6

موبائل کے نقصانات

عہد حاضر کا دور سائنس اور ٹکنالوجی کا دورہے۔روزبروز نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔یہ تمام ایجادات اللہ تعالی کے دیے ہوئے علم کی بدولت ہو رہی ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:

’’انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا نہ تھا۔۔۔

انسان اس علم سے کام لے کر ٹکنالوجی کے میدان میں طرح طرح کی اشیا ایجاد کر رہا ہے۔جیسے ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر ،انٹرنیٹ، اور موبائل وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں اور ہمیں ان کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ورنہ یہی ہمارے لیے آخرت میں وبالِ جان بن جائیں گی۔ان نعمتوں میں سے ایک نعمت موبائل بھی ہے۔

موبائل دو طرفہ مواصلت کا ذریعہ ہے۔آپ اس کے ذریعے نہ صرف سن اور دیکھ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ اپنے خیالات بھی شیئر کر سکتے ہیں۔اب یہ تو انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس سے فحش باتیں سننا اور عریاں تصاویر دیکھتا ہے یا قرآن و حدیث سنتا ہے اوراسے اچھے کاموں میں استعمال کرتاہے۔یہ آزادیِ انتخاب ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:

’’اس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘ (الملک:۲)

اس کے جہاں ایک طرف بہت سارے فوائد ہیں وہیں دوسری طرف نقصانات بھی ہیں۔جیسے چاقو سے پھل بھی کٹتا ہے اور چاقو سے گردن بھی کٹتی ہے۔اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس کے نقصانات درج ذیل ہیں:

آج کل نوجوان لڑکوں لڑکیوں میں موبائل کا کریز دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور مہینے دو مہینے پر موبائل بدل دینا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔یہ مہنگے موبائل کمپنیاںلوگوں کو انسٹالمنٹ (سود)پر دیتی ہیں کہ وہ بعد میں روپئے قسطوں میں سود سمیت ادا کر دیں گے۔مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں ملوث نظر آتا ہے۔جب کہ عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’سود کھانے والے،سود کھلانے والے،اس کے گواہوں اور لکھنے والوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔‘‘ (ترمذی:۱۲۰۹) ۔ ساتھ ہی اس پر بدترین عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

نوجوان لڑکوں لڑکیوں میں گانے سننے اور فلمیں دیکھنے کا ایک جنون سا نظر آتا ہے۔چوراہوں، نکڑوں اور چائے کی دکانوں پر بیٹھ کر ’اجتماعی گانے اور فلمیں‘دیکھی اور سنا جاتا ہے۔سفر کے دوران بس اور ٹرین میں فل آواز میں میوزک سنی جاتی ہے۔جب سے چائینا موبائل عام ہوئے ہیں ،اس میں تو اتنی’ برکت‘ ہے کہ نہ صرف خود سنا جاتا ہے بلکہ ایک کلومیٹر تک کی ہر ذی روح کو سنایا جاتا ہے ۔یہ صحیح نہیں ہے۔حدیثِ نبوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میری امت میں سے کچھ لوگ ریشم،شراب اور معازف کو حلال کر لیں گے۔‘‘(بخاری)

معازف سے مراد آلاتِ موسیقی ہیںاور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔

امتِ مسلمہ کا نوجوان طبقہ خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں عموماً اپنے موبائل میں نامحرم مرد وعورت جیسے ہیرو، ہیروئن،سنگرس اور کھلاڑیوں کی تصاویر رکھتے ہیں اور اسکرین پکچر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ جائز نہیں ہے۔حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

’’(غافل)آدمی کے حصے میں زنا کا جو حصہ لکھا ہے، وہ اس کو پا کر رہے گا۔آنکھوں کا زنا شہوت کی نظر سے دیکھنا ہے، کانوں کا زنا فحش باتوں کا سننا ہے،زبان کا زنا اس طرح کی باتوں میں حصہ لینا ہے،ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے،پیر کا زنا اس کے لیے چل کر جانا ہے ،دل کا زنا اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ یا تو اس کی تصدیق کر دے گی یا تکذیب۔‘‘ (مسلم:۲۶۵۷)

