4

پرانا اجنبی

وہ مسجد میں داخل ہوا۔ نظریں اٹھا کر دیکھا۔ ایک طرف بوڑھوں کا گروپ تھا، جس میں زیادہ تر بینک، پولس اور آبکاری محکمہ کی سرکاری نوکری کے بعد وظیفہ لے کر عمر کے باقی ایام گزار رہے تھے۔ دوسری طرف کچھ ہم عمر اور نوجوان تھے۔ ان سب کی نظریں اس کی طرف اٹھیں، وہ سب کو پہچانتا تھا کیوں کہ وہ اسی محلہ کا تھا۔ ہر وقت ہر ایک کی خوشی اور غم میں شریک ہوتا، دوسروں کی مدد کرتا۔ پھر بھی آج وہ اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرنے لگا۔ وہ اُن کی نگاہوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کو یہ احساس ہونے لگا کہ کہیں میں یہاں غلطی سے تو نہیں آگیا! سب کی نظریں اسے ایسی محسوس ہو رہی تھیں، جیسے چڑیا گھر میں کوئی نیا جانور آگیا ہو۔ اللہ اللہ کر کے اقامت ہوئی اور جماعت کھڑی ہوگئی۔ اطمینان سے نماز پڑھی، سلام و دعا کے بعد باہر آیا۔ ہم عمر اور نوجوانوں کا انداز استقبالیہ تھا۔ مگر بوڑھوں میں سے ایک صاحب نے کہا میاں! ادھر کیسے بھٹک کر آگئے۔ وہ جواب دینا ہی چاہتا تھا کہ ان بوڑھوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک کہتا: معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن قریب ہے ، دوسرے نے کہا شاید کوئی پریشانی لاحق ہوگئی ہوگی۔ کوئی کہتا کوئی منت ہوگی، کسی نے کہا کوئی پریشانی یا مصیبت کا شکار ہوگیا ہوگا۔ وہ سوچنے لگا کیا یہ لوگ اسی لیے مسجدیں آتے ہیں۔ یا نماز کے عادی ہوگئے ہیں اور غیر شعوری طور پر طلب پوری کرنے آتے ہیں یا اپنی خاص صلاحیتوں کے مظاہرے جیسے چھوٹوں کو ٹوکنا، نوجوانوں اور بڑوں پر طنز و طعن اور انتظامیہ کو پریشان کرنے آتے ہیں۔ یا اپنے مالکِ حقیقی کے حکم پر چل کر اس کو راضی کرنے! اس کے دماغ میں عجیب قسم کے خیالات اور سوالات کا سلسلہ بن گیا۔ وہ حال ہی میں ایک حادثہ کا شکا رہوگیا تھا۔ تین دن اور رات سو نہ سکا تھا۔ جب بھی آنکھ لگتی ماں کی درد بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی ’’بیٹا اٹھو نماز کا وقت ہوگیا۔ وہ اٹھ جاتا اور اپنے بچپن کی باتوں کو یاد کرتا، جس میں یہ بات اس کو بے چین کردیتی کہ اس کے مرحوم ماں باپ بے حد محبت و شفقت سے نماز کی تلقین کرتے، پھر غور کرتا کہ واقعی میں نے عمر کا بڑا حصہ غفلت میں گزار دیا ہے۔ جب صحت مند ہوا تو شعور جاگا اور اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کی کہ میں کون ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اپنے نفس کو نماز کے لیے آمادہ کیا تھا۔ مگر پہلے ہی موقع پر یہ سب کیا؟ اس کے اپنے مطالعہ کی حد تک یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں کہ قدم رکھتے ہی استقبال ہو، یہاں تو اپنوں اور غیروں کے طنز و طعنسننے ہی پڑیں گے۔ اس کے بعد اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ وہ پابندی سے مسجد آیا کرے گا۔ اور ان بوڑھوں کو جنہوں نے اس پر طنز کیے تھے، بتائے گا کہ نماز کیا ہے؟ اس سے کیا فائدے پہنچتے ہیں۔ نماز انسان کے ظاہر و باطن میں کیسا انقلاب برپا کرتی ہے، انسان کو فرشتہ سے اونچے مقام پر پہنچاتی ہے۔ نماز جو پڑھنی چاہیے وہ مالک و خالق کو راضی کرنے اور اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ دکھاوے کے لیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عبد الرشید لطیفی منظرؔ

تبصرہ کیجیے