4

ہمارے منہ کی صحت

دل کی بیماریوں سے لیکر ذیابیطس اور پری میچور برتھ، لیوکیمیا کھانے میں بے قاعدگی اور وٹامن کی کمی وغیرہ تک کی آپ کے دانت اور مسوڑھے سب اسنان بتاتے ہیں، داغ دھبوں والے مسوڑھے کیویٹیز دانتوں کا گرنا، گنگیوائٹس اور دوسرے ایسے اشارے آپ کے دانتوں سے آپ کی صحت کی کہانی اور آپ کی صحت کے سنجیدہ مسائل بتاتے ہیں۔ عام طور پر یہ سارے مسائل دانتوں کی خراب صحت کی وجہ سے اور دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں جیسے باقاعدگی سے صاف نہ کرنا اور صفائی کا خیال نہ رکھنا لیکن ساتھ ہی اپنے ڈینٹسٹ کے سنہرے اصولوں پر عمل نہ کرتے ہوئے بھی آپ ان بیماریوں کو گلے لگا سکتی ہیں۔

ایک دندان ساز یا پیریا ڈینٹسٹ ہی سب سے پہلے آپ کے سسٹم کی نشاندہی کرتا ہے کیوں کہ وہ اپنے مریض کے منہ میں دیکھ سکتا ہے کہ اندر کیا کچھ چل رہا ہے؟ ’’ایک مشہور پیریا ڈنٹسٹ نے بتایا ’’جلد ہی آپ کو سننے کو ملے گا کہ اکثر دندان ساز منہ کی صحت کے ساتھ ساتھ پورے سسٹم کی صحت کے بارے میں بھی بتائیں گے۔ اب دانتوں کے ڈاکٹروں کو اسکول میں یہ سب پڑھایا جانے لگا ہے۔ آج سے دس سال پہلے یہ نہیں ہوتا تھا۔ تو کیا آپ دانتوں کے درمیان پھنسی ہوئی صحت کو نقصان پہنچانا پسند کریں گی؟

ذیابیطس

جو لوگ ذیابیطس کے مریض نہیں ہوتے۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ دانتوں کی بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض ہوتے ہیں اور ان کے بیماری میں مبتلا ہونے کے چار گنا مواقع موجود ہوتے ہیں لیکن اگر یہ اپنی غذا میں احتیاط کریں اور دوا لیتے رہیں تو فکر والی کوئی بات نہیں ہوتی۔‘‘اگر میں کسی مریض کے دانتوں میں کوئی دانہ وغیرہ دیکھتی ہوں تو یہ تو یہ ضرور پوچھتی ہوں کہ اس نے اپنے خون کا ٹیسٹ کروایا ہے۔ ماہر دندان نے بتایا۔ مسوڑھے کی بیماریون کے علاوہ شوکر کے مریضوں میں منہ خشک ہونے، پیاس کی زیادتی، سانس میں بدبو، ناک، منہ، پھیپھڑے اور پیٹ میں انفکشن ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں کی بیماری

ہڈیوں کی بیماری اور دانت کے امراض ساتھ ساتھ چلتے ہیں کیوں کہ جن چیزوں کی کمی کی وجہ سے ہڈیوں کی بیماریاں ہوتی ہیں ان ہی کی وجہ سے دانتوں میں بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ماہواری کی بندش کے بعد خواتین کے دانت تیزی سے گر جاتے ہیں یا ان کی بنیاد کمزور ہوجاتی ہے۔

اگرچہ ہارمون تھراپی سے خواتین کو فائدہ ہوتا ہے مگر دانتوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ’’عورتوں کی زندگی میں چار مواقع ایسے ہوتے ہیں جب وہ دانتوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ ’’ماہر دندان نے بتایا۔ ماہواری کی بندش کے دوران، عنفوان شباب، حمل اور ماہواری کے دوران اس دوران ہارمونز کی سطح میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور نتیجہ میں منہ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔‘‘

امراضِ قلب

حالیہ مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا حضرات کے دانت بھی آسانی سے بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ’’یہ دیکھا گیا ہے کہ منہ میں جو بیکٹیریا ہوتے ہیں وہ ان دنوں زیادہ فعال ہوجاتے ہیں جب دل کا دورہ پڑتا ہے اور دل کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔‘‘

قبل از وقت پیدائش اور وزن کی کمی

ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ ایسی خواتین جنہیں حمل کے دوران مسوڑھے میں تکلیف ہوتی ہے، ان کے ہاں اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ بچہ قبل ازوقت اور جسامت میں چھوٹا اور وزن میں کمی والا پیدا ہو۔ مسوڑھے میں جس شدت سے تکلیف ہوگی رسک اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کیمیکلز سے بدن میں جلن یا خارش پیدا ہوتی ہے اس سے ماں کے پیٹ میں موجود بچہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

دیگر معاملات

جیسے جیسے انسانی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، منہ میں بننے والے لعاب کی مقدار میں کمی آتی جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی گولیوں کے علاوہ الرجی وغیرہ کی گولیاں کم سے کم استعمال کریں کیوں کہ ان میں جو اجزاء استعمال ہوتے ہیں وہ بہت گرم ہوتے ہیں اور منہ میں خشکی کا موجب بنتے ہیں۔ منہ میں خشکی ہوگی تو منہ میں پیدا ہونے والے بیکٹیریا کو نمو پانے میں مدد ملے گی۔ صرف یہی نہیں مسوڑھے بھی خشک ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے سیل بھی خشک ہوکر مر جاتے ہیں۔ منہ کو خشک ہونے سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے۔ ماؤتھ واش اور چیونگم کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان میں سب سے بہتر ہے نماز کے وقت وضو کے دوران اچھی طرح کلی اور غرارہ کرنا۔ لیو کیمیا کی وجہ سے مسوڑھے نہایت سرخ اور نرم ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں جلن بھی ہونے لگتی ہے۔ جب آپ پارٹیوں میں کثرت سے کھانا پینا شروع کردیتے ہیں تو مرغن غذاؤں کی وجہ سے تیزابیت پیدا ہوتی ہے، جو دانتوں کے قدرتی انیمل (چمک) کو کھا جاتی ہے۔ خاص کر اندر کی طرف سے جسم میں وٹامنز کی کمی کی وجہ سے بھی دانتوں کی مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اگر جسم میں آئرن کی کمی زیادہ ہوتی ہے تو اسی مناسبت سے خون بھی کم ہوگا، جس کی وجہ سے گلے میں خراش پیدا ہوگی اور کھانے پینے کی اشیا نگلنے میں تکلیف ہوگی۔ وٹامن سی کی کمی سے مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے اور یہ بات آگے بڑھ جائے تو دانت ضائع بھی ہوسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شائستہ علی

تبصرہ کیجیے