2

اسلام میں تفریح اور کھیل کا تصور

تفریح دراصل عربی زبان کا لفظ ہے اسے عام معنی میں گپ شپ، دل لگی ، ہنسی مذاق ،خوشی و مسرت ، فرحت ا ور اطمینان وغیرہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فرحت محض قلبی خوشی ہو اور اللہ کی نعمتوں کے احساس اور اس کے فضل وکرم کے استحضار پر مبنی ہو تو وہ شرعاً مطلوب،مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مہربانی سے ہے، تو چاہیے کہ وہ لوگ خوش ہوں۔‘‘ (یونس:۸۵)

موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ عوام الناس کو تفریح فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیںلیکن اس پر ایسے سوچ والے افراد کا قبضہ ہے جن کے یہاں اخلاق و کردار کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ صرف عیاشی اور عریانیت تفریح کا محور ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ تفریح اور کھیل کے نام پر عریانی و فحاشی، بے ہنگم موسیقی، شراب نوشی، جوئے بازی ، لاٹری ، فحش ایپی سوڈ،مخلوط مجالس کا تصورپیش کرتے ہیں جس سے معاشرے میں حرص و ہوس، صحت و اخلاق کی خرابی ، ذہنی بے سکونی اور جنسی پیاس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کو’ آرٹ یا فن‘ کا نام دیا جاتا ہے اور اعلی تہذیب کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ جس کی مثال خود مغربی معاشرے ہی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اسلام میں تفریح کا تصور

اسلام کا تصور تفریح قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبوی پر مبنی ہے۔ جس میں حلال و حرام، شرم و حیا اور اخلاقی پابندیوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ زندگی کا کوئی بھی ایسا گوشہ نہیں ہے جس کے لیے واضح ہدایات نہ دی گئی ہوںکیوں کہ اللہ تعالی نے انسانوں کی اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ تفریح کے لیے بھی قرآن و حدیث میں کچھ رہنما اصول موجود ہیں۔ ہمارے لیے نبیِ کریم کی زندگی نمونہ ہے۔آپﷺ جہاں ایک طرف اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ قدمِ مبارک پرورم آجاتا تھا وہیں آپﷺ صحابہ کرام سے ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرتے تھے۔

وجہ یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو پسندنہیں کرتا بلکہ چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔

’’کہ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیںتو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں‘‘(نساء:۲۴۱)

سستی اور کاہلی بے جا فکرمندی اتنی ناپسندیدہ چیز ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور سے پناہ مانگی ہے۔اسی لیے آپﷺ دعا فرماتے تھے:

ترجمہ: ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں پریشانی اور غم سے، درماندگی و عاجزی اور حزن و ملال سے۔‘‘ (سنن ابوداؤد)

صحابہ کرام بھی آپس میں ہنستے کھیلتے اور دل لگی کی باتیں کرتے تھے۔ اس لیے ہنسی مذاق اور تفریح کرنا کوئی ناجائز کام نہیں بشرط کہ اسے مستقل عادت نہ بنا لیا جائے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ سے کام لے ۔ حدیثِ نبوی ہے :

’’ تباہی ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی باتیں کرتا ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے ‘‘۔(ترمذی :۵۱۳۲)

اسی طرح یہ بھی صحیح نہیں کہ وہ لوگوں کی قدر ومنزلت اور عزت کا خیال نہ رکھے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔

اسلام کے تصور تفریح کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں ہے بلکہ خوش طبعی و فرحت کا حصول ہے۔ تفریح کے نام پر جھوٹ، تہمت، مبالغہ آمیزی اور دوسروں کی نقل اتارنے کی اجازت نہیں دی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ اسلام نے ان مجلسوں میںشرکت کرنے سے روک دیاجس میں انسان اس قدر منہمک ہوجائے کہ اسے نماز ودیگر فرائض کا پاس وخیال نہ رہے یامردوزن کا بے محابا اختلاط ہو۔

