6

نقب زنی

ٹرین کے ڈبے میں داخل ہوتے ہی اس نے نعرہ مستانہ بلند کیا ’’نقب زن سے ہوشیار، سب سے ناقابل اعتبار‘‘ مسلسل ان دو جملوں کی گردان کرتا وہ آگے بڑھا چلا جا رہا تھا۔ اچانک وہ ایک نوجوان لڑکی کی جانب جھپٹنے کے سے انداز میں بڑھا۔ اسے یوں اپنی طرف آتے دیکھ کر لڑکی کی جو کچھ دیر پہلے فون پر خوش گپیوں میں مشغول تھی بیچاری کی چیخ نکل گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس لڑکی تک پہنچ پاتا ایک نوجوان ان دونوں کے بیچ میں آگیا اور اسے دبوچ لیا۔ اس کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ نوجوان کی گرفت سے خود کو آزاد کروا پاتا، مگر وہ مسلسل اس لڑکی تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہا، جو خوف سے پیلی پڑ چکی تھی۔ تب ایک مسافر جو اس گاڑی میں اکثر سفر کرتا تھا۔ وہ اس لمبی زلفوں اور گھنی ڈاڑھی والے ملنگ کے حالات سے واقفیت رکھتا تھا، اس نے آہستہ سے لڑکی سے کچھ کہا جس پر اس نے فوراً عمل کیا، تو بوڑھا پرسکون ہوگیا اور نعرہ لگاتا آگے چل دیا۔

٭…٭

گاڑی چلنے میں کچھ دیر باقی تھی، جب ان کے کیبن کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا جس کی چٹخنی پروفیسر صداقت نے چڑھا رکھی تھی، جو انی تین بیٹیوں اور اہلیہ کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک نوجوان لڑکا بیگ کندھے سے لٹکائے کھڑا تھا۔ اس وقت انہیں خود پر بہت غصہ آیا۔ کیوں انہوں نے چھ سیٹوں پر مشتمل کیبن کی ایک سیٹ کسی اجنبی کے لیے چھوڑ دی تھی۔ نوجوان نے اندر آکر اپنا اکلوتا بیگ سیٹ کے نیچے رکھا، ایک میگزین نکالا اور مطالعے میں خود کو غرق کرلیا، آس پاس اس نے نظر ڈالنے کی زحمت بھی نہ کی۔ پروفیسر صاحب جو خود کو کوس رہے تھے، لڑکے کے اس انداز سے کچھ مطمئن ہوگئے۔ ان کی بیٹیاں کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھنے میں محو تھیں۔ پروفیسر صاحب اس اجنبی کا بغور جائزہ لے رہے تھے، جس کے دو ہی کام تھے ایک میگزین کا مطالعہ دوسرا موبائل پر آنے والے پیغام پڑھنا اور جواب دینا۔ اس دوران وہ کبھی کبھی مسکرا بھی دیتا۔ ہر اسٹیشن پر وہ اترتا، ٹرین چلنے سے قبل چڑھ جاتا۔ اس دوران میں وہ پروفیسر صاحب کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا۔ اسے دیکھ کر برسوں پہلے والی بیٹے کی خواہش جسے انہوں نے اپنے اندر دفن کر دیا تھا پھر سے زندہ ہونے لگی۔ اچانک ان کے ذہن میں یہ خیال ابھرا، اگر وہ ان کا داماد بن جائے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے سر کو زور سے جھٹکا جیسے اس سوچ کو باہر پٹخنا چاہتے ہوں۔ وہ خواہ مخواہ ایک اجنبی سے اتنا متاثر ہو رہے تھے۔

