BOOST

بین المذاہب تعاون کی سماجی و معاشرتی بنیادیں

مذہب اور خدا کا تصور ہر سماج اور معاشرے کی بنیادی روح ہے۔ مذہب اور سیاست ایک ہیں یا الگ الگ اس میں تواختلاف ہوسکتا ہے، مگر اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ مذہب ہی سماج اور معاشرے میں پھیلی برائیوں اور غلط رسوم و رواج کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ مذہب کی ایک اور خوبی یہ بھی ہونی چاہیے کہ وہ انسانوں کے درمیان محبت، بھائی چارہ اور انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے خیر خواہی، ہمدردی اور سماجی بھلائی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ لوگوں کے اندر پیدا کرے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کے درمیان اس خوبی کو پیدا کرنا چاہتا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے:

تعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔

(نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور سرکشی میں ہرگز ایسا نہ کرو۔)

اللہ کے رسول محمد ﷺ نے اچھائیوں کے فروغ اور برائیوں کے خاتمہ میںمل جل کر جدوجہد کرنے کی تلقین کی ہے اور یہی اسلام کے ماننے والوں کی زندگی کامقصد ہے۔

سماج و معاشرہ مختلف افکار و خیالات رکھنے والے افراد سے مل کر بنتا ہے اور پھر ان کامفاد ایک ہوجاتا ہے۔ سماج میں بھلائی کے فروغ سے تمام لوگوں کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ برائیوں کے پھیلنے اور پروان چڑھنے سے سب کا امن و سکون غارت ہوتا ہے۔ آپسی کشمکش (Clash) تنازعات اور تعصبات سماجی و معاشرتی زندگی کو تلخ بناتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان امن، محبت اور اخلاص وتعاون کے بجائے باہمی منافرت اور ایک دوسرے سے دوری پیداکرتے ہیں اور یہ چیز ظاہر ہے، صحت مند سماج اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے ان چیزوں کا نوٹس لیا ہے اور بہت واضح ہدایات دی ہیں۔ غیر مسلم اور مسلم اگر پڑوسی ہوں تو ایک مسلمان کی کیا ذمہ داری ہے۔ اگر دوست ہیں تو ایک مسلمان کو دوست کی حیثیت سے غیر مسلم کے ساتھ کیا کرنا ہے اور اگر ماں باپ تک غیر مسلم ہیں تو ان کے ساتھ حسن سلوک کس حد تک کرنا ہے، یہ واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اسلام کے ماننے والوں کو بہ حیثیت کمیونٹی دوسرے مذہب اور اہلِ مذہب کے ساتھ خوشگوار اور مستحکم تعلقات کے لیے کیا تدابیر اختیار کرنی ہیں، اس کی وضاحت کی گئی ہے۔

قرآن کی اس سلسلہ میں پہلی واضح ہدایت یہ ہے کہ وہ مذاہب اور مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو قریب لانے اور قربت پیدا کرنے کی تدابیر بتاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے واضح ہدایت دی ہے:

یا اہل الکتاب تعالواالی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللّٰہ۔

(اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے۔)

اسلام بہ حیثیت مذہب خود بھی اپنے ماننے والوں کو اس با ت کی تلقین کرتا ہے کہ وہ دیگر مذاہب میں ایسی چیزیں تلاش کریں جو اسلام اور ان کے درمیان مشترک (common) ہوں اور یہ بات ایک صحت مند سوچ کا حامل مذہب سے محبت کرنے والا فرد بھی سوچ سکتا ہے کہ وہ اپنے مذہب اور دیگر مذاہب میں یکساں طور پر پائی جانے والی تعلیمات کو تلاش کرے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مختلف مذاہب و ثقافتوں پر مبنی سماج کو اتحاد و یگانگت کی لڑی میں پرویا جاسکے اور عام سماج کی فلاح و بہبود اور تمام انسانوں کی بھلائی و سماجی و معاشرتی ترقی کی خاطر متحدہ مذہبی جدوجہد کو فروغ دیا جاسکے۔

مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی تعلیمات سے ناواقفیت ہو یا غفلت، تعصب ہو یا سیاسی مفاد پرستی ہو یا کچھ اور بہرحال اس سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان قربت کے بجائے دوری پیدا ہوئی، باہمی اخوت و محبت کے بجائے نفرت و دشمنی کو فروغ حاصل ہوا، ایک دوسرے کے قریب آنے کے بجائے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوئے اور ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کے بجائے تنگ دلی اور تعصبات کا شکار ہوئے۔ مذہب اور مذہبی افراد کو تو اس سے نقصان ہوا یا نہیں مگراتنا ضرور یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سماج اور معاشرے کو اس کے زبردست نقصانات اٹھانے پڑے۔ سماج مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوگیا۔ حکومتی پالیسیاں مذہبی تعصب کی عینک لگا کر تیار کی جانے لگیں، باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا اور سماج میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہوگئیں۔ اور سب سے بڑا نقصان سماج کو یہ ہوا کہ اس میں پھیلنے والی برائیوں اور سماجی بیماریوں پر قابو پانے کی متحدہ کوششیں جو ممکن ہوسکتی تھیں، ان سے وہ محروم رہ گیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج مغرب ہی میں نہیں مشرق میںبھی سماجی برائیوں کا ایسا طوفان امڈا پڑتا ہے، جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے اور کبھی خوف بھی کہ ہمارے سماج کے تانے بانے بکھر نہ جائیں۔

ایسے میں اس با ت کی شدید ضرورت ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے اور دانش ور افراد سماج و معاشرے کی فلاح و بہبود کی خاطر ایک ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور ان برائیوں کے خلاف ’مذہبی جہاد‘ چھیڑیں جنھوں نے سماج اور معاشرے کو اپنی گرفت میں لے کر ہمارے لیے زبردست خطرات پیدا کردیے ہیں۔ آج اہل مذاہب کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وہ بین مذاہب تعاون کی سماجی ومعاشرتی بنیادیں تلاش کریں اور پھر مشترکہ مذہبی ایجنڈے کے تحت ان پر جدوجہد کریں۔

ہمارے خیال میں مختلف مذاہب کے سنجیدہ افراد کے لیے بین مذاہب سماجی و معاشرتی تعاون کی درج ذیل بنیادیں ہوسکتی ہیں:

(۱) عورت اور سماج میں اس کی بہتری کی جدوجہد

(۲)عام انسانی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانا۔

(۳)غربت و افلاس کا خاتمہ

(۴) جرائم سے پاک سماج کی تعمیر۔

ہم مختلف مذاہب کی بڑی اور بااثر شخصیات، سماجی خدمت کے میدان میںکام کرنے والے افراد اور مذہبی اداروں اور مذاہب کے پیروؤں سے یہ خواہش کریں گے کہ وہ ان اشوز کو مذہبی مسئلہ کی حیثیت سے دیکھیں اور فی الواقع یہ مذہبی مسئلہ ہے بھی کیونکہ حکومتیں اپنی تمام تر جدوجہد اور قانون سازی کے باوجود ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ ایسے میں سماج اگر بہتر طور پر کسی سے امید کرسکتا ہے تو وہ مذہب اور اس کے پیشوا ہیں۔

خواتین کی بہتری کے لیے مختلف مذاہب کے لوگوں کا باہمی تعاون:

عورت کسی بھی سماج کا آدھا حصہ ہے اور اس آدھے حصے کو بہتر بنائے بغیر اور معاشرے کو اس کے حقوق و اختیارات کے لیے ہوش مند، باشعور اور حسن سلوک کا پیکر بنائے بنا ہم کسی صحت مند، پرامن، تعلیم یافتہ ، مہذب اور ترقی یافتہ سماج کا تصور نہیں کرسکتے۔ عورت کی حالت کسی بھی سماج کا آئینہ ہے جسے دیکھ کر ہم اس معاشرے کی حقیقی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ بدقسمی سے اس وقت دنیا کے ہر حصہ میں عورت مظلوم، پسماندہ اور محروم لوگوں میں سرِ فہرست ہے۔ ہم اس بات پر بحث کیے بنا کہ کسی مذہب میں عورت کی حیثیت کیا ہے، صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت دنیا کے ہر خطے میں عورت سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہے۔ یوروپ و امریکہ کا سماج ہو، جہاں عورت کو عملاً مکمل آزادی حاصل ہے یا مشرق کاسماج جہاں اس پر سماجی و روایتی پابندیاں ہیں، ہندوستان ہو، یا اسلامی دنیا جہاں اسلام میں عورت کے حقوق و اختیارات کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ہر جگہ اس کی حالت تقریباً یکساں ہے۔ جس سماج میں وہ تعلیم یافتہ اور آزاد ہے، وہاں بھی اور جہاں جاہل سماجی روایات کے بندھنوں میں جکڑی ہوئی ہے، وہاں بھی وہ شدید قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات اور مسلم سماج میں عورت کی موجودہ صورتِ حال دونوں میں کافی دوری ہے۔

مشرق و مغرب میں جرائم کا گراف جس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ یوروپ و امریکہ ہو یا ترقی یافتہ ممالک ہر جگہ عورت کے خلاف جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو جہاں سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے اور اس کا حل تلاش کیا جائے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اس آدھی انسانیت کی حالت اور زندگی کو پرامن بنانے کے کام کو مذہبی سوچ کے ساتھ لے کر چلا جائے۔ ارباب اقتدارکے ساتھ ساتھ مذہبی پیشوا اس مسئلہ کو ایک مذہبی مسئلہ تصور کرتے ہوئے عوام میں بیداری کا کام انجام دیں۔

اگر اس مسئلہ کو ہم جنوبی ایشیا یا ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ عورت ہونا گویا ایسا جرم ہے جس کی سزا نہ صرف عورت بھگتنے پر مجبور ہے بلکہ پورا خاندان پریشان ہوتا ہے۔

جہیز ہندوستانی سماج کا ناسور بن گیا ہے۔ ہر روزکئی سو خواتین صرف ہمارے ملک ہندوستان میں اس کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں شوہروں اور اپنے ہی رشتہ داروں کے ذریعہ ان کا استحصال ہوتا ہے۔ ٹریفکنگ کا عالمی سطح پر مافیا نیٹ ورک ہے۔ زنابالجبر اور اغوا عالمی سطح پر نارم میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں جس کے اعداد و شمار حیرت ناک اور چونکا دینے والے ہیں۔

ہمارے ہندوستان میں لڑکیوں کا رحم مادر میں قتل ایک سنگین صورتِ حال اختیار کرگیا ہے۔ جس نے ہندوستانی سماج کے کئی خطوں میں مردوں اور عورتوں میں عدم تناسب کی خوفناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک چین میں یہ صورتِ حال اور زیادہ سنگین ہے۔

مساوات انسانی اور بنیادی حقوق کے لیے تعاون بین المذاہب:

انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، جغرافیائی خطے، مذہب، طبقہ یا اور کسی بھی بنیادپر تفریق کا ہونا انسانیت اور انسانی عزت و وقار کے خلاف جرم ہے۔ اور اس جرم کے خلاف مذہب کو آگے آنا چاہیے۔ دنیا کے تمام مذاہب اگر انسانی وقار اور مساوات کی بات نہیں کریں گے تو سیاست کی دنیا سے انسانوں کی تذلیل و تفریق کا ختم کیا جانا ممکن نہ ہوگا۔ اسی طرح انسانوں کے بنیادی حقوق کا غصب کیا جانا یا انسانوں کو ان سے محروم کیا جانا انسانیت کی پیشانی پر بدنما داغ ہے۔

حیرت ہے کہ آج کی مہذب، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ دنیا میں بھی بہت سے انسان ایسے ہیں جنہیں عام انسانوں کی طرح یکساں حقوق اور مساوات کا حق دارتصور نہیں کیا جاتا۔ یوروپ میں کالے اور گورے کی تفریق ہندوستان میں اونچ نیچ اور طبقہ واریت عالم عرب میں عربی و عجمی کی عصبیت آج بھی پائی جاتی ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ تمام انسان یکساں ہیں اور کسی کو کسی پر بھی فضیلت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ کون اللہ سے زیادہ قریب اور اس کے حکم کو ماننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہے۔

غربت، افلاس اور جہالت سے پاک سماج کے لیے بین المذاہب تعاون:

غربت و افلاس اور جہالت سماجی برائیاں ہیں۔ جب تک سماج سے غربت اورجہالت ختم نہیں ہوجاتے کوئی سماج نہ تو ترقی یافتہ بن سکتا ہے اور نہ انسانوں کی زندگیوں میں اطمینان و سکون آسکتا ہے۔ بدقسمتی سے گلوبلائزیشن کے اس دور میں بھی جہاں صنعت و تجارت نے زبردست ترقی کی ہے، تجارت نے ملکی سرحدیں پھلانگ کر عالمی صورت اختیار کرلی ہے،لاکھوں لوگ اور بعض وقت قوم کی قوم غربت و بھک مری سے جنگ لڑرہے ہیں۔

بات افریقی ممالک کی ہو یا طاقت ور ملک ہندوستان کی ہر جگہ جہاں ارب پتی صنعت کاروں کی طویل فہرست ہے اس سے ہزاروں گنا طویل فہرست ان افراد اور خاندانوں کی ہے جو اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے ترس رہے ہیں اورانہیں محض ایک ڈالر یومیہ پر اپنی زندگی گزارنی پڑرہی ہے۔ ہزاروں لوگ صرف اس وجہ سے مرجاتے ہیں کہ انہیں دوا علاج مہیا نہیں ہے۔ ہر سال لاکھوں بچے نقص تغذیہ کے سبب موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ غریب ممالک ہی نہیں ہندوستان جیسے ملک کے اعداد و شمار آنکھیں کھول دینے والے ہیں۔

یہی معاملہ تعلیم کا ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے اس دور میں کروڑوں بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھ پاتے اور ہندوستان کثیر آبادی والا ملک ہونے کے ساتھ جاہل و ناخواندہ افراد کا بھی سب سے زیادہ بوجھ اپنے کندھوں پر ڈھو رہا ہے۔

اسی تعلیم کی بات اگر خواتین کی خواندگی کے بارے میںکہی جائے تو صورتِ حال کہیں زیادہ افسوسناک نظر آئے گی۔ خود ہمارے ملک کا خاص طور پر اور جنوبی ایشیا کے علاوہ افریقہ وغیرہ میں خواتین کے درمیان خواندگی اور تعلیم ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جو اس وقت دنیاکی حکومتوں اور عالمی اداروں کو درپیش ہے۔ جہاں تک اپنے ملک کا معاملہ ہے تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہاں تعلیم کے میدان میں خواتین مردوں سے کافی پیچھے ہیں۔

جرائم سے پاک سماج کی تعمیر میں بین المذاہب تعاون:

صنعتی ترقی، سائنس و ٹکنالوجی کا ارتقاء گلوبلائزیشن اور کنزیومرزم کے اس دور میں جہاں کچھ خاص انسانوں کے سرمایے اور کچھ لوگوں کے معیارِزندگی میں ترقی ہوئی ہے، وہیں سماج کا ایک بڑا طبقہ مسلسل محرومیوں کی گہرائی میں اترتا جارہا ہے۔ ایک طرف دولت کی چمک دمک اور اہل دولت کے ٹھاٹ باٹ ہیں، دوسری طرف محروم طبقات اور ان کی محرومیاں ہیں۔ اس چیز نے ان محروم طبقات کے اندر ایک طرف تو انتقامی جذبہ پیدا کیا ہے۔ دوسری طرف اس دور کی چمک دمک نے انہیں بھی اس کے حصول کے لیے آمادہ کیا ہے۔ اب اگر وہ مناسب اور جائز طریقوں سے اسے حاصل نہیں کرپاتے تو ناجائز طریقوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں پوری دنیا میں جرائم کا گراف بہت تیزی سے بڑھا ہے جس میں مختلف النوع جرائم شامل ہیں۔ اس میں قتل اور اغواء بھی ہے اور چوری ڈکیتی بھی۔ اس میں بینک لوٹنے کے خطرناک واقعات سے لے کر وہائٹ کالر کرائم تک بھی ہیں۔ اسی طرح ایک اور بات یہ بھی ہے کہ آج کی نئی نسل میں تحمل و برداشت جیسی بنیادی انسانی صفات دن بہ دن ختم ہورہی ہیں۔ جس کے سبب امریکہ جیسے ملک میں ایک شخص گن لے کر نکلتا ہے، اور عام بھیڑ پر گولیاں چلا کر کتنے بے گناہوں کو قتل کردیتا ہے۔ یہ چیز ایک خاص کلچر اور ایک خاص قسم کے سماجی اور معاشرتی ماحول کے سبب پیدا ہوتی ہے اور یہ کلچر اور اس کے اثرات جہاں کہیں پہنچ رہے ہیں وہاں اپنے اثرات دکھا رہے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان جیسے ملک میں تشدد اور روڈ ریج، ڈاکہ زنی لوٹ مار اور قتل کے واقعات میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے۔ سائبر کرائم کی ایک اپنی بڑی دنیا آباد ہوگئی ہے اور وہائٹ کالر جرائم کا ایک سمندر ہے جس میںہماری نئی نسل غوطے لگارہی ہے۔

جرائم کے اس بڑھتے گراف میں خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کافی تشویشناک ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں (میٹروز) میں تو صورتِ حال الارمنگ ہوگئی ہے جبکہ دیگر شہروں ہی میں نہیں بلکہ دیہی ہندوستان تک یہ سلسلہ پھیل گیا ہے۔ ایسے میں سماج میں رہنے بسنے والے شہریوں میں اپنی زندگی، عزت و آبرو اور جان و مال کے روز بہ روز غیر محفوظ ہونے کا خوف بڑھ رہا ہے۔ حکومت ہے، قانون بھی ہے اور اس کی حفاظت کرنے والی سول مشینری بھی ہے مگر اس کے باوجود جرائم ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لیتے۔

حقیقت یہ ہے کہ جرائم قانون اور حکومت کے ذریعہ ختم نہیں ہوتے بلکہ شہریوں کے اندر احساس ذمہ داری اور خدا کے مضبوط تصور اور ’’کرم بھوگنے‘‘ یعنی آخرت کے تصور سے ختم ہوتے ہیں۔ اس طرح جہاں سے حکومت اور قانون کی ناکامی شروع ہوتی ہے ، وہاں سے مذہب کام کرنا شروع کرتا ہے۔ چنانچہ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مذہبی رہنما اس اہم سماجی مسئلہ پر ’چنتن‘ کریں اور دیکھیں کہ وہ مل کر کس طرح انسانوں کو ایسا سماج دے سکتے ہیں جو جرائم سے پاک ہو اور جس میں رہنے والا ہر شہری اپنی جان، مال اور عزت وآبرو کو محفوظ تصور کرے۔

اگرچہ بین المذاہب تعاون کی سماجی و معاشرتی بنیادوں میں کچھ اور ستونوں کا اضافہ بھی ممکن ہے مگر ہمارے خیال میں یہ چار پوائنٹس ایسے ہیں جن پر تمام مذاہب کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ جدوجہد کو اپنا ایجنڈا بناکر ان برائیوں کے خلاف ’متحدہ جہاد‘ چھیڑیں۔ ایک طرف تو ہم ان نقطوں پر اہلِ مذاہب کو جوڑ کر ایک دوسرے کے قریب لاسکیں گے جو مضبوط و مستحکم سماج کے لیے ضروری ہے، دوسری طرف اپنے سماج کو صحت مند، ترقی یافتہ اور پرامن سماج بھی بناسکتے ہیں جو بنیادی طور پر تمام انسانوں کی اہم ترین ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے