BOOST

اولاد کا سکھ

ہمارے گاؤں میں ڈاکٹر رحمت (پورا نام رحمتِ الٰہی) کیا آئے بس اللہ کی گویا رحمت ہی آگئی۔ سروس سے ریٹائرمنٹ پر جو تھوڑا بہت فنڈ ملا، وہ سب لاکرکلینک میں لگا دیا۔ اور جم کر کلینک پر بیٹھ گئے۔ اللہ کا کرنا کہ مریض آنے لگے اور خاصی تعداد میں آنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مصروفیت کافی بڑھ گئی۔ رات کو کوئی ڈاکٹر نہ مریض کے گھر جاتا تھا نہ رات گئے اپنا کلینک ہی کھولتا تھا مگر ڈاکٹر رحمت نے سب روایات بدل دیں۔ وہ رات میں جب ضرورت ہوتی کلینک کھولتے اور جہاں ضرورت ہوتی، مریض کے ساتھ جاتے۔ ڈاکٹر رحمت یہاں تک رحمت ثابت ہوئے کہ رات کی بھی وزٹ کی کوئی فیس نہیں لیتے تھے۔ ان کا بیٹا عثمان بھی ان کے ساتھ لگنے لگا اور اپنی سروس سے جو وقت بچتا باپ کے ساتھ گزارتا۔ وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ دونوں گاؤں میں بڑے ہر دلعزیز ہوگئے۔

ڈاکٹر رحمت بڑے ضعیف ہوگئے تھے انہیں ہر وقت یہ فکر لگی رہتی کہ خدمتِ خلق کی ڈالی ہوئی میری بنیاد قائم رہے اور دنیا اس سے فیض اٹھائے۔ عثمان نے گو کام سنبھال لیا تھا مگر اس کو اپنا کام بھی دیکھنا پڑتا تھا اس پر بھی وہ ایک لمحہ ضائع نہ کرتا اور جتنی جلد ممکن ہوتا کلینک لوٹتا۔ اس کو یہ فکر رہتی کہ میں اپنے باپ کو اطمینان کے ساتھ کام کرتے دیکھوں۔ اور جب وہ ایسا پاتا تو بہت خوش ہوتا اللہ کا بار بار شکر ادا کرتا۔ اُس نے جب سے یہ سنا تھا کہ ماں باپ کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا مقبول حج کا درجہ رکھتا ہے تب ہی سے وہ بہت ہی بے چین رہنے لگا تھا۔ اُدھر ڈاکٹر رحمت بھی بڑے فکر مند رہتے کہ عثمان کے سب بچے پڑھیں اور اس کا بڑا لڑکا دلاور تو لازماً ڈاکٹری ہی پڑھے۔ باپ بیٹے دونوں ہی دلاور پر بڑی توجہ دیتے۔ اس کی سب ضدیں بھی پوری کرتے، مگر وہ زیادہ کیا تھوڑی بھی توجہ پڑھنے پر نہیں دیتا تھا۔ کسی طرح اس نے ہائی اسکول پاس کیا۔ دادا رحمت پوتے کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور اس کی آئندہ پڑھائی کے لیے روزانہ ہی کلینک کے پیسوں میں سے الگ رقم مخصوص کردیتے۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دن باقی نہ رہ سکا۔ ڈاکٹر صاحب ایک دن معمولی طور پر بیمار رہے اور وہی معمولی بیماری ان کی موت کا سبب بن گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے گاؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ جنازہ اٹھا تو اس میں بڑی تعداد ہریجنوں اور دلت ورگ کے لوگوں کی تھی کیوں کہ یہ لوگ ہی زیادہ تر فیضیاب ہوتے تھے۔ تدفین سے فارغ ہوکر متعلقین گھر لوٹے تو سامنے کے پڑوسی نے عثمان کو ایک لفافہ لاکر دیا۔ یہ لفافہ ڈاکٹر صاحب کا تھا۔ لفافہ کھولا تو اس میں عثمان کو لکھا تھا کہ دیکھو دلاور کو ڈاکٹری ضرور پڑھانا اور اپنی بہن اور اس کے بچوں کا بڑا خیال رکھنا۔ عثمان نے تحریر پڑھ کر جیب میںرکھی اور اسی وقت سے ہدایات پر پوری پوری توجہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا۔

کلینک چلتا رہا اور عثمان نے باپ کی تمام روایات کو صرف باقی ہی نہیں رکھا بلکہ ان کو کچھ اور آگے بڑھا دیا۔ وقت گزرتا گیا اب ڈاکٹر عثمان لوگوں میں ایسے ہی ہر دل عزیز ہوگئے جیسے کہ ڈاکٹر رحمت تھے۔ وہی باپ کی طرح ہر وقت مستعد رہنا۔ کہیں بھی جانے سے گریز نہ کرنا۔ ایک مریض کو دیکھنے جانا تو راستے کے دیگر مریضوں کی خیریت بھی معلوم کرتے چلنا۔ پڑوسیوں کا، بہن اور اس کے بچوں کا پورا خیال رکھنا۔

تمام مصروفیات کے ساتھ ڈاکٹر عثمان کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی کہ والد صاحب کی وصیت پر عمل کرنا ہے۔ اور دلاور کو ڈاکٹر دلاور بنانا ہے۔ لیکن اس وصیت کی تکمیل میں ایسی تکنیکی رکاوٹ آگئی کہ کہیں بھی ایڈمیشن ہوتا آسان نظر نہیں آرہا تھا۔ کیوں کہ انٹر میڈیٹ کے مارکس اتنے نہیں تھے جو یوپی میں کہیں داخلہ مل جائے۔ کافی چھان بین کے بعد جنوب کے ایک کالج میں ڈونیشن کے ساتھ کچھ امید پیدا ہوئی۔ خدا کا کرنا ڈاکٹر عثمان کے ایک واقف کار بھی مل گئے اور یوں تھوڑی سی رقم ڈونیشن میں دے کر داخلہ ہوگیا۔ دلاور نے داخلہ تو لے لیا لیکن کوئی شوق کی رمق اس میں نظر نہیں آتی تھی۔ بہرحال ایک کے بعد ایک سال آتا گیا اور خدا خدا کر کے پانچ سال کورس کے اور ایک سال پریکٹس کا پورے ہوئے۔ خاندان ہی نہیں، آس پاس کے لوگوں کو بھی بڑی خوشی تھی کہ گھر کا ڈاکٹری کا پیشہ اور پھولے پھلے۔ اور یہ کہ خاندان ڈاکٹروں کا خاندان سے معروف ہوگیا۔ عثمان چاہتے تھے کہ ولادر اس مسند پر بیٹھے اور اس کی تمام روایات کو بروئے کار لاتے ہوئے بیٹھے کیوں کہ یہ جدی مقام ہے اور اس کی جو پہچان بنی ہے، اس پر حرف نہ آئے۔ دلاور نے باپ دادا کی گدّی سنبھال تو لی مگر وہ اپنی جگہ جم کر نہ بیٹھا۔ پورے کلنک کا آہستہ آہستہ اس نے ڈھرا ہی بدل دیا۔ توقع تھی کہ جو آمدنی ہوگی نہ دے گا، مگر بہرحال بتا تو دے گا ہی، باپ نے سوچا، جوان بیٹا ہے آمدنی پوچھنے پر برا مان جائے گا، جانے دو، البتہ اس کی شادی کی فکر کرو۔ سب کی تمنا یہی تھی کہ میڈیکل لائن ہی کی دلہن لائی جائے۔ بہت کوشش کیں مگر بیٹے کی پسند کہیں جمتی ہی نہ تھی۔ چار و ناچار غیر میڈیکل طالبہ سے رشتہ طے ہوگیا اور شادی ہوگئی۔ ایک دو سال ساتھ ساتھ رہے۔ دلاور اپنی آمدنی اپنے ہی پاس رکھتا رہا یہاں تک کہ گھر کا خرچ بھی نظر میں نہ لاتا۔ دلاور نے اپنی رہائش تبدیل کرلی اور اپنا گھر خود ہی چلانے لگا۔ اس کی مصروفیات اور کلنک کے اوقات میں فرق آنے لگا۔ کہاں یہ کہ کلنک بعد نماز فجر فوراً کھل جاتا تھا کہاں یہ کہ آٹھ بجے تک بھی نہیں کھل پاتا تھا۔ مریض گھنٹوں انتظارمیں بیٹھے رہتے ڈاکٹر صاحب نمودار نہیں ہوتے تھے۔ دیر سے آتے، جلدی چلے جاتے۔ لنچ کے بعد بھی بڑی تاخیر سے آتے اور رات آتے ہی ایسے جاتے کہ اگر ذرا بھی تاخیر ہوگئی تو گویا کن پکڑی ہوجائے گی۔ رات کو ضرورت پڑتی تو ان کی اہلیہ جواب میں کہہ دیتی وہ تو اب سوگئے ہیں۔ بہت دفع مریض آوازیں دے کر گھر سے ناامید لوٹ آتا، کیوں کہ کوئی آواز ہی نہیں آتی تھی۔ نتیجہ مریضوں نے بالخصوص رات کو آنا ہی بند کر دیا کہ کہیں اور چلو، وہ تو ملنے والے ہی نہیں۔ پڑوس میں کچھ لوگ کبھی بیمار ہوئے اور رات میں کبھی انجکشن یا اور کوئی چھوٹی موٹی ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو دلاور سے فیضیاب ہونا آسان نہیں تھا۔ بلکہ دور سے کسی ڈاکٹر کو بلانا پڑتا تھا۔ اس طرح دلاور نے اپنی ہی کالونی میں اپنے آپ کو اجنبی بنا لیا۔ اس کے علی الرغم اس کے شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے بڑے اچھے مراسم تھے۔ بیاہ شادیوں میں بھی خوب شرکت ہوتی۔ فیملی بھی پورے عصری تقاضوں کے ساتھ شریک ہوتی۔ گھروں پر بھی دعوتیں ہوتیں، یہاں تک کہ کسی پردیسی ہی نہیں۔ والدین کو بھی ان کی بھنک نہیں لگتی تھی جو کچھ تعلقات تھے سب شہر کے بڑے ہی لوگوں سے رہنے لگے۔ رہا عزیز داری کا احترام تو وہ مجبوری تھی مگرا س میں کوئی ادب و خلوص باقی نہیں رہا تھا۔ خیر کے کاموں میں جو تعاون تھا۔ وہ بھی باقی نہیں رہا۔ قریب کی ایک مسجد کو دَس روپے ماہانہ دینا طے کیا تھا وہ بھی کچھ دن جاری رہ کر ختم ہوگیا۔ بہنوں، بھانجی بھتیجوں کو تیوہار پر کچھ توفیق حسن سلوک کی ہوتی تو وہ ایک ضابطہ کی شکل ہوتی نہ کہ محبت و خلوص کا کوئی عنصر۔ بھائی ہو یا بہن جو از خود پہنچ جائے تو بہت اچھا لیکن کسی کو بلانے کے طور پر بلانا سب مفقود ہوگیا۔ کلنک کی ساری روایات ایک ایک کر کے ختم ہوگئیں یہاں تک اگر ڈاکٹر عثمان کبھی کلنک میں چلے جاتے تو ڈاکٹر دلاور کو کرسی سے اٹھنا بڑا ناگوار گزرتا تھا۔

یہ میڈیکل فیملی، ڈاکٹروں کا خاندان یہیں آکر ٹھٹھر گیا۔ دلاور بھائیوں کو اسی شعبہ میں آگے بڑھانے کے لیے کوئی تعاون نہ دے سکے او ران کی تعلیم اپنی خاندانی روایات کے علی الرغم آگے بڑھی اور اُن کی لائن جدا ہوتی چلی گئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ المناک یہ کہ خود دلاور اپنی اولاد میں سے اپنا وارث بنانے میں ناکام رہے۔ البتہ عثمان کو باپ کی یہ بات ہمیشہ یاد رہتی۔ دلاور کو ڈاکٹری ضرور پڑھانا۔

وقت اپنی رفتار چلتا رہا۔ دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ ڈاکٹر عثمان اب پہلے سے بہت کمزور ہوگئے۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ ایک دن راستے میں گر پڑے۔ داہنے ہاتھ میں سخت چوٹ آئی یہاں تک کہ اس سے کچھ اٹھانا بھی محال معلوم ہونے لگا۔ ہڈی کے ماہر نے اچھی طرح دیکھ بھال کر پٹی کردی لیکن درد میں ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ تکلیف کا جس کو بھی پتہ چلتا گیا کسی نہ کسی ذریعہ سے خیریت معلوم کرتا رہا۔ ہاں توفیق نہیں ہوئی تو ڈاکٹر دلاور کو ہی نہیں ہوئی جس کے لیے اس کے بڑے ابا نے بہت زور دے کر وصیت کی تھی، دلاور کو ڈاکٹری ضرور پڑھانا۔

اب بیٹے کا رویہ اس درجہ صاف ہوگیا تھا کہ قریب و بعید کے عزیز و اقارب بھی خوب سمجھنے لگے تھے۔ ایک دن ڈاکٹر عثمان کے کچھ دوست احباب بیٹھے تھے۔ اولاد سے فیض اور سکھ ہی موضوع چھیڑا ہوا تھا، ہر کوئی اپنے تجربات بیان کر رہا تھا لیکن کسی کی بات پر بات تمام ہوتے نہیں دکھائی دے رہی تھی اور مغرب کی اذان کا وقت بھی قریب آرہا تھا۔ اٹھتے وقت بس رفیقا کی بات ہی وزن دار رہی کہ اولاد کا سکھ نصیب ہی سے ملتا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد داؤد (نگینہ)

تبصرہ کیجیے