3

قصہ دو جگہوں کا

ویسے تو میں شام سے ہی سوچ رہی تھی، کل صبح گھر کے دوسرے کام اور ناشتہ سے فارغ ہوکر جلدی تیار ہونا ہے۔ خاندان کی ایک شادی میں شریک ہونا ہے اور پھر ایک بچی کی عیادت کو بھی جانا ہے۔ میں نے یہ دونوں کام اسی لیے یکجا کیے۔ کیوں کہ ہسپتال او رشادی خانہ دونوں قریب قریب تھے اور شہر کی میٹرو ریل کا ہنگامہ خیز سفر اور صبح کا ٹریفک بہت مشکل تھا وقت پر پہنچنا۔

خیر ہم خدا خدا کر کے ہسپتال پہنچے تو ہم مریض تو کیا، اس کی ماں سے بھی مل نہ سکے۔ اس کی ماں بھی ہسپتال کے کپڑوں میں ہی بچی کے پاس موجود تھی۔ بچی کا آپریشن ہوئے صرف چار دن گزرے تھے۔

مجھے مایوسی ہوئی کہ آکر بھی ملنا نہ ہوا۔ اسی لیے میں نے بچی کی پھوپھی کا نمبر لگا کر بات کی تو پتہ چلا کہ کوئی نہیں مل سکتا۔ اب کیا کرسکتے تھے، واپس آنے کے بارے میں سوچ کر پارکنگ لان کی طرف آرہے تھے کہ میرا موبائل بج اٹھا۔ فون پر بچی کی ماں عالیہ بات کر رہی تھی۔ بھابی آپ یہاں آئے شکریہ مگر میں آپ سے مل نہیں سکتی۔ آپ وہیں کھڑے کھڑے دائیں جانب پلٹ کر تیسری منزل کی طرف دیکھئے تو ہم کھڑکی میں کھڑے ہیں۔ میں نے دیکھا عالیہ ہسپتال کے گاؤن میں ناک پر Piece باندھے شیشے کے پار سے ہاتھ ہلا رہی تھی اس کے بازو میں بچی بھی کھڑی زور زور سے اپنے دونوں ہاتھ ہلا کر خوش ہو رہی تھی۔ نازک سی آٹھ سال کی بچی ہسپتال کے گاؤن میں ملبوس دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے۔ عالیہ فون پر باتیں بھی کر رہی تھی۔ دعا کی درخواست کر رہی تھی اور آپ کو دیکھ کر بچی بہت خوش ہوئی ہے، کہہ رہی تھی۔

میں نے ازراہ ہمدردی بچی کی صحت کے ساتھ عالیہ کی صحت کے بارے میں پوچھا اپنی صحت سے لاپرواہ نہ ہوجانا۔ تمہارا ناشتہ کھانا کون لاتا ہے؟

تو اس نے بتایا، بھابھی ہسپتال کا جو کھانا آتا ہے، وہ بچی تو کھاتی نہیں میں تھوڑا کھا لیتی ہوں۔ مجھے اس پر بہت ترس آیا۔ میں نے کہا، کافی بسکٹ کینٹین سے لے کر پی لو تھکن کا احساس نہ ہوگا، تو وہ بناوٹی ہنسی کے ساتھ کہنے لگی۔ بھابی! یہاں ایک کپ 75 میں ملتی ہے۔ اتنی مہنگی کافی پی کر میرا درد سر دو گنا ہوجائے گا۔ اللہ خیر کرے۔ میرے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔

اب ہم شادی خانے میں داخل ہوئے تو نکاح چل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہم کھانے کے ہال کی طرف آئے۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ کئی کئی اقسام کے کھانے میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی پلیٹ میں تھوڑی سی بریانی اور ایک ٹکڑا مرغ کا لے لیا۔ میری دیورانی مجھ سے مسلسل باتیں کر رہی تھیں۔ جب کہ میرا دماغ تو ہسپتال اور بچی میں اٹکا ہوا تھا، ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔ ارے بھابی! یہ کیا؟ تم نے تو کچھ بھی نہیں لیا۔ دیکھو اور دو قسم کے مرغ کے سالن بنے ہیں۔ مچھلی نہیں لی تم نے؟ روٹی اور پایا کا سالن بھی بہت لذیذ ہے، ہاں لے لوں گی۔ میں نے کہا۔

کھانے سے فارغ ہوکر ایک طرف آئے تو دیکھا کہ اسٹال لگے ہوئے ہیں۔ سات قسم کے پھل خوبصورت طشتریوں میں سجائے ہوئے، اس کے بازو میں آئس کریم او رپھر مشروبات۔ آخر میں کئی قسم کا پان بیڑا۔

مجھے بیماری اور پرہیز سے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں ہر نوالہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوئی ایک طرف ہوگئی اور سوچنے لگی۔ ایک طرف ایک بے بس ماں کافی کے لیے ترستی ہے، اور یہاں اتنا اسراف، بے جا اخراجات، یہ دکھاوا آدمی کو کہاں لے جائے گا۔

ایک ضرورت مند کو دیتے ہوئے مال دار لوگ پچاس بار سوچ کر ۵۰۰ یا ۱۰۰۰ بڑی مشکل سے خیرات کرتے ہیں۔ مگر اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کو لاکھوں کا خرچ کردیتے ہیں۔

اے اللہ! ہم مسلمانوں کو اچھی ہدایت و توفیق دے۔ اے اللہ! ہم سے ناراض نہ ہونا، تو اپنی نعمتوں سے ہم کو کبھی محروم نہ کرنا، اور درد مند دل سے ہر ایک کو نوازنا۔ آمین lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحت سمیع

تبصرہ کیجیے