امیر ملک کے محروم بچے [برطانوی بچوں کی داستان جو ہمارے لیے بھی نشانِ عبرت ہے]

بچوں کے عالمی ادارے، یونی سیف نے کچھ عرصہ قبل ترقی یافتہ ممالک میں سے برطانیہ کے بچوں کو سب سے زیادہ ناخوش قرار دیا۔ اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اس ادارے نے اس صورت حال کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی والدین بچوں کے ساتھ کم وقت گزارتے ہیں لیکن مادہ پرستی کے بڑھتے رجحان کے تحت ان کی یہ کوشش ضرور ہوتی ہے کہ بچوں کو مہنگے کھلونے لے کر دیے جائیں۔ برطانوی لوگ اچھے والدین بننا چاہتے ہیں لیکن وہ وقت کی کمی کاشکوہ کرتے نظر آتے ہیں اور بعض اوقات وہ اس امر سے لاعلم بھی ہوتے ہیں کہ بچوں کی اچھی پرورش کیسے کی جائے۔

اس رپورٹ میں برطانیہ کا موازنہ سویڈن اور اسپین کے ساتھ کیا گیا ہے۔ سویڈن اور اسپین میں والدین بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور بچوں کے لیے سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچے والدین اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور انہیں آؤٹ ڈور کھیلوں میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ برطانوی والدین معاشی تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔ گھروں میں تھکے ہوئے آتے ہیں یا دیگر گھریلو کاموں کے باعث بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ عموماً بچوں کو ٹی وی اور کمپیوٹر گیمز کے حوالے کر کے تازہ ہوا سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

سویڈن میں سرکاری پالیسیاں ایسی ہیں کہ والدین بچوں کیساتھ مناسب وقت گزار سکیں۔ اسپین میں ایک باپ کے کام کے اوقات طویل ہوتے ہیں لیکن دوسرے رشتے دار بچوں کی پرورش میں معاون بنتے ہیں۔ گھر میں موجود ماں بھی بچوں کو مناسب وقت اور توجہ دیتی ہے۔

برطانیہ میں معاشی مصروفیت کا دباؤ اور بے مہار مادہ پرستی بچوں کی بہتر نگہداشت میں رکاوٹ بنتی ہے۔

برطانوی بچوں کو والدین کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے میں مصروف رہتے ہیں تاکہ بچوں کے لیے مہنگے کھلونے اور کپڑے خریدے جاسکیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ سخت محنت کرنی پڑتی ہے تاکہ بچوں کو نت نئے کھلونے لے کر دیے جائیں اور اپنا اسٹیٹس برقرار رکھا جائے۔

برطانوی بچوں کی مصروفیت کے لیے سرگرمیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ خصوصاً یہ صورت حال تعلیمی اداروںمیں پائی جاتی ہے۔ اسپین اور سویڈن میں اسکول کے بچوں کے لیے تحقیقی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

یونیسیف نے برطانیہ کو ترجیحات بدلنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے لیے برطانیہ کو کم سے کم آمدنی کی سطح بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ لوگوں کو خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل سکے۔ مادی اشیاء کے حصول کے لیے نہ ختم ہونے والی دوڑ کی حوصلہ شکنی کے لیے اشتہارات کے قوانین میں بھی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اسی حوالے سے سویڈن میں یہ دلچسپ پیش رفت بھی ہوئی کہ اس ملک کے ۱۲ سال سے کم عمر میں بچوں کو چیزیں خریدنے پر آمادہ کرنے والے اشتہارات پر پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا۔

برطانیہ میں سیاست داں بھی اس معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بچوں کی بہتر نشو ونما میں دولت سے زیادہ والدین کی توجہ اور وقت کی اہمیت ہوتی ہے اور مضبوط اور مستحکم خاندان ہی کامیاب معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رپورٹ: ادارہ

Leave a Reply