اسی لیے اسلام نے تفریح اور کھیل میں سے صرف انھیں کی اجازت دی ہے جو جسمانی یا روحانی فوائد کے حامل ہوںاورجو محض تضیعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکرِ آخرت سے غافل کرنے والے ہوںیا دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں،ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تفریح کے ذرائع اور کھیلوں کی احادیث و آثار میں صریح ممانعت کی گئی ہے کہ وہ سب ناجائز ہیں جیسے کبوتربازی، جانوروں کو لڑانا،وغیرہ۔

جائز تفریح اور کھیل

اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہولعب سے اِعراض ہو ۔یہی وہ زندگی ہے جو اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل غفلت و بے پرواہی ہو وہ کفار کا شعار ہے۔ اور لھو الحدیث کے زمرے میں آتے ہیں۔ جب کہ اہل ایمان کی خوبی یہ بتاتی گئی ہے کہ:

ترجمہ:’’کہ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے اعراض کرتے ہیں‘‘ (المومنون:۳)

ایسی تفریح اور کھیل جن کی اسلام حوصلہ افزائی کرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

lتیراندازی،نیزہ بازی اور نشانہ بازی: نشانہ بازی چاہے تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ احادیث میں اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اسے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے ۔یوں بھی یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ جہاں جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں مثلاًفساد اور دنگوں میں دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔

lیہ بھی اسلام کا پسندیدہ کھیل ہے، اس سے جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرأت اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفریا جہاد میں خوب کام آتا ہے۔ اگرچہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے مگر اس میں ہر وہ سواری مراد ہے جواس مقصد کو پورا کر سکے مثلاً ہوائی جہاز،ہیلی کاپٹر، بس، موٹر سائیکل، سائیکل وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اور ٹریننگ اسلامی نقطئہ نظر سے پسندیدہ کھیل ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیا جائے۔

lاپنی صحت اور توانائی کے مطابق ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماء کرام اور ڈاکٹر متفق ہیں۔ احادیث میں بھی اس کو جائز بلکہ مستحب قرار دیا ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’ ہر وہ امر جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی ہو غفلت ہے یا بھول، سوائے چار باتوں کے۔تیر اندازی کے ہدف کے درمیان دوڑنا،گھوڑے کی تربیت کرنا، تیراکی سیکھنا اور گھر والوں کے ساتھ خوش وقتی کرنا‘‘(الطبری:۶)

پیدل دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہ کرام عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔حضرت بلالؓ بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑتے تھے اور بعض ،بعض سے دل لگی کرتے تھے، ہنستے تھے، ہاں! جب رات آتی، تو عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے۔ (مشکوٰۃ: ۴۰۷)

فلمیںاور اسٹیج ڈرامے

تفریح یا بہتر مقاصد کے لیے اگرفلموں اسٹیج ڈراموں کیا جائے تو اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت ہے کہ اس میں دھوکہ نہ ہو،موسیقی کا استعمال نہ ہو، کسی مومن کی کردارکشی نہ کی گئی ہو، شکلیں بگاڑی نہ جائیں، انہماک زائد نہ ہو اور مردوزن کا اختلاط نہ ہو ۔

ویسے بھی مغربی ذرائع ابلاغ کا جواب ہمیں اسی کے ذریعہ دینا ہوگا۔ اگر مغرب نے فلم اور ٹی وی کو فحاشی وعریانی پھیلانے کا ذریعہ بنا لیا ہے تو ہم اس کا استعمال دینی و اصلاحی کاموں میں کر سکتے ہیں۔ایران نے اس میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔

اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ عوام الناس کے لیے تفریح کا سامان ضرور فراہم کیا جائے لیکن اس میں مغربی معاشرے کی نقالی نہ ہو۔اس مقصد کے لیے معلوماتی پروگرام، سائنسی کمالات، اہم مقامات، تاریخی عمارتیں، باغات، مصوری، آرٹ، مناظرِ فطرت،مزاحیہ خاکے، سمندری دنیا کے مشاہدے، اصلاحی و تربیتی ڈرامے یا ڈکومنٹری، جانوروں کی دنیا، مجاہدین ِ اسلام کی داستانیں وغیرہ پیش کی جا سکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

تبصرہ کیجیے