ویسے بھی ان کے ہاں شادیاں برادری سے باہر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دوسری صورت میں خاندان سے باہر ہونا پڑتا۔ وہ انہی خیالوں میں مگن تھے، جب کہ ان کی بڑی بیٹی صالحہ چپکے چپکے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی جسے اپنے موبائل سے فرصت ہی نہیں تھی۔ اچانک اس لڑکے نے نگاہ اٹھائی اور آنکھوں سے آنکھیں چار ہوگئیں۔ صالحہ ہڑبڑا گئی۔ وہ لڑکا بھی نیچے دیکھنے لگا۔ صالحہ کے دل میں چور تھا، اس کے دل کی دنیا زیر و زبر ہوچکی تھی، مگر وہاں کسی کو اس حادثے کا پتا ہی نہیں چلا۔ وہ کافی دیر کوشش کرتی رہی کہ دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھے، مگر دل تھا کہ ضد پر قائم تھا۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھی جہاں دل کا فیصلہ حرف آخر ہوتا ہے۔ وہ خود پر قابو کھوچکی تھی۔ اس نے اپنی منجھلی بہن پر نگاہ ڈالی وہ بھی تو ایک لڑکی تھی، مگر مجال ہے جو اس نے نگاہ اٹھا کر اس لڑکے کو دیکھا ہو۔

وہ تھی اس کا موبائل تھا یا پھر کھڑکی سے باہر، تیزی سے بدلتے منظر… رات وہ درمیانی برتھ پر تھی اور لڑکا سب سے اوپر والی برتھ پر لیٹا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی نگاہوں میں تھے۔

رات کا نجانے کون سا پہر تھا، جب گاڑی ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رُکی اور رُکتے ہی چل دی، مگر اپنے پیچھے دو مسافر چھوڑ گئی۔

٭…٭

پروفیسر صاحب نے اپنی اہلیہ پر نظر ڈالی رو رو کر جن کی آنکھیں سوج گئی تھیں، بار بار ان پر غشی طاری ہوجاتی تھی۔ چھوٹی بیٹی سہمی بیٹھی تھی، بڑی صالحہ کے آنسو تھمنے میں نہیں آرہے تھے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ ان آنسوؤں میں صرف بہن کے یوں چلے جانے کا کرب شامل نہیں تھا، اپنے معصوم جذبات کا دکھ بھی تھا۔ وہ بھی تو ایسا کرنے پر شاید تیار ہوجاتی۔ اس کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگتے۔

۲۰ سال انہوں نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ دنیا کے سرد و گرم سے اسے محفوظ رکھا۔ اس نے ساری محبتیں، سارے رشتے پس پشت ڈال دیے اور ایک اجنبی کا انتخاب کرلیا۔ وہ مسکرا دیے۔ ایک ایسی مسکراہٹ جو لبوں پر تب نمودار ہوتی ہے جب جگر پاش پاش ہوجائے اور لہو آنکھوں سے بہنے کو بے تاب ہو۔ اجنبی تو وہ ان کے لیے تھا ان کی بیٹی تو اسے نجانے کب سے جانتی تھی۔ اسے اس کیبن تک بھی وہی لائی تھی۔ ان سب کی موجودگی میں وہ بذریعہ موبائل ایک دوسرے سے گفتگو کرتے رہے تھے۔ ان کی عزت کا جنازہ نکالنے کے لیے پورا منصوبہ تیار تھا جو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک جا پہنچا تھا۔ اس سب میں پروفیسر صاحب کا وہ تحفہ جو انہوں نے اپنی منجھلی یٹی کو اس کے میٹرک میں امتیازی نمبر حاصل کرنے پر دیا تھا، وہ اس کے بہت کام آیا۔ چار سال پہلے انہوں نے اسے موبائل لے کر دیا تھا۔ اچانک ان کے ارد گرد گہرا سناٹا اور گھپ اندھیرا چھا گیا، جب وہ اس کیفیت سے نکلے، تو انھوں نے دیکھا ان کی بڑی بیٹی کے ہاتھ میں موجود موبائل ان کی حالت پر ہنس رہا ہے۔ (وہ غصے سے اٹھے موبائل چھین کر اُسے زمین پر پٹخا اور زور سے چلائے ’’تیری وجہ سے میرے گھر میں نقب لگی۔‘‘ اس کے بعد وہ وہاں سے نکل بھاگے۔ پوری ٹرین میں دوڑتے پھرتے اور چلاتے ’’نقب زن سے ہوشیار سب ہے ناقابل اعتبار‘‘ کیوں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے دو ہی منظر رہتے… قہقہے لگاتا موبائل اور کبھی ہنستی مسکراتی لاڈلی بیٹی، جو فون پر ایس ایم ایس لکھتی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد ذو القرنین

تبصرہ کیجیے