2

دعویِ ایمان کی آزمائش

مسلمان اس دنیا کے امتحان گاہ ہونے اور پھر ابدی کامیابی و ناکامی کے ایک آخری دن یوم الجزا پر یقین رکھتے ہیں یا کم سے کم اس پر ایمان کے مدعی ضرور ہیں اور ہر مدعی یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے دعوے کا ثبوت مہیا کرنا بھی ضروری ہے۔ دنیا کا معمولی سے معمولی دعویٰ بھی، ثبوت کے بغیر قابل تسلیم نہیں ہوتا۔ آخرت پر ایمان کا دعویٰ تو بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اللہ کی آخری کتاب، قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر واضح الفاظ میں یہ تنبیہ کی ہے کہ ایمان کا صرف دعویٰ کافی نہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ ہم اس دعوے کو جانچیں گے اور جو ہماری جانچ میں پورا اترے گا وہی سچا ہوگا اور وہی آخرت کی کامیابی اور دنیا کی فلاح و سربلندی کا مستحق ہوگا۔ مثال کے طور پر سورۂ العنکبوت کی ابتدا میں کہا گیا ہے:

’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنا کہنے پر چھوڑ دیا جائے گاکہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا۔ حالاں کہ ہم نے ان سب لوگوں کو آزمایا ہے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ اللہ کو یہ ضرور دیکھنا ہے کہ کون لوگ سچے ہیں اور کون جھوٹے؟‘‘ (العنکبوت:۲،۳)

اہلِ ایمان کی آزمائش

یہ آزمائش ہر مسلمان کی الگ الگ بھی ہوتی ہے اور بحیثیت مجموعی ان کی جماعت کی بھی۔ اور آزمائش یہ ہے کہ مسلمان، ایمان و اسلام کے تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں؟ اپنے مقصد وجود کے حصول میں اپنی جان و مال کھپاتے ہیں یا نہیں؟ جن صفات اور جس اخلاق و کردار کی وجہ سے انہیں امت وسط اور خیر امت کا لقب دیا گیا ہے اس کے آئینہ دار بنتے ہیں یا نہیں؟ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ و رسول کی اطاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت اور مسلمانوں کی عزت و سربلندی کا وعدہ موقوف ہے، اس آزمائش میں کھرا ثابت ہونے اور اس شرط کو مکمل کرنے پر۔

مسلمان، ہندستان میں جن رسوا کن حالات میں گھرے ہوئے ہیں، ان سے نجات پانے اور عزت کا مقام حاصل کرنے کی کوئی تدبیر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک وہ اللہ کی مدد اور اس کی نگاہِ کرم کے مستحق نہ بن جائیں اور یہ استحقاق صرف زبان سے اسلام، اسلام کا نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتا۔ ہم ہوں یا آپ یا کوئی بھی مسلمان جب تک وہ سچا اور پورا مسلمان نہ بنے، بات بنے گی نہیں۔ سورۃ البقرۃ، آیت۲۰۸ اور۲۰۹ میں کہا گیا ہے:

’’اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے لیے آچکی ہیں، اگر ان کو پالینے کے بعد تم نے لغزش کھائی تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۰۸، ۲۰۹)

ان دو آیتوں میں ایک طرف یہ مطالبہ ہے کہ اپنی پوری زندگی اسلام کے حوالے کی جائے۔ یہ نہ ہو کہ زندگی کے کچھ معاملات تو اسلام کے تحت ہوں اور کچھ معاملات اسلام سے باہر۔ دوسری طرف یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر واضح ہدایات کو قبول کرلینے کے بعد تم نے لغزش کھائی تو پھر تم خدا کی سزا سے بچ نہیں سکتے۔ ان آیتوں کو سامنے رکھ کر ہمیں اور آپ کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم آج زندگی کے بہت سے معاملات میں جان بوجھ کر اسلامی ہدایات سے انحراف نہیں کر رہے ہیں؟

قول و عمل کا تضاد دور کیجیے

اسلامی اجتماعیت کا مکمل اور اعلیٰ ترین نمونہ تو وہ ہے جس کی تشکیل سیدنا محمد رسول اللہؐ نے قرآنی اصولوں کی روشنی میں کی تھی لیکن کوئی ناقص سے ناقص اجتماعیت بھی اس وقت تک اسلامی یا مسلم کہے جانے کی مستحق نہیں ہے جب تک وہ قول و عمل کے تضاد سے پاک نہ ہو۔ فرض کیجیے کوئی ایسی مسلم تنظیم، عالمِ وجود میں آئے جس کے مقتداؤں اور مقتدیوں کی اکثریت ایک طرف نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج سے بھی غافل ہو اور دوسری طرف منکرات و خرافات میں بھی آلودہ ہو تو بجز نام کے اس کو مسلم تنظیم کہنے کی وجہ اور کیا ہوگی۔ ہر تنظیم کے لیے، اگر فی الواقع وہ کوئی تنظیم ہے، یہ لازمی ہے کہ اس کا مقصد متعین اور واضح ہو اور اس کے ارکان و شرکاء کے اعمال اور ان کی تمام سعی و جہد اس مقصد کے مطابق ہو۔

ہندستان میں اس وقت مسلمانوں کے تمام حقوق و مسائل کی اصل یہ ہے کہ ان کی ایمانی انفرادیت اور اسلامی تہذیب و تشخص محفوظ رہے اور وہ جارحانہ ہندستانی نیشنلزم کے دھارے میں غرق نہ ہوجائیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے کیا خود ان پر یہ لازم نہیں ہے کہ ان کی زندگی اپنے عقائد اور اپنی تہذیب کا مظہر ہو؟

یہ بات فضول ہوگی کہ خود ہماری زندگی، دینی فرائض و واجبات کی انجام دہی سے خالی ہو اور ہم حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ان کا تحفظ کرے یا مختلف پارٹیوں کے پاس دوڑے دوڑے پھریں کہ وہ ہماری اسلامی انفرادیت کو محفوظ رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

مسلمانوں کی موجودہ بیداری بڑی مبارک ہے لیکن یہی وقت ہے کہ ہم اور آپ سب مل کر یہ سوچیں کہ بحیثیت مسلمان جو فرائض اللہ نے ہمارے ذمے لگائے ہیں جب تک ہم انہیں انجام دینے کا عزم نہ کریں اور بالفعل اس پر عمل پیرا نہ ہوں اس وقت تک ہم حقیقی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتے۔ ان باتوں کا پہلا مخاطب میں خود ہوں۔ اس لیے اس کا مقصد یاد دِہانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
مولانا سید احمد عروج قادریؒ

تبصرہ کیجیے