خطوط

حجاب کے نام

قابل غور

انحطاط، تنزل اور پستی۔۔۔آج یہ الفاظ شاید بہت چھوٹے ہیں۔ ہمارے ادارہ نشرو اشاعت، میڈیا، یا ریگولیٹری اتھارٹی کوئی بھی اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کررہا۔ شاید ہمارے ہاں فنکاروں کا قحط پڑ چکا ہے، جبھی تو ہر اشتہار میں اداکار اور اداکارائوں کو کروڑوں روپے دے کر دکھا رہے ہیں اور بے لباسی کے عالم میںقومی کلچر کا جنازہ دن رات میڈیا پر نکل رہا ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اشتہار چاہے موبائل فون کا ہو یا صابن، لوشن، شیمپو کا۔۔۔کترینہ یا کرینہ ہی نظر آئیں گی اور وہ بھی انتہائی قابلِ اعتراض لباس میں۔ کمپنیوں کی بے غیرتی تو اپنی جگہ ہے ہی کہ وہ ایک نئے کلچر کو ہمارے یہاں فروغ دینا چاہتے ہیں خود ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی اسے برداشت کرلیتے ہیں اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے۔

حالاں کہ اشتہارات تو بچوں پر بھی بنائے جا سکتے ہیں جو زیادہ کامیاب ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سماج میں اس شعور کو بیدار کریں کہ اپنی مصنوعات بیچیں، مگر بے حیائی کو فروغ نہ دیں۔ برائے مہربانی فحاشی اور عریانی کے اس سیلاب پر بند باندھنے میں ایک دوسرے کے مددگار بن جائیے۔ اور مل کر اس کے خلاف آواز اٹھائیے۔

ام فاطمہ

(گلبرگہ، کرناٹک)

خصوصی گوشہ

اپریل کا شمارہ ہر اعتبار سے دلکش ہے۔ ٹائٹل تو خوبصورت ہے ہی مضامین اس سے زیادہ خوبصورت اور اچھے ہیں۔ ’لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے خاص میدان‘ کے تحت جو گوشہ قائم کیا ہے وہ بہت پسند آیا۔ تعلیم و کیریئر کے سلسلہ میں پہلے ہی مضمون میں جن امور کی طرف نشان دہی کی گئی ہے، وہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے نظریہ کی اساس بن جائیں تو سماج و معاشرہ میں انقلاب آسکتا ہے۔ اس گوشہ میں جن میدانوں کی طرف نشان دہی کی گئی ہے وہ وقت کی ضرورت ہیں۔ حالاں کہ اس مختصر گوشہ میں تمام میدانوں کا احاطہ ممکن نہ تھا۔

امید ہے کہ ہماری بہنیں کیریئر کے انتخاب میں اس شمارے سے ضرور مدد لیں گی۔lll

خنسا جنیدشیخ

کٹ کٹ گیٹ ،اورنگ آباد

(بذریعہ: ای میل)

چشم کشا رپورٹ

اپریل کے شمارے کے تمام مشمولات پسند آئے۔ مساوات مرد و زن کا اسلامی تصور اچھا لگا۔ لڑکیوں کی تعلیمی رہنمائی کے سلسلہ میں یہ اچھی کوشش ہے۔ امید ہے کہ طالبات اس سے رہنمائی حاصل کریں گی۔ دولت کے ارتکاز پر جو رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ چشم کشا اور معلوماتی ہے۔ یہ رپورٹ قارئین کو مذکورہ موضوع پر وسیع اور مدلل معلومات فراہم کرتی ہے۔ امید ہے کہ اس طرح کی معلوماتی رپورٹوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ lll عالیہ اقبال

(بذریعہ ای میل)

خواتین سے متعلق رپورٹیں

حجابِ اسلامی میرا پسندیدہ رسالہ ہے۔ اس کے مضامین شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ اپریل کے شمارے میں نئے انداز کی چیزیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ دولت کے ارتکاز پر رپورٹ خوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ خصوصی رپورٹیں خواتین سے متعلق موضوعات پر ہوں تو اچھا ہے۔ کیوں کہ حجاب اسلامی خواتین ہی کا رسالہ ہے۔ امید کہ حجاب اسلامی اسی طرح ترقی کرتا رہے گا۔lll

شیخ عقیل (بارسی ٹاکلی، اکولہ)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے