا لازمی قرار دیاہے۔

اللہ پر ایمان لانا اسے وحدہ لاشریک تسلیم کرنا، اس کو حاکم حقیقی ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے، ان سے رک جانا ایمان کی اساس ہے، اسی طرح ایمان بالرسالتؐ، ایمان بالآخرت، ایمان بالملائکہ اور ایمان بالکتب ایمان کے بنیادی اجزا ہیں۔

ایمان کے بعد دوسری اہم صفت، جو فلاح و کامرانی کی ضمانت فراہم کرتی ہے اور خسران سے تحفظ دیتی ہے وہ عمل صالح ہے۔ عملوا الصالحات ایک ایسا جامع کلمہ ہے، جس میں تمام اعمال حسنہ سمٹ آئے ہیں۔

قرآن حکیم نے اعمال حسنہ کو صالحات سے تعبیر کیا ہے او ریہ لفظ تمام نیکیوں کا جامع ہے۔ کوئی بھی عمل اس وقت تک صالح نہیں ہوسکتا، جب تک اس کی جڑ ایمان میں موجود نہ ہو۔ انسان کے لیے زندگی اور نشو ونما کا سبب عمل صالح ہی ہے اور یہی انسان کی ظاہری و باطنی، شخصی و اجتماعی صلاح و ترقی کا ذریعہ ہے اور اسے اعلیٰ مدارج تک پہنچانے کا سبب ہے۔ قرآن مجید میں کسی مقام پر بھی ایمان کے بغیر کسی عمل کو صالح نہیں کہا گیا۔ انسان کے مقصد وجود کی تکمیل اس وقت ممکن ہے جب اس کو عطا کردہ صلاحیتیں، فطری انداز میں پروان چڑھیں۔

قرآن نے کہا: ’’اور میں نے نہیںپیدا کیا جنوں اور انسان کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘

یہاں عبادت سے طاعت الٰہی مراد ہے۔ اطاعت، اعمال صالحہ سے نمو پاتی ہے، جو اعمال اس قادر و قدیر کی حکمت و تدبیر کے موافق ہوں گے اس کی مرضی و منشا کی تکمیل کر رہے ہوں گے، وہ اعمال حسنہ کہلائیں گے۔ قرآن اس امر کی تصریح کرتا ہے کہ انسان کی ترقی عمل صالح پر مبنی ہے۔

’’اس کی طرف عروج پاتا ہے کلام طیب اور عمل صالح اس کو رفعت بخشتا ہے (انسان کا یہ عروج، عمل صالح اور اس اعلیٰ مقصد کا نتیجہ ہے جو اس کائنات کی خلقت کا منشا ہے) اور جو لوگ برائی کی سازشیں کرتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کی تدبیر نامراد ہوگئی (کیوں کہ بری تدبیریں اس حق کے خلاف ہیں جو کائنات کی اصل روح ہے اس لیے جو کوشش اس کو مٹانے کے لیے ہوگی اللہ تعالیٰ اس کو فروغ نہ دے گا، کیوں کہ اس کائنات کی تخلیق کا منشا در حقیقت ایک عظیم الشان حکمت ہے، جس کا نام قرآن مجید کی اصطلاح میں ’حق‘ ہے۔‘‘

اسلام کے اساسی اصولوں پر مکمل یقین کرنے کا نام ایمان ہے اور عمل صالح یہ ہے کہ ان اصولوں کے مطابق اخلاص اور محبت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ تنہا عمل و یقین کفایت نہیں کرتا، جب تک اسے عمل کے سانچے میں ڈھال نہ دیا جائے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت سے یکساں اہمیت کے حامل ہیں، ان کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ہمارا المیہ یہ رہا کہ ہم جتنا ایمان کو اہمیت دیتے ہیں، عمل صالح کو وہ درجہ نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں ہماری زندگیوں میں بہت بڑا خلا موجود ہے۔ ہم اگر کلام مبین کی تعلیمات کو صحیح معنوں میں پیش نظر رکھیں اور اس کی روشنی میں تعلیم و تبلیغ اور تلقین اور تبشیر و تنذیر کا تسلسل قائم کریں تو صورتِ حال میں بہ آسانی تغیر رونما ہوسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عتیق الرحمن صدیقی

تبصرہ کیجیے