عموماً لوگ رنگ ٹون میںمیوزک یا گانے لگاتے ہیں۔یہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔ اسی کی وجہ سے مسجدوں میں بھی گانوں اور میوزک کی آواز سنائی دینے لگی ہیں۔بہتر ہے کہ مسجدوں میں آتے ہوئے موبائل بند کر لیا جائے اور اگر نماز کے دوران کال آ بھی گئی تو اس کو فوراً بند کر دیا جائے۔

بعض لوگ دین داری کے جذبے میںیا لاعلمی کی وجہ سے رنگ ٹون میں قرآن کی آیت یااذان وغیرہ کااستعمال کرتے ہیں ،جو صحیح نہیں ہے۔یہ تمام چیزیں دینی شعائر میں سے ہیں ان کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔کیوں کہ جب کوئی کال آتی ہے تو انسان کاٹ کر ریسیو کرتا ہے،یہ بھی ان کی بے ادبی کے مترادف ہے یاکبھی انسان ٹوائلٹ وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب سے اجتناب کرنا چاہیے۔

عموماً لوگ آئے ہوئے میسج کو بلا تحقیق آگے بھیج دیتے ہیں، خاص کر دینی پیغامات کو آگے بڑھانا واجب خیال کرتے ہیں۔مثلاً رجب یا محرم کے مہینہ میں ایسا ایساکیا ۔۔۔۔تو اتنے لاکھ نیکیاں ملیں گی۔گویا کوئی بمپر آفر ہے۔

بدعات و خرافات، من گھڑت ضعیف احادیث، شیوخ کے فرضی واقعات اور افواہوں پر مشتمل ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں اور دوسروں کو نہ بھیجنے کی صورت میں جان ومال کے نقصان اور آخرت میں تباہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔اس میں پہلے تحقیق کرلینی چاہیے ،کیوں کہ اگر آپ کی کسی غلط بات پر کسی نے عمل کر دیایا کفر کا مرتکب ہو گیا تو آپ بھی اس گناہ میں شریک ہوں گے۔حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے۔‘‘(مسلم)

نوجوانوں میں یہ عام بات ہے کہ دوست کا موبائل ہاتھ لگ گیا تو وہ اس کے ایس ایم ایس ،فوٹو اور دوسری ذاتی چیزیں دیکھنے لگتا ہے۔یہ جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ دوست اس کی اجازت دے۔اسی طرح چوری چھپے نہ کسی کا نمبر لینا اور نہ ہی دینا درست ہے۔عموماً لڑکے اپنے ساتھیوں کے موبائل سے لڑکی کانمبر نکال لیتے ہیں اور پھر اس کو پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ خیانت کا عمل ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ اس کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس کا دین نہیں جس میں عہد کی پابندی نہ ہو۔‘‘(احمد)

موبائل کی وجہ سے لوگوں میں فضول گوئی کا رجحان بڑھ گیا ہے،جس میں زیادہ تر فضول باتیں، غیبت ،جھوٹ اور چغل خوری ہوا کرتی ہیں۔کمپنیوں کی طرف سے مختلف طرح کے ٹیرف اور فری کال پیک اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثلاً اگر فری کال پیک ختم ہو رہا ہے اور بیلینس بچاہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے رات بے رات لوگوں کو کال کی جارہی ہے۔ اب سامنے والا مصروف ہے، آفس میں ہے یا سو رہا ہے، اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ جب کہ ابوہریرۃؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کے لیے زبان کھولے یا چپ رہے(بخاری)۔اورحضرت ابوحذیفہؓ سے مروی ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔‘‘ (بخاری:۶۰۵۶ )

عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں بیٹھے بیٹھے اپنے دوستوں، رشتے داروں حتیٰ کہ اجنبی لوگوں کو مس کال دیتے رہتے ہیںکہ ممکن ہے کوئی صنفِ مخالف مل جائے اور ’دوستی‘ ہو جائے۔ اس میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو صرف مس کال سے ہی کام چلانا چاہتا ہے اور اپنا بیلنس محفوظ رکھتا ہے۔یہ بخل کی علامت ہے۔ انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے :

’’ائے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بزدلی سے اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں بہت بڑھاپے اور بخل سے۔‘‘(بخاری:۱۲۹۷)

عموماً لوگ فون ریسیو کر کے ہیلو ، ہائے اور گڈ مارننگ وغیرہ کہتے ہیں۔اسلامی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے سلام کیا جائے۔خصوصاً جب یہ معلوم ہو کہ سامنے والا مسلمان ہے ۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندو اگر نمسکار کہے تو اس کے جواب میں نمسکار نہ کہا جائے، ہاں اگر یہود و نصاریٰ سلام کریں توان کے سلام کا جواب دے دیا جائے۔

اس میں ایک بات کا خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ بہت بلند آواز میں چلاّ کر بات نہ کی جائے کہ ساری دنیا سنے اور ڈسٹرب ہو۔ آواز بس اتنی بلند ہو کہ مخاطب سن لے۔ قرآن کریم میں بلند اور کرخت آواز کو گدھے کی آوازکے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی فون پر ’’میں‘‘ بول کر تعارف کرانا چاہیے ،بلکہ اپنا نام بتانا چاہیے ۔جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے: ’’میں آپؐ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے آواز دی تو آپ نے دریافت کیا کون؟ میں نے عرض کیا ’میں‘ ہوں۔ آپؐ یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ میں تو میں بھی ہوں۔‘‘(مسلم:۱۴۲۳)

اگر کسی کو فون کیا جائے اور ریسیو نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ تین بار کرنا چاہیے۔کیوں کہ ممکن ہے وہ مصروف ہو ۔بعض دفعہ لوگ چھ سات بار کال کرنے لگتے ہیں اور ریسیو نہ ہونے پربدگمان ہو کر ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ:

’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اجازت تین بار مانگنی چاہیے پھر اگر اجازت ملے تو بہتر، ورنہ لوٹ جاؤ۔‘‘ (مسلم: ۱۴۲۱)

جب سے موبائل آیا ہے لوگوں میں جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔گھر پر رہتے ہیں اور فون پر آفس میں ہوں بتاتے ہیں۔جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جھوٹ سے بچو ۔بلا شبہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچانے والاہے۔الخ‘‘ (ابوداؤد:۴۹۸۹)

عموماً لوگ موٹر سائیکل یا کار وغیرہ چلانے کے دوران موبائل پر بات بھی کرتے رہتے ہیںجو حادثہ کا سبب بنتا ہے ۔ اس میں وہ خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

’’اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ (البقرۃ:۱۹۵)

اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی ہے کہ لوگ کان میں ’ہیڈ فون یا بلو ٹوتھ‘ لگائے کام انجام دیتے رہتے ہیںلیکن اس سے بھی حادثے کا شکار ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ریلوے ٹریک پر اس کی وجہ سے آئے دن اموات ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ایک قسم کی خودکشی بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جان کو ہلاکت میں جان بوجھ کر نہ ڈالو۔

حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے ہم لوگوں کو ایسی چھت پر سونے سے منع کیا ہے جس کی منڈیر نہ ہو۔(ترمذی)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کرنا ضروری ہے۔

جب سے موبائل میں کیمرہ آیا ہے لوگوں میں فوٹو کھنچنے کا رجحان بڑھ گیا ہے،حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی بلا ضرورت اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔فوٹو کھینچنا ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔بعض اس کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کو جائز نہیں قرار دیتے ہیں،لیکن اتنے پرتو سب کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت فوٹو لیتے رہنا صحیح نہیں ہے اور یہ تب تو حرام ہو جائے گا جب نامحرم مردوں اور لڑکیوں کی تصا ویر لی جائیں اور اس کو موبائل میں رکھا جائے اور دوستوںکو دکھایا جائے۔ اس لیے ان سب سے بچنا چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

تبصرہ کیجیے