خطوط

حجاب کے نام

پردہ اور عورت

فروری کا رسالہ ہاتھوں میں ہے۔ خوبصورت ٹائٹل اور اچھے مضامین کے ساتھ گزشتہ شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی پسند آیا۔ حمیرا خالد کا مضمون ’’پردہ چند غور طلب پہلو‘‘ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی سماج کی عریانیت نے اس معاشرے کی جڑوں کو تباہ اور بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں نفسیاتی امراض وبائی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

ہمار املک اور سماج جس مغربی معاشرے کی نقالی کر رہے ہیں وہ حقیقت میں ایک تباہ اور اخلاقی اعتبار سے فساد زدہ سماج ہے اور اس کا واضح ثبوت نیک دل روحوں کی تلاش حق کی کوشش ہیں۔ مذکورہ مضمون ان بہت سی خواتین کے لیے بھی درسِ عبرت ہے جو بے پردگی کو اپنا شعار بنا رہی ہیں۔lll

عظمیٰ خالد

ہگلی

( مغربی بنگال)

قدر افزائی

فروری کے رسالے میں ’’ایسی بیوی کس نے پائی‘‘ مضمون پڑھ کر پہلے تو ہنسی آئی لیکن بعد میں غور وفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ مضمون نگار صاحب نے قارئین کو ایک بڑے اہم راز سے آگاہ کر دیا ہے۔ وہ راز ہے کہ بیویوں کی قدر افزائی کی جائے۔ بیوی شوہر کی قدر افزائی کرے اور شوہر بیوی کی تو ازدواجی زندگی بہترین ہوگی۔ اور میاں بیوی ہی کیا گھر کے تمام لوگ اگر اسی طرح ایک دوسرے کی خوبیوں اور صلاحیتوں کی قدر کرنا سیکھ لیں تو مستحکم خاندان وجود میں آئے گا۔ عام طور پر بیویاں شوہروں کا اور شوہر بیویوں کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مضمون نگار نے بیویوں کی ستائش میں قلم اٹھا کر مردوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ کیوں؟ ’’ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اپنی بیوی یا سماج سے ڈرتے تو نہیں ہیں؟‘‘

جنت نشاں

بذریعہ ای-میل

مشترکہ خاندانی نظام

فروری کے شمارے میں مشترکہ خاندانی نظام پر اسامہ شعیب کا مفصل مضمون پڑھنے کو ملا۔

مضمون میں جن باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان سے انکار تو مشکل ہے مگر اس نظام سے چھٹکارا بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ اس کی سماجی، معاشرتی اور معاشی وجوہات ہیں جو بڑی مضبوط ہیں۔ دوسری طرف اسلام کی تعلیمات ہیں۔ ایسے میں درمیان کی شکل کیا ہوسکتی ہے اس پر غور و فکر ہونا چاہیے۔

مضمون پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار مشترکہ خاندانی نظام کے فکری طور پر مخالف ہیں مگر وہ اپنے مضمون میں کوئی قابل عمل متبادل بھی دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس پر بحث کی ضرورت ہے۔

اسلام عباد اللہ

سری نگر ، جموں و کشمیر

رسالہ پسند آیا

جنوری کا حجاب اسلامی پسند آیا ۔ ویسے تو سارے مضامین اچھے تھے لیکن خواتین کی دس قرآنی صفات، خواتین کی آزادی کا مطلب اور قرآن اور ہماری زندگی پسند آئے۔ گوشۂ سیرت بھی اچھا تھا۔ میری ایک رائے ہے کہ ہر ماہ تاریخی واقعات کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے۔lll

روبینہ انیس

یاوت مال (مہاراشٹر)

بذریعہ ای-میل

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے