BOOST

دولت کا ارتکاز

امریکن نیشنل بزنس میگزین ـ ــ’’فوربس‘‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2013 میں 2426 ارب پتی دنیا میں موجود ہیں۔ جن کا کل اثاثہ تقریبا 5.4 ٹرلین (5400 ارب)امریکی ڈالر ہے۔ جن میں سے صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 1342 ارب پتی ہیں۔ ان میں سے سر فہرست100 میں تین ہندوستانی بھی ہیں۔ اس فہرست میں غریب ترین شخص بھی کم از کم 5 ارب ڈالر کا مالک ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق سن 2000 میں پوری دنیا کی تمام دولت کا 40 فیصدحصہ صرف ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے قبضے میں ہے اور دنیا کے دس فیصد امیر لوگ دنیا کی 85 فیصد دولت پر قابض ہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی دنیا کی 99 فیصد دولت کی مالک ہے جبکہ دنیا کی بقیہ آدھی آبادی صرف ایک فیصد دولت پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ یہ اعداد وشمارتو سن 2000 کے ہیں، 2000 اور آج 2014 کے درمیان بے جا حمایت پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام جس تیزی کے ساتھ پروان چڑھا ہے ، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عدم توازن کس قدر بڑھ گیا ہوگا۔ اور آج ہم پورے یقین اور دکھ کیساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ حالات اب تیزی سے امیروں کو مزید امیر بنا رہے ہیں۔

اسی طرح امریکہ کو لیجئے جو کہ ایک عالمی طاقت ہے اور جہاں کی معیشت دنیا میں سب سے اچھی معیشت مانی جاتی ہے۔ اس کی معیشت میں اتار چڑھائو کا اثر دنیا کے تقریبا ہر ملک پر پڑتا ہے۔ اور جہاں جانے کا خواب ہر کس وناکس دیکھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ میں ہرشخص خوش ہے؟ ہر شخص کو اس کے حقوق مل رہے ہیں؟؟ دولت کی مساوی تقسیم نہ سہی ، کیا کم از کم عادلانہ تقسیم امریکی سماج میں پائی جاتی ہے؟؟ ان سوالوں کا جواب ہم خود اخذ کر سکتے ہیں۔

ہم سن 2001 کے ایک جائزے پر نظر ڈالیں جو خود امریکہ کے ہی بارے میں ہے۔اس جائزے کے مطابق امریکہ میں ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس 38% دولت ہے اور دس فیصد لوگوں کے پاس 71% دولت ہے جب کہ 40% غریب مل کر صرف اور صرف ایک فیصد دولت کے مالک ہیں۔ غریب ملکوں کا حال اس سے بھی کہیں بد تر ہے۔ آسان الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک دعوت میں سو مہمان ہیں اور سو روٹیاں ہیں۔ ایک امیر مہمان کو 38 روٹیاں کھانے کو ملیں جبکہ 40 غریب مہمانوں کو مل کر صرف ایک روٹی میں سے ٹکڑا ٹکڑا کھانا پڑے۔ اب ہم اچھے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ترقی یافتہ امریکہ میں عام آدمی کا یہ حال ہے تو دیگر ممالک میں ان کا کیا حال ہوگا؟؟؟ اللہ خیر کرے۔

یہ مال ودولت کی غیر منصفانہ تقسیم دنیا کے بیشتر ممالک میں مختلف انداز اورسطح پر پائی جاتی ہے۔ اور غریبوں کے اس استحصال میں وہاں کے حکومتی ادارے بھی برابر کے شریک ہیں۔ جس کی ایک تازہ مثال امبانی گروپ کی طرف سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلے میں گانگرس حکومت کی ان کی ہمنوائی اور ان کے فیصلے کی تایید نے واضح کر دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کی بیشمار عالمی اور ملکی واقعات ہیں جنہیں ہم بطور مثال پیش کر سکتے ہیں۔

ایک اور بہت ہی چوکا دینے والی رپورٹ جنوری 2014 میں ’’ورلڈوائڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘‘ (Oxfam )نے "Working For The Few”کے نام سے ’ڈیووس‘ (سوئیزرلینڈ) میں ’ورلڈ ایکونومکس فورم‘ کی میٹنگ کے انعقاد سے ٹھیک پہلے شائع کی تھی ، جس میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک میں پائی جانے والی معاشی ناہمواری کے پیچھے کون کون سے اسباب ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس رپورٹ نے کچھ ایسے حیران کن اعداد وشمار بھی دیئے ہیں جنہیں دیکھ کر حیرت اور دکھ ہوتا ہے۔ اس کے مطابق دنیا میں صرف 85 صاحب ثروت لوگوں کے پاس جتنا مال و دولت اور اثاثہ ہے وہ اس مجموعی اثاثہ کے برابر ہے جو دنیا میں نچلی سطح کی تقریبا آدھی آبادی کے پاس ہے۔

اسی طرح یہ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا کی تقریبا آدھی دولت صرف ایک فیصدمالدار لوگوں کے پاس ہے۔ اور ان ایک فیصد مالدار لوگوں کے پاس جو اثاثہ ہے وہ تقریبا 110 ٹرلین امریکی ڈالر ہے اور یہ اس دولت سے65 گنا زیادہ ہے جو پوری دنیا کی نچلی سطح کی آدھی آبادی کے پاس ہے۔ اور مزید یہ کہ دولت کا یہ بڑھتا ہواارتکاز جمہوریت کوبھی نقصان پہونچا سکتاہے بلکہ پہونچانے لگاہے جسکا مشاہدہ ہم کئی ایک ممالک میں بخوبی کر سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ واقعی بہت ہی حیران کن نتائج کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس مالی ناہمواری کے سبب دنیا میں رونما ہورہی ہے۔ اگر ہم اس رپورٹ کو تھوڑا اور احتیاط سے لیں تو بڑے ہی وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تقریبا 90 فیصد سے زائد اثاثہ وہاں کے صرف 1فیصد مالدار لوگوں کے پاس سے۔ اور بقیہ 99 فیصد آبادی صرف 10 فیصد پر گزارا کررہی ہے۔ بلکہ بعض ممالک میں تو اس سے بھی کم حصہ ان کے حق میں آتاہے۔ جیسا کہ 2011 کی عرب بہار کے دنوں میں امریکہ میں ہو رہے سرمایادارانہ نظام کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کے ہاتھوں میں اٹھائے گئے بینرس اور کارڈس کو پڑھ کر اندازہ ہوتاہے۔

امریکہ جوکہ ایک فارغ البال ملک سمجھا جاتا ہے اور وہاں کی معیشت مثالی سمجھی جاتی ہے، مگر بینرس پر لکھی گئی عبارت(We Are 99%) کو پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ جب امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں لوگوں کی غربت کا یہ عالم ہے کہ انہیں اپنے آپ کو 99 فیصدہونے کا احساس دلاتاہے تو دوسرے ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے لوگوں کے درمیان یہ احساس کس قدر ہو گا۔واقعی یہ لمحہء فکر ہے کہ اس قدر غیر متوازن مالی تقسیم کے باوجود کیا ایک عام آدمی اپنے سارے انسانی، بنیادی اور دیگر مختلف طرح کے حقوق حاصل کرنے کی سکت کر سکتاہے؟؟

دینا میں پائی جانے والی غربت، بھوک مری اور بیروزگاری کو بتانے کے لیے مزید اعداد وشمار کی ضرورت نہیں ہے۔ اوپر کی گئیں رپورٹس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ یہ مشکلات کس قدر بڑھی ہوتی اور سماج کی گہرائیوں میں پیوست۔

آئیے اب ہم اپنے ملک عزیز ہندوستان میں مال ودولت کے اس ارتکاز پر نظر ڈالیں جس کی کل آبادی 2011 کے مردم شماری کے مطابق تقریبا 121 کروڑ (1.21بلین) ہے۔ فوربس میگزین ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012 میں ہندوستان کے اندر 61 ارب پتی ہیں (یعنی جن کا اثاثہ 1000000000 امریکی ڈالر سے زائد کا ہو) فورفس ہر سال یہ رپورٹ شائع کرتی ہے۔ اور اس رپورٹ کے مطابق 2012 میں سو مالدار ہندوستانیوں کے پاس 250 بلین امریکی ڈالر کی لاگت کا اثاثہ تھا جو کہ 2011 میں 241 بلین کا تھا۔ اب 2013 اور 2014 میں کیا صورتحال ہے، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے اثاثہ مزید بڑھے ہی ہونگے اس لیے کی انہوں نے حکومتی سانٹھ گانٹھ کے ذریعہ غریبوں کا خون مزید چوساہی ہوگا۔ اس لیے کی ان سے کسی خیر کی توقع کرنا ناممکن ہے۔

چین کی ایک ریسرچ فرم ’’ہورون ‘‘کے مطابق 2013میںارب پتیوں کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑاملک ہے۔ ریلائنس کے چیئرمین موکیش امبانی لگاتار آٹھویں مرتبہ سب سے مالدار ہندوستانی کی حیثیت سے پھر سامنے آئے ہیں۔ جن کا کل اثاثہ تقریبا18 بلین امریکی ڈالر کا ہے۔ اور یہ رپورٹ آگے کہتی ہے کہ پچھلے سال انڈین روپیہ ڈالرکے مقابلہ میں12فیصد کمزور ہواہے۔اور اسکا ہندوستانی معیشت پر بہت برا اثربھی پڑاہے۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے بادجود ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد میں نہ صرف یہ کہ کمی نہیںآئی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہواہے۔ جہاں یہ تعداد 2012میں 61تھی اب 70ہوگئی ہے۔ اور اس پر مزید مزے کی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں پائے جانے والے سپر مالدار لوگوں کی مجموعی تعداد بہت سے ترقی یافتہ ممالک (جرمنی، سوئزرلینڈ، فرانس اور جاپان) کے ارب پتیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور ان ارب پتی ہندوستانیوں کے اثاثے کی کل قیمت اب320بلین امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

آئیے اب ہندوستانی عوام اور بالخصوص عام آدمی کی حالت زار کا اندازہ خود حکومت ہند کے ہی ایک اہم اور فعال ادارے یعنی پلاننگ کمیشن کے تابع ایک خود مختار ادارے ’انسٹیٹیوٹ آف اپلائڈ مین پاور ریسرچ‘ (IAMR) کے ذریعہ2011 میں تیارکی گئی ایک رپورٹ سے لگاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں نظرآرہی یہ معاشی چمک دمک اور نظروں کو خیرہ کرنے والی اقتصادی ترقی اس ملک کے صرف چند لوگوں کے لیے ہے۔ جس نے سماج کے صرف مال دار اور طاقتور طبقے کے ہی چہرے پر خوشیاں دی ہے، اور رہے بقیہ لوگ تو وہ ابھی تک درد وکرب اور مشقت بھری زندگی ہی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس رپورٹ میں آمدنی کی ناہمواری اور بھارت میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ رپورٹ121کروڑ ہندوستانیوں کے مجموعی حالت کا اندازہ تین زاویہ سے لگانے کی کوشش کرتی ہے؛ گھریلو اخراجات، تعلیم اور صحت۔ اس رپورٹ کے نتائج بہت اہم اس لیے بھی ہیں کیونکہ یہ ہندوستان میں مال ودولت اور اثاثوں کی انتہائی غیر مساویانہ تقسیم کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ آج ہندوستان میں سب سے اوپر کے صرف پانچ فیصد گھرانے ملک کے تقربا 38 فیصد اثاثہ کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ نچلے 60 فیصد کی عوام بمشکل ملک کے صرف 13 فیصد اثاثہ پہ گزربسر کر رہی ہے۔ اور یہ منظر نامہ جب ـ’ریئل انڈیا‘ یعنی ہندوستان کے دیہی علاقوں میں پہنچتاہے تو تصویر مزید بھیانک ہوجاتی ہے۔ اور یہی 60فیصد والا نچلا طبقہ وہاں صرف 10فیصد اثاثہ کا مالک نظر آتاہے۔ اور یہ اثاثے دیہی علاقوں کے زرعی مزدوری کرنے والے گھرانوں اور شہری علاقوں کے وقتی اور عارضی مزدوری کرنے والے گھرانوں کے پاس تو بالکل نا کے برابر ہیں۔

یہ رپورٹ ہندوستان میں غربت کی ایک سنگین تصویر پیش کر تی ہے۔ گرچہ ہندوستانی معیشت تقریبا 5 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، مگر یہ شرح اس ملک کو غربت کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے کافی نہیں ہے۔اور فی الواقع ہندوستان سے غربت کے خاتمہ کا تناسب اس ملک کی اقتصادی ترقی کی اعلی شرح سے بالکل ہم آہنگ نہیں ہے۔ جس کا ادراک ہمیں بخوبی اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ پچھلے 30سالوں کے درمیان ہمارے ملک میں غریب لوگوں کی تعداد بمشکل کم ہوئی ہے۔ 1973-1974میں غریبوں کی تعداد 332 ملین تھی اور اگلی دہائی میں بھی یہ نمبر برقرار رہا البتہ 1993-1994 اس میں برائے نام سی گراوٹ دیکھنے کو ملی (320 ملین )لیکن 2004-2005 میں یہ صورتحال جوں کی توں برقرار رہی۔ اسی طرح بے روزگاری اور بھوکمری بھی آسمان چھورہی ہے۔ خردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے تو غریبوں کے منھ سے روکھا سوکھا نوالہ بھی چھین لیاہے۔

ان دونوں رپورٹس کے مطالعہ کے بعد ہم کچھ اس اجمالی نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ اگر پوری دنیا کی دولت (بہ لحاظ شرح تبادلہ Exchange Rate) کی تقسیم کی جائے تو صورتحال کچھ یوں نظر آتی ہے۔

شمالی امریکہ کی آبادی 5.17% ہے اور دولت 34.39% ہے۔

یورپ کی آبادی 9.62% ہے اور دولت 29.19% ہے۔

ایشیا کی آبادی 52.18% ہے اور دولت 25.61% ہے۔

جنوبی امریکہ اور وسطی امریکہ کی آبادی 8.52% ہے اور دولت 4.34% ہے۔

مشرق وسطیٰ کی آبادی 9.88% ہے اور دولت 3.13% ہے۔

افریقہ کی آبادی 10.66% ہے اور دولت 0.54% ہے۔

بقیہ دنیا کی آبادی 3.14% ہے اور دولت 2.56% ہے۔

دولت کی یہ جمع آوری اور اسکے ذخیرہ کرنے کے سلسلے میں پایاجانے والا رجحان دن بدن بڑھتا جارہاہے۔ سماج کے نچلے طبقہ غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ دولت اوراس کوحاصل کرنیکے مواقع صرف چند لوگوں کے ہاتھوںمیں مرتکز ہوتے جارہے ہیں۔ اور حددرجہ لمحہء فکریہ ہے کہ اس صورتحال کا تدارک اور اسکے سد باب کی نہ توکوئی کوشش کررہاہے اور نہ اس بارے میں سوچنے کی زحمت کررہاہے۔ اورنہ کسی کے پاس اس مشکل صورتحال سے نبرد آزماں ہونے کے لیے کوئی مستقل اور واضح ہدایت اورلائحہء عمل ہے۔

توکیا اس مشکل سے نکلنے کے لیے بنی نوع انساں کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔اگر واقعی نہیں ہے تو یہ ناہمواری ایک عظیم فتنہ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اور جس کے اثرات نظر بھی آنے لگے ہیں۔ عرب ممالک سے شروع ہوکر امریکہ ویورپ کے دوسرے ممالک اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں پہونچ چکی احتجاج کی لہریں اسی کا ہی نتیجہ ہیں۔

اب ایسے وقت میں جبکہ دنیا کے بیشتر ماہرین اقتصادیات اس سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہء عمل اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کوئی طریقہ پیش کرنے سے قاصر ہیں، ہماری نظر اسلام پر پڑتی ہے۔ جس کا دعوی ہے کہ وہ ایک مکمل نظام حیات ہے۔ انسانوں کے سارے مسائل کااسکے پاس حل ہے بشرطیکہ انسان اس سے استفادہ کرناچاہے۔

اللہ تعالی نے صاحب حیثیت لوگوں کے اموال میں ناداروں کے رزق کوواجب کیا ھے : (وفی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم) [الذریات:19] اگر اس پر عمل ہو تو کوئی بھی شخص دنیا میں بھوکا نہیں رہے گا مگر یہ کہ صاحب ثروت نے اس تک اسکا رزق نھیں پہنچا،چنانچہ روز قیامت اللہ تعالی اس مالدارسے اس بابت بازپرس و مواخذہ کرے گا۔ جیساکہ روایات اس جانب اشارہ کرتی ہیں۔

دولت کی پیداوار کے مواقع میں عدالت و توازن کے ساتھ اس کی تقسیم میں بھی اس کا خاص خیال رکھنا اسلام کے اقتصادی نظام کا اہم موضوع ہے۔

قرآن کریم کا ارشاد ہے:

’ـ’تاکہ سارا مال محض دولت مندوں کے ہاتھوں میں ہی گھومتانہ رہ جائے۔‘ [الحشر:۷]

بلکہ ضرورت مندوں تک اس کا پہنچناضروری ہے چنانچہ اسلام میں مختلف مالی احکام وضع کئے گئے جیسے زکات ، خمس ، صدقہ ، تاکہ معاشرہ کی دولت عام لوگوں تک بھی پوانچ سکے اور سماج کے افراد ایک سطح پر اقتصادی ترقی حاصل کر سکیں اور ان کے درمیان طبقاتی شگاف کم سے کم ہو جائے اور غریبوں کا استحصال ختم ہو جائے۔

اسلام کامزاج یہ ہے کہ وہ دولت مندوں کی دولت کو نکال کر غریبوں میں تقسیم کرتا ہے تاکہ سماجی ناہمواری کا خاتمہ ہو جب کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی فطرت یہ ہے کہ وہ سارامال غریبوں سے چھین کر سرمایہ داروں کی تجوریوں میں میں جا بھرنا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
آصف نواز (جامعہ ملیہ اسلامیہ)

تبصرہ کیجیے