2

معمولی بات

وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے اپنے میزان پر نگاہیں جمائے کھڑی تھی۔ وہی میزان جو کچھ لمحے پہلے بھاری تھا۔

عمر بھر کا سرمایہ تھا، جو لافانی زندگی میں حقیقی نعمتوں کا باعث بننے والا تھا۔

وہ عبارتوں میں کوتاہی کرتی تھی

کچھ حقوق اللہ میں کمی رہ گئی تھی

مگر وہ جس ذاتِ باری کے سامنے کھڑی تھی

وہ ذات رحمن، رحیم اور غفور تھی

اس نے اپنی رحمت سے ان کوتاہیوں کو نظر انداز کر دیا تھا

وہ مانگا کرتی تھی کہ ’یارب آسان سا حساب لینا‘

اور وہ رب آسان سا حساب لے رہا تھا

کتنی باتوں سے چشم پوشی کر رہا تھا

کتنی ہی لغزشوں کو معاف کر رہا تھا

بے شک وہ غفور ہے، رحیم ہے

بس اب نامہ اعمال ہاتھ میں دیے جانے کا مرحلہ باقی تھا۔

اور اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا۔

اور یہ یقین بے وجہ تو نہیں تھا۔

اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ عبادتوں میں کوتاہی نہ ہو۔

اور بھی بہت سی باتوں میں وہ اللہ کی رضا کا خیال رکھا کرتی تھی

خود کو گناہوں سے بچائے رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرتی رہتی۔

توبہ و استغفار کرتی رہتی۔

وہ اپنے رب کے حضور مودب کھڑی آخری مرحلہ کا انتظار کر رہی تھی کہ یکایک کہیں سے ایک آواز بلند ہوئی:

’’اے ہمارے رب، ہمارے ساتھ انصاف کا معاملہ کر۔‘‘

اور پھر اس ایک آواز کے ساتھ دھیرے دھیرے اور آوازیں بھی اٹھتی گئیں۔

اس کے اندر ناگواری کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پہلے اس کا معاملہ ختم تو ہوجانے دیا ہوتا۔

اور جب اس نے آوازوں کی سمت توجہ دی تو ساکت رہ گئی۔

سارے جانے پہچانے چہرے تھے۔

میرے اپنے، میرے رشتے دار، محلے دار اور بہت سے لوگ…

جن سے میں مایوس تھی۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو میرے لیے اجنبی تھے۔

یہ سب کچھ آخر یوں میرے حساب ہی کے دوران میرا نامہ اعمال دیتے وقت ہی کیوں؟کیا میں نے ان میں سے کسی کا حق مارا تھا؟‘‘

’’نہیں، نہیں‘‘ اس کے اندر سے شدت سے آواز آئی۔

وہ بہت تیزی سے خود سے سوال کر رہی تھی اور ہر بار ’نہیں‘ کا جواب جہاں اُسے مطمئن کر رہا تھا وہیں اس کی الجھن میں اضافہ کر رہا تھا … آخر اِسی وقت کیوں؟ بہت اہم سوال تھا جو اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔

اور پھر اُسے اس کے سوال کا جواب مل گیا۔

ایسا جواب کہ اس کی زبان گنگ ہوگی، ذہن ماؤف ہوگیا۔

اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔

اس کے سامنے وہ سارے پل، وہ سارے لمحے آگئے۔، جس کی بناء پر وہ آج

دھیرے دھیرے اپنے میزان کو ہلکا ہوتے اور

اپنے نامہ اعمال سے نیکیوں کو مٹتے ہوئے دیکھ رہی تھی

اور صدائے احتجاج تک بلند نہیں کرسکتی تھی۔

اور کرتی بھی کیسے…؟؟

جھوٹے کہنے کا یارانہ تھا کہ اس کی زبان ہی اس کے خلاف گواہی دے دیتی، اس کے کان ہی اس کے خلاف بول اٹھتے۔

وہ انصاف کی دہائی لگا نہیں سکتی تھی

کہ وہ سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والا خود انصاف کر رہا تھا …

یہ وہ لوگ تھے، جن کی اس نے ’’غیبت‘‘ کی تھی

وہی غیبت جو بہت غیر محسوس طریقے سے اس کی گفتگو کا حصہ بن جاتی۔

غیبت جسے اس نے بہت معمولی گناہ سمجھ لیا تھا

اور اپنی گفتگو کا لازمی حصہ…!!

بڑا ہی لطف آتا تھا اس گفتگو میں

اسے خود پر بے تحاشہ غصہ آرہا تھا

اسے کیا واسطہ تھا ان چیزوں سے، ان باتوں سے، ان کاموں سے، جو لوگ کرتے تھے۔

ان کے عیبوں نے اس کی زندگی کو اس وقت کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا، مگر اس کے متعلق کی گئی گفتگو اسے بہت عظیم ہلاکت میں ڈال رہی تھی۔

کاش وہ یہ کہہ کر خاموش ہوجایا کرتی کہ

لنا اعمالنا و لکم اعمالکم (ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ان کے اعمال ان کے ساتھ)۔

اور کاش اسی ایک بات سے وہ دوسروں کو بھی خاموش بیٹھا دیا کرتی، جو اس کے سامنے غیبت کرتے۔

لیکن یہ شیطان … یہ کھلا دشمن …!!

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انسان نے اپنی فطرت کے تحت گناہ خود کیا اور لعنت شیطان پر بھیجی…!!

’’میرے رب مجھے معاف کردے‘‘ بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا۔

یہ حقوق العباد کا معاملہ تھا۔

جب تک بندہ معاف نہ کرے، معافی نہیں ملتی۔

او ریہ دن تو وہ دن تھا جب ماں اپنی اولاد سے بیگانہ تھی

رشتے ناطے پیار، محبت اپنے معانی کھوچکے تھے۔

انسان صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

کیا عجب سماں تھا کہ انسان یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے اپنے گناہوں کا بوجھ کم کرسکے۔

اس پر لرزہ طاری ہونے لگا۔

نیکیاں بڑی تیزی سے ختم ہو رہی تھیں۔

اور ان لوگوں میں تقسیم کی جا رہی تھیں جن کی اس نے غیبت کی تھی۔

اس سے بڑھ کر تکلیف دہ سزا کیا ہوگی کہ

آپ کی متاع کو، جسے آپ نے کمایا ہو، یوں تقسیم کر دیا جائے۔

جس درخت کو آپ نے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہو

اس کے پھل آپ کا مقدر نہ بنیں…!!

پھر وہ وقت بھی آگیا جب وہ بالکل تہی داماں ہوگئی اور

ساری نیکیاں ختم ہوگئیں۔

کیا میں نے اتنے لوگوں کی غیبت کی تھی، اس نے خود سے سوال کیا۔

آخر مجھے کیسے اتنا وقت مل گیا تھا۔ میں تو دنیا میں ایک دن یا شاید اس سے بھی کم عرصہ رہی پھر … وہ خود کو کوسنے لگی۔

اسے یوں لگنے لگا کہ ساری زندگی شاید اس نے یہی کیا۔

لیکن وہ بھول رہی تھی کہ جیسے قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔

ویسے ہی اس کا یہ گناہ ذرہ ذرہ مل کر پہاڑ بن گیا تھا۔ اور اس کی نیکیوں کو کھا رہا تھا۔ جتنی غیبت وہ خود کرتی۔

اس سے کہیں زیادہ وہ دوسروں سے غیبت سنتی تھی دوسروں کی…!!

اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ ابھی بھی چند افراد باقی تھے۔

اب یہ کیا کریں گے۔ اس نے پریشان ہوکر خود سے سوال کیا۔

’’یا رب ہمیں انصاف چاہیے‘‘ پھر صدا گونجی۔

’’لیکن اب اس کی نیکیاں ختم ہوچکی ہیں ’’ایک آواز آئی۔

’’تو ٹھیک ہے اے میرے رب‘‘ اس آواز کے الفاظ نے میری آنکھوں سے آنسو جاری کردیے۔ لیکن اگلے ہی پل … آگے کے الفاظ…

تو پھر ہمارے گناہ اسے دے دیے جائیں‘‘ بڑی ہی سنگ دل آواھز اور بے رحم جملے تھے

اس نے تڑپ کر پیچھے دیکھا تو جم سی گئی…

وہ اس کی اپنی سگی بہن تھی۔ او رساتھ ہی اس کی بیٹی کی ساس بھی تھی۔

اس کی تو نہ جانے کتنی غیبت کی میں نے، تو کیا اس کے حصے کے اتنے ہی گناہ اس کے سر آئیں گے۔ اس کا رواں رواں کھڑا ہوگیا۔

وہ چلائی۔ اے میری بہن مجھے معاف کردے۔ وہ اپنی بہن کے سامنے گڑگڑانے لگی۔

اس کی سگی بہن نے اسے بڑی اجنبیت اور لاتعلقی سے دیکھا…

اور حقیقتاً وہ انصاف کا دن تھا۔

اور اس کے رب کا انصاف اپنے عروج پر تھا۔

اب اُن گناہوں کے آگے اس کا نام لکھا جا رہا تھا جو اس نے کبھی کیے ہی نہیں تھے۔

انجام اس کے سامنے تھا

واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا

کاش مجھے کچھ دنوں کے لیے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ میں تمام سے معافی مانگ لوں اور اس گناہ سے تو بہ کرلوں …‘‘ بے ساختہ ایک خواہش اس کے دل میں ابھری۔

لیکن خواہش کب اور کیسے پوری ہونے والی تھی۔

’’کاش… اے کاش… یہ سب صرف ایک خواب ہو اور اچانک میری آنکھ کھل جائے۔‘‘

اور میں واپس پلٹ جاؤں۔‘‘

کاش کی بڑی لمبی قطار تھی اس کے پاس …

لیکن کاش وہ سب سچ ہوجاتی…!!

اس نے تھرتھراتیہوئیبدن اور سیاہ پڑتے چہرے کے ساتھ گردن اٹھائی

اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہیں بچی تھی۔

اس کے درخت کے پھل تقسیم کردیے گئے تھے۔

اور دوسروں کے حصے کے کانٹے اس کا مقدر بن گئے تھے۔

اب میرے ساتھ کیا ہوگا؟‘‘

اس سوال نے اس کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

معراج کے سفر کے دوران آپؐ نے چند لوگوں کو دیکھا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنا منہ اورسینے نوچ رہے تھے۔ آپؐ نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے۔‘‘

اس پر غشی طاری ہونے لگی۔

حشر کی ہولناکی عروج پر تھی۔

یہ سزا تھی اس کے اس گناہ کی جسے اس نے نہایت معمولی سمجھ رکھا تھا۔

لیکن اب وقت گزر چکا تھا۔

بعض دفعہ ہم کچھ چیزوں کو بہت معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ وہ اتنی معمولی نہیں ہوتیں۔

’’تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، تم اس سے ضرور نفرت کروگے، لہٰذا اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ [الحجرات:۱۲]lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

تبصرہ کیجیے