2

غزل

جھلملاتے رہے اشک تارے بہت

ہم نے دیکھے ہیں ایسے نظارے بہت

دور موجوں نے پھر کر دیا تھا ہمیں

ورنہ ہم آلگے تھے کنارے بہت

غم کو ہم نے زیادہ نہ بڑھنے دیا

ورنہ پائوں تو اس نے پسارے بہت

جاں لٹانے کی جب بھی ضرورت پڑی

کام آئے ہیں یہ سر ہمارے بہت

جب تک ان کی نگاہِ عنایت رہی

میرے دامن میں تھے چاند تارے بہت

عہد پانے کا تجھ سے کیا تھا کبھی

اس لیے ہم پھرے مارے مارے بہت

ہائے ہم پر انھی کو نہ پیار آسکا

جو ہمیں تھے اے تنویر پیارے بہت

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

تبصرہ کیجیے