3

تعلیم و تربیت میں گھر کا رول

اس وقت ہمارا معاشرہ جن معاشرتی مشکلات اور مسائل سے دوچار ہے ان میں نئی نسل کی ٹھوس اخلاقی اور فکری تربیت کا مسئلہ خاصا اہم ہے۔ اس کی اہمیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کو اپنے استحکام، حقیقی آزادی، دنیا کی قیادت کے حصول اور اسلامی تہذیب کے احیا کے لیے جس چیز کی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے وہ ہے ایک ایسا صالح اور فعال گروہ جو اخلاقی اور عملی پہلو سے نہ صرف معاشرے کا ممتاز اور نمایاں گروہ ہو بلکہ اسلام کی دعوت کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے والوں کا شدید قحط ہے۔ لیکن اگر مستقبل کے لیے ابھی سے نئی نسل کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کا خاطر خواہ انتظام نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ یہ تھوڑی بہت اسلام کی بہار بھی کہیں خزاں میں تبدیل ہوکر نہ رہ جائے۔

بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے کوہکن کی ہمت اور کسان کا پتہ درکار ہے۔ اس کے لیے مختلف تدابیر اور مختلف ذرائع و وسائل کے ساتھ ساتھ جدوجہد کا سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فرد کے اخلاق کو مخصوص سانچے میں ڈھالنے کے لیے یہاں کئی اساسی عوامل خود بخود کام کرتے ہیں۔ اگر ہم ان عوامل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صحیح اور موزوں رہنمائی حاصل کرلیں تو بلاشبہ ہماری محنت رنگ لائے گی اور نئی نسل میں ایسے افراد تیار ہوں گے جن کی پیشانیوں پر ہم اپنے مستقبل کی درخشانی کے آثار دیکھ سکیں گے اور آئندہ اسلام کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے انہیں بلا جھجھک بنیادی ستون بنا سکیں گے۔

تربیت کے بنیادی عوامل

فرد کی نشو ونما اور تربیت میں بنیادی اور اساسی طور پر جو عوامل کام کرتے ہیں انہیں ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلا عامل انسان کا گھر اور خاندان ہوتا ہے، دوسرا عامل مدرسہ ہے اور تیسرے وسیع اور موثر ترین عامل ماحول ہوتا ہے۔ فن تربیت کے عوامل میں ماہرین نے مذکورہ تین عوامل کے علاوہ بعض دوسرے عوامل دین اور عقیدہ وغیرہ کا اضافہ کیا ہے لیکن یہ عوامل مستقل اور جداگانہ حیثیت نہیں رکھتے بلکہ پہلے تین عوامل کا حصہ قرار دئے جاسکتے ہیں۔ دین ہمارے نزدیک ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے ہماری محنتوں اور کاوشوں کااساسی مقصود اور اصلی مرکز وہی ہے۔ وہی ہمارا حقیقی اور موثر قائد ہے۔ تعمیر اخلاق میں اسے مربی اول ہونے کا مقام حاصل ہے۔ اس لیے ہم دین کو اپنی عملی زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں سمجھتے بلکہ اسے زندگی کی گاڑی کا ڈرائیور اور اپنے روز مرہ کے معاملات میں رہنما سمجھتے ہیں۔ ملت اسلامیہ اپنی ترقی کی معراج اس روز پائے گی جب مذکورہ تینوں عوامل گھر، مدرسہ اور ماحول کلیتاً دین کے مطابق ہوجائیں گے اور دین ہی کے بتائے ہوئے نقشے کے مطابق ان کی تعمیر کی جائے گی۔

اس تحریر میں ہم سب سے بنیادی عامل یعنی گھر اور اس کے اثرات پر بحث کرتے ہیں۔ یہ سب سے اہم اس لیے ہے کہ زندگی کی شروعات یہیں سے ہوتی ہے۔

گھر

گھر انسانی نسل کا نرسری فارم ہوتا ہے۔ فرد کی نشو ونما اور اس کے سیرت و اخلاق کی تعمیر کے ابتدائی انتظامات اسی گہوارے میں ہوتے ہیں۔ اس تربیت میں عموماً تین کردار خاص طور پر اثر ڈالتے ہیں۔ والدین، بھائی اور بہنیں۔ بعض اوقات دوسرے افراد بھی اس فہرست میں شریک ہوجاتے ہیں اور بچے کی پرورش والدین کی گود میں ہونے کے بجائے رشتہ داروں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ بہر حال ’’گھر‘‘ کے معنی والدین اور بہن بھائی ہوں یا عزیز رشتہ دار، ضرورت جس بات کی ہے وہ یہ ہے کہ گھر میں تربیت کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں۔ اس کے افراد کے اندر خدا ترسی اور صلہ رحمی کے اوصاف پائے جاتے ہوں۔ آپس میں پیار و محبت کے گہرے تعلقات ہوں اور اعتماد اور تعاون گھر کو خوشی اور اطمینان کا گہوارہ بنائے رکھے۔ بچہ اسی وقت سعادت مند جوانی سے ہمکنار ہوسکتا ہے جب کہ گھر کی چہار دیواری اس کے لیے ایک ایسا سدا بہار گلشن ہو جہاں معصوم کلیوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کیا جاتا ہو۔ ایسا گلشن جہاں خوش گواری اور خیر خواہی سے لبریز فضائیں ہر پودے سے اٹھکھیلیاں کرتی رہتی ہوں۔ اور نشاط و مسرت کے پھریرے ہر گوشۂ بساط پر لہراتے ہوں۔

مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نگاہوں کے سامنے رہنا چاہیے۔ بچے کی ناز برداری میں اعتدال سے کام نہ لینا اور جوش محبت میں غلطی اور برائی پر بھی بچے کو نہ ٹوکنا اسے شرارت پسند اور سرکش بنا دیتا ہے۔ اس کے اندر خود غرضی اور خود پسندی پیدا ہوجاتی ہے۔ جو ماں باپ اپنے ’’گھر کے اجالے‘‘ اور ’’چراغ خانہ‘‘ کے ساتھ پیار اور محبت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ہر خواہش کے آگے سر جھکا دیا جائے اور اس کی ہر فرمائش کو بلا چون و چرا پورا کردیا جائے وہ بچے کے اوپر درحقیقت بڑا ظلم کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل بہت جلدی بچے کے دل میں غلط فہمی پیدا کردیتا ہے کہ تمام لوگ میرے خانہ دار غلام ہیں اور میں کسی کے زیر فرمان نہیں ہوں۔ ظاہر ہے کہ جس بچے کی ہر خواہش پوری ہوتی ہو اور جس کے ہر مطالبہ کی بلا چون و چرا تکمیل کی جاتی ہو تو اس کی خواہشات اور مطالبات میں ہر دم نت نیا اضافہ ہوگا اور ان کا پورا کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ بچہ ناممکن اور محال اشیاء کا مطالبہ کرنے پر اتر آئے گا۔ مثلاً وہ کہے گا کہ آسمان پر چمکتا ہوا ستارہ اسے توڑ کر لادیا جائے، کتے اور بلیاں اس کے سامنے ذبح کیے جائیں۔ فوج کا دستہ اس کے سامنے کھڑا رہے وغیرہ۔ یہ بات یاد رہے کہ جو ماں بے سوچے سمجھے اپنے بچے کے ’’احکام‘‘ کی فرمانبرداری کرتی ہے اور اس کی ہر خواہش کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پورا کرتی ہے وہ ماں دراصل اپنے بچے کے مستقبل کی قبر خود اپنے ہاتھوں کھود رہی ہے۔ اس طرح کا بچہ جب جوان ہوکر واقعاتی زندگی میں قدم رکھے گا اور اسے تجربہ ہوگا کہ دنیا اس کی ہر خواہش کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے اور زندگی اس کی منشاو مرضی کے سانچے میں نہیں ڈھل رہی ہے تو یہ انکشاف اس کے لیے نہایت روح فرسا ثابت ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ صدمہ اسے مستقل مایوسی اور احساس کمتری میں مبتلا کردے۔ اسی طرح جس شخص کو بچپن میں عادت ہوجائے کہ اس کی کوئی فرمائش ٹھکرائی نہ جاتی ہو تو بڑے ہوکر جب اس کے برعکس اسے معاملہ پیش آتا ہے تو قدرتی طور پر وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے لگتا ہے۔ اور اپنے آپ کو ناکارہ تصور کرکے اس وہم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ دنیا کے اندر کسی کام کو سرانجام دینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اسی وہم کی بنا پر وہ سوسائٹی کے فعال عناصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہمت بھی اپنے اندر نہیں پاتا۔

بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ — جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے — گھر ہے۔ اس سلسلے میں انسانی تجربے کا حاصل یہ ہے کہ بچے کے دل و دماغ کی صاف تختی پر سب سے پہلے جو نقش کندہ ہوتے ہیں، وہ مرتے دم تک محو نہیں ہوتے اور زندگی کے ہر دور میں اپنے اثرات دکھاتے رہتے ہیں۔ اس لیے زندگی کے ابتدائی سالوں کی تربیت جو گھر کے اسکول میں سر انجام پاتی ہے، بہت اہمیت رکھتی ہے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے’’بچپن کا تاثر پتھر کی لکیر ہوتا ہے‘‘۔

والدین یا دوسرے سرپرستوں کو ہر وقت اس بات پر چوکنا رہنا چاہیے کہ بچے کے دل و دماغ ہر قسم کے برے اثرات سے امکانی حد تک بچے رہیں۔ اگر غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے بچے کے اوپر غلط اثرات پڑتے رہے اور ان کا نقش جمتا چلا گیا تو بعد میں ان کا زائل کرنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ جو درخت پہلے روز سے ٹیڑھا ہوجائے اور اسی حالت میں بڑھتا رہے حتی کہ اس کی جڑیں پوری طرح زمین میں پیوست ہوجائیں تو پھر اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرنا بے سود ہوگا۔

بچہ اس لحاظ سے بے حد ذہین ہوتا ہے کہ اپنے ماحول میں وہ کچھ سنتا یا محسوس کرتا ہے اس کو وہ اپنے اندر بلا کم و کاست محفوظ کرلیتا ہے۔ ہر نیا منظر ہر نئی بات اور ہر نیا تاثر یا احساس اس کے لیے ایک نئی دریافت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ بچے کے سامنے ایک دن کوئی کہانی بیان کریں جب کچھ دن گزر جائیں تو اسی کہانی کو دہرائیں۔ چاہے الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوجائیں مگر اس کے باوجود جہاں جہاں واقعہ بیان کرنے میں غلطی ہوگی بچہ ٹوکتا جائے گا۔ پس ماؤں کو اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بچے کے ذہن میں جو بات ڈالیں اور اس کے سامنے جو کام کریں وہ پاکیزہ اور سود مند ہو اور کڑی نگرانی رکھیں کہ فحش الفاظ، غلط مناظر، کمینہ حرکات اور مسخ شدہ حقیقتیں اس کے دل و دماغ میں جاگزیں نہ ہوں۔ اسی سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ فحش اور عریاں فلمیں دیکھنے کے لیے بچوں کو ساتھ لے جانا کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان فلموں میں عشق و محبت کے حیاسوز مناظر، چوروں اور ڈاکوؤں کے کارنامے، قتل و خون کے واقعات جو عام زندگی میں بچوں کے لیے دیکھنا ناممکن ہوتا ہے۔ پردۂ فلم پر چند گھنٹوں کے اندر دیکھ لیں گے اور نہ صرف دیکھ لیں گے بلکہ اپنے ذہن وفکر کا دامن ان سے بھر کر لائیں گے۔ گستاخی معاف ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ جو والدین اس طرح کے گھٹیا مناظر اور خطرناک مشاہدات سے اپنے بچوں کے دل و دماغ میں زہر بھر تے ہیں وہ انسانیت کے بہت بڑے دشمن اور ڈاکو اور نیکی و اخلاق کے راہزن ہیں اور مستقبل کے برے نتائج کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ (عربی سے ترجمہ)lll

شیئر کیجیے
Default image
محترمہ نہال الزہاوی، بغداد

تبصرہ کیجیے