BOOST

ایسی بیوی پائی کسی نے؟

لوگ بیوی پر قلم اٹھانا مناسب نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف بیوی پر دوسری چیزیں اٹھانے میں بھی بعض لوگ کوئی عار محسو س نہیں کرتے۔ خیر ہمیں دوسروں سے کیا، ہم نے تو آج یہ طے کیا ہے کہ بیوی پر قلم نہ اٹھانے کی روایت کو توڑا جائے اور کچھ ان کے بارے میں لکھا جائے۔ بعض حضرات سوچنے لگے ہوں گے کہ بیوی پر لکھا ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے نزدیک اللہ کی اس مخلوق پر لکھنے بولنے کے لیے اول تو کوئی بات ہے ہی نہیں، اور اگر ہے بھی تو وہ ایسی نہیں کہ اسے اس کی تعریف کے طور پر بیان کیا جاسکے۔ وہ باتیں مثلاً کیا ہیں؟ یہی کہ اس کا وجود مرد کے لیے طرح طرح کے مسائل پیدا کرتا ہے۔ اقتصادی مسائل، سماجی مسائل وغیرہ۔

بیوی کے بارے میں ہم سنتے آئے ہیں کہ اس کی نگاہ مرد کی جیب پر ہوتی ہے۔ بات تو درست ہے۔ ہماری بیوی کی نظر بھی ہمیشہ ہماری جیب پر ہی ہوتی ہے۔ لیکن پیسے نکالنے یا نکلوانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ دیکھنے کے لیے کہ اب اس میں کتنے پیسے بچے ہیں۔ پھر جتنے پیسے کم ہوئے ہیں، اس کا حساب لیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو، ہوسکتا ہے، یہ بات بھی عجیب لگے۔ لیکن ہمیں اس کا یہ فائدہ ہے کہ فضول خرچی پر لگام لگی رہتی ہے۔ اس لیے ہم نے ایک حد تک اس احتساب کی اجازت دے رکھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ عورت مرد کی ساری کمائی کریم پاؤڈر، میک اپ، ہیئر اسٹائل اور نئے فیشن کے کپڑے خریدنے میں ختم کر دیتی ہے۔ ہوسکتا ہے ایسا ہو، عورتوں کے حالات دیکھ کر یقین کرنے کو جی بھی چاہتا ہے۔ لیکن یا تو ہماری قسمت ہی اچھی ہے یا نہ جانے کیا بات ہے کہ ہماری بیوی ایسا نہیں کرتی۔ حالاں کہ ہم نے فضول خرچی پر کوئی ایسا موثر لکچر بھی کبھی اس کو نہیں سنایا۔ لیکن خدا گواہ، اس نے آج تک نہ تو ہم سے ان چیزوں کا مطالبہ کیا اور نہ کبھی ہم نے اسے ہر وقت میک اپ کے لیے وقت نکالتے یا اس کے لیے بجٹ بناتے دیکھا۔ البتہ وہ ہمارے اوپر یہ الزام ضرور لگاتی ہے کہ ہم بہت فضول خرچ ہیں۔ ہماری جیب میں پیسہ رکتا ہی نہیں ہے۔

وہ بے چاری سال میں ایک بار یا زیادہ سے زیادہ دو بار اپنا سوٹ بناتی ہے۔ اس کے پاس ایک جوڑے سے زیادہ چپل نہیں ہیں۔ میک اپ بکس کے نام پر کوئی چیز نہیں ہے۔ سماجی روایت کے مطابق وہ کچھ سامان اپنے ساتھ لے کر آئی تھی۔ ایک بار، نہ جانے کیا سامان تھا، ہم نے پوچھ لیا کہ یہ تمہارا ہی ہے نہ؟ پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ گھر کے کسی اور فرد کا تو نہیں ہے؟ صاحب ہمارا یہ سوال اس کو بڑا ناگوار گزرا۔ بولی: ’’نہیں یہ ہمارا ہے۔‘‘ یعنی اصلاح کی گئی کہ اب جو بھی سامان ہے، وہ ہم دونوں کا ہے، تنہا اس کا نہیں۔

وہ جب پہلی بار ہمارے گھر آئی تو اپنے ساتھ اون کی ایک جانماز لے کر آئی تھی۔ اس جا نماز کی خاصیت یہ تھی کہ کروشیے سے بنی گئی تھی اور اس کی والدہ یعنی ہماری ساس نے اپنے ہاتھوں سے بن کر دی تھی۔ باقی دو بیٹیوں کو بھی اپنی نشانی کے طور پر اسی طرح کی جا نماز بن کردی تھی۔ ظاہر بات ہے بیوی کے لیے یہ اپنی والدہ کی ایک یادگار ہونے کی وجہ سے عزیز تھی اور ہونی بھی چاہیے تھی۔ ایک روز عید کی نماز پڑھنے کے لیے ہم اس جانماز کو عیدگاہ لے کر گئے۔ ہمارے ایک گہرے دوست کی والدہ کو یہ جانماز پسند آگئی۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ کچھ دن کے لیے یہ جانماز ان کو دے دیں تاکہ وہ اسے دیکھ کر اپنے لیے جانماز بن سکیں۔ ہم بھی اس وقت نہ جانے کس موڈ میں تھے، کہہ دیا کہ اسے آپ تحفے کے طور پر رکھ لیں۔ ہم نے جانماز دے تو دی لیکن سخت افسوس ہوا کہ بیوی کی چیز، اس کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دینی چاہیے تھی۔ نہ جانے بیوی پر کیا گزرے اور وہ کیا محسوس کرے۔ بہرحال ہم نے ڈرتے ڈرتے بیوی سے بتایا۔ جان میں جان آئی کہ اس نے کوئی برا نہیں مانا۔ شاید وہی بات کہ اب کوئی بھی چیز میری نہیں بلکہ ہماری ہے۔

ایک بار بیمار ہوگئی، بیما رکون نہیں ہوتا۔ سب ہوتے ہیں وہ بھی ہوگئی، دوا علاج چلنے لگا۔ پتہ نہیں کیا سوجھی، عجیب عجیب باتیں کرنے لگیں کہ آپ بھی سوچتے ہوں گے کیسی بیوی پلّے پڑ گئی۔ دوا دارو میں سارے پیسے خرچ کروا دیتی ہے۔ ہم نے کہا کہ بھئی! ہم کماتے بھی تو تمہارے ہی لیے ہیں، کہنے لگی کماتے تو آپ شادی سے پہلے بھی تھے۔ اب بتائیے ہم کیا جواب دیتے۔ بہرحال ہم نے کہا کہ اب تو ہم تمہارے لیے ہی کماتے ہیں۔

ساس اور بیوی میں بنی رہے، یہ بھی اب ناممکنات میں ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی ہمارا گھر مثالی ہو یا نہ ہو لیکن مثال دینے کے لائق ضرور ہے۔ ہماری بیوی کو جو ساس ملی ہے، وہ شوگر، بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں، بیمار رہتی ہیں۔ گھر کے بہت سے کام اب بھی ان کے ذمہ ہیں۔ اس لیے انھیں اکثر غصہ آتا رہتا ہے۔ کبھی بیوی سے بھی کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔ کبھی ساس بھی کوئی غلط بات کہہ دیتی ہیں۔ لیکن ہمارے گھر میں الحمد للہ کبھی ساس بہو میں لڑائی کیا، تو تو میں میں بھی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری بیوی کے پاس ایک ایسا منتر ہے جو گھر کو محفوظ رکھے ہے وہ ہے خاموشی۔

معلوم نہیں ہماری بیوی کس مٹی کی بنی ہے۔ اسے کوئی کچھ کہتا رہے، وہ اپنا کام اس طرح کرتی رہے گی جیسے کوئی اس کو نہیں کسی اور کوسنا رہا ہے۔ بات وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے کمرے میں آکر تھوڑی دیر رو لیتی ہے۔ یا ہمیں اپنا درد سنا دیتی ہے اور پھر کام میں لگ جاتی ہے۔

ہمارے کارخانے میں ایک صاحب کام کرتے تھے۔ ایک بار اپنی بیوی کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ عورت بڑی خود غرض ہوتی ہے۔ ہم نے کہا کیا ہوا؟ بولے کہ مجھے کچھ رقم کی سخت ضرورت ہے۔ میرے پاس نہیں ہے۔ میں نے بیوی سے کہا کہ تم دے دو۔ اس نے صاف انکار کردیا کہ میرے پاس نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس واقعی نہ ہو۔ کہنے لگے: ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے پاس ہے لیکن وہ کسی بھی حالت میں نہیں دے گی، کیوں کہ یہ عورت کی فطرت ہے کہ اس کے پاس جو رقم ہے اسے تو دبا کر رکھے گی اور شوہر سے اپنے خرچے پورے کرواتی رہے گی۔ اس وقت ہم ناتجربہ کار تھے۔ یہ بات ہمارے ذہن میں بیٹھ گئی۔ شادی کے بعد سے ہی ہم نے اس کا تجربہ کرنا شروع کر دیا۔ الحمد للہ، ہمیں اس خود غرضی کا تجربہ ایک بار بھی نہیں ہوا۔ کئی مواقع ایسے آئے کہ ہمیں سخت ضرورت پیش آئی۔ ہم نے بیوی سے درخواست کی اور اس نے اس شرط پر رقم دے دی کہ بعد میں اس کی رقم لوٹا دی جائے۔ ہم اس شرط کو نبھاتے ہیں، اس لیے ہمارا کام اور بھی آسانی سے ہو جاتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مذکورہ حضرت بیوی سے رقم تو لیتے ہوں گے لیکن شوہر ہونے کی بنا پر وہ رقم ہڑپ کر جاتے ہوں گے ، واپس نہیں کرتے ہوں گے۔ ایسی صورت میں بیوی کیوں آپ کو پیسے دینے لگی۔

البتہ ایک کمی ہے ہماری بیوی میں۔ گھر کے کاموں میں اتنی مشغول رہتی ہے کہ بچوں کے لیے وقت نہیں نکالتی۔ بچوں پر جائز سختی بھی نہیں کرتی۔ یہ کام بھی وہ ہم سے کرانا چاہتی ہے۔ ہم نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ بچوں پر صرف باپ ہی سختی کرے اور ماں بالکل کچھ کرے ہی نہیں۔ اس سے بچے باپ سے توحد سے زیادہ ڈرنے لگیں گے، اور ماں کو کچھ نہیں سمجھیں گے، ماں کی بات نہیں سنیں گے۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو ان کی غلطی پر کبھی یہ نہ کہو کہ ابو سے شکایت کی جائے گی۔ اس سے وہ سمجھیں گے کہ غلطی کی سز ا دینا ابو کا ہی کام ہے۔ امی کچھ نہیں کرسکتیں۔ اس لیے بیگم آپ بھی بچوں کی غلطی پر ان کی گرفت کیجیے اور سزا دینی ہو تو وہ بھی دیجیے۔ اگر ہماری یہ بات درست ہے تو آپ حضرات دعا کریں کہ وہ ہماری یہ بات مان لے۔ باقی سب خیریت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ن، ا، ت، ع

تبصرہ کیجیے