2

اسلام میں مساواتِ مرد و زن کا تصور

[زیر نظر مضمون ایک قاری کا انتخاب ہے، انہوں نے گزارش کی تھی کہ اسے شائع کیا جائے۔ انہوں نے نہ اپنا نام لکھا ہے او رنہ مضمون نگار کا]
معاشرے میں عورت و مرد کی مساوات کا اعلان، قرآن واضح الفاظ میں پیش کرتا ہے۔

’’اے لوگو! اپنے اس خداوند سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پیدا کی اسی سے اس کی بیوی اور پھیلائے ان دونوں سے بہت سارے مرد اور بہت ساری عورتیں۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے واسطہ سے ایک دوسرے سے طالب مدد ہوتے ہو اور رحموں کا پاس کرو جو تمہارے اندر باہمی ہمدردی کی بنیاد پر ہیں۔ اللہ تمہارا نگراں ہے۔‘‘ (نساء:۱)

اس آیت نے عورت کی کمتری اور حقارت سے متعلق ان تمام تصورات کا خاتمہ کر دیا جو قدیم مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔ اسلام کا اعلان یہ ہے کہ عورت کوئی حقیر و نجس وجود نہیں ہے اور وہ کوئی بے کار اور بے مقصد ہستی نہیں، وہ شیطان کی ایجنٹ یا گناہوں کی ٹھیکیدار بنا کے نہیں اُتاری گئی ہے بلکہ جس نفس واحدہ سے مرد وجود میں آیا ہے، اسی سے عورت بھی وجود میں آئی ہے اور جس طرح انسانی معاشرہ کا ایک اہم رکن مرد ہے۔ اسی طرح اس معاشرے کی دوسری رکن عورت ہے۔ اس معاشرے کا وجود، اس کی بقاء اور اس کا تسلسل ان دونوں میں سے کسی ایک ہی پر منحصر نہیں ہے کہ ساری اہمیت بس اسی کو دے دی جائے اور نہ یہی بات ہے کہ ان میں سے کسی ایک پر زیادہ اور دوسرے پر کم انحصار ہے کہ جس پر زیادہ منحصر ہے اس کو زیادہ اہمیت دی جائے اور جس پر کم منحصر ہے اس کا رتبہ گھٹا دیا جائے بلکہ اس پہلو سے دونوں مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ خصوصیات اور صلاحیتیں دونوں الگ الگ لے کر آئے ہیں۔ لیکن اس فرق کی وجہ سے ان میں کسی کے لیے بھی نہ اپنی خصوصیات پر مغرور ہونا یا ان کے سبب سے اپنے کو حقیر سمجھنا زیبا ہے اور نہ ایک دوسرے کی خصوصیات پر رشک کرنا اور اس رشک کی وجہ سے ایک دوسرے کی ریس کرنے اور نقل اڑانے لگ جانا جائز ہے بلکہ دونوں کو اپنی خصوصیات کی قدرکرنی چاہیے اور جس نے ان کو بخشا ہے اس کی سچی شکر گزاری کے مطابق ساتھ معاشرہ کی خدمت میں اپنی استعداد اور اپنی قوت کے اپنا اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے اور دونوں کو اپنی اپنی جگہ پر یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ خدا جو اِن خدمات کا اجر دینے والا ہے، جس ترازو اور باٹ سے مرد کے لیے تولے گا، اسی ترازو اور باٹ سے عورت کے لیے بھی تولے گا۔ عورت اپنے عمل سے وہی درجہ اور فضیلت حاصل کرسکے گی جو مرد ایمانداری اور سلیقہ کے ساتھ ایک دفتر چلا کر حاصل کرسکے گا۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے:

’’اور اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد میں سے ایک کو دوسرے پر جو فضیلت دی ہے اس کے لیے گھمنڈ نہ کرو۔ مرد حصہ پائیں گے اس میں سے جو وہ کمائی کریں گے اور عورتیں حصہ پائیں گی، اس میں سے جو وہ کمائی کریں گی۔ اللہ سے اس کی بخشش میں سے حصہ مانگو۔ اللہ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔ (نساء:۳۲)

اس آیت سے ایک طرف تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو قدرت کی طرف سے خصوصیات عورت و مرد کو عطا ہوئی ہیں۔ ان میں فضیلت کا پہلو کسی ایک ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس فضیلت میں دونوں برابر کے حصہ دار ہیں۔

قدرت نے اپنی فیض بخشیوں میں مرد یا عورت کسی کے ساتھ بھی بخل سے کام نہیں لیا کی ہے۔ مرد کے اندر اگر تخلیق و ایجاد کا جوہر عطا کیا ہے تو عورت کو اس تخلیق و ایجاد کے ثمرات و نتائج سنبھالنے کاسلیقہ و ہنر عطا فرمایا ہے۔ مرد کو اگر حکمرانی و جہانبانی کا حوصلہ عنایت کیا ہے تو عورت کو گھر بنانے اور گھر بسانے کی قابلیت بخشی ہے۔ مرد کو اگر کچھ خاص علوم و فنون سے طبعی لگاؤ ہے تو عورت کے لیے بھی کچھ خاص علوم و فنون ہیں۔ جن سے اس کوفطری مناسبت ہے۔ مرد اگر اپنے اندر سختی قوت اور عزیمت کے اوصاف رکھتا ہے تو عورت بھی اپنے اندر دلکشی شیرینی اور دلربائی کا جمال رکھتی ہے اور قدرت کے اس نگار خانہ زیب و زینت میں ان میں سے کسی ایک ہی رنگ کے اوصاف نہیں ہیں بلکہ دونوں قسم کے اوصاف ہیں۔ اس لیے نہ مرد کے لیے یہ زیبا ہے کہ وہ عورت کی دل ربائی چرا کر اور اس کی نقل اڑا کر مرد مؤنث بننے کی کوشش کرے اور نہ عورت کے لیے یہ زیبا ہے کہ وہ مرد کا روپ دھار کر اور اس کے حدود میں مداخلت کر کے زن مذکر بننے کے لیے زور لگائے جو عورتیں یا مرد اس قسم کی چھچھوری حرکتیں کرتے ہیں وہ در حقیقت قدرت کی تقسیم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس لیے ایسے مردوں اور عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اس سلسلے میں چند حدیثیں ملاحظہ ہوں:

’’رسول اللہﷺ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘ (ابوداؤد)

’’ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس مرد پر لعنت کی ہے جو عورت کا سا لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت کی ہے جو مرد کاسا لباس پہنے۔‘‘ (ابوداؤد)

’’حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے زنانِ مذکر پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (ابوداؤد)

ایک اور روایت میں لعن المترجلات کے الفاظ ہیں۔ او ریہ ساری احادیث مذکورہ بالا آیت کے مفہوم پر روشنی ڈال رہی ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں سے کسی کے لیے بھی یہ بات جائز نہیں کہ اپنی فطری حدود پھلانگ کردوسرے کی حدود میں گھسنے اور ایک دوسرے کی نقل اتارنے کی کوشش کریں بلکہ ہر ایک کو اپنے اپنے دائرہ کے اندر اپنی خصوصیات پر قائم رہتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور اللہ سے یکساں اجر کی امید رکھنی چاہیے۔

اس حقیقت کی ایک بہت بڑی شہادت آں حضرتؐ کے زمانہ کے ایک واقعہ سے ملتی ہے۔ اسماء بنت یزید انصاریہؓ ایک مشہور دین دار عقل مند صحابیہ اور مشہور صحابی حضرت معاذ بن جبل کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔ ان کے متعلق روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ مجھے عورتوں کی ایک جماعت نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے جو سب کی سب وہی کہتی ہیں جو میں عرض کرنے آئی ہوں اور وہی رائے رکھتی ہیں، جو میں گزارش کر رہی ہوں۔ عرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ چناں چہ ہم آپ پر ایمان لائیں اور ہم نے آپؐ کی پیروی کی۔ لیکن ہم عورتوں کا حال یہ ہے کہ ہم پردوں کے اندر رہنے والی اور گھروں کے اندر بیٹھنے والی ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ مرد ہم سے اپنی خواہش نفس پوری کریں اور ہم ان کے بچے لادے لادے پھریں۔ مرد جمعہ، جماعت، جنازہ و جہاد ہر چیز کی حاضری میں ہم سے سبقت لے گئے۔ وہ جب جہاد میں جاتے ہیں تو ہم ان کے گھر بار کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور ان کے بچوں کو سنبھالتی ہیں۔ تو کیا اجر میں بھی ان کے ساتھ ہم کو حصہ ملے گا؟

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ فصیح و بلیغ تقریر سننے کے بعد صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم نے ان سے زیادہ بھی کسی عورت کی عمدہ تقریر سنی ہے، جس نے اپنے دین کی بابت سوال کیا ہو؟ تمام صحابہؓ نے قسم کھا کر اقرار کیا کہ نہیں یا رسول اللہؐ! اس کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسماءؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے اسماء! میری مدد کرو اور جن عورتوں نے تم کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ان کو میرا یہ جواب پہنچا دو کہ تمہارا اچھی طرح خانہ داری کرنا اپنے شوہروں کو خوش رکھنا اور ان کے ساتھ سازگاری کرنا مردوں کے ان سارے کاموں کے برابر ہے جو تم نے بیان کیے ہیں۔ حضرت اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر خوش خوش اللہ کا شکر ادا کرتی ہوئی واپس چلی گئیں۔

حضرت اسماءؓ نے صرف اپنے زمانہ کی ہی خواتین کی نمائندگی نہیں فرمائی بلکہ بعض پہلوؤں سے ہمارے زمانہ کی خواتین کی بھی پوری پوری نمائندگی کردی ہے اس زمانہ میں آزادیِ نسواں کی علمبردار عورتیں جو کچھ کہتی ہیں، اس کی بڑی اہم وجہ یہی تو ہے کہ وہ فرائض ان کو حقیر نظر آتے ہیں، جو قدرت نے ان کے سر ڈالے ہیں اور وہ فرائض ان کو معزز و محترم نظر آتے ہیں، جو مردوں سے متعلق ہیں۔ اس وجہ سے وہ کہتی ہیں کہ یہ کیا ناانصافی ہے کہ ہم عورتیں تو زندگی بھر بچے لادے لادے پھریں اور چولھے چکی کی نذر ہوکے رہ جائیں، اور مرد ملکوں اور قوموں کی قسمتوں کے فیصلے کرتے پھریں۔ اور وہ پھر مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کو بھی مردوں کے دوش بدوش ہر میدان میں جدوجہد کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حالاں کہ وہ غور کریں تو اس بات کے سمجھنے میں ذرا بھی دشواری نہیں ہے کہ ایک مرد مجاہد جو میدان جنگ میں جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کا یہ جہاد ہو ہی نہیں سکتا، جب تک اس کے پیچھے ایک مجاہدہ بچوں کو سنبھالنے اور گھر کی دیکھ بھال میں اپنی پوری قوتیں نہ صرف کردے۔ میدانِ جنگ کا یہ جہاد گھر کے اندر جہاد کا ہی ایک پرتو اور مرد کی یہ یکسوئی عورت کی قربانیوں کا ایک ثمر ہے۔ اس لیے اگر ایک مرد خدا کی راہ میں لڑ رہا ہے تو تنہا مرد ہی نہیں لڑ رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خدا کی وہ بندی بھی مصروفِ پیکار ہے، جس نے مرد کو زندگی کے دوسرے محاذوں پر لڑنے سے سبکدوش کر کے اس میدان جنگ کے لیے فارغ کیا ہے اور گھر کے مورچہ کو اس نے خود سنبھال رکھا ہے جذبات سے الگ ہوکر صحیح صحیح موازنہ کرکے اگر دیکھا جائے تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان جہادوں میں سے کوئی بھی کم ضروری ہے۔ یا غیر ضروری ہے؟ انصاف یہ ہے کہ دونوں یکساں ضروری ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دونوں کا اجر و ثواب بھی یکساں ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نا معلوم قاری

تبصرہ کیجیے