6

مشورہ حاضر ہے!

میری شادی ہوئے تین ماہ بھی نہیں گزرے مگر میں اتنی سخت پریشان ہوں کہ کچھ بتا نہیں سکتی۔ میرے شوہر فلم بینی کے شوقین ہیں۔ ہر روز نئی فلمیں دیکھتے ہیں۔ میں بچپن سے جسمانی طور پر سخت کمزور ہوں‘ دوسرے مجھے ناف کا ہرنیا بھی ہے۔

شادی کے اوّل دن سے وہ مجھے باتوں باتوں میں جتاتے رہتے ہیں کہ تم مکمل عورت نہیں۔ میں راتوں کواکثر روتی رہتی ہوں‘ نیند نہیں آتی۔ مجھے بتائیے میں کیا کروں؟ میں دوسری عورتوں کی خوبیاں سنتے سنتے عاجز آ گئی ہوں‘ آخر میرا کیا قصور ہے؟ میں اس صورتِ حال میں پاگل ہو جائوں گی۔ آپ میرا آخری سہارا ہیں‘ مجھے بتائیے کیا کروں؟

٭… بی بی‘ ہمارے معاشرے میں کچھ برائیاں آہستہ آہستہ جنم لے رہی ہیں‘ انہی میںسے ایک اہم مسئلہ آپ کو درپیش ہے۔ مرد چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی فلاں اداکارہ کی طرح نظرآئے۔ کچھ عورتیں بھی شوہروں کے لیے ایسی ہی خواہش رکھتی ہیں۔ آپ پریشان مت ہوئیے‘ نماز پڑھ کر دعا مانگئے۔ شوہر گھر میں ہو‘ تو اپنے لباس کا دھیان رکھیے۔ آپ جل بھن کر خود کو سنوارتی بھی نہیں‘ یہ صحیح نہیں‘ اپنے اوپر توجہ دیجیے۔

آپ کے شہر میں کوئی ہومیو پیتھک سٹور ہو تو وہاں سے کوسٹورئیم۔ (Costorium-30) نامی دوا منگوائیے اور صبح شام ایک ایک خوراک کھائیے۔

ناف پر ململ کی دوہری پٹی باندھ لیجیے۔ گتے یا پلاسٹک کا ٹکڑا یا دھاتی روپیہ ناف پر کپڑے میں لپیٹ کر رکھیے‘ اوپر سے پٹی باندھ لیجیے۔ ایک ڈیڑھ ماہ میں ناف اندر چلی جائے گی۔ باقی مسئلے کے لیے میں آپ کو براہِ راست جواب دے سکتی ہوں‘ آپ اپنے والدین کا ہی پتا لکھ دیں۔

آپ کے خط کاکچھ متن شائع کیا ہے‘ صرف اس لیے کہ دوسرے مردوں کو بھی پتا چلے کہ وہ مذاق مذاق میں کتنی دل آزاری کر جاتے ہیں۔ ہر شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو صرف بیوی کے روپ میں دیکھے اور اس کا مذاق نہ اڑائے۔ ہمارے پیارے رسولؐ نے عورتوں کو آبگینوں سے تشبیہ دی ہے‘ انھیں ذرا سی ٹھیس لگے‘ تو وہ ٹوٹ جاتی ہیں۔

بیوی گھر میں ذمے داری سے اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ وہ بچے سنبھالتی ہے جو دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ کام کاج کرتے ہوئے وہ تھک بھی جاتی ہے‘ آخر انسان ہے۔ صرف پانچ دس منٹ کے لیے آپ بیوی سے ہنس کر بات کر لیں‘ تو وہ ساری تھکن بھول کر دوبارہ کام میں لگ جائے گی۔ اس کے لیے چند منٹ ضرور نکالیے۔ آپ دیکھیں گے کہ گھر خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا۔

ایک بزرگ کا قول ہے ’’تم اپنی آنکھوں‘ اپنے کانوں‘ زبان اور دل کے ذمے دار ہو۔ وہ چیز نہ دیکھو جس کے دیکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ وہ بات نہ سنو جو بری لگتی ہو۔ وہ بات نہ کہو جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے اور دل کو ایسی تمنائوں میں مبتلا نہ کرو جن سے روکا گیا ہے۔‘‘

میری یہ بات اگر کسی مرد کے دل میں اتر گئی‘ تو میں سمجھوں گی کہ میں نے اس کے ازدواجی رشتے کو مضبوطی سے جوڑ دیااور اب اس میں کوئی دراڑ نہیں پڑے گی۔ میں نے ایسے لوگوں کو قریب سے دیکھا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی گھر میں گھستے ہی بیوی کو گالیاں دینے لگتے ہیں۔

زبان اتنی فحش کہ تحریرمیںنہ لائی جا سکے۔ یہ ہمارے ملک کا المیہ نہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم خواتین بھی نشانہ بنتی ہیں۔ میرے پاس اس سلسلے میں بے شمار خطوط آتے ہیں۔ یہ بڑا اہم معاشرتی مسئلہ ہے۔ دوسروں کے لیے تو انسانیت‘ محبت اور ہمدردی کا جذبہ ہو مگر گھر آتے ہی بیوی سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سب پر رحمت فرمائے۔

آنت میںورم

اسلام آباد سے ایک خاتون بار بار فون کر رہی ہیں کہ آنتوں کی بیماریوں کے متعلق کوئی مفصل مضمون شائع کیجیے۔ دراصل ان کی بڑی آنت میں ورم ہے۔ آنتوں کی اندرونی سطح متورم رہتی ہے۔ یہ خاتون کینیڈا سے آئی ہیں اور مغرب کی غذا نے انھیں اس مرض کا شکار بنایاہے۔ جسم میں ریشے کی کمی اور قبض بھی ہے۔

l انھیں چاہیے کہ وہ بے چھنے آٹے کی روٹی کھائیں اور سبزی کا شوربہ استعمال کریں۔ خشک غذا چھوڑ دیں۔ دو ہفتے میتھی دانے کی چائے پی کر دیکھیے‘ فرق پڑ جائے گا۔ ایک چمچی میتھی دانہ تھرموس میں ڈال کرایک پیالی کھولتا ہوا پانی ڈال دیجیے۔ دس منٹ بعد چھان کر پی جائیے۔ہلکا نیم گرم ہو۔ صبح شام پینے سے افاقہ ہو گا۔

پیشاب کی تکلیف

میں کالج میں پڑھتی ہوں۔ گزشتہ چند ماہ سے مجھے پیشاب کی تکلیف چمٹ گئی ہے‘ غسل خانے سے آنے کے بعد بھی تھوڑا تھوڑا نکلتا رہتا ہے جس سے میں بہت پریشان ہوں۔ ڈاکٹر کی دوا کھائی‘ تل کھائے مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ نماز نہیں پڑھ سکتی‘ ہر وقت ناپاکی رہتی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ذہنی دبائو کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ خدا کے لیے مجھے کوئی مشورہ دیں۔

l بی بی‘ ہومیو پیتھک کی ایک دوا کاسٹیکم30 خریدئیے‘ یہ ایک خوراک روزانہ کھائیے۔ آٹھ دن بعد کاسٹیکم 200 کی ایک پڑیا ہفتہ بھر کھا کر بتائیے کہ اب کیا حال ہے۔ ذہنی دبائو کی دوائیاں کھانا چھوڑ دیجیے۔ نماز پڑھیے‘ ذہنی دبائو ختم ہو جائے گا۔ آپ کو دوا سے زیادہ دعا میں سکون ملے گا۔

انوکھا مرض

میرے سر اور چہرے پر خشک خارش ہے۔ کئی جراحوں‘ حکما اور اطبا سے علاج کروایا مگر آرام نہیں آیا۔

٭… سر کی خشکی کی وجہ سے چہرے پر بھی خارش رہتی ہے۔ آس پاس میں ہمدرد دوا خانہ ہو ‘تو آپ ’بفین‘کی دو تین شیشیاں خرید کر سر میں لگائیے۔ نیز کوئی مصفی خون دوا کھائیے۔

کھانے میں گرم اشیا خصوصاً بڑے گوشت نہ کھائیے ورنہ تکلیف بڑھ جائے گی۔ گوشت کھانا ہو توقلفے کا ساگ ڈال کر پکائیے۔ سبزیاں‘ دہی اور پھل روزانہ غذا میں شامل کیجیے۔ سر کی خشکی جب چہرے اور جسم پر گرے تو خارش ہوتی ہے۔ یہ بعض اوقات بڑی تکلیف دیتی ہے۔

چہرے پر بدنْما رواں

میرے چہرے پر رواں بہت برا لگتا ہے۔رنگت بھی سانولی ہے۔ غربت کی بنا پر میںاپنا علاج بھی نہیں کرا سکتی۔ جہاں کام کرتی ہوں وہاں آپ کا رسالہ آتا ہے۔ ہمت کر کے خط لکھ رہی ہوں۔ دسویںجماعت تک پڑھا ہے‘ اب ماں کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ آپ مجھے بتائیے کہ چہرے کے بالوں کا کیا علاج ہے؟

l کام کرنا توعبادت ہے‘ ہاںبھیک مانگنا اچھی بات نہیں۔ آپ محنت کرتی ہیں‘ اس کا پھل ضرور ملے گا۔ آپ آٹے میں سے میدہ چھان کر رکھ لیں۔ ایک چمچ میدہ ایک پلیٹ میں ڈالیے۔ اس میں چمچی بھر پسی پھٹکری اور چٹکی بھر پسا نمک ملائیے۔ پھر عرقِ گلاب ملا کر چہرے پر اس کا پتلا سا لیپ کر دیجیے۔

لیپ خشک ہو جائے تو ہاتھوں سے اچھی طرح رگڑ کر اتار دیجیے۔آدھ گھنٹے بعد تازہ پانی سے منہ دھو لیجیے۔ مزید برآں پندرہ گلاب کے پھول آدھا کلو پانی میں پکائیے۔ جب گل جائیں تو چولہا بند کر کے ڈھانپ دیں۔ ٹھنڈا ہونے پر پانی چھان کر رکھ لیجیے۔اس میں آپ گیندے کے دو تین پھول بھی ملا سکتی ہیں۔ یہ آمیزہ ایک بوتل میں بھر لیں اور صبح شام روئی سے چہرے پر لگائیں۔

کالے بال

میرے بالوں کا رنگ بدل رہا ہے۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ ہیئر کلر سے الرجی ہوجاتی ہے۔ پچھلے دنوں میری ملازمہ نے کالا پتھر پیس کر بالوں میں لگایا۔ بالوں کا رنگ بہت اچھا آیا۔ میں نے بھی لگا لیا۔ ایسی الرجی ہوئی کہ مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑا۔ کوئی ایسا ٹوٹکا بتائیں جس سے بال کالے ہو جائیں اور الرجی نہ ہو۔

l بی بی! ہر ٹوٹکا کارآمد ثابت نہیں ہوتا اور یہ کالا پتھر بھی الرجی کر دیتا ہے۔ آپ خضاب کے بجائے وسمہ اور مہندی کے پتے پیس کر لگائیں۔وسمہ کے پتے زیادہ ہونے چاہئیں۔ یا مٹھی بھر آملے ثابت رات کو لوہے کی کڑاہی میں بھگو دیں۔ صبح اس پانی کو چھان کر ایک ٹکڑا دنداسہ کا ملائیں۔اس میں ایک بڑا چمچہ چائے کی پتی ڈال کر پانی پکالیں۔ دوبارہ چھان کر مہندی ملائیں۔ ڈیڑھ چمچہ سرسوں کا تیل ملا کر سر میں مہندی لگانے سے اچھا رنگ آتا ہے۔ ہمارے یہاں بال کالے کرنے والا تیل ملتا ہے مگر اس میں یہ بات ہے کہ بستر اور تکیہ بھی کالا ہوجاتا ہے۔ یہ تیل روزانہ لگانا پڑتا ہے۔ بال سیاہ رہتے ہیں۔ جہاں لگانا چھوڑا بال دوبارہ سفید نظر آتے ہیں۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ مہندی کو پسند فرماتے تھے۔ حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے ’’مہندی کا خضاب لگائو کہ یہ جوانی کو بڑھاتی ہے۔ حسن میں اضافہ کرتی اور طاقت کو بڑھاتی ہے۔‘‘پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی مہندی لگاتے تھے۔ زخم اور کانٹا چبھنے پر مہندی لگائی جاتی تھی۔آملہ اور ہرڑ کا مربہ استعمال کرنے سے بال جلدی سفید نہیں ہوتے۔ سفید اور گرے بال اچھے لگتے ہیں، آپ مہندی لگائیں۔ کالے بالوں کا خیال چھوڑ دیجیے۔ ایسے سیاہ بالوں کا کیا فائدہ جو آپ کو ایمرجنسی میں پہنچا دیں۔

قرآن پاک

میرے بھائی کا انتقال ہوگیا۔ ان کی بیوہ اور ۴ بچے ہیں۔ ان کے سسرال والے کہتے ہیں مسجد سے بچوں کو بلوا کر قرآن پاک ختم کرائو۔ حالانکہ میں اور بھابھی روز قرآن مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ کیا مولوی صاحب کے بغیر ایصالِ ثواب نہیں ہوسکتا؟ بتائیے۔

l ہمارے ہاںمسجد سے بچوں کو بلوا کر قرآن خوانی کرانا رواج بن چکا ہے۔ بعض بچے باقاعدہ وضو بھی نہیں کرتے۔ صفحات پلٹ دیتے ہیں۔ ان کو کھانے پینے کا لالچ ہوتا ہے۔ آپ لوگ خود پڑھ رہے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ جو کچھ بھی پڑھ سکیں ضرور پڑھیے۔ اس میں ثواب ہے۔ لہٰذ آپ خود قرآ ن پڑھیں، بچوں کو ساتھ بٹھائیں۔ آپ کے بھائی کو ضرور یہ تحفہ پہنچے گا اور آپ کو بھی قلبی سکون حاصل ہوگا ان شاء اللہ۔

منہ کی بدبو اور ہونٹ

میرے منہ میں بدبو رہتی اور قبض کی شکایت ہے، جس سے میں سخت پریشان ہوں۔ غرارے کر نے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میرے ہونٹ پھٹ چکے اور خشک رہتے ہیں۔دوائیاں استعمال کرنے سے اب میں پریشان ہو جاتی ہوں۔ کوئی گھریلو ٹوٹکا بتائیں۔

l آپ قبض کا علاج کریں۔پانی زیادہ پیا کریں۔ انجیر کھانے سے قبض دور ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پانچ انجیر ایک بڑے گلاس دودھ میں اْبال کر رات کو پیتے ہیں۔ انجیر کھاتے ہیں۔ قبض دور ہوجاتا ہے۔ ناشتے میں پیٹ بھر کر امرود کھائیں۔ منہ کی بدبو بھی ختم ہوگی اور بھوک بھی لگے گی۔ آپ ایک بوتل خالص عرق گلاب لیں۔ ایک چمچہ عرق ایک گلاس پانی میں ڈال کر صبح شام غرارے کریں۔ رات کو سوتے وقت تھوڑے سے تیل میں روئی کا پھاہا ڈبو کر ناف میں رکھیں۔ صبح نکال دیں۔ چند روز ایسا کرنے سے ہونٹ ملائم ہوجائیں گے۔

۴ چمچے گلاب کا عرق لیں۔ اس میں ایک چمچہ شہد ملائیں۔ چند قطرے زیتون کاتیل ملا کر فریج میں رکھ لیں۔ دن میں جب موقع ملے ہونٹوں پر لگائیں۔ ہونٹ نرم ملائم رہیں گے۔ سیب کے بیج پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لگانے سے پھٹے ہونٹ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ کہیں جانا ہو تو سونف اور ایک چھوٹی الائچی منہ میں ڈال لیں اور آہستہ آہستہ چبائیں۔ بدبو میں فرق پڑ جائے گا۔

اعصاب جواب دے رہے ہیں

چند ہفتوں سے میری طبیعت گھبرا رہی ہے۔ بچوں پر غصہ اْتارتی ہوں۔ چڑچڑی ہوگئی ہوں۔ دوا کھاتی ہوں تو گرمی لگتی ہے۔ گرم چیز کھا نہیں سکتی۔ اعصاب پر بوجھ پڑ رہا ہے اور میرے اعصاب جواب دیتے جا رہے ہیں۔ مجھے بتائیں کیا کروں؟

l کام کاج کی زیادتی سے ذہنی دبائو کا مسئلہ ہوتا ہے۔ آپ ۲ امرود لیں۔ ان پر نمک، کالی مرچ، ایک لیموں کا رس نچوڑ لیں۔ اس میں آدھا سیب کاٹ کر ملائیں۔ تھوڑا سا ہرا دھنیا ڈالیں اور ایک کینو، ایک مالٹا بھی کاٹ لیں۔ ان سب کو ملائیں اوپر سے نیازبو کے ۱۰ پتے دھوکر ڈال دیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد تقریباً ۴ بجے آپ یہ سلاد کھالیں۔ آپ کی طبیعت میں ٹھہرائو آئے گا اور طبیعت بحال ہوگی۔ دس پندرہ دن یہ سلاد کھائیں تواعصاب مضبوط ہوجائیں گے۔ نیازبو کی چٹنی بھی فائدہ دے گی۔۵ پتے نیازبو کے، ۲ لہسن کے دانے، ۳ کالی مرچ، ایک ہری مرچ، معمولی سانمک لے کر مٹی کی کونڈی میں ڈنڈے سے رگڑلیں۔ کھانے کے ساتھ یہ چٹنی استعمال کریں۔دل کے مرض سے محفوظ ر ہیں گی۔ چڑچڑا پن دور ہوجائے گا۔ روزانہ صبح نیازبو کے ۳ چھوٹے پتے کھانے سے دن بھر تازہ دم رہیں گی، تھکن نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے گوناگوں فوائد پودوں میں رکھے ہیں۔ آپ بھی آزمائیے۔

مثانے کی تکلیف

میری عمر60 سال ہے۔ پچھلے دنوں معاینہ سے پتا چلا کہ مجھے پراسٹیٹ کا مسئلہ ہے۔ ابھی شروعات ہے۔ آپ کا رسالہ میں شوق سے پڑھتا ہوں۔ کہیں کدو کے بیج کا پڑھا تھا۔ آپ نے کسی کو مشورہ دیا تھا۔ مجھے بھی بتائیں۔

واقعی پراسٹیٹ میں کدو کے بیج مفید ہیں۔ مٹھی بھر چھلے بیج روزانہ غذا میں شامل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان میں بے پناہ فوائد رکھے ہیں۔ اس عمر میں عموماً مرد حضرات کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی کمی سے ہڈیاں بھی بھربھری ہونے لگتی ہیں۔ بہرحال آپ کدو کے بیج کھائیں۔ اس سے عام جسمانی نظام درست ہو گا اورپراسٹیٹ میں بھی فائدہ ہوگا۔ تکلیف میں کمی آئے گی۔ اس کے کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی اور درد میں بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔ باہر کے ممالک میں یہ بیج سادہ بھی ملتے ہیں اور تلے ہوئے ہلکے نمکین بھی۔ لوگ انھیں شوق سے کھاتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

تبصرہ کیجیے