پپیتا

پپیتا: مفید اور مکمل پھل

پپیتا کچا ہونے کی حالت میں اوپر سے سبز اور اندر سے سفید ہوتا ہے۔ پک جانے پر بیرونی رنگت زرد پڑ جاتی ہے اور گودا بھی زرد ہو جاتا ہے۔ آم اور پپیتے کے غذائی اجزا مماثلت رکھتے ہیں۔ اس میں آبی، لحمی اور روغنی اجزا کے علاوہ معدنی نمک، نشاستہ، چونا، فاسفورس، فولاد، حیاتین الف اور ج پائے جاتے ہیں۔ آم کے ہر 100 گرام میں 28، جب کہ پپیتے میں 22 حرارے جتنی غذائی قوت موجود ہوتی ہے۔

پپیتا معدے اور جگر کے لیے بالخصوص مفید ہے۔ جگر کی اصلاح کرتا اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔ تبخیر معدہ جیسے عام مرض کا شافی علاج ہے۔ ریاح خارج کرتا ہے۔ اْم الامراض ’قبض‘ کی بیخ کنی میں انتڑیوں کی غلاظت دور کرکے مرہم جیسا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پیشاب آور بھی ہے، بدن سے فاسد مادے اور پتھر بھی ریزہ ریزہ کرکے بذریعہ پیشاب خارج کردیتا ہے۔ بواسیر، دائمی قبض، جگر کی خرابی، بدہضمی اور تلی کے امراض میں مفید غذا ہے۔ غذا ہضم کرنے میں مؤثر ہے۔ پپیتا پیٹ کے کیڑوں، کدو دانوں کا قدرتی علاج ہے۔ جب صبح چہرے پر سوجن ہو اور وہ رفتہ رفتہ کافور ہوتی جائے تو یہ جگر کا فعل درست نہ ہونے کی علامت ہے۔ ایسی حالت میں غذا کے درمیان یا فوراً بعد آدھ سے ایک پائو پپیتا استعمال کیجیے، مفید ثابت ہوگا۔

یہ بڑھی ہوئی تلی صحیح کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پکا پھل مفید ہے اور کچا بھی۔ کچے پھل کے ٹکڑے سرکے میں ڈال دیں۔ آٹھ دس روز بعد ایک دو ٹکڑے روزانہ کھائیے۔ مثانے کی بیماری میں بھی پپیتا استعمال کریں۔ جدید طب کی رو سے اس مرض کا علاج آپریشن ہے مگر پہلے فطرت سے مدد لیجیے۔ چھ ہفتے تک صبح و شام آدھ پائو پپیتا کھائیے، عام طور پر مثانے کی پھولی ہوئی نسیں طبعی حالت میں آجاتی ہیں۔

کچے پھل کی دودھیا رطوبت بھی اعلیٰ درجے کی ہاضم ہے۔ ایک پھل کی رطوبت صاف کپڑے کے ٹکڑے پر جذب کرلیں۔ خشک ہونے پر سفید سفوف رہ جائے گا، اسے احتیاط سے اکٹھا کرکے شیشی میں سنبھال کر رکھیں۔ آدھی سے ایک رتی یہ سفوف شکر ملا کر کھائیے، ہاضمے کی لاجواب دوا ہے۔ یہ دودھ بچھو کے کاٹے کا بھی شافی علاج ہے۔ کچے پھل کا قتلہ روزانہ داد پر مَلا جائے تو اس سے بھی نجات ملتی ہے۔

بعض افراد کچا پھل بطور سبزی پکاتے ہیں۔ یہ غذا نہ صرف قبض دور کرتی بلکہ مائوں میں دودھ کی افزائش کرتی ہے۔ اس کا سرکہ بھی بنتا ہے اور رس تو کئی ادویہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اچار بھی ڈالا جاتا ہے۔ پھل کے ٹکڑے سرکے میں ڈال دیں اور آٹھ دس روز بعد بطور اچار استعمال کریں۔

پپیتے کے چھلکے

یہ سخت گوشت گلانے میں مستعمل ہیں۔ یہ تاثیر پپیتے کے دودھ کی وجہ سے ہے۔ کئی خواتین کاٹا گیا پپیتا خشک کرنے کے بعد محفوظ کرلیتی ہیں۔ گوشت پکاتے وقت پپیتے کا سفوف کام آتا ہے۔ یہی کام پکے پھل کے چھلکے بھی بخوبی انجام دیتے ہیں۔ چھلکے اچھی طرح خشک کرلیجیے اور ہاون دستے میں کوٹ کر سفوف بنا لیں۔ سری پائے، بونگ یا سخت گوشت گلانے کے لیے فی کلو ایک چمچی سفوف پکتے سالن میں ڈال دیجیے۔ تکے، کبابوں یا دوسرے پکوانوں کے مسالے میں یہ سفوف شامل کیجیے، ان کی لذت اور حلاوت میں بھی اضافہ ہوگا۔

مضر اثرات

پپیتے کے بھی کچھ نقصانات ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے۔

٭… اس کا مزاج گرم تر ہے لہٰذا گرم مزاج والے اس سے پرہیز کریں۔

٭ اسے کبھی نہار منہ (خالی پیٹ) استعمال نہ کیجیے۔

٭ ہمیشہ دو کھانوں کے درمیان کھائیے۔

٭ حمل ساقط کردینے والی خصوصیات کی بنا پر حاملہ خواتین کھانے سے اجتناب کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت فضل

تبصرہ کیجیے