6

انسانی دنیا کا فساد

انسان نے خدا اور مذہب کے خلاف بغاوت کے بعد جو دنیا تخلیق کی اْس کا بحران صرف روحانی اور اخلاقی نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا ذہنی اور مادی بحران میں بھی مبتلا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ بحران کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہاہے اور اس کی نوعیت ہمہ گیر اور ہولناک ہوگئی ہے۔ مغرب میں اس بحران کی نشاندہی مختلف عنوانات کے تحت ہوئی ہے۔ مثلاً نٹشے نے کہا: خدا مرگیا۔ مالرو نے اعلان کیا: انسان مرگیا۔ لارنس نے اطلاع دی کہ مغرب میں انسانی تعلقات کا ادب مرگیا۔ اس صورت حال میں ٹی ایس ایلیٹ نے مغرب کو ’’بنجر سرزمین‘‘ قرار دیا۔ کولن ولسن نے کہا کہ مغرب کا انسان اپنے ہی معاشرے میں اجنبی یا Out Sider بن گیا ہے۔ عصری دنیا کے بحران نے جدید اردو ادب میں بھی پوری شدت کے ساتھ کلام کیا ہے۔ حالانکہ اردو ادب کی دنیا ایک سطح پر مشرق کی دنیا ہے اور دوسری سطح پر اسلامی تہذیب کی دنیا ہے جس میں مذہب اور روحانیت نہ صرف یہ کہ پوری طرح زندہ ہے بلکہ جو اس سلسلے میں پوری دنیا کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ مثلاً فراق گورکھپوری نے کہا ہے ع

اگر بدل نہ دیا آدمی نے دنیا کو

تو جان لو کہ یہاں آدمی کی خیر نہیں

فراق کے اس شعر میں عصرِ حاضر کی دنیا کی مکمل تباہی کا احساس موجود ہے۔ اس احساس نے لینن اور مائو کو سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے پر مائل کیا۔ لیکن 20 ویں صدی سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی اور ناکامی دونوں کی علامت ہے اور اس سے معلوم ہوچکا ہے کہ انسانی ساختہ انقلاب بھی دنیا کے بحران کا حل نہیں ہے۔ یہاں سلیم احمد کا بھی ایک شعر یاد آتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے:

دیکھ کر انسان کو کہتی ہے ساری کائنات

یہ تو ہم میں سے نہیں ہے یہ کوئی باہر کا ہے

کولن ولسن نے کہا ہے کہ انسان اپنے معاشرے میں اجنبی ہوگیا ہے۔ سلیم احمد کہہ رہے ہیں کہ انسان پوری کائنات میں اجنبی ہوگیا ہے۔

یہ ایک المناک صورت حال ہے، لیکن خدا اور مذہب کے خلاف بغاوت اور خدا اور مذہب سے دوری کے نتیجے میں یہ تو ہونا ہی تھا۔ سوال یہ ہے کہ اِس وقت مذہبی اعتبار سے دنیا کی حالت کیسی ہے؟

اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب انسانوں پر مشتمل ہے، لیکن ان سات ارب انسانوں میں دو سے ڈھائی ارب انسان ایسے ہیں جو کفر میں پیدا ہوتے ہیں، کفر میں زندہ رہتے ہیں اور کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ یعنی ان انسانوں کو 21 ویں صدی میں بھی یہ معلوم نہیں کہ ان کا کوئی خالق ہے، کوئی مالک ہے، کوئی رازق ہے اور کوئی معبود ہے۔ حالانکہ ہم 20 ویں اور 21 ویں صدی کو علم کی صدی کہتے ہیں، شعور کی صدی کہتے ہیں، ستاروں پر کمند ڈالنے کی صدی کہتے ہیں۔ سات ارب انسانوں کی دنیا میں دو سے ڈھائی ارب انسان ایسے ہیں جو شرک میں پیدا ہوتے ہیں، شرک میں زندہ رہتے ہیں اور شرک کی حالت میں مر جاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں شرک کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ اس منظرنامے میں صرف ڈیڑھ ارب انسانوں کی امتِ مسلمہ ایسی ہے جو بحیثیتِ مجموعی ایمان پر پیدا ہوتی ہے، ایمان پر زندہ رہتی ہے اور ایمان پر مرتی ہے۔ صرف امتِ مسلمہ وہ ہے جو آج بھی اپنے خالق‘ اپنے مالک‘ اپنے رازق اور اپنے معبود کو پہچانتی ہے اور اس کے نازل کردہ پیغام کی بالادستی پر کامل یقین رکھتی ہے۔ لیکن امتِ مسلمہ کی حالت بھی اچھی نہیں۔ ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کی امت میں دس فیصد سے بھی کم لوگ قرآن کی تعلیمات پر مطلع ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت تو ہر مسلمان کو ہے مگر سیرتِ طیبہ کا شعور پانچ سات فیصد مسلمانوں ہی کو ہوگا۔ نماز دین کا ستون ہے مگر مسلمانوں کی عظیم اکثریت نماز نہیں پڑھتی، اور جو نماز پڑھتے ہیں اْن کی اکثریت کے کردار کو نماز تبدیل نہیں کررہی۔

مغربی اقوام نے عقل کی بنیاد پر ایک نئی دنیا تخلیق کی اور آزادی‘ جمہوریت اور مساوات جیسے مثالیے یا Ideals پیش کیے۔ لیکن مغربی اقوام نے 20 ویں صدی میں ایک نہیں، دو عالمی جنگیں لڑیں۔ ان جنگوں میں سات سے دس کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے تین گنا زیادہ زخمی ہوئے اور پورا یورپ تقریباً تباہ ہوگیا۔ مغرب کی یہ دونوں جنگیں مغرب کی عقل پرستی کی نفی اور اس بات کا اعلان تھیں کہ مغرب نے عقل کے نام پر مفاد کو اپنا خدا بنالیا ہے۔ مغرب کی آزادی کا معاملہ یہ ہے کہ مغرب کو آزادی صرف اپنے لیے اچھی لگتی ہے۔ اپنے سوا وہ دنیا کی ہر قوم کو غلام دیکھنا چاہتا ہے۔ صرف سیاسی غلام نہیں… عسکری غلام، معاشی غلام، نفسیاتی غلام، تہذیبی غلام۔ یہی معاملہ مغرب کی جمہوریت کا ہے۔ مغرب ہر لمحے جمہوریت جمہوریت کرتا ہے مگر اس کی جمہوریت پرستی کا ایک اشتہار اقوام متحدہ ہے۔ اقوام متحدہ اقوام کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اور مغرب کے اپنے مثالیے یا Ideal کی رو سے اس ادارے کو جمہوری ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مغرب کی بالادست طاقتوں نے اقوام متحدہ کے دو حصے کردیے۔ اقوام متحدہ کا ایک حصہ جنرل اسمبلی ہے۔ دنیا کی تمام اقوام جنرل اسمبلی کی رکن ہیں، مگر جنرل اسمبلی کا کام صرف تقریریں کرانا اور قراردادیں منظور کرانا ہے۔ اقوام متحدہ کا ایک اور حصہ سلامتی کونسل ہے۔ سلامتی کونسل صرف 15 ارکان پر مشتمل ہے۔ لیکن ان پندرہ ارکان میں صرف پانچ مستقل ہیں، اور یہی مستقل ارکان ویٹو کی قوت کے حامل ہیں۔ دنیا کے تمام تنازعات جنرل اسمبلی کے بجائے سلامتی کونسل میں حل ہوتے ہیں۔ لیکن سلامتی کونسل جمہوری نہیں آمرانہ ادارہ ہے، اس لیے کہ اس کی باگ ڈور صرف پانچ طاقتور ملکوں کے ہاتھ میں ہے۔ مغرب کی جمہوریت پسندی کا ایک اشتہار اسلامی دنیا ہے۔ مغرب کہتا ہے کہ وہ پوری دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینا چاہتا ہے، مگر اس نے مسلم دنیا میں ہمیشہ فوجی آمروں کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی مغرب کی ’’عقلیت‘‘ ہے؟ کیا یہی مغرب کی ’’جمہوریت‘‘ ہے؟ کیا یہی مغرب کی ’’مساوات‘‘ ہے؟

جدید دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے ترانے تو بہت گائے جاتے ہیں مگر اس دنیا کا معاشی عدم توازن دل دہلا دینے والا ہے۔ بلاشبہ عصرِ حاضر میں انسانوں نے معاشی وسائل کا سمندر تخلیق کیا ہے، لیکن اس دنیا کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے وسائل کا 80 فیصد صرف 20 فیصد آبادی کے پاس ہے، اور دنیا کی 80 فیصد آبادی صرف 20 فیصد وسائل پر قناعت کررہی ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب ہے اور اسی 7 ارب آبادی میں ایک ارب 34 کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی سوا ڈالر سے کم ہے۔ مزید ڈھائی سے تین ارب لوگ ایسے ہیں جن کی یومیہ آمدنی انہیں ایک گھٹی ہوئی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بھوک اور زراعت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سن 2012 میں 87 کروڑ افراد بھوک یا انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔ ان میں سے 85 کروڑ افراد کا تعلق ترقی پذیر دنیا سے تھا۔ لیکن ’’ترقی یافتہ‘‘ کہلانے والی دنیا میں بھی ایک کروڑ 60 لاکھ افراد بھوک زدہ یا فاقہ زدہ تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھوک زدہ افراد کی تعداد گھٹ نہیں رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ مثلاً 2006ء میں ترقی یافتہ دنیا میں صرف ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ فاقہ زدہ تھے، مگر 2012ء میں ان کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 60 لاکھ ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی اس غربت اور بھوک کا سبب کیا ہے؟ مغرب کے ماہرین خود کہہ رہے ہیں کہ اس صورت حال کا بنیادی سبب دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام ہیں، جنگیں ہیں، علاقائی تنازعات اور موسمیاتی تغیرات ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں مغرب کی عقل پرستی اور اس کی استعماری روش نے پیدا کی ہیں اور یہ تمام آفات انسانی ساختہ نہیں۔

ہماری دنیا کا حال کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ انسان کو ہمیشہ سے ’’مفت‘‘ دستیاب ہے۔ مگر7 ارب انسانوں کی دنیا میں 78 کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ انسانوں کی یہ تعداد یورپ کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے، اس لیے کہ یورپ کی آبادی اِس وقت 55 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ہر سال 34 لاکھ افراد آلودہ پانی پینے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ تعداد امریکہ کے مشہور شہر لاس اینجلس کی آبادی کے برابر ہے۔ یعنی ہر سال ایک لاس اینجلس آلودہ پانی کی وجہ سے ویران ہوجاتا ہے۔ خود ترقی یافتہ ملکوں میں ایک کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں‘ لیکن انسانی ساختہ دنیا کی عدم مساوات پانی پر بھی ڈاکا ڈالے ہوئے ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کا ایک شہری پانچ منٹ میں شاور کے ذریعے جتنا پانی بہاتا ہے ترقی پذیر دنیا کا ایک شہری پورے دن میں اتنا پانی استعمال کرتا ہے۔

انسانی ساختہ دنیا میں قوانین جتنے بڑھ رہے ہیں جرائم کی تعداد میں بھی اتنا ہی اضافہ ہورہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1980ء سے 2000ء تک جرائم کی شرح میں30 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف2001ء میں دنیا کے 34 ’’ترقی یافتہ‘‘ ملکوں میں 5کروڑ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال دنیا میں 13 سے 23 کروڑ بچے کسی نہ کسی قسم کے جرم کا شکار ہوتے ہیں۔ اِس وقت دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد 10کروڑ ہے جو سڑکوں اور فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ اتنے بچوں سے کراچی جیسے پانچ شہر آباد ہوسکتے ہیں۔

جدید ریاست اپنے شہریوں کو قانون اور انصاف کا کتنا تحفظ فراہم کررہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2008ء میں دنیا کے 4 ارب انسانوں کو کسی قسم کا قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ یہ انکشاف اقوام متحدہ کے ایک کمیشن کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے اکثر ملکوں میں امیر شہریوں کی بڑی تعداد اپنے تحفظ کے لیے سلامتی سے متعلق نجی اداروں کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔ بھارت میں 2010ء میں سلامتی سے متعلق نجی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد 55لاکھ تھی۔ یہ تعداد بھارت کے تمام پولیس اہلکاروں سے چار گنا زیادہ ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیا میں بھی صورت حال بھارت جیسی ہے، جبکہ گوئٹے مالا میں پولیس اہلکاروں اور نجی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد میں ایک اور سات کی نسبت ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی بظاہر ایک مشینی قوت ہیں مگر خود مغرب میں ایسے دانشور اور مفکرین موجود ہیں جوسمجھتے ہیں کہ مغربی دنیا کا موجودہ بحران سائنس اور ٹیکنالوجی کا پیدا کردہ ہے۔ امریکہ کے ممتاز ماہر عمرانیات ایلون ٹوفلر نے اپنی یکے بعد دیگرے شائع ہونے والی تین کتابوں یعنی Future Shock ‘ Third Wave اور Power Shift میں بتایا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے زندگی کی رفتار کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ زندگی کی ریل گاڑی کے انجن پر انسان کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے۔ تاہم ٹوفلر کا اصرار ہے کہ مغرب کا بحران سائنس اور ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی ہی اس بحران پر قابو پائے گی۔ لیکن مغرب کے عظیم مؤرخ ٹوائن بی صاف کہہ چکے ہیں کہ مغربی تہذیب کو تباہی سے بچانے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ مغربی تہذیب اپنے اندر روحانی جہت پیدا کرے، اور دوسری یہ کہ وہ ٹیکنالوجی کے عشق سے جان چھڑائے۔ لیکن مسئلہ صرف مغربی تہذیب کا نہیں پوری انسانی تہذیب کا ہے۔ انسانی تہذیب کے بحران کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ پوری انسانیت اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے۔ اور انسانیت کی اصل توحید‘ رسالت اور وحی کی بالادستی اور مرکزیت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاہ نواز فاروقی

تبصرہ کیجیے