BOOST

مسلمان عورت کا لباس

قرآن حکیم کی سورہ اعراف آیت۲۶ میں اللہ نے فرمایا: اے اولاد آدم! اللہ نے تم پر لباس اسی لیے اتارا ہے کہ تمہارے جسموں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے موجب زینت ہو۔ بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔

انسانی لباس کا بنیادی مقصد انسان کے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکنا اور لباس کے ذریعے اپنے جسم کو موسمی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بہترین لباس وہ قرار دیا گیا جس کے زیب تن کرنے میں ’’تقویٰ‘‘ کا پہلو نکلتا ہو۔ بہترین لباس وہ ہے جو ایک طرف تو پوری طرح ساتر ہو اور دوسری طرف نہ تو زینت میں حد سے بڑھا ہوا ہو اور نہ ہی فرد کی حیثیت سے گرا ہوا ہو۔ فخر و تکبر کی شان لیے ہوئے نہ ہو۔ حضور اکرمﷺ نے عورتوں کے ستر کی جو حدود مقرر کی ہیں، وہ یہ ہیں۔ ’’جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھ کے (گٹوں تک)۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی رہیں۔‘‘ حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ جو آں حضرتؐ کی نسبتی ہمشیرہ تھیں۔ ایک مرتبہ آپؐ کے سامنے باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں، اس حال میں جسم اندر سے جھلک رہا تھا۔ حضورؐ نے فوراً نظر پھیری اور فرمایا اے اسماء! عورت جب سن بلوغ کو پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کے جسم میں کچھ دیکھا جائے بجز اس کے اور اس کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔

حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہوجائے۔ تنگ، باریک، چست یا نیم برہنہ لباس، اخلاقی اعتبار سے انسانی معاشرہ کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ اس قسم کا پیرہن سوسائٹی میں بے حیائی بے شرمی، بے غیرتی، جنسی انارکی اور خواہشات کے سیلاب کی سب بڑی وجہ ہے۔

ایک وقت تھا جب کسی لڑکی کے جسم کا کوئی حصہ شاید ہی ننگا نظر آتا ہو، آج حالت یہ ہے کہ جسم کا کوئی حصہ شاید ہی ڈھکا نظر آتا ہو۔ لباس اور زیبائش کا یہ عالم ہے کہ نمائش مقصود ہے، نئے لباس میں ملبوس تنگ ابھرا ہوا سینہ تراشی ہوئی، ننگی باہیں، تابدار رنگ، ہر خطہ بھرپور، ہر زاویہ تیکھا، گویا لباس نے اپنے آپ میں بے لباسی کا کام شروع کردیا ہے اور یہ سب صنفی میلان کو مزید ابھارنے کے اسباب پیدا ہوگئے ہیں۔

اسلام نے عورت کے اظہار ستر کو اس کے شوہر کے سوا ہر دوسرے شخص پر حرام قرار دیا ہے۔ غرض کسی مسلمان عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا لباس پہنے جس سے اس کا ستر اچھی طرح نہ چھپتا ہو، یا وہ اتنا باریک اور تنگ ہوکہ جسم کے قابل شرم حصے نمایاں ہوں جو ہماری بہت سی بہنیں آج کل بڑے شوق و ذوق کے ساتھ پہنتی ہیں تو یہ امر تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ رہے گا کہ ’’لباس‘‘ انتہائی غیر اسلامی یا خدا اور اس کے رسولؐ کی واضح تعلیمات اور ہدایت کے سراسر منافی ہے۔

مسلمان بہنوں کو لباس کی اصل غرض و غایت اور اس کاحقیقی مقصد سمجھنا چاہیے۔ عقل کا چراغ گل کر کے نفس کے پیچھے بھاگنے اور مغرب کی آبرو باختہ عورت کی نقالی کرنے کے بجائے لباس کے سلسلے میں خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب پیغمبرؐ کی واضح تعلیمات اور ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

عورت کا کردار ساری قوم کا کردار ہوتا ہے۔ اسی کی شرم و حیا، نجابت و شرافت قوم کو حیاو شرم اورنجابت و شرافت کا درس دیتی ہے۔ قوم کے افراد اس کی گودمیں رحم ومحبت، مہرووفا، جاں نثاری اور ایثار کا سبق سیکھتے ہیں۔ یہ عورت ہی کی عصمت وعزت کی حفاظت اور پاکیزگی کا نیک جذبہ ہوتا ہے جو ملت کے دوسرے افراد کو انہی دو اعلی انسانی اقدار کی حفاظت کی خاطر لڑنے مرنے پر تیار کرتا ہے۔ مسلمان عورت کو اس عالمگیر اور ٹھوس حقیقت کوہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اسے اپنے کردار کوزیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے، اس لیے کہ وہ ایک ایسے دین مذہب کی پیروکار ہے جو دنیا کے تمام دوسرے ادیان ومذاہب پر فوقیت اور ان کے لیے ’’نمونہ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پیکر سعادت معز